08/05/2026
سیدھی بات سیدھے انداز میں
مصطفیٰ کمال کہتے ہیں کہ نرسوں کی کمی ہے۔
یہ غلط ہے۔ اصلی صورتحال کچھ اور ہی ہے۔
حقیقت یہ ہے:
ہزاروں نرسنگ گریجویٹس بے روزگار ہیں۔
ہسپتالوں میں ویکینسیز نہیں ہیں — خاص طور پر کے پی میں۔
اعداد و شمار دیکھیں:
خیبر میڈیکل یونیورسٹی سے 260 سے زائد نرسنگ کالجز ملحق ہیں۔
ہر کالج میں کم از کم 50 سیٹیں ہیں۔
یعنی 13,000 سے زائد نئے گریجویٹس ہر سال — اور یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔
یہ سب کہاں جائیں گے؟
کے پی میں نہ نوکری، نہ کوئی قاعدہ، نہ شفاف بھرتی پالیسی۔
نتیجہ؟
کے پی کے نرسز لاہور جارہے ہیں۔
اور لاہور میں؟
شروع کی تنخواہ صرف 60 ہزار — چار سال کی محنت کے بعد۔
بی ایس نرسنگ میں داخلہ لینے سے پہلے:
1000 بار سوچیں۔
مارکیٹ پہلے ہی بھری ہوئی ہے۔
حکومت کے پاس گریجویٹس جذب کرنے کا کوئی نظام نہیں۔
نہ کوئی شفاف بھرتی کمیشن، نہ کوئی پالیسی۔
ہم نرسنگ کے خلاف نہیں — ہم خود نرسز ہیں۔
لیکن جھوٹے "نرس شورٹیج" کے نعرے لوگوں کو گمراہ نہیں کریں گے۔
یہ پوسٹ شیئر کریں — کسی کو بے روزگاری سے بچانا ہے۔ آگاہ رہیں، متحد رہیں۔