Alaj BilQuran Clinic

Alaj BilQuran Clinic Alaj Bil Quran Clinic (العلاج بالقرآن کلینک) Quran O Hadees Ki Roshni me Roohani Or Jismani Amraz Ky Alaj Ka Aik Mustanad Idara He. Qari Muhammad Asakir

Tamam Marizon Say Guzarish He, Ke Aany Sy Pehly Zaroor Rabta Karen.

17/11/2022

حمل کی خواہش مند خواتین کےلیے

حمل کی خواہش مند خواتین کو چاہیے کے سب سے پہلے اپنی جسمانی صحت کوقائم رکھیں یعنی فولاد (Iron)فولک ایسڈ (folic Acid)نمکیات (minerais) ان سب کاپوراہونابہت ضروری ہےکیونکہ حمل کےلیےان تمام چیزوں کی جسم کو بہت ضرورت ہوتی ہے
کامیاب حمل کےلیےزیادہ ادویات کااستمعال نہ کریں بلکہ نہایت سادہ اور قدرتی طریقےسےاپنےآپ کوحمل کےلیےتیار کرے ایام مخصوص کےبعدایک خاص پیریڈآتاہےجس میں (pregnant )ہونےزیادہ مواقع ہوتے ہیں اس لیےان دنوں میں مباشرت کرے اس کےساتھ حمل کے لیے ہمبستری کرنے کاسہی طریقے معلوم ہونالازمی ہے
ماہواری کے 10 دنوں کے بعد جسم کاٹمپریچر زیادہ ہوتاہے اس لیےان دنوں میں مباشرت کےبعدجسم کادرجہ حرارت زیادہ نہ ہونےدیں ورنہ حمل ضائع ہوسکتاہے وقفے وقفے سے ٹمپریچر نوٹ کرناچاہیے
اگرآپ چائے کافی اور چاکلیٹ کی شوقین ہیں تویہ سب چیزیں ترک کردیں کیونکہ ان میں کیفین کافی مقدار میں ہوتی ہےجوحمل میں رکاوٹ کاباعث بنتی ہیں
28 دن کےپیریڈ کےبعد اپنامکمل چیک اپ کروائیں اور اگرحمل ٹیسٹ مثبت ہوتوباقادگی سےان باتوں پرعمل کرے حمل نہ ہونےکی صورت میں مباشرت کے دوران ان چند باتوں پرعمل کرے مباشرت کےفورابعد عورت کوچاہیےکے آرام کریں اور فورا واش روم نہ جائے اس کےعلاوہ شوہرکےسپرم ٹیسٹ کروانے لازمی ہیں اگرحمل نہیں ہورہاتو مرد کےسپرم کی بہترطاقت کے لیے ضروری ہے72 گھنٹوں یعنی دن میں صرف ایک بار ہی مباشرت کی جائے ہر روز مباشرت کرنے سے سپرم کمزور اور کم۔ہوجاتے ہیں اور عورت کےاند ورم بن جاتےہیں جس سے مباشرت کےبعد مرد کےسپرم باہربہں جاتی ہے.

08/11/2022
03/10/2022

#اللہ والوں کے قصّے۔قسط نمبر 36
ایک بزرگ فرماتے ہیں۔ میں نے حضرت سمنونؒ کو طواف میں دیکھا اور وہ لچک کر خوش خوش چلتے تھے۔

میں نے کہا۔ ’’ شیخ ! تم کو خداوند عالم کے روبرو کھڑے ہونے کی قسم ہے ۔ مجھ کر خبر دو کس بات سے تم واصل الی اللہ ہوئے۔ ‘‘

یہ سنا تو بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔ جب ہوش آیا تو کہا۔ ’’ اے بھائی میں نے اپنے نفس پر پانچ خصلتیں لازم کرلی ہیں۔ پہلی خصلت یہ ہے کہ جو کچھ مجھ میں (اپنے خواہش نفس سے ) زندہ تھا اُسے مار ڈالا اور جو چیز مجھ میں مردہ تھی اور وہ میرا دل ہے۔ زندہ کیا۔ دوسرے جو میری نظروں سے غائب تھا۔ اس کو روبرو جانا۔ یعنی آخر کا حصہ اس کو باقی رہنے والا سمجھا اور جو میرے روبرو حاضر تھا۔ اس کو غائب تصور کیا۔ یعنی دنیوی عیش کو فانی جان کر اس سے ملتفت نہ ہوا۔ تیسرے جو چیز میرے نزدیک فانی تھی (یعنی تقویٰ خوف خدا ) اس کو باقی رکھا جو میرے نزدیک باقی تھے ( یعنی خواہش نفس ) اس کو فنا کر دیا۔ چوتھے جس چیز سے لوگ وحشت کرتے ہیں۔ میں نے اس سے اُنس و محبت کی ‘‘ یہ کہہ کر حضرت سمنونؒ چلے گئے۔
ایک دن حضرت ابو القاسمؒ نصر آبادی نے ایک یہودی سے سوال کیا کہ میں نے خربوزہ خریدنا ہے اس لیے نصف رقم دے دو۔

