30/12/2025
*کیپٹل سٹی پولیس پشاور*
*پریس ریلیز مورخہ 30 دسمبر 2025*
*(ڈی آر سیز پشاور کی کامیابی 12681 درخواستیں موصول ، 11991 تنازعات حل)*
پشاور() صوبائی دارالحکومت پشاور میں 2014 میں ڈی آر سی جرگہ سسٹم کا قیام پختون روایات اور مقامی تنازعات کے پرامن حل کے مقصد سے عمل میں لایا گیا، جس کا بنیادی مقصد عوامی مسائل کو باہمی رضا مندی، مفاہمت اور خوش اسلوبی سے گھر کی دہلیز پر حل کرنا ہے۔ بعد ازاں اس نظام میں توسیع کی گئی اور آج ضلع پشاور کے 7 ڈی آر سیز میں معزز، خوشنام اور باکردار ممبران بلا معاوضہ انصاف کے حصول میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں نمایاں اور مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ ڈی آر سی ممبران کی خدمات قابل تحسین ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 12681 درخواستیں ڈی آر سیز کو موصول ہوئیں
جن میں سے 11991 درخواستوں کا باہمی مفاہمت کے تحت کامیابی سے حل نکالا گیا
جائیداد/پراپرٹی کے معاملات کے 5112 درخواستیں موصول ہوئی جن میں 5009 حل کر دئیے گئے ہیں ،حل شدہ تنازعات میں 16054 کنال زمین سے متعلق مسائل حل کیے گئے
رقم/لین دین کے 4371 درخواستیں موصول ہوئی جن میں 4252 حل کر دیئے گئے ہیں
معاملات میں 1 ارب 58 کروڑ 68 لاکھ روپے اور 6 لاکھ 54 ہزار امریکی ڈالرز کی ریکوری/تصفیہ ممکن بنایا گیا
گھریلو تنازعات کے 2703 درخواستیں موصول جن میں 2257 حل کردیا ہے
گاڑیوں کے کیسز سے متعلق 164 درخواستیں موصول جن میں 162 حل کردیا ہے
دیگر نوعیت کے مسائل کے 331 درخواستیں موصول جن میں311 حل کردیا ہے
سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے کہا کہ ڈی آر سیز پختون روایات کے مطابق امن، باہمی مفاہمت اور تنازعات کے فوری حل کا مؤثر پلیٹ فارم ہے۔ عوامی مسائل کا ان کی دہلیز پر حل ڈی آر سی سسٹم کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ معزز ممبران بلا معاوضہ شہریوں کو انصاف پر مبنی خدمات فراہم کر رہے ہیں جو قابل تحسین ہیں۔ ہزاروں شہریوں کا ڈی آر سی پر اعتماد اس نظام کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈی آر سی میں باکردار افراد کے ساتھ ساتھ اقلیتی برادری، خواتین، تاجر اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے نمائندگان کو بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ معاشرے کے ہر طبقے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔ ڈی آر سیز کو مزید فعال اور مؤثر بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