23/05/2026
"Enabling behavior in addiction"
یعنی گھر والوں کے وہ کونسے رویے ہیں جو نشے کی لت میں مبتلا انسان کے اس لت کو اور مضبوط کرتے ہیں!
جب گھر میں کوئی نشے کی لت میں مبتلا ہوتا ہے تو پورا خاندان اس کے ساتھ متاثر ہوتا ہے ماں باپ، بہن بھائی، بیوی اور بچے اکثر دل سے یہی چاہتے ہیں کہ وہ ٹھیک ہو جائے، تکلیف سے نکل آئے اور زندگی دوبارہ معمول پر آ جائے اس محبت اور فکر میں وہ اس کی مدد کرتے ہیں اسے بچاتے ہیں، سمجھاتے ہیں، برداشت کرتے ہیں اور کئی بار اس کی غلطیوں کو چھپاتے بھی ہیں!
مگر نفسیات کے مطابق بعض اوقات یہ مدد اور ضرورت سے زیادہ تحفظ انجانے میں نشے کی لت کو اور مضبوط کر دیتا ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ گھر والے اکثر محبت، خوف اور بے بسی کے درمیان پھنس جاتے ہیں وہ ڈرتے ہیں کہ اگر سختی کی تو کہیں وہ ناراض نہ ہو جائے، گھر چھوڑ نہ دے، خود کو نقصان نہ پہنچائے یا مزید بگڑ نہ جائے پھر آہستہ آہستہ گھر والوں کے اندر کچھ خاص رویے پیدا ہونے لگتے ہیں!
"ضرورت سے زیادہ تحفظ دینے والے بن جاتے ہیں"
"وہ ہر مشکل خود حل کرنے لگتے ہیں اگر بیٹا نشے کی وجہ سے کہیں مسئلہ پیدا کر دے تو والد فوراً جا کر بات سنبھال لیتے ہیں"
"اگر پیسے ختم ہو جائیں تو ماں دوبارہ دے دیتی ہے"
ان کا مقصد صرف اسے تکلیف سے بچانا ہوتا ہے مگر اس سے نشہ کرنے والے کے اندر ذمہ داری لینے کی صلاحیت کمزور ہونے لگتی ہے!
کچھ گھر والے بہت نرم اور حد سے زیادہ محبت کرنے والے ہو جاتے ہیں
ہر بات پر فوراً مان جانا، ہر مطالبہ پورا کرنا، بار بار معاف کرنا شروع میں یہ آسان ہوتا ہے گھر والے بھی چاہتے ہیں کہ کوئی مسلہ نا ہو مگر وقت کے ساتھ یہ محبت بعض اوقات ضد اور جذباتی دباؤ کی شکل اختیار کر لیتی ہے!
مثلاً نشہ کرنے والا کہتا ہے:
"اگر مجھے پیسے نہیں دیے تو میں گھر چھوڑ دوں گا"
"آپ لوگوں کو میری کوئی پرواہ نہیں"
اور گھر والے خوف میں آ کر اس کی ضد اور وہ بات مان جاتے ہیں!
آہستہ آہستہ نشے میں مبتلا شخص کے اندر بھی کچھ خاص رویے بڑھنے لگتے ہیں!
- ذمہ داری سے بچنا، کیونکہ اسے عادت ہو جاتی ہے کہ کوئی اور سنبھال لے گا
- بہانے بنانا، میں نے نشہ اس لیے کیا کیونکہ میں بہت پریشان تھا
- دوسروں کو قصوروار ٹھہرانا، گھر کا ماحول ٹھیک ہوتا تو میں ایسا نہ کرتا
- جذباتی دباؤ ڈالنا، ناراض ہونا، خاموشی اختیار کرنا، دھمکی دینا یا رونا تاکہ سامنے والا مان جائے
- ضد اور کنٹرول کی خواہش اپنی بات ہر صورت منوانا
- حقیقت سے انکار، مجھے کوئی مسئلہ نہیں میں جب چاہوں چھوڑ سکتا ہوں
ادھر گھر والوں میں بھی کچھ رویے پیدا ہونے لگتے ہیں
- ہر وقت فکر اور بے چینی
- بار بار چیک کرنا کہ وہ کہاں ہے
- اپنی زندگی اور آرام کو بھول جانا
- گھر میں خاموشی رکھنا تاکہ جھگڑا نہ ہو
- دوسروں سے حقیقت چھپانا
- غصہ جمع کرتے رہنا
- خود کو قصوروار سمجھنا شاید ہماری تربیت میں کمی رہ گئی
اور وقت کے ساتھ گھر کا ماحول تھکن، خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جاتا ہے!
اینیبلر بننے سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ محبت کے ساتھ حدود قائم کی جائیں
- غلط رویے کو نارمل نہ سمجھا جائے
- ہر بار مالی مدد نہ دی جائے
- جھوٹ بول کر یا پردہ ڈال کر مسئلہ نہ چھپایا جائے
- واضح الفاظ میں کہا جائے ہم تمہاری فکر کرتے ہیں مگر نشے کو سپورٹ نہیں کریں گے
- علاج اور بحالی کی حوصلہ افزائی کی جائے
- گھر والے خود بھی جذباتی سپورٹ لے
نفسیات کے مطابق انسان میں تبدیلی اس وقت آسان ہوتی ہے جب اسے اپنے فیصلوں کے نتائج سمجھ آنے لگتے ہیں اور ساتھ ہی اسے یہ احساس بھی ہو کہ محبت موجود ہے مگر حدود کے ساتھ!
کیونکہ محبت میں ہر بات مان لینے میں کسی کی مدد نہیں ہوتی بلکہ محبت کے ساتھ اتنی جگہ دی جائے جہاں انسان خود اپنی حقیقت کو دیکھ سکے اور بدلنے کا فیصلہ کر سکے!!
#