Dr. Asim Raza

Dr. Asim Raza There is no greater wealth than wisdom, no greater poverty than ignorance; no greater heritage than

10/12/2025

میرے اپنے پڑوس کا ڈھائی سالہ خوبصورت، صحت مند، چمکتا ہوا بچہ—اپنے جوان والدین کا پہلا اور لاڈلا بیٹا—صرف لاعلمی اور غلط فیصلوں کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔

بچے کو قے اور دست شروع ہوئے تو اسے معمولی سمجھا گیا۔ پھر اسے قریبی عام پریکٹیشنر کے پاس لے جایا گیا، جہاں متلی کے لیے غالباً ایسا انجیکشن لگایا گیا جس سے ایکسٹرا پِیرامیڈل ری ایکشن ہوا۔ اس کے بعد تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈی ہائیڈریشن، الیکٹرولائٹس کا بگاڑ اور جھٹکے… اور صرف دو دن کے اندر وہ معصوم بچہ زندگی کی جنگ ہار گیا۔

یہ خاندان تعلیم یافتہ بھی تھا اور صاحبِ استطاعت بھی۔ سہولیات موجود تھیں۔ لیکن درست معلومات نہیں تھیں۔

یہی ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

میں اس بچے کے والد سے روزانہ مسجد میں ملتا تھا، مگر انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ میں بچوں کا معالج ہوں اور بڑے اسپتال میں سینئر کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرتا ہوں۔
اگر وہ مجھ سے ایک بار بھی مشورہ کر لیتے… یا انہیں خطرے کی علامات کا علم ہوتا… تو شاید آج وہ بچہ زندہ ہوتا۔

قے اور دست عام ضرور ہیں، مگر کبھی معمولی نہیں۔
چھوٹا بچہ چند گھنٹوں میں شدید ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہو سکتا ہے۔
غلط انجیکشن جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
اور علاج میں تاخیر ہمیشہ خطرناک ہوتی ہے۔

میں یہ تحریر اس امید پر لکھ رہا ہوں کہ والدین، اساتذہ اور کمیونٹی کو ایک اہم حقیقت سمجھ آئے:
بچوں کی صحت میں لاپرواہی کی کوئی گنجائش نہیں۔ بروقت اور درست علاج جان بچاتا ہے۔

براہِ کرم یاد رکھیں:

بار بار قے یا دست

پیاس نہ لگنا

پیشاب کم ہونا

سستی یا بے ہوشی

آنکھیں دھنس جانا

دورے

یہ سب ہنگامی علامات ہیں۔
فوراً قریبی مستند ہسپتال جائیں۔
گھر کے ٹوٹکے یا غیر مناسب علاج پر بچے کی جان مت آزمائیں۔

ہمارے بچے ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہیں۔
ایک لمحے کی توجہ ایک زندگی بچا سکتی ہے۔

پروفیسر محمد حسین - پشاور

28/11/2025

*غربت کی 15 حیران کرنے والی وجوہات* ۔ *!!!*

*ہمارے معاشرے کے گریبان میں جھانکتی ہوئی ۱۵ بے رحم وجوہات، جو بتاتی ہیں کہ یہاں کا عام آدمی غربت کے دلدل سے کیوں نہیں نکل پاتا* ۔ یہ میٹھی باتیں نہیں، کڑوی گولیاں ہیں۔اس کو پڑھنے سے پہلے دل پر ہاتھ رکھ لیں۔
👇👇👇
*۱۔ "سرکاری نوکری" کا نشہ*
پاکستانی نوجوان کی جوانی کے بہترین ۱۰ سال "سرکاری نوکری" کے انتظار میں گل سڑ جاتے ہیں۔ وہ پچیس ہزار کی پرائیویٹ نوکری یا چھوٹا کاروبار کرنے کو توہین سمجھتے ہیں اور ۳۰ سال کی عمر تک والدین کے ٹکڑوں پر پلتے ہیں۔ نتیجہ؟ جب ہوش آتا ہے تب تک وقت اور عمر دونوں ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔

