Pak Drugs Rehabilitation and Psychiatry Center

Pak Drugs Rehabilitation and Psychiatry Center PDRPC_Drug Addiction & Psychological Care Center, Peshawar بحالی مرکز برائے منشیات و ذہنی امراض

23/05/2026

"Enabling behavior in addiction"
یعنی گھر والوں کے وہ کونسے رویے ہیں جو نشے کی لت میں مبتلا انسان کے اس لت کو اور مضبوط کرتے ہیں!
جب گھر میں کوئی نشے کی لت میں مبتلا ہوتا ہے تو پورا خاندان اس کے ساتھ متاثر ہوتا ہے ماں باپ، بہن بھائی، بیوی اور بچے اکثر دل سے یہی چاہتے ہیں کہ وہ ٹھیک ہو جائے، تکلیف سے نکل آئے اور زندگی دوبارہ معمول پر آ جائے اس محبت اور فکر میں وہ اس کی مدد کرتے ہیں اسے بچاتے ہیں، سمجھاتے ہیں، برداشت کرتے ہیں اور کئی بار اس کی غلطیوں کو چھپاتے بھی ہیں!
مگر نفسیات کے مطابق بعض اوقات یہ مدد اور ضرورت سے زیادہ تحفظ انجانے میں نشے کی لت کو اور مضبوط کر دیتا ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ گھر والے اکثر محبت، خوف اور بے بسی کے درمیان پھنس جاتے ہیں وہ ڈرتے ہیں کہ اگر سختی کی تو کہیں وہ ناراض نہ ہو جائے، گھر چھوڑ نہ دے، خود کو نقصان نہ پہنچائے یا مزید بگڑ نہ جائے پھر آہستہ آہستہ گھر والوں کے اندر کچھ خاص رویے پیدا ہونے لگتے ہیں!
"ضرورت سے زیادہ تحفظ دینے والے بن جاتے ہیں"
"وہ ہر مشکل خود حل کرنے لگتے ہیں اگر بیٹا نشے کی وجہ سے کہیں مسئلہ پیدا کر دے تو والد فوراً جا کر بات سنبھال لیتے ہیں"
"اگر پیسے ختم ہو جائیں تو ماں دوبارہ دے دیتی ہے"
ان کا مقصد صرف اسے تکلیف سے بچانا ہوتا ہے مگر اس سے نشہ کرنے والے کے اندر ذمہ داری لینے کی صلاحیت کمزور ہونے لگتی ہے!
کچھ گھر والے بہت نرم اور حد سے زیادہ محبت کرنے والے ہو جاتے ہیں
ہر بات پر فوراً مان جانا، ہر مطالبہ پورا کرنا، بار بار معاف کرنا شروع میں یہ آسان ہوتا ہے گھر والے بھی چاہتے ہیں کہ کوئی مسلہ نا ہو مگر وقت کے ساتھ یہ محبت بعض اوقات ضد اور جذباتی دباؤ کی شکل اختیار کر لیتی ہے!
مثلاً نشہ کرنے والا کہتا ہے:
"اگر مجھے پیسے نہیں دیے تو میں گھر چھوڑ دوں گا"
"آپ لوگوں کو میری کوئی پرواہ نہیں"
اور گھر والے خوف میں آ کر اس کی ضد اور وہ بات مان جاتے ہیں!
آہستہ آہستہ نشے میں مبتلا شخص کے اندر بھی کچھ خاص رویے بڑھنے لگتے ہیں!
- ذمہ داری سے بچنا، کیونکہ اسے عادت ہو جاتی ہے کہ کوئی اور سنبھال لے گا
- بہانے بنانا، میں نے نشہ اس لیے کیا کیونکہ میں بہت پریشان تھا
- دوسروں کو قصوروار ٹھہرانا، گھر کا ماحول ٹھیک ہوتا تو میں ایسا نہ کرتا
- جذباتی دباؤ ڈالنا، ناراض ہونا، خاموشی اختیار کرنا، دھمکی دینا یا رونا تاکہ سامنے والا مان جائے
- ضد اور کنٹرول کی خواہش اپنی بات ہر صورت منوانا
- حقیقت سے انکار، مجھے کوئی مسئلہ نہیں میں جب چاہوں چھوڑ سکتا ہوں
ادھر گھر والوں میں بھی کچھ رویے پیدا ہونے لگتے ہیں
- ہر وقت فکر اور بے چینی
- بار بار چیک کرنا کہ وہ کہاں ہے
- اپنی زندگی اور آرام کو بھول جانا
- گھر میں خاموشی رکھنا تاکہ جھگڑا نہ ہو
- دوسروں سے حقیقت چھپانا
- غصہ جمع کرتے رہنا
- خود کو قصوروار سمجھنا شاید ہماری تربیت میں کمی رہ گئی
اور وقت کے ساتھ گھر کا ماحول تھکن، خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جاتا ہے!
اینیبلر بننے سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ محبت کے ساتھ حدود قائم کی جائیں
- غلط رویے کو نارمل نہ سمجھا جائے
- ہر بار مالی مدد نہ دی جائے
- جھوٹ بول کر یا پردہ ڈال کر مسئلہ نہ چھپایا جائے
- واضح الفاظ میں کہا جائے ہم تمہاری فکر کرتے ہیں مگر نشے کو سپورٹ نہیں کریں گے
- علاج اور بحالی کی حوصلہ افزائی کی جائے
- گھر والے خود بھی جذباتی سپورٹ لے
نفسیات کے مطابق انسان میں تبدیلی اس وقت آسان ہوتی ہے جب اسے اپنے فیصلوں کے نتائج سمجھ آنے لگتے ہیں اور ساتھ ہی اسے یہ احساس بھی ہو کہ محبت موجود ہے مگر حدود کے ساتھ!
کیونکہ محبت میں ہر بات مان لینے میں کسی کی مدد نہیں ہوتی بلکہ محبت کے ساتھ اتنی جگہ دی جائے جہاں انسان خود اپنی حقیقت کو دیکھ سکے اور بدلنے کا فیصلہ کر سکے!!
#