لیکن یہودی نے آپ کو جھڑک دیا۔ اس کے باوجود آپ نے تین چار مرتبہ یہودی کے پاس جاکر اپنا سوال دوہرایا۔ جب آخری بار آپ نے سوال کیا تو اس نے کہا۔ ’’ تم عجیب قسم کے انسان ہو ۔ اتنی مرتبہ منع کردینے کے باوجود بھی اپنے سوال سے باز نہیں آئے۔ ‘‘

آپ نے فرمایا۔ ’’ اگر فقیر لوگ اتنی سی بات پر خوفزدہ ہو جائیں تو اس کو اعلیٰ مدارج کیسے حاصل ہوسکتے ہیں۔ ‘‘
یہودی آپ کا یہ قول سن کر اسی وقت دل سے مسلمان ہوگیا۔

حضرت ذوالنون مصری ؒ فرماتے ہیں کہ میری تیس برس کی ہدایت کا نتیجہ صرف اتنا نکلا کہ ایک شہزادہ صحیح معنوں میں ہدایت یافتہ ہوسکا اور وہ اس طرح کہ ایک دفعہ وہ میری سجد کے سامنے سے گزر رہا تھا تو میں اس وقت یہ جملہ کہہ رہا تھا’’ کمزور کا طاقتور سے جنگ کرنا نہایت احمقانہ فعل ہے۔
یہ سن کر شہزادے نے مجھ سے پوچھا۔ ’’ میں آپ کے جملے کا مفہوم نہیں سمجھا۔ ‘‘ میں نے اس سے کہا ۔ ’’ اس سے زیادہ احمق کون ہوسکتا ہے جو خدا سے جنگ کرے۔ ‘‘ یہ سن کر وہ چلا گیا۔ پھر اس نے دوسرے دن آکر مجھ سے پوچھا ’’ وصالِ خداوندی کے لیے کون سی راہ اختیار کی جائے۔ ‘‘

میں نے کہا۔ ’’دو (2) راہیں ہیں۔ ایک چھوٹی اور دوسری طویل ۔ چھوٹی تو یہ ہے کہ خواہشات دنیا اور معصیت کو چھوڑ دے اور طویل راہ یہ ہے کہ خدا سوا سب سے کنارہ کش ہوجائے۔ ‘‘
اُس نے عرض کیا۔ ’’ میں یہی طویل راہ اختیار کر رہا ہوں۔ ‘‘ اس کے بعد وہی شہزادہ اپنی عبادت اور ریاصت سے ابدالوں کے مقام پر پہنچ گیا۔

بغداد کے فرقہ متعزلہ نے ہنگامہ کھڑا کر کے یہ چاہا کہ حضرت امام احمد بن جنبلؒ کسی طرح یہ تسلیم کرلین کہ قرآن مخلوق ہے اور اس سلسلہ میں دربار خلافت سے ایسے لوگوں کو بہت کڑی سزا میں بھی دی گئیں جوقرآن کو مخلوق تسلیم نہیں کرتے تھے چنانچہ آپ کو بھی سزاد ی گئی اور جس وقت آپ کو ایک ہزار کوڑے لگائے جا رہے تھے تو اتفاق سے آپ کا کمر بند کھل گیا لیکن غائب سے دو ہاتھ نمودار ہوئے اور آپ کا کمر بند باندھ کر غائب ہوگئے مگر اتنی شدید سزاؤں کے باوجود آپ نے قرآن کو مخلوق تسلیم نہیں کیا اور جب آپ چھوڑ دیئے گئے تو لوگوں نے پوچھا ’’جن فتنہ پردازوں نے آپ کو اتنی اذیتیں پہنچائی ہیں۔ اُن کے لیے آپ کی کیا رائے ۔ ‘‘ آپ نے فرمایا۔ ’’ وہ مجھے اپنے خیال کے مطابق گمراہ تصور کرتے ہیں اس لیے تمام تکلیفیں صرف خدا کے لیے دی گئی ہیں۔ اس لیے میں قیامت کے روز ان سے کوئی مواخذہ نہیں کروں گا۔‘‘

حضرت بشرحانی ؒ کا قول ہے کہ ’’ امام احمد بن حنبلؒ مجھ سے بدر جہا افضل ہیں کیونکہ میں تو صرف اپنے ہی واسطے رزق حلال کی کوشش کرتا ہوں لیکن وہ اپنے اہل و عیال کے لیے بھی حلال رزق حاصل کرتے ہیں۔ ‘‘

جاری ہے..

Address

Mohalla Nai Eid Gah Malika Hanis Pakpatan
Pakpattan
57400

Telephone

+923048140812

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Alaj BilQuran Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram