14/03/2026
صوبائی صدر انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا ڈاکٹر نبی جان آفریدی کا عمران خان کی صحتیابی کیلئے ختم القرآن اور رہائی کے حوالے سے منعقدہ رمضان افطار ڈنر سے خطاب
صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان، رکن صوبائی اسمبلی ملک لیاقت علی خان، سینیٹر خُرم زیشان، مرکزی صدر انصاف ڈاکٹرز فورم پاکستان ڈاکٹر مُدیر خان وزیر, بورڈ آف گورنرز کے چیئرمینز، مختلف ہسپتالوں کے ایگزیکٹوز، ڈی ایچ اوز، مختلف ہسپتالوں کے ایم ایس، صوبائی صدر انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن خیبرپختونخوا، انصاف لائرز فورم اور صوبہ بھر سے آئے ہیلتھ کمیونٹی کو افطار ڈنر میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ انصاف ڈاکٹرز فورم کی طرف سے میں آپ سب کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ ڈاکٹر نبی جان آفریدی
ہماری اس اکٹھ کا بنیادی مقصد رمضان کے اس بابرکت مہینے میں عمران خان کے ساتھ ظلم، جبر، بربریت اور فسطائیت ہو رہی ہے، اس کے صحت کے حوالے سے ہم نے آج تین ختم القرآن تکمیل کیے۔ اللہ قبول فرمائے۔ آمین۔
میں اس افطار ڈنر کے موقع پر محکمہ صحت کے حوالے سے انصاف ڈاکٹرز فورم کی طرف سے چند گزارشات ہیں جو آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں۔ ڈاکٹر نبی جان آفریدی
انصاف ڈاکٹرز فورم عمران خان کے ہیلتھ ریفارمز ویژن کا نام ہے۔ ہم مسلسل 2010 سے اور پھر 2013 سے ہر موقع پر، چاہے سیاسی طور پر، تکنیکی طور پر اور معاشرتی طور پر اپنے ملک کے ساتھ، چاہے وہ سیلاب ہو، طوفان ہو، زلزلہ ہو، قدرتی آفات ہوں، جلسے ہوں، احتجاج ہوں، دھرنے ہوں، انصاف ڈاکٹرز فورم نے پالیسی لیول سے لے کر گراؤنڈ لیول تک بلا تفرق اپنا پیشہ وارانہ کردار ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر نبی جان آفریدی
2013 سے 2026 تک پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے تینوں ادوار میں جو ریکروٹمنٹ، جو پروکیورمنٹ، جو پالیسی فیصلے، جو پبلک ہیلتھ قوانین کے حوالے سے، ریفارمز کے حوالے سے ایم ٹی آئی ایکٹ کی شکل میں، صحت انصاف کارڈ کی شکل میں، سیکیورٹی ایکٹ کی شکل میں اور دیگر پبلک ہیلتھ قوانین کی شکل میں، اُس پر اگر میں بات شروع کروں تو وقت کی کمی کے باعث ویسا ممکن نہیں۔ ڈاکٹر نبی جان آفریدی
بہتری کی گنجائش ہر جگہ ہوتی ہے لیکن ہم نے اُس گنجائش کو، اُس کمی کو مزید سسٹم کو خراب کرنے کے لیے استعمال نہیں کرنا۔ ہم نے خرابیوں کی نشاندہی کرنی ہے۔ ہمارا اصول یہ ہے کہ ہم نے اُن کمیوں، کوتاہیوں اور ہیلتھ کمیونٹی کے مسائل، مریضوں کے مسائل کی نشاندہی کرنی ہے۔ ہماری کوشش یہی ہے کہ ہم اپنے بورڈ چیئرمینز کو، ایگزیکٹوز، ڈائریکٹرز کو، اپنے ڈی ایچ اوز کو، ایم ایس صاحبان کو مضبوط کریں۔ ہم ان کو مسائل اور کمی کوتاہیوں کی نشاندہی کرائیں کہ یہاں یہاں یہ غلطیاں ہیں اور ان کو ایسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ نہ کہ اس طرح کہ ہم ہسپتالوں کو، ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس کو، او پی ڈیز کو تالے لگائیں۔ نہ کہ ہم مریض کو تکلیف پہنچائیں۔ اس طرح سسٹم میں کبھی بھی بہتری نہیں آئے گی۔ ڈاکٹر نبی جان آفریدی