22/05/2026

نشہ ایک ایسی بیماری ہے جو پورے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے نفسیات میں خاندان کو ایک "سسٹم" یعنی نظام سمجھا جاتا ہے اور یہ نظام جسم کے مانند ہوتا ہے اگر جسم کا ایک حصہ تکلیف میں ہوتا ہے تو پورے جسم میں وہ تکلیف محسوس ہوتی ہے اس طرح اگر خاندان کا کوئی فرد نشے سے متاثر ہو جائے تو اس کے اثرات پورے خاندانی نظام میں پھیل جاتے ہیں جس کی وجہ سے گھر کا سکون، اعتماد اور جذباتی توازن سب متاثر ہو جاتا ہے!
شروع میں گھر والے ہمدردی اور امید کے ساتھ صورتحال کو دیکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ وقتی مسئلہ ہے اور جلد ختم ہو جائے گا مگر جیسے جیسے نشہ بڑھتا ہے گھر کے اندر فکر، غصہ، مایوسی اور بے بسی کے جذبات پیدا ہونے لگتے ہیں والدین خود کو قصوروار سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید تربیت میں کمی رہ گئی شریک حیات کو دھوکہ اور عدم تحفظ محسوس ہوتا ہے جبکہ بچے خوف اور الجھن میں مبتلا ہو جاتے ہیں گھر کا ماحول جو کبھی محبت اور اعتماد سے بھرا ہوتا تھا آہستہ آہستہ تناؤ اور اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے!
نشہ کرنے والا فرد اکثر اپنی بیماری کو تسلیم نہیں کرتا وہ انکار کرتا ہے کہ اسے کوئی مسئلہ ہے اور بار بار وعدے کر کے توڑ دیتا ہے اس مسلسل انکار اور جھوٹ کی وجہ سے خاندان میں بداعتمادی بڑھتی ہے گفتگو کم ہو جاتی ہے یا صرف الزام اور بحث کی شکل اختیار کر لیتی ہے رشتوں میں قربت کی جگہ فاصلہ آ جاتا ہے خاندان کے لوگ جذباتی طور پر تھکنے لگتے ہیں کچھ لوگ ہر بات برداشت کر کے مسئلہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ سخت اور کنٹرول کرنے والے بن جاتے ہیں اس طرح پورا خاندانی نظام غیر متوازن ہو جاتا ہے!
بچوں پر اس کے اثرات اور بھی گہرے ہوتے ہیں وہ یا تو وقت سے پہلے ذمہ دار بن جاتے ہیں اور گھر کی فضا کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر خود میں سمٹ جاتے ہیں کچھ بچوں میں غصہ اور جارحیت پیدا ہو جاتی ہے جبکہ کچھ میں احساسِ کمتری وہ اکثر یہ سوچتے ہیں کہ شاید وہی اس مسئلے کی وجہ ہیں اس طرح ان کی خود اعتمادی اور جذباتی نشوونما متاثر ہوتی ہے اور بعض اوقات بڑے ہو کر وہ خود بھی منفی رویوں یا نشے کی طرف مائل ہو سکتے ہیں!
نشہ مالی اور سماجی مسائل بھی پیدا کرتا ہے آمدنی متاثر ہوتی ہے قرض بڑھتا ہے اور گھریلو اخراجات کا توازن بگڑ جاتا ہے مالی دباؤ مزید جھگڑوں کو جنم دیتا ہے سماجی طور پر خاندان تنہائی اختیار کرنے لگتا ہے کیونکہ شرمندگی اور لوگوں کی باتوں کا خوف انہیں دوسروں سے دور کر دیتا ہے اس تنہائی سے ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں اضافہ ہو سکتا ہے!
وقت گزرنے کے ساتھ اگر علاج نہ ہو تو صورتحال شدید ہو سکتی ہے رشتے ٹوٹ سکتے ہیں علیحدگی یا طلاق کی نوبت آ سکتی ہے اور بعض گھروں میں تشدد بھی پیدا ہو جاتا ہے سب سے زیادہ نقصان اعتماد کا ہو جاتا ہے کیونکہ بار بار جھوٹ اور وعدہ خلافی رشتوں کی بنیاد کو کمزور کر دیتی ہے خاندان کے لوگ اندر ہی اندر ٹوٹنے لگتے ہیں اور جذباتی طور پر بے حس یا انتہائی حساس ہو جاتے ہیں!
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نشہ اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ ایک قابلِ علاج بیماری ہے مگر اس بیماری کا علاج صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ پورے خاندان کو شامل کرنا ضروری ہے جب خاندان والے شعور اور پیشہ ورانہ مدد کے ذریعے اس مسئلے کو سمجھتے ہیں تو بحالی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں محبت کے ساتھ حدود قائم کرنا سچائی کو تسلیم کرنا اور مشترکہ طور پر علاج کے عمل میں شامل ہونا ہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف مریض بلکہ پورے خاندان کو دوبارہ ایک صحت مند اور متوازن زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے!

