05/01/2026
❤❤❤حیرت شاہ وارثی ✍️
پاؤں نہ دور دور بھی' اپنی خبر کو میں ۔
پھر ڈھونڈھتا ہوں' آپ کی پہلی نظر کو میں ،،
اک اک نگہ میں' سینکڑوں تیروں کے وار ہیں ۔
رکھوں کہاں سنبھال کے' قلب و جگر کو میں ،،
ایسے گئے کہ' زندگی کی شام ہو گئی ۔
لاؤں کہاں سے ڈھونڈ کے' گزری سحر کو میں ،،
مدت میں جلوہ گر ہوئے' بالائے بام وہ ۔
اس چاند کو میں دیکھوں' کہ دیکھوں قمر کو میں ،،
حیرتؔ نگاہ یار نے' نہ جانے کیا کیا ۔
حیراں ہوں اب کہاں رہوں' جاؤں کدھر کو میں ،،!!