SMILE AGAIN

SMILE AGAIN For treatment of Depression,Anxiety,headach and drug dependance

A well established and International known Psychiatric Care and Drug Addict Detoxification centre....providing Mental \health Care to the western Punjab,Afghanistan,FATA , KPK and UAE

22/01/2026

کیا یہ سراسر ائین کی توہین نہیں کہ ایک صوبے کا ائینی نام لینے کی بجائے
کے پی
کہا جا رہا ہے۔ پتہ نہیں یہ جہالت ہے یا تعصب؟
سپیکر بھی شائد سو رہا ہے۔ اور پختونخوا کی حکومت بھی

آٹا بحران نہیں، آٹا انتقام ہے!کل تک ہمیں بتایا گیا:“آٹا افغانستان اسمگل ہو رہا ہے”آج صورتحال یہ ہے بارڈر بند بارڈر پر فو...
19/01/2026

آٹا بحران نہیں، آٹا انتقام ہے!
کل تک ہمیں بتایا گیا:
“آٹا افغانستان اسمگل ہو رہا ہے”
آج صورتحال یہ ہے
بارڈر بند
بارڈر پر فوج
ایف سی
آئی ایس آئی
ایم آئی
یعنی اگر آٹا اسمگل ہو رہا ہے
تو یا تو آٹا پوشیدہ میزائل ہے
یا پھر ہمیں بیوقوف بنایا جا رہا ہے!
افغانستان تھیوری فیل
اسمگلنگ ڈرامہ فیل
اب اصل کہانی سنیں
آٹا افغانستان نہیں
پنجاب سے کے پی کے بند ہے
پنجاب میں آٹا: 1600 روپے
کے پی کے میں آٹا: 3500 روپے
یہ فرق نہیں
یہ ڈاکا ہے!
یہ آٹا نہیں
یہ سزا ہے
یہ یاد دہانی ہے
کہ “غلط ووٹ کا نتیجہ یہی ہوتا ہے”
دلچسپ اتفاق (اتفاق نہیں، روایت):
جب بھی نواز شریف کی حکومت آتی ہے
کے پی کے میں آٹا، چینی، گھی
سب کو اچانک
ایمرجنسی لگ جاتی ہے
آٹا پوچھتا ہے:
“تم نے ووٹ کس کو دیا تھا؟”
جواب غلط ہو
تو آٹا غائب!
پنجاب کہتا ہے:
“ہمارا آٹا، ہماری مرضی”
کے پی کے کہتا ہے:
“روٹی تو ویسے بھی مشکل سے ملتی ہے”
حکومت کہتی ہے:
“سپلائی چین کا مسئلہ ہے”
سپلائی چین نہیں
یہ سپلائی چینجر ہے!
اگر مسئلہ واقعی سیکیورٹی کا ہوتا
تو فوج کے ہوتے
ایک تھیلا بھی نہ رکتا
اگر مسئلہ واقعی قلت کا ہوتا
تو پنجاب میں آٹا سستا نہ ہوتا
اصل مسئلہ یہ ہے
آٹا اب خوراک نہیں
سیاسی ہتھیار بن چکا ہے
عوام کو بھوکا رکھو
پھر کہو:
“صبر کرو، ملک مشکل میں ہے”
مشکل میں ملک نہیں
مشکل میں صرف
غریب کی روٹی ہے
یاد رکھو!
جس دن روٹی سیاست کا اوزار بن جائے
اس دن حکومت نہیں
تماشا چل رہا ہوتا ہے





19/01/2026
19/01/2026

*خیالستان کے دھوکہ منڈی کے چودھری کی کہانی مصدق ملک کی زبانی....*
بغیر توجہ ہٹائے پوری سنیں اور پھر فیصلہ کریں کہ کیا یہ سچ کہہ رہا ہے۔