21/05/2026

ایڈیکشن(نشے کی لت) کے بہت سارے وجوہات ہوتے ہیں اور بہت ساری ایسی باتیں ہوتی ہے جو لوگوں سے پوشیدہ ہوتی ہے ان وجوہات میں سے ایک "تنہائی" یعنی اکیلاپن بھی ہے جو ایڈیکشن کی وجہ بن سکتی ہے!
ہر انسان اکیلا پن ایک جیسا محسوس نہیں کرتا کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو پر سکون محسوس کرنے کیلئے تھوڑی دیر تنہائی میں وقت گزارنا چاہتے ہیں جبکہ کچھ لوگ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ اپنی تنہائی سے بے حد تنگ ہوتے ہیں اور لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اندر سے خالی اور تنہا محسوس کرتے ہیں!
نفسیات کے مطابق یہ اکیلا پن بعض لوگوں کیلئے ایڈیکشن کی وجہ بن سکتی ہے!
اصل میں انسان صرف جسمانی طور پر نہیں بلکہ جذباتی طور پر بھی تعلق چاہتا ہے ہر انسان یہ محسوس کرنا چاہتا ہے کہ کوئی اُسے سمجھے، اُس کی بات سنے اوراسے اُس کی موجودگی کا احساس دلائے جب یہ احساس کم ہونے لگتا ہے تو انسان کے اندر ایک خالی پن پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے یہ خالی پن بعض لوگوں کو ایسی چیزوں کی طرف لے جاتا ہے جو وقتی طور پر مصروف رکھیں اور سکون دے سکیں!
لیکن ہر اکیلا انسان نشے کی طرف نہیں جاتا!
کچھ لوگ اکیلے پن سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اکیلے پن کو ذیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں خاص طور پر وہ لوگ جو جذباتی طور پر زیادہ حساس ہو، جلد اوورتھنک کرتے ہوں یا اپنے احساسات دوسروں سے شیئر نہ کر پاتے ہوں!
مثال کے طور پر
(وہ لوگ جنہیں بچپن میں زیادہ توجہ، محبت یا جذباتی سہارا نہ ملا ہو!
وہ لوگ جو ریجیکشن یا دھوکے کا تجربہ کر چکے ہو!
وہ لوگ جو اپنی بات دل میں رکھتے ہو!
یا وہ لوگ جو خود کو دوسروں سے الگ اور مس انڈرسٹُوڈ محسوس کرتے ہوں!)
اس طرح کچھ لوگ باہر سے بہت مضبوط، ہنسنے بولنے والے اور سوشل نظر آتے ہیں لیکن اندر سے وہ شدید جذباتی تنہائی محسوس کر رہے ہوتے ہیں وہ اپنے اصل جذبات کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتے اس لیے اُن کا اندرونی دباؤ بڑھتا رہتا ہے اور جب انسان مسلسل تنہائی محسوس کرتا ہے تو اُس کا ذہن کسی ایسے ذریعے کی تلاش شروع کرتا ہے جو اُسے کچھ دیر کیلئے بہتر محسوس کروا سکے!
کچھ لوگ موبائل گیمنگ یا سوشل میڈیا میں کھو جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ سگریٹ یا دوسری نشہ آور چیزوں کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں!
اکیلا انسان چونکہ پہلے ہی اندر سے خالی یا بےسکون ہوتا ہے اس لیے اُسے یہ وقتی سکون زیادہ پاورفل محسوس ہوتا ہے پھر اُس کا دماغ آہستہ آہستہ یہ سیکھنے لگتا ہے کہ!
"جب اکیلا محسوس ہو تو یہ چیز استعمال کرو کچھ دیر بہتر محسوس ہوگا"
اس وجہ سے بعض لوگ اپنی تنہائی میں نشے کو "ساتھی" سمجھنے لگتے اور اُن کے روزمرہ جذبات کا حصہ بن جاتا ہے وہ ہر اسٹریس، بورڈم یا لونلینیس میں اُس چیز کی طرف جانے لگتے ہیں!
وقت کے ساتھ یہ عارض سکون dependency میں بدلنے لگتا ہے پھر انسان کو لگتا ہے کہ وہ اُس چیز کے بغیر خود کو پرسکون یا جذباتی طور پر مستحکم محسوس نہیں کر سکتا اور یہاں سے ایڈیکشن کا آغاز ہو جاتا ہے!
نفسیات یہ بھی کہتی ہے کہ جن لوگوں کے پاس
مضبوط جذباتی سہارا!
اچھے تعلقات!
اپنے جذبات بیان کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے!
وہ اکیلے پن کے باوجود نسبتاً محفوظ رہتے ہیں جبکہ جو لوگ ہر درد خاموشی سے برداشت کرتے ہیں یا خود کو دنیا سے جذباتی طور پر تنہا محسوس کرتے ہیں اُن میں Unhealthy Coping Mechanisms پیدا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں!
اس لیے اکیلا پن بعض اوقات ایک ایسی ذہنی کیفیت بن جاتا ہے جہاں انسان وقتی سکون کیلئے اُن چیزوں کی طرف مائل ہونے لگتا ہے جو بعد میں اُس کی جذباتی ضرورت بن جاتی ہیں!