*۲۔ دکھاوے کی شادیاں (امیروں کی نقل)*
جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں، مگر شادی پر ۱۰ لاکھ کا کھانا اور ۵ لاکھ کا جہیز دینا "ناک" کا مسئلہ ہے۔ یہ قوم اپنی زندگی کی کل جمع پونجی صرف ۴ گھنٹے کی تقریب میں لوگوں کو کھانا کھلا کر برباد کر دیتی ہے، اور پھر اگلے ۵ سال قرضہ اتارتی رہتی ہے۔

*۳۔ ڈگری زدہ جاہل*
ہاتھ میں ماسٹرز کی ڈگری ہے مگر ایک پروفیشنل ای میل لکھنی نہیں آتی۔ ہمارے تعلیمی نظام نے صرف "نوکر" پیدا کیے ہیں، ہنر مند نہیں۔ ڈگری کو قابلیت سمجھنا سب سے بڑی بیوقوفی ہے، کیونکہ مارکیٹ ڈگری کو نہیں، "سکل" (Skill) کو پیسے دیتی ہے۔

*۴۔ ایک کمائے، دس کھائیں*
مشترکہ خاندانی نظام (Joint Family) کی یہ کڑوی سچائی ہے کہ اگر ایک بھائی کمانے لگ جائے تو باقی سب "پیر پسار" کر لیٹ جاتے ہیں۔ یہاں "Parasite" (مفت خورے) بننے کا رواج ہے، جس کی وجہ سے کمانے والا بھی کبھی امیر نہیں ہو پاتا کیونکہ اس کا پیسہ سرمایہ کاری میں نہیں، دوسروں کا پیٹ بھرنے میں لگ جاتا ہے۔

*۵۔ کمیٹی کلچر (مردہ پیسہ)*
پاکستانیوں کو انویسٹمنٹ سے ڈر لگتا ہے مگر "کمیٹی" ڈالنے کا شوق ہے۔ کمیٹی "مردہ پیسہ" (Dead Money) ہے۔ دو سال بعد جو ایک لاکھ ملے گا، مہنگائی کی وجہ سے اس کی قدر ۶۰ ہزار رہ چکی ہوگی۔ یہ بچت نہیں، اپنے پیسے کی قدر گرانے کا طریقہ ہے۔

*۶۔ انا کا بت (میں یہ کام کروں گا؟)*
"میں چوہدری کا بیٹا ہوں، میں ریڑھی لگاؤں گا؟"
اس جھوٹی انا نے لاکھوں گھر اجاڑ دیے۔ یہاں لوگ بھوکے مر جائیں گے لیکن کوئی چھوٹا کام شروع کرنے میں شرم محسوس کریں گے۔ یاد رکھیں، کام چھوٹا نہیں ہوتا، بندے کی سوچ چھوٹی ہوتی ہے۔

*۷۔ صحت کی تباہی (خودکشی)*
ہم وہ قوم ہیں جو ۴۰ سال کی عمر تک تیل اور چینی ٹھونس کر اپنا جسم برباد کرتے ہیں اور پھر ۵۰ سال کی عمر کے بعد اپنی ساری کمائی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو دے دیتے ہیں۔ صحت کو نظر انداز کرنا غربت کا سیدھا راستہ ہے۔

*۸۔ شارٹ کٹ کی تلاش*
ہمیں امیر بننا ہے، لیکن محنت کے بغیر۔ کبھی ڈبل شاہ، کبھی کرپٹو کے فراڈ اور کبھی لاٹری۔ پاکستانی قوم پروسیس (Process) پر یقین نہیں رکھتی، اسے "معجزہ" چاہیے۔ اور معجزے کے انتظار میں نسلیں غریب رہ جاتی ہیں۔

*۹۔ الزام تراشی (Victim Mentality)*
"حکومت خراب ہے، نواز شریف کھا گیا، عمران خان نے کیا کر لیا، فوج نہیں چھوڑتی۔۔۔"
یہ وہ چُورن ہے جو ناکام لوگ روز بیچتے ہیں۔ یہ ماننے کے بجائے کہ "میں نالائق ہوں"، وہ اپنی ناکامی کا ملبہ سسٹم پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔

