10/12/2025
میرے اپنے پڑوس کا ڈھائی سالہ خوبصورت، صحت مند، چمکتا ہوا بچہ—اپنے جوان والدین کا پہلا اور لاڈلا بیٹا—صرف لاعلمی اور غلط فیصلوں کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔
بچے کو قے اور دست شروع ہوئے تو اسے معمولی سمجھا گیا۔ پھر اسے قریبی عام پریکٹیشنر کے پاس لے جایا گیا، جہاں متلی کے لیے غالباً ایسا انجیکشن لگایا گیا جس سے ایکسٹرا پِیرامیڈل ری ایکشن ہوا۔ اس کے بعد تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈی ہائیڈریشن، الیکٹرولائٹس کا بگاڑ اور جھٹکے… اور صرف دو دن کے اندر وہ معصوم بچہ زندگی کی جنگ ہار گیا۔
یہ خاندان تعلیم یافتہ بھی تھا اور صاحبِ استطاعت بھی۔ سہولیات موجود تھیں۔ لیکن درست معلومات نہیں تھیں۔
یہی ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
میں اس بچے کے والد سے روزانہ مسجد میں ملتا تھا، مگر انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ میں بچوں کا معالج ہوں اور بڑے اسپتال میں سینئر کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرتا ہوں۔
اگر وہ مجھ سے ایک بار بھی مشورہ کر لیتے… یا انہیں خطرے کی علامات کا علم ہوتا… تو شاید آج وہ بچہ زندہ ہوتا۔
قے اور دست عام ضرور ہیں، مگر کبھی معمولی نہیں۔
چھوٹا بچہ چند گھنٹوں میں شدید ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہو سکتا ہے۔
غلط انجیکشن جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
اور علاج میں تاخیر ہمیشہ خطرناک ہوتی ہے۔
میں یہ تحریر اس امید پر لکھ رہا ہوں کہ والدین، اساتذہ اور کمیونٹی کو ایک اہم حقیقت سمجھ آئے:
بچوں کی صحت میں لاپرواہی کی کوئی گنجائش نہیں۔ بروقت اور درست علاج جان بچاتا ہے۔
براہِ کرم یاد رکھیں:
بار بار قے یا دست
پیاس نہ لگنا
پیشاب کم ہونا
سستی یا بے ہوشی
آنکھیں دھنس جانا
دورے
یہ سب ہنگامی علامات ہیں۔
فوراً قریبی مستند ہسپتال جائیں۔
گھر کے ٹوٹکے یا غیر مناسب علاج پر بچے کی جان مت آزمائیں۔
ہمارے بچے ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہیں۔
ایک لمحے کی توجہ ایک زندگی بچا سکتی ہے۔
پروفیسر محمد حسین - پشاور