20/05/2026

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ کچھ لوگ غصے کی حالت میں فوراً سگریٹ، نشہ یا دوسری نقصان دہ چیزوں کی طرف کیوں جاتے ہیں؟
کیوں بعض لوگ جب شدید غصہ، بےبسی یا ذہنی دباؤ محسوس کرتے ہیں تو اُن کا ذہن خود بخود نشے کی طرف جانے لگتا ہے؟
غصہ ایک جذباتی کیفیت جس میں شدید ذہنی اور جسمانی دباؤ ہوتا ہے جب انسان غصے میں ہوتا ہے تو اُس کے دماغ اور جسم کے اندر بہت تیزی سے تبدیلیاں آتی ہیں جیسے
دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے،
جسم میں تناؤ آ جاتا ہے،
ذہن بےچین ہو جاتا ہے
انسان اندر سے ایک عجیب بےسکونی محسوس کرتا ہے ایسے وقت میں دماغ فوری سکون یا "ریلیف" تلاش کرنے لگتا ہے!
اب یہاں بہت سے لوگ نشے کی طرف مائل ہوتے ہیں کیونکہ نشہ آور چیزیں وقتی طور پر دماغ کو سست، پرسکون یا سن کر دیتی ہیں انسان کو چند لمحوں کیلئے محسوس ہوتا ہے کہ اُس کا غصہ کم ہو گیا، ذہن ہلکا ہو گیا یا اندر کی بےچینی ختم ہو گئی!
جب کوئی شخص غصے میں ہوتا ہے تو دماغ دباؤ کی حالت میں چلا جاتا ہے ایسے وقت میں اگر انسان سگریٹ، چرس، آئس یا کوئی دوسری نشہ آور چیز استعمال کرے تو دماغ میں ایسے کیمیکل خارج ہوتے ہیں جو وقتی سکون یا خوشی کا احساس دیتے ہیں دماغ اس احساس کو یاد رکھ لیتا ہے پھر آہستہ آہستہ دماغ ایک تعلق بنا لیتا ہے!
"غصہ آئے → نشہ کرو → کچھ دیر سکون ملے گا"
یہ تعلق جتنی بار دہرایا جاتا ہے اتنا ہی مضبوط ہوتا جاتا ہے پھر انسان ہر غصے، ذہنی دباؤ یا چڑچڑے پن کے وقت خود بخود اس چیز کی طرف جانے لگتا ہے جس سے پہلے وقتی سکون ملا تھا!
نفسیات کے مطابق کچھ لوگ اپنے غصے کو صحیح طریقے سے ظاہر نہیں کر پاتے وہ اپنے غصے کا اظہار کرنا نہیں جانتے رو نہیں سکتے، بات نہیں کر سکتے یا اپنے جذبات کسی کے سامنے بیان نہیں کر پاتے ایسے لوگ اپنے غصے کو اندر ہی اندر دباتے رہتے ہیں اور وقت کے ساتھ یہ دبا ہوا غصہ ذہنی بوجھ بن جاتا ہے!
پھر انسان کوئی ایسا راستہ ڈھونڈتا ہے جو اُسے چند لمحوں کیلئے اس دباؤ سے دور لے جائے نشہ اکثر وہی عارضی فرار بن جاتا ہے!
بعض اوقات انسان کو خود بھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ نشہ سکون کیلئے نہیں بلکہ اپنے غصے سے بچنے کیلئے کر رہا ہے کیونکہ غصہ انسان کو اندر سے بےقابو، بےسکون اور تھکا ہوا محسوس کرواتا ہے جبکہ نشہ وقتی طور پر اُس کیفیت کو دبا دیتا ہے!
لیکن حقیقت یہ ہے کہ نشہ غصے کو ختم نہیں کرتا وہ صرف کچھ وقت کیلئے انسان کے احساسات کو سُن کر دیتا ہے اور جب اثر ختم ہوتا ہے تو غصہ دوبارہ واپس آ جاتا ہے اور اکثر پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ محسوس ہوتا ہے
پھر انسان دوبارہ اُسی چیز کی طرف جاتا ہے یہ سلسلہ آہستہ آہستہ ایڈیکشن یعنی نشے کی عادت بن جاتی ہے!
اس لئے بہت سے لوگوں کا مسئلہ صرف “"نشہ" نہیں ہوتا بلکہ اصل مسئلہ وہ غصہ ہوتا ہے جسے وہ سمجھ نہیں پاتے، سنبھال نہیں پاتے، یا صحت مند طریقے سے ظاہر نہیں کر پاتے اور جب انسان اپنے جذبات کو سنبھالنے کے بجائے اُن سے بھاگنے لگے تو وہ وقتی سکون کیلئے اُن چیزوں کی طرف مائل ہو سکتا ہے جو بعد میں اُس کی کمزوری بن جاتی ہیں!