*۱۰۔ ادھار پر عیاشی*
ہم وہ لوگ ہیں جو "آئی فون" قسطوں پر لیتے ہیں تاکہ ان لوگوں کو متاثر کر سکیں جو ہمیں پسند بھی نہیں کرتے۔ غیر ضروری چیزوں (Liabilities) کے لیے قرض لینا مالی خودکشی ہے، جو یہاں کا ہر دوسرا بندہ کر رہا ہے۔

*۱۱۔ سیکھنا بند (The Know-it-all* )
ڈگری ملتے ہی کتاب بند۔ پاکستانی اوسطاً سال میں ایک کتاب بھی نہیں پڑھتا۔ جب آپ اپنے دماغ پر انویسٹ کرنا بند کر دیتے ہیں، تو آپ کی جیب خود بخود خالی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

*۱۲۔ اولاد بطور انشورنس پالیسی*
غربت کی ایک بڑی وجہ "بے تحاشا بچے" ہیں۔ غریب آدمی بچے اس لیے پیدا کرتا ہے کہ "یہ بڑے ہو کر کمائیں گے"۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ وسائل کے بغیر پلنے والے بچے "سرمایہ" نہیں، معاشرے اور والدین پر "بوجھ" بنتے ہیں۔

*۱۳۔ رسک فوبیا (Risk Aversion)*
"پیسہ ڈوب نہ جائے"۔ اس ڈر سے لوگ پیسہ بینک میں سڑنے دیتے ہیں یا پلاٹ لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ کاروبار کرنے کا، رسک لینے کا حوصلہ ہی نہیں ہے۔ اور جو رسک نہیں لیتا، وہ کبھی ترقی نہیں کرتا۔

*۱۴۔ حاسدانہ رویہ*
امیر آدمی کو دیکھ کر یہ سیکھنے کے بجائے کہ "یہ کیسے امیر ہوا؟"، ہم کہتے ہیں "ضرور حرام کا کمایا ہوگا۔" امیروں سے نفرت کر کے آپ کبھی امیر نہیں بن سکتے، کیونکہ لاشعوری طور پر آپ وہ بننا ہی نہیں چاہتے جسے آپ برا سمجھتے ہیں۔

*۱۵۔ وقت کا قتلِ عام*
چائے کے ڈھابوں پر گھنٹوں سیاست پر بحث، ٹک ٹاک پر اسکرولنگ اور فضول محفلیں۔ غریب آدمی کے پاس پیسے کے علاوہ سب سے قیمتی چیز "وقت" ہوتی ہے، اور وہ اسی کو سب سے زیادہ بے دردی سے ضائع کرتا ہے۔

*اپنی بدحالی کا ملبہ حکومت یا تقدیر پر ڈالنا بند کریں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی جیب خالی نہیں بلکہ آپ کا دماغ بنجر ہے۔ جب تک آپ اپنی ”جھوٹی انا“ اور ”سستی“ کا جنازہ نہیں نکالیں گے، غربت آپ کی نسلوں کو اسی طرح چاٹتی رہے گی* ۔

07/10/2025

کسی بھی #ایمرجنسی کی صورت میں کوشش کریں کہ ہمیشہ سرکاری ہسپتال جائیں۔ سرکاری ہسپتال کا جونیئر ترین ڈاکٹر یا ہاؤس آفیسر یا پیرامیڈیکل سٹاف بھی ایمرجنسی صورت حال سے نمٹنے کی بہترین صلاحیت رکھتا ہے اور سینئر ڈاکٹر بھی اگر بالفرض موقع پر ایمرجنسی میں موجود نہیں تب بھی وہ ہمیشہ رابطے میں ہوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر فوری طور پر پہنچ بھی جاتے ہیں۔
میں خود اپنے سب دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی یہی مشورہ دیتا ہوں خواہ آپ جتنے بھی امیر ہوں ایمرجنسی ہمیشہ سرکاری ہسپتال میں اچھی مینیج ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ریسکیو 1122 بھی ہمیشہ مریض کو سرکاری ہسپتال لے کر جاتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل کے ہاتھوں میں صرف کوشش کرنا ہے صحت دینا یا زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔تو سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے سے بھی ویسے ہی ادب سے پیش آئیں جیسے آپ ہزاروں روپے دینے کے باوجود پرائیویٹ ہسپتال میں ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل عملے سے پیش آتے ہیں۔
24/7 آپکے لیے وہاں موجود ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل آپ کے لیے اور آپ کے پیاروں کے لیے اپنی نیندیں قربان کر کے وہاں موجود ہیں۔
لہٰذا آپ بھی ان سے محبت سے پیش آئیں میں لکھ کر دیتا ہوں بدلے میں آپکو شیرینی ہی ملے گی۔
میڈیا میڈیکل کے شعبے کو برا بنا کر پیش کرتا ہے جبکہ حقیقت اسکے برعکس ہے۔
جزاک اللہ خیر
اس آگہی کو آگے پھیلائیں، شعور پھیلانا بھی صدقہ ہے
Copied