میں صوبہ بھر کے تمام ہیلتھ کمیونٹی کو ایک درخواست اور نصیحت کرتا ہوں۔ انصاف ڈاکٹرز فورم کے بنیادی ویژن کے حوالے سے یہی کہوں گا کہ آپ لوگوں نے منظم رہنا ہے، تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے اور آپ لوگوں نے ڈاکٹر ہونے کا، پڑھے لکھے اور مہذب ہونے کا ثبوت دینا ہے۔ نفرت سے، انتشار سے، پروپیگنڈے سے، تنقید برائے تنقید سے معاشرے ٹھیک نہیں ہوتے۔ ہم نے منظم طریقے سے آگے بڑھنا ہے اور عمران خان کے ہیلتھ ریفارم ویژن کو آگے لے کر جانا ہے اور ان شاءاللّٰہ اسی طرح ہم اپنے سٹیک ہولڈرز کو بلائیں گے اور ان کو اپنا مدعا، اپنے مسائل پیش کریں گے۔ ڈاکٹر نبی جان آفریدی
ہیلتھ کمیونٹی کی جانب سے صوبائی وزیرِ صحت کو ہماری چند گزارشات ہیں۔ ہمارے مسائل بہت زیادہ ہیں جبکہ وسائل محدود ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ جتنا ممکن ہو سکے پرائمری لیول سے لے کر ٹرشری اور ایکسیلینسی لیول تک ہمارے ڈاکٹرز، نرسز، فارماسسٹس، پیرامیڈیکس اور دیگر معاون کیڈرز بڑی تعداد میں گریجویٹ ہو رہے ہیں اور وہ بے روزگار ہیں۔ ہم نے بار بار یہ چیزیں محکمہ صحت کے نوٹس میں لے کر آئے ہیں۔ ہماری گزارش ہوگی وزیرِ صحت سے کہ جس طرح ہم نے فیز-1 اور فیز-2 میڈیکل افسرز اور کنسلٹنٹس کی اسامیوں کی تخلیق کی، اُسی طرح ہاؤس افسرز اور ٹرینی میڈیکل افسرز کی سیٹس بھی بڑھائی جائیں کیونکہ ڈیمانڈ زیادہ ہو رہی ہے جبکہ موجودہ سلاٹس ناکافی ہیں۔ ہاؤس افسرز اور ٹرینی میڈیکل افسرز کے وظیفوں کے بارے میں ہماری جدوجہد کا ہیلتھ کمیونٹی گواہ ہے کہ ہم نے کتنی جدوجہد کی ہے اس حوالے سے۔ وزیرِ صحت سے گزارش ہوگی کہ ہاؤس افسرز اور ٹرینی میڈیکل افسرز کے وظیفوں میں فوری اضافہ کیا جائے۔ ڈاکٹر نبی جان آفریدی
اس کے علاوہ ہماری ہیلتھ کمیونٹی کا ایک دیرینہ مطالبہ، جو پچھلے 60 سالوں سے آ رہا تھا، سیکیورٹی ایکٹ کے حوالے سے ہے جو کہ ہماری حکومت نے 2020 میں اسمبلی سے پاس کروایا لیکن بدقسمتی سے اُس پر ابھی تک رولز اینڈ ریگولیشنز نہیں بنے۔ اس حوالے سے پوری ہیلتھ کمیونٹی میں تشویش پائی جاتی ہے کہ جو رولز اینڈ ریگولیشنز ہیں ان کو جلد از جلد حتمی مراحل تک پہنچایا جائے اور اس کو لاگو کیا جائے۔ ڈاکٹر نبی جان آفریدی
ہمارا تیسرا اور اہم مطالبہ یہ ہے کہ آنے والے بجٹ میں ہیلتھ کے تمام کیڈرز کی تنخواہوں میں کم از کم 50 فیصد اضافہ کیا جائے۔ ڈاکٹر نبی جان آفریدی
چوتھا مطالبہ یہ ہے کہ پرائمری اور بیماریوں سے بچاؤ کے ہیلتھ پر فوکس کیا جائے اور اس کو مضبوط کیا جائے، اس پر توجہ دی جائے۔ اس کو باقاعدہ اینول ڈیویلپمنٹ پروگرام (ADP) میں شامل کیا جائے۔ ڈاکٹر نبی جان آفریدی
آخر میں میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ انصاف ڈاکٹرز فورم پورے صوبے کو اپنی تعداد ثابت کر چکی ہے کہ ہماری ہیلتھ کمیونٹی میں کتنی حمایت ہے، اپنی تکنیکی طاقت بھی اور سیاسی طاقت بھی۔ ہم اپنے دوستوں، اپنے کولیگز کے ساتھ لڑنا نہیں چاہتے۔ لیکن یہاں سے ایک واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہمارے صبر و تحمل کا، ہماری انسانیت، ہماری اخلاص اور ہماری نیت کا آپ لوگ بالکل غلط فائدہ نہ اٹھائیں۔
جس طرح آپ ہسپتالوں کے ایڈمنسٹریٹرز کے، ہماری سیاسی مشران کے، جس طرح ہماری حکومت کے، ہمارے ڈی ایچ اوز کے، ہمارے ایم ایس صاحبان کے، کنسلٹنٹس کے، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹس کے جس طرح پگڑیاں اُچھالتے ہیں اور اُچھال رہے ہیں اور جس طرح بے عزتی کر رہے ہیں پورے صوبے میں، اس کو فوری بند کیا جائے ورنہ ہم آپ کو چُن چُن کر ہیلتھ کمیونٹی کے سامنے ایکسپوز کریں گے۔ کیونکہ آپ لوگوں کی ایک ایک حرکت کی تفصیلات ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ اس کے بعد ہم جارحانہ رویہ اختیار کریں گے۔ ڈاکٹر نبی جان آفریدی
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا
میڈیا سیل