18/05/2026

اکثر لوگ کسی نشے، نقصان دہ عادت یا خطرناک رویے کی شروعات شوق سے نہیں بلکہ صرف "تجسس" سے کرتے ہیں ابتداء میں یہ سب بہت معمولی محسوس ہوتا ہے!
ایک خیال ذہن میں آتا ہے
"صرف ایک بار آزما کر دیکھتے ہیں"
سب لوگ کرتے ہیں، آخر اس میں ایسا کیا ہے؟"
"میں صرف experience کر رہا ہوں مجھے عادت نہیں پڑے گی"
نفسیات کے مطابق Curiosity یعنی تجسس انسانی ذہن کی ایک فطری ضرورت ہے انسان ہمیشہ نئی چیزوں کو جاننا، محسوس کرنا اور تجربہ کرنا چاہتا ہے خاص طور پر نوجوانی میں یہ تجسس زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے کیونکہ اس عمر میں انسان اپنی شناخت، آزادی، جذبات اور سماجی قبولیت تلاش کر رہا ہوتا ہے!
اس دوران انسان اپنے دوستوں، ماحول اور سوشل سرکل سے بہت زیادہ متاثر بھی ہوتا ہے بعض اوقات انسان کسی چیز کو اس لیے نہیں آزماتا کہ وہ اسے پسند کرتا ہے بلکہ صرف اس لیے کہ وہ خود کو دوسروں سے الگ محسوس نہیں کرنا چاہتا اور خود کو دوسروں کے ساتھ برابر محسوس کرنا چاہتا ہے!
روزمرہ زندگی میں ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ صرف دوستوں کے کہنے پر!
کچھ ذہنی دباؤ سے بچنے کیلئے!
کچھ تنہائی یا جذباتی خالی پن کی وجہ سے!
اور کچھ صرف boredom ختم کرنے کیلئے نئی چیزیں آزمانا شروع کرتے ہیں!
شروع میں یہ سب وقتی اور قابو میں محسوس ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ یہی "صرف ایک بار" انسان کے ذہن میں ایک نفسیاتی راستہ بنا دیتا ہے!
دماغ ہر اس چیز کو یاد رکھتا ہے جو وقتی سکون، فرار، خوشی یا راحت دے پھر انسان لاشعوری طور پر دوبارہ اس احساس کی طرف کھنچنے لگتا ہے اس وجہ سے بعض لوگ addiction کا شکار خوشی کی تلاش میں نہیں بلکہ درد، تھکن، خالی پن یا اندرونی بےچینی سے بچنے کیلئے بنتے ہیں!
نفسیات یہ بھی کہتی ہے کہ انسان اکثر خطرناک چیزوں کے نتائج کو اس وقت تک سنجیدگی سے نہیں لیتا جب تک وہ نقصان کو خود محسوس نہ کرے اس لئے experimentation یعنی "صرف آزمانا”" بعض اوقات انسان کو اس راستے پر لے جاتا ہے جہاں واپسی آسان نہیں ہوتی کیونکہ ہر عادت ابتدا میں ایک choice لگتی ہے لیکن وقت کے ساتھ وہ انسان کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے!
ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے ہر فیصلے کے پیچھے موجود وجہ کو سمجھے!
کیا وہ واقعی تجسس ہے؟
یا اندر کا کوئی خالی پن؟
کوئی دباؤ؟
کوئی تنہائی؟
یا خود کو وقتی طور پر بہتر محسوس کرنے کی کوشش؟
کیونکہ بعض اوقات صرف ایک غلط فیصلہ اور ایک غلط تجربہ پوری ذندگی کا رخ بدل دیتا ہے اور ساری ذندگی کا پچھتاوا ہوتا ہے!

14/05/2026

اکثر لوگ اپنی ذندگی کے کسی حصے میں خالی پن محسوس کرتا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں ہوتا اس خالی پن کو ہم اداسی کا نام نہیں دے سکتے نہ ہی یہ تنہائی کا نام ہے نفسیات کے مطابق "Emptiness" یعنی کہ خالی پن ایک ایسی کیفیت ہے جہاں انسان اپنے جذبات، اپنے وجود اور اپنے اردگرد کی چیزوں سے کٹا ہوا محسوس کرنے لگتا ہے عجیب بات یہ ہے کہ یہ احساس اکثر اُس وقت زیادہ شدت سے محسوس ہوتا ہے جب انسان لوگوں کے درمیان ہو، شور میں ہو یا بظاہر زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہو پھر بھی اندر کہیں خالی سا محسوس ہے!
نفسیاتی طور پر یہ کیفیت کئی وجوہات سے پیدا ہو سکتی ہے بعض اوقات مسلسل جذباتی دباؤ، بار بار مایوسی، محبت یا توجہ کی کمی، بچپن کے جذباتی زخم یا لمبے عرصے تک اپنے احساسات کو دباتے رہنا انسان کو اس مقام پر لے آتا ہے جہاں وہ محسوس تو سب کچھ کر سکتا ہے مگر اُس کا دل کسی احساس کو اپنانا نہیں چاہتا جذبات موجود ہوتے ہیں مگر ذہن اُن سے تھک چکا ہوتا ہے!