18/01/2026
18/01/2026

آٹھ سال کی عمر میں ’پیڈ‘ سنبھالتی ہوئی آپ کی بیٹی
یہ ترقی ہے یا زوال؟

کل ہی کی بات ہے۔ او پی ڈی میں ایک ماں باپ اپنی آٹھ سالہ بیٹی کو لے کر آئے۔ بچی کے ایک ہاتھ میں اب بھی اس کی پسندیدہ گڑیا تھی اور دوسری طرف ماں کی آنکھوں میں آنسو۔
شکایت کیا تھی؟
“ڈاکٹر صاحب، اسے ماہواری (Periods) شروع ہو گئی ہے۔”
یہ پڑھ کر آپ کا دل دہل گیا نا؟
میرا نہیں دہلا، کیونکہ اب میرے کلینک میں یہ روز کا معاملہ بن چکا ہے۔ جس عمر میں بچیوں کو رسّی کودنی چاہیے، اس عمر میں ان ننھے وجودوں کو سینیٹری پیڈز اور پیٹ کے درد سنبھالنے پڑ رہے ہیں۔
“امی، مجھے خون کیوں آ رہا ہے؟”
۸ سال کی بچی کا یہ سوال سن کر اس ماں کا کلیجہ پھٹ گیا تھا… اور ایک ڈاکٹر کے طور پر میرا دماغ سُن ہو گیا تھا۔
کیا یہ بچپن چھین لینا نہیں ہے تو اور کیا ہے؟
ایک ماہرِ اطفال (Pediatrician) کے طور پر میں آپ کو ایک نہایت تلخ سچ بتا رہا ہوں، جو ہضم کرنا مشکل ہوگا:
ہم اپنے بچوں کو پال نہیں رہے، ہم انہیں پھلا رہے ہیں۔
جس طرح پولٹری فارم میں انجیکشن دے کر ۴۰ دن میں ’برائلر مرغی‘ تیار کی جاتی ہے، کچھ ویسی ہی حالت آج ہم نے اپنی اولاد کی کر دی ہے۔ یہ نشوونما نہیں، یہ جسم کی سوجن ہے!
اس کا ذمہ دار کون ہے؟
ہماری ’ماڈرن‘ لائف اسٹائل اور والدین کی سہل پسند سوچ!
دیکھیں ہم لاشعوری طور پر ان کی زندگی سے کیسے کھیل رہے ہیں:
۵۰۰ روپے کا پیزا یا زندگی کی ہولی؟
ویک اینڈ پر مال میں ۵۰۰–۸۰۰ روپے کا پیزا/برگر کھاتے ہوئے آپ تصویر کھینچ کر انسٹاگرام پر ڈالتے ہیں… “فیملی ٹائم!”
ارے، یہ فیملی ٹائم نہیں، یہ آپ کے بچوں کی صحت کی ہولی ہے! ربڑ جیسے میدے اور پروسیسڈ چیز کا یہ کھانا ہارمونل عدم توازن کی فیکٹری ہے۔
جسم میں جتنی زیادہ چربی، اتنا ہی زیادہ ایسٹروجن بنتا ہے۔ اور یہی اضافی ہارمون اس ۸ سالہ بچی کے نازک دماغ کو پیغام دیتا ہے:
“بچی، تمہارا بچپن ختم، اب تم عورت ہو!”
گرم کھانے کے لیے پلاسٹک کا ڈبہ؟
اسٹیل کا ڈبہ بھاری لگتا ہے اور پلاسٹک کا فینسی، اس لیے وہی بچوں کو دے رہے ہو؟
جب آپ اس میں بھاپ اڑاتی گرم سبزی رکھتے ہیں تو اس میں موجود زینو-ایسٹروجنز (Xenoestrogens) کھانے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ کیمیکل جسم میں جا کر بہروپئے کی طرح کام کرتے ہیں۔ جسم کو لگتا ہے کہ یہ ایسٹروجن ہے، اور جسم قبل از وقت بالغ ہونے لگتا ہے۔
آپ کی ’فینسی‘ عادت نے قدرتی گھڑی ہی بگاڑ دی ہے!
دودھ-چکن یا ’ہارمونل بم‘؟
