12/01/2026
جب نان کوالیفائیڈ اور نااہل افراد کسی اہم محکمے کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں، تو ایسے ہی افراتفری اور احمقانہ فیصلے جنم لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فضائیہ کا سربراہ کبھی کسی سی ایس ایس افسر کو نہیں بنایا جاتا—کیونکہ مہارت اور تجربہ ہی کامیابی کی بنیاد ہوتے ہیں۔
اسی بے وقوفی کی تازہ مثال دیکھیے: پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں پر ہسپتالوں میں موبائل فون استعمال کرنے کی سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حالانکہ دنیا کے کسی بھی جدید ہسپتال میں ایسی کوئی پابندی موجود نہیں—بلکہ یہ ایک پسماندہ اور غیر منطقی اقدام ہے۔ صرف ڈاکٹرز ہی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ آج کی تیز رفتار طبی دنیا میں، مریضوں کی ادویات تجویز کرنے کے لیے بار بار موبائل کی مدد ناگزیر ہوتی ہے: بچوں کی دوائیں وزن کے حساب سے تصدیق کرنا، حمل کے دوران محفوظ ادویات اور ان کی مقدار کا تعین، ہسپتال کی لیبارٹریاں اور تمام شعبے اب ایک ایپ سے جڑے ہوتے ہیں—جہاں ڈاکٹر ہر مریض کی رپورٹس، آپریشن کی تاریخ اور طبی تفصیلات فوری طور پر موبائل پر دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، شوکت خانم جیسے عالمی معیار کے ہسپتال تو ڈاکٹروں کے لیے موبائل فون کو لازمی قرار دیتے ہیں، تاکہ طبی خدمات مزید موثر اور تیز ہوں۔
اور اب پنجاب حکومت کی طرف سے ایک اور حیران کن حکم نامہ جاری ہوا ہے: تمام طبی عملے کو اپنی جیب پر ویڈیو کیمرہ لگانا ہوگا، جو ہر لمحہ ان کی ویڈیو ریکارڈ کرتا رہے گا۔ یہ بات صرف ڈاکٹرز ہی جانتے ہیں کہ طبی معائنہ کے دوران، انہیں ننگے مریضوں کو پیشاب کی ٹیوب ڈالنی پڑتی ہے، پاخانے کی جگہ کا معائنہ کرنا ہوتا ہے، یا سینے کا الٹراساؤنڈ کرنا پڑتا ہے—یہ سب انتہائی حساس اور نجی عمل ہیں۔ اب یہ سب کچھ ویڈیو میں محفوظ ہو جائے گا! اور جب عملہ یہ کیمرے ہسپتال میں چھوڑ کر گھر جائے گا، تو ان ویڈیوز کی چوری اور انٹرنیٹ پر لیک ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ تصور کیجیے، جناب: مریضوں کی ننگی اور ذاتی ویڈیوز ہر طرف وائرل ہو رہی ہوں گی—یہ نہ صرف مریضوں کی پرائیویسی کی شدید خلاف ورزی ہے، بلکہ ایک انسانی المیہ اور اخلاقی بحران بھی پیدا کر دے گا!