اکثر ہارہ دل چاہتا ہے کہ ہم خوش رہیں مگر خوشی محسوس نہیں ہوتی یہ جذبات کے ختم ہو جانے کا مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ ذہنی اور جذباتی تھکن کی ایک شکل ہوتی ہے دماغ بعض اوقات خود کو تکلیف سے بچانے کیلئے جذبات کو دھندلا دینا شروع کر دیتا ہے انسان ہنستا بھی ہے، لوگوں سے ملتا بھی ہے مگر اندر سے وہ اپنے آپ سے جڑا ہوا محسوس نہیں کرتا!
نفسیات میں اس کیفیت کو بعض اوقات "Emotional Numbness یعنی جذبات کا سن ہو جانا" کہا جاتا ہے اس میں انسان کو لگتا ہے کہ اُس کے اندر کچھ خالی ہے، کچھ غائب ہے مگر وہ سمجھ نہیں پاتا کہ آخر کیا! وہ محبت چاہتا ہے مگر محبت محسوس نہیں ہوتی، توجہ چاہتا ہے مگر سکون نہیں ملتا، لوگوں میں رہتا ہے مگر تعلق کا احساس پیدا نہیں ہوتا!
یہ انسان کے اندر برسوں سے جمع ذہنی دباؤ یا جذباتی دباؤ کی علامت ہوتا ہے وہ دباؤ جو کبھی صحیح طرح سنا نہیں گیا، سمجھا نہیں گیا یا انسان نے خود بھی نظر انداز کیا ہوتا ہے ایسے میں انسان باہر سے ٹھیک نظر آتا ہے مگر اندر سے اپنے ہی جذبات اس پر بوجھ بن جاتے ہیں اور اپنے ہی جذبات سے تھک جاتا ہے!
نفسیات یہ بھی کہتی ہے کہ انسان کو صرف لوگوں کی موجودگی نہیں بلکہ "جذباتی تعلق" کی ضرورت ہوتی ہے اگر انسان کے احساسات کو سمجھنے والا کوئی نہ ہو اگر وہ مسلسل اپنے اصل جذبات چھپاتا رہے تو ایک وقت کے بعد وہ خود اپنے احساسات سے بھی دور ہونے لگتا ہے تب رش میں بھی تنہائی محسوس ہوتی ہے اور زندگی کے چلتے ہوئے بھی اندر ایک جذباتی خلا باقی رہتا ہے!

آپ کی ذہنی صحت ہماری ترجیح ہے!کیا آپ یا آپ کا کوئی پیارا ذہنی دباؤ، نفسیاتی مسائل یا نشے کی لت سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے؟...
28/04/2026

آپ کی ذہنی صحت ہماری ترجیح ہے!
کیا آپ یا آپ کا کوئی پیارا ذہنی دباؤ، نفسیاتی مسائل یا نشے کی لت سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے؟ تو پریشان نا ہو آج ہی ماہرین کی مدد حاصل کریں اور اپنی مایوسی کو خیرباد کہیں!
​پاک ڈرگ ریہیب اینڈ سائیکاٹری سنٹر (PDRPC) اب فراہم کر رہا ہے علاج کی جدید سہولیات چاہے آپ گھر بیٹھے مشورہ کرنا چاہیں یا سنٹر آ کر ماہرین سے ملنا چاہیں ہم ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہیں!
​✅ آن لائن سیشنز، گھر بیٹھے مکمل رازداری کے ساتھ مشورے کی سہولت!
✅ ان پرسن (اوٹ ڈور) سیشنز، پشاور میں ہمارے کلینیک پر براہ راست ملاقات!
​صحت مند زندگی کی طرف پہلا قدم آج ہی اٹھائیں!
سیشن بک کرنے کیلئے رابطہ کریں:
📞 0333-9518955
0342-5610550
📍 ایڈریس 1: سردار گھڑی بی آر ٹی سٹیشن، جی ٹی روڈ، پشاور!
📍 ایڈریس 2: نزد جناح ہسپتال، موٹروے ٹول پلازہ، پشاور!

ہمارے معاشرے میں ایک بات بہت عام ہے وہ یہ کہ جب جسم بیمار ہو جائے تو فوراً فکر شروع ہو جاتی ہے لیکن اگر دل اور دماغ تھک ...
26/04/2026

