17/12/2025
اپنے طبی تجربے میں میں نے دیکھا ہے کہ والدین اکثرختنہ کروانے کی سب سے مناسب عمر پیدائش کے بعد پہلے چند ہفتے ہوتے ہیں کیونکہ اس وقت عمل آسان ہوتا ہے، درد کم ہوتا ہے، زخم جلد ٹھیک ہو جاتا ہے اور بچے کو کوئی ذہنی اثر نہیں پڑتا؛ اگر اس عمر میں نہ ہو سکے تو بچپن یا بعد کی عمر میں بھی ختنہ ہو سکتا ہے مگر اسے نسبتاً زیادہ انتظامات کی ضرورت پڑتی ہے، اس لیے عمومی طور پر جلد ختنہ کروانا بہتر اور زیادہ موزوں سمجھا جاتا ہے۔
اپنے بچے کے ختنہ کے بارے میں اس بات پر پریشان ہوتے ہیں کہ یہ عمل کس ماہر سے کروایا جائے۔ بات کو سادہ رکھا جائے تو ختنہ ایک معمولی عمل ہے اور کوئی بھی ایسا فرد جو اس میں مہارت، تجربہ اور درست تکنیک رکھتا ہو، اسے بخوبی انجام دے سکتا ہے۔ جنرل سرجن، یورولوجسٹ، پیڈیاٹرک سرجن اور حتیٰ کہ تجربہ کار ڈسپنسر بھی اس عمل کو آسانی سے انجام دیتے ہیں۔ آخرکار یہ والدین کی ترجیح ہوتی ہے کہ وہ کس پر اعتماد کرتے ہیں اور کس سے یہ عمل کروانا چاہتے ہیں۔
اپنی کلینیکل پریکٹس میں، میں عموماً پلاسٹی بیل تکنیک کو ترجیح دیتا ہوں، جو پیدائش کے تقریباً 10 دن سے 40 دن کی عمر کے درمیان کی جاتی ہے۔ اس طریقۂ کار میں میں خود کو مطمئن اور پُرسکون محسوس کرتا ہوں اور الحمدللہ اب تک کسی پیچیدگی کا سامنا نہیں ہوا۔ اسی بنیاد پر میں والدین کو بھی یہی مشورہ دیتا ہوں کہ اپنے ننھے پھولوں کے لیے ایک ہفتے سے چھ ہفتے کی عمر کے درمیان پلاسٹی بیل تکنیک کا انتخاب کریں۔
ڈاکٹر عاطف
یورولوجسٹ