22/09/2025
14/08/2025

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

*خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو*

(احمد ندیم قاسمی )🤲🇵🇰🍀🌹💐⚖️🍀🪖
یا ربّ العالمین ، تمام مظلوم مسلمانوں کو ظلم سے نجات عطا فرما۔
شھیدوں اور غازیوں کی عظیم قربانیوں کے صدقے پاکستان کو استحکام ، امن و سلامتی اور خوشحالی عطا فرما۔ آمین
یوم آزادی مبارک 💐🌹🍀

02/07/2025

Cardiac arrest.....

26/06/2025

کبھی ماں باپ کی یاد آے تو بہن بھائی مل کے بیٹھا کرو
کسی کے چہرے میں ماں مسکراتی نظر آے گی تو کسی کے لہجے میں باپ

06/06/2025

Public awareness message.
پاکستان میں میڈیکل ٹاؤٹ ازم ایک عام اور تشویشناک مسئلہ ہے، جہاں بعض افراد(کمیسٹ اور ڈرگسٹ،بعض ڈرائیور حضرات وغیرہ)یا اسپتال کا عملہ مریضوں کو سرکاری اسپتالوں سے نجی کلینکس، لیبارٹریز یا فارمیسیز کی طرف لے جاتے ہیں اور اس کے بدلے کمیشن حاصل کرتے ہیں۔ یہ عمل اکثر غریب، ان پڑھ یا دور دراز سے آنے والے مریضوں کو نشانہ بناتا ہے، جنہیں علم نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے۔ اس سے نہ صرف مریضوں پر مالی بوجھ پڑتا ہے بلکہ ان کا اعتماد نظامِ صحت پر سے اٹھ جاتا ہے۔ اکثر مریضوں کو غیر ضروری ٹیسٹ یا مہنگے علاج کے لیے مجبور کیا جاتا ہے، اور یہ عمل طبی اخلاقیات، قانون اور مریضوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ بدقسمتی سے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری اور بعض اندرونی افراد کی ملی بھگت کی وجہ سے یہ مسئلہ برقرار ہے، جسے روکنے کے لیے سخت اقدامات اور عوامی آگاہی کی اشد ضرورت ہے۔

خیبرپختونخوا: ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ گزشتہ دس ماہ کے دوران ایک ہزار اکتالیس مریضوں میں ایڈ...
12/12/2024

خیبرپختونخوا: ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ

گزشتہ دس ماہ کے دوران ایک ہزار اکتالیس مریضوں میں ایڈز کے وائرس کی نشاندہی ہوئی۔ متاثرہ افراد کی تعداد سب سے زیادہ پشاورمیں ہے جبکہ دوسرے نمبر پر ضلع بنوں ہے، جہاں نو سو اناسی ایچ آئی وی پازیٹیو افراد پائے جاتے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟
Special care should b takenn..
Alarming

02/12/2024

ڈاکٹر عاصم رضا الٹراساؤنڈ اسپیشلسٹ

Celebrating my 5th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉
02/12/2024

Celebrating my 5th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

Address

Lady Reading Hospital
Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923348281067

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Asim Raza posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Asim Raza:

Share

Category