ہمارے معاشرے میں ایک بات بہت عام ہے وہ یہ کہ جب جسم بیمار ہو جائے تو فوراً فکر شروع ہو جاتی ہے لیکن اگر دل اور دماغ تھک جائیں تو اسے سنجیدہ نہیں لیا جاتا اکثر کہا جاتا ہے "یہ سب سوچنے کی باتیں ہیں، خود کو مضبوط کرو، یہ سب ڈرامہ ہے، یہ آپ کا وہم ہے، ایسا کچھ نہیں ہے آپ ذیادہ سوچ رہے ہیں وغیرہ!
حالانکہ Mental Health (ذہنی صحت) بھی انسان کی زندگی کا اتنا ہی اہم حصہ ہے جتنا اس کا جسمانی صحت فرق صرف یہ ہے کہ ذہنی صحت بظاہر دکھائی نہیں دیتی اس لیے اکثر ہم اسے سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے!
ہمارے معاشرے میں اگر کسی انسان کے رویوں میں کوئی تبدیلی آنے لگتی ہے لوگوں سے دور رہنے لگے چھوٹی باتوں پر پریشان ہونے لگ جائے یا ہر وقت تھکا ہوا لگے تو عموماً اس کے مسئلے کو سمجھنے کے بجائے اس پر لیبل لگا دیا جاتا ہے
"سست ہو گیا ہے"
"دل نہیں لگتا اس کا"
"کام سے بھاگ رہا ہے"
"کام چور ہے"
"ڈرامے کر رہا ہے"
لیکن حقیقت یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اندر سے شدید دباؤ کا شکار ہو یا Depression، Anxiety جیسے مسائل سے گزر رہا ہو یہ بیماریاں انسان کی سوچ، نیند، توانائی اور زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتی ہیں!
اب یہاں مسئلہ صرف بیماری نہیں بلکہ ہمارا رویہ ہے!
الفاظ بہت طاقتور ہوتے ہیں جب کسی کو بار بار "کمزور، نکما، کام چور، مکار یا پاگل" کہا جائے تو وہ یہ باتیں سچ ماننے لگتا ہے اس کی خود اعتمادی ختم ہونے لگتی ہے اور وہ خود کو دوسروں سے کم سمجھنے لگتا ہے!
نفسیاتی طور پر انسان کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہے
سمجھ، قبولیت اور سہارا!
اور ہر انسان بچپن سے اپنے گھر سے امیدیں باندھتا ہے وہ بچپن سے یہ سیکھتا ارہا ہے کہ "گھر سب سے محفوظ اور سکون والی جگہ ہے" جب باہر کی دنیا مشکل لگنے لگ جائے، لوگوں کی سمجھ نہ آئیں یا حالات خراب ہو جائیں تو انسان تھکا ہوا اپنے گھر کی طرف دیکھتا ہے اور سوچتا ہے "چلو گھر چلتے ہیں وہاں سکوں ملے گا"
وہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کی بات سنے اسے سمجھے اور اسے جج نہ کرے!
اگر اس وقت خاندان اس کا ساتھ دے دے اس کی بات سن لے اس کے جذبات کو مان لے اسے یہ احساس دلائے کہ "تم اکیلے نہیں ہو" تو یہ چیز اس کے لیے علاج بن جاتی ہے بہت دفعہ صرف ہمدردانہ رویہ انسان کے اندر امید کو زندہ کر دیتا ہے!
لیکن اگر اس وقت گھر والے بھی اسے نظر انداز کریں، اس کا مذاق بنائیں یا اس کے مسئلے کو جھوٹ کہیں تو صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے!
جب اسے کہا جائے
"اتنا بھی کیا مسئلہ ہے"
“"لوگوں کو دیکھو وہ بھی تو جی رہے ہیں"
"تم ہی کمزور ہو"
"برداشت کرو"
"آپ کا مسئلہ ہے آپ دیکھو"
تو اس کے اندر ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے وہ سوچتا ہے"اگر میرے اپنے ہی نہیں سمجھتے تو پھر کون سمجھے گا"
یہ سوچ اسے آہستہ آہستہ خاموشی اور تنہائی کی طرف لے جاتی ہے وہ بات کرنا چھوڑ دیتا ہے، اپنے جذبات کو چھپانے لگتا ہے اور اندر ہی اندر ٹوٹتا رہتا ہے!
یہ ضروری نہیں کہ جو شخص ہنس رہا ہے وہ خوش بھی ہو
کئی لوگ صرف اس لیے چپ رہتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ کوئی انہیں سمجھے گا ہی نہیں!
خاندان کو کسی خاص ڈگری کی ضرورت نہیں ہے نا ہی ماہر نفسیات بننے کی ضرورت ہے صرف تھوڑی سی سمجھ اور نرمی کی ضرورت ہے!
بات غور سے سنیں، بیچ میں نہ ٹوکیں، فوراً نصیحت یا فیصلہ نہ دیں پہلے سمجھنے کی کوشش کریں، طنز مذاق اور سخت الفاظ سے بچیں، یہ مان لیں کہ ذہنی مسئلہ واقعی ایک مسئلہ اور اگر ضرورت ہو تو ماہر نفسیات سے مدد لینے کیلئے اس کی حوصلہ افزائی کریں!
ہمارے معاشرے کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اگر ہر گھر میں ایک شخص بھی ایسا ہو موجود ہو جو دوسروں کو سمجھنے کی کوشش کرے تو بہت سی زندگیاں بہتر ہو سکتی ہیں اور پورا خاندان خوشحال ذندگی گزار سکتا اور خوشحال خاندانہی خوشحال معاشرے کو تشکیل دیتا ہے!

کیا آپ نے لوگوں کو کبھی یہ بولتے ہوئے سنا ہے "مجھے ڈیپریش ہے" روزمرہ ذندگی میں تقریبا ایسے لوگوں کے ساتھ ہمارا تجربہ ہوت...
25/04/2026