“ڈاکٹر، بچی بہت دبلی ہے، نان ویج دیں؟ دودھ کتنا پلائیں؟”
کھلائیں ضرور، مگر بازار کا وہ ۴۰ دن میں پھولا ہوا برائلر چکن اور تھیلی کا ’کیمیائی‘ دودھ دیتے وقت سو بار سوچیں۔
چکن: مرغی کو جلدی بڑا کرنے کے لیے گروتھ ہارمونز کے بھاری ڈوز دیے جاتے ہیں۔ وہی ہارمون بچی کے پیٹ میں جاتے ہیں۔ اسی لیے آج کل چوتھی جماعت کی بچیوں کے ہونٹوں پر بال (Facial Hair) آ رہے ہیں۔ یہ PCOD کی پہلی علامت ہے!
دودھ: گائے-بھینس کو زیادہ دودھ کے لیے دیے گئے آکسیٹوسن کے انجیکشن دودھ کے ذریعے آپ کی بچی کے ننھے سے رحم کو “بڑا ہونے” کے غلط سگنل دیتے ہیں۔
جن چیزوں کو آپ ’پروٹین‘ سمجھ کر کھلا رہے ہیں، وہ دراصل ہارمونل بم ہیں!
💉 سب سے خوفناک حقیقت:
اس عمر میں ماہواری شروع ہو جائے تو ہڈیاں جلدی جُڑ جاتی ہیں اور قد ہمیشہ کے لیے رک جاتا ہے۔ اسے روکنے کے لیے پھر کیا کرنا پڑتا ہے؟
“ہارمون سپریشن تھراپی!”
ذرا تصور کریں…
اس ۸ سالہ نازک پھول کو، اپنی ماہواری روکنے کے لیے اگلے ۳–۴ سال تک ہر مہینے ایک تکلیف دہ، موٹے انجیکشن کی سوئی لگوانی پڑے گی!
آپ کی لاڈلی بیٹی ہر مہینے اس سوئی کے خوف سے کانپے گی، اور آپ بے بس ہو کر یہ سب دیکھیں گے۔
سوچیے والدینو…
۱۰ سال بعد جب وہ آپ سے پوچھے گی:
“امی، ابو، تب کیوں دھیان نہیں دیا؟ کیا وہ پیزا-برگر میری زندگی سے زیادہ اہم تھے؟”
تو آپ کے پاس کیا جواب ہوگا؟
ابھی بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا… سدھر جاؤ!
1۔ کچن سے ’سفید زہر‘ (میدہ، چینی) باہر پھینک دیں۔
2 پلاسٹک کے ڈبوں کو آگ لگا دیں: صرف اسٹیل استعمال کریں۔
3 بچوں کو ’برائلر‘ نہ بنائیں: انہیں مٹی میں کھیلنے دیں، دھوپ میں دوڑنے دیں۔
4 لاڈ پیار کا مطلب زہر کھلانا نہیں، یہ بے حسی اب بند کریں!
اس مضمون کو پڑھ کر بھول مت جانا۔ یہ معلومات ہر فیملی گروپ تک پہنچانا آپ کا اخلاقی فرض ہے۔
اپنی بیٹیوں کا بچپن بچانے کے لیے یہ قدم اٹھانا ہی ہوگا۔
کیا آپ کے آس پاس بھی ایسی صورتحال نظر آتی ہے؟
اللہ کریم عمل کی توفیق عطا فرمائے.اور ھم سب کو ہمیشہ شادوآباد رکھے اور عافیت عطا فرمائے
آمیــــن ثم آمیــــن یارب العالمین

11/01/2026
11/01/2026

Address

Habi BAbad Near Police Station Badaber, NWFP
Peshawar
25000

Telephone

03340013251

Website

http://ww.facebook.com/

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SMILE AGAIN posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category