10/12/2025
ایک 8 سال کے، بچے کے لئے پشاور کے کسی ہسپتال میں بیڈ مہیا نہیں تاکہ مریض داخل ہو سکے اس حکومت نے 13 سال میں صحت نظام کو اتنامفلوج کیا کہ ڈی ایچ کیو لیول پر بیڈز تو دور کی بات اکسیجن اور دوائیاں تک نہیں ملتی اور پشاور کے بڑے ہسپتالوں کا یہی حال ہے کہ کوئی بیڈ نہیں ملتی. سیکٹری ہیلت اور ہیلت منسٹر صاحب اس بچے کی تکلیف اور اگر خدانخواستہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے اسکے ذمہ دار ہونگے، نہ ڈاکٹر کی قتل کا انصاف اور نہ مریض کو انصاف ،یہ اندھیر نگری اور کالا قانون اخر کب تک. یہ بچہ کسی کابھی یو سکتا یے، اپ لوگ خود بھی ہو سکتے ہیں لہذا سوچ کر فیصلہ کریں، ینگ ڈاکٹرز کی اواز کھبی دھب نہیں سکتی نہ پہلے اور نا اب، ہم ہمیشہ ظلم اور بربریت کے خلاف اواز اٹھائینگے انشاء اللہ