کیا آپ نے لوگوں کو کبھی یہ بولتے ہوئے سنا ہے "مجھے ڈیپریش ہے" روزمرہ ذندگی میں تقریبا ایسے لوگوں کے ساتھ ہمارا تجربہ ہوتا ہے اور ہم یہ الفاظ سنتے ہیں!
لیکن کیا آپ کو پتہ ہے کہ یہ اصل میں ڈیپریش نہیں بلکہ ایک عارضی جذبہ ہوتا ہے جس کو ہم "اداسی" کہتے ہیں اور ہر اداسی ڈیپریش نہیں ہوتا اور یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے!
اداسی ایک فطری جذبہ ہے جس کو ہم اپنی روزمرہ ذندگی میں کئی بار محسوس کرتے ہیں مثال کے طور پر اگر آپ کا کسی سے جھگڑا ہو جائے کوئی قریبی شخص دور چلا جائے یا آپ کسی امتحان میں ناکام ہو جائیں تو دل کا اداس ہونا ایک نارمل بات ہے یہ کیفیت عام طور پر کچھ وقت بعد خود ہی کم ہو جاتی ہے خاص طور پر جب حالات بہتر ہوں یا آپ کسی سے دل کا حال بیان کرتے ہیں!
اس کے برعکس ڈپریشن (Major Depressive Disorder) صرف اداس ہونے کا نام نہیں بلکہ ایک باقاعدہ ذہنی بیماری ہے اس میں انسان کو مسلسل اداسی، مایوسی، اور بے دلی محسوس ہوتی ہے جو دن کے حساب سے نہیں بلکہ ہفتوں یا مہینوں تک رہ سکتی ہے ایسے شخص کو وہ کام بھی اچھے نہیں لگتے جو پہلے خوشی دیتے تھے جیسے دوستوں سے ملنا، گھومنا پھرنا یا پسندیدہ مشغلے بعض اوقات نیند بہت زیادہ آتی ہے یا بالکل نہیں آتی بھوک کم یا زیادہ ہو جاتی ہے اور توانائی بالکل نا ہونے کے برابر محسوس ہوتی ہے!
آسان الفاظ میں اگر سمجھیں تو اداسی ایک وقتی کیفیت ہے جبکہ ڈپریشن ایک مسلسل حالت ہے مثال کے طور پر اگر کسی کا قریبی دوست شہر چھوڑ دے تو کچھ دن اداس رہنا نارمل ہے لیکن اگر یہ اداسی لمبے عرصے تک رہے انسان لوگوں سے ملنا چھوڑ دے، کام یا پڑھائی متاثر ہونے لگے اور زندگی بے معنی لگنے لگے تو یہ ڈپریشن کی علامت ہو سکتی ہے!
نفسیاتی اصولوں کے مطابق ڈپریشن کی تشخیص کسی ایک دن یا ایک احساس کی بنیاد پر نہیں کی جاتی بلکہ اس کیلئے باقاعدہ معیار موجود ہیں جیسے کہ DSM-5 میں بیان کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ خود سے فیصلہ کرنا کہ "مجھے ڈپریشن ہے" ہمیشہ درست نہیں ہوتا کیونکہ کبھی کبھار ہم صرف مشکل وقت سے گزر رہے ہوتے ہیں!
یہ بات بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ اداسی میں انسان کو امید باقی رہتی ہے اور وہ بہتر محسوس کر سکتا ہے جبکہ ڈپریشن میں اکثر امید ختم ہو جاتی ہے اور انسان خود کو اکیلا اور بے بس محسوس کرتا ہے اس لیے اگر کسی کی کیفیت لمبے عرصے تک خراب رہے روزمرہ زندگی متاثر ہو یا منفی خیالات بڑھنے لگیں تو ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا بہت ضروری ہوتا ہے!
اداسی کو برا نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ یہ ایک قدرتی جذبہ ہے لیکن ڈپریشن کو نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے درست معلومات، وقت پر پہچان اور مناسب علاج کے ذریعے ڈپریشن سے باہر نکلا جا سکتا ہے اور ایک بہتر زندگی دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے!

08/04/2026

آپ یا آپ کا کوئی پیارا کِسی نشے، لت،یا ذہنی مسائل کا شکار ہے؟یہ ایک سنگین بیماری ہے جو مریض اور اُس سے جُڑی زندگیوں کو مکمل اندھیر کر دیتی ہے.
پاک ڈرگ ریہیب انڈ سائیکاٹری سنٹر ایک واحد ادارہ ہے جو ذہنی بیماری اور نشے میں مُبتلا لوگوں کی زندگی میں نہ صرف اُمید کی کرن بنتا ہے.
بلکہ مریض کو علاج کی تمام سہولیات فراہم کرتے ہوئے نارمل زندگی کی طرف واپس لاتا ہے.

پاک ڈرگ ریہیب انڈ سائیکاٹری سنٹر کے تجربہ کار ٹیم کی زیرِنگرانی کِسی بھی قسم کے نشے اور ذہنی امراض کا علاج سو فیصد مُمکن ہے.

مریض کو گھر سے لے جانا ہماری ذمہ داری ہے.

ابھی ہم سے رابطہ کریں اور نشے یا ذہنی بیماری سے مُکمل نجات پانے کے سفر کا آغاز کریں.

فیصلہ آپ کا، ذمہ داری ہماری.

📞 Contact Us: 0342-5610550

کیا آپ ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہیں؟ کیا آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ تنہا ہیں اور مدد نہیں مل رہی ہے؟ آپ کو یہ جان کر خو...
08/04/2026

کیا آپ ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہیں؟ کیا آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ تنہا ہیں اور مدد نہیں مل رہی ہے؟ آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ آپ اکیلے نہیں ہیں اور ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مدد موجود ہے۔ماہر نفسیات وہ ڈاکٹر ہوتے ہیں جو ذہنی صحت کے مسائل کی تشخیص، علاج اور روک تھام میں مہارت رکھتے ہیں۔ وہ آپ کی علامات کو سمجھنے میں مدد کر سکتے ہیں، آپ کے لیے علاج کا بہترین طریقہ تجویز کر سکتے ہیں، اور آپ کو بحالی کے عمل میں رہنمائی کر سکتے ہیں۔صحت مند زندگی کا خواب ممکن ہے پاکستان ڈرگ ریہیب اینڈ سائیکاٹری سنٹر کے ساتھ کیونکہ ہم فراہم کرتے ہیں علاج کے تمام سہولیات نہایت پرسکون ماحول میں۔ آج ہی خوشحال زندگی کی طرف پہلا قدم بڑھائیں۔ ابھی رابطہ کیجیۓ.

Address

Peshawar

Telephone

+923425610550

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pak Drugs Rehabilitation and Psychiatry Center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Pak Drugs Rehabilitation and Psychiatry Center:

Share