Dr Abdul Basit Gynecologist & Infertility Specialist

Dr Abdul Basit Gynecologist & Infertility Specialist Dedicated to improving women's health.

Dr. Abdul Basit – Gynecologist & Infertility Specialist

Dr. Abdul Basit is a highly qualified Gynecologist, Obstetrician, and Infertility Specialist with degrees in MBBS, MD, and FCPS (Obs & Gynae) & MRCOG 1 (UK).

08/01/2026

Celebrating my 1st year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

20/04/2025

ایک مریضہ کی شوہر کی تاثرات۔۔۔

بریج بیبی کی پوزیشن کو ہاتھوں کے ذریعے درست کرناحمل کے آخری مہینوں میں بچے کی پوزیشن نارمل (Cephalic) ہونی چاہیے تاکہ نا...
24/02/2025

بریج بیبی کی پوزیشن کو ہاتھوں کے ذریعے درست کرنا

حمل کے آخری مہینوں میں بچے کی پوزیشن نارمل (Cephalic) ہونی چاہیے تاکہ نارمل ڈلیوری ممکن ہو۔ لیکن کچھ کیسز میں بچہ الٹا (Breech) ہوتا ہے، یعنی اس کا سر اوپر اور پاؤں یا کولہے نیچے ہوتے ہیں۔ ایسے کیسز میں نارمل ڈلیوری مشکل ہو سکتی ہے، اور زیادہ تر صورتوں میں سیزرین کی ضرورت پیش آتی ہے۔ تاہم، بعض صورتوں میں بچے کی پوزیشن کو درست کرنے کے لیے ایک خاص تکنیک استعمال کی جاتی ہے، جسے External Cephalic Version (ECV) کہتے ہیں۔

ہاتھوں کے ذریعے برج بیبی کو درست کرنا (ECV) کیا ہے؟

ECV ایک میڈیکل پروسیجر ہے جس میں گائناکالوجسٹ نرمی سے ماں کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بچے کی پوزیشن کو آہستہ آہستہ گھما کر نارمل پوزیشن میں لانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ طریقہ عام طور پر حمل کے 37ویں ہفتے کے بعد کیا جاتا ہے تاکہ اگر طریقہ کامیاب نہ ہو یا کوئی پیچیدگی پیدا ہو تو فوری طور پر ڈیلیوری کے لیے انتظام کیا جا سکے۔

ECV کن صورتوں میں کرنی چاہیے؟

ECV عام طور پر ان خواتین کے لیے تجویز کی جاتی ہے جو درج ذیل معیار پر پوری اترتی ہوں:
✅ حمل 37 ہفتے یا اس سے زیادہ ہو (اس سے پہلے بچہ خود ہی پوزیشن بدل سکتا ہے)
✅ ماں اور بچے کی صحت اچھی ہو (Amniotic Fluid) کی مقدار مناسب ہو
✅ بچہ مکمل طور پر برج پوزیشن میں ہو (Frank یا Complete Breech)
✅ پہلی یا دوسری حمل ہو، اور رحم میں زیادہ سختی نہ ہو
✅ ماں کو کوئی ایسی بیماری نہ ہو جو پیچیدگی پیدا کر سکتی ہو

کن حالات میں ECV نہیں کرنی چاہیے؟

⚠ پلیسینٹا پریویا (Placenta Previa) – اگر آنول رحم کے نچلے حصے میں ہو
⚠ رحم میں غیر معمولی ساختی تبدیلیاں – جیسے کہ بائی کورنیٹ رحم
⚠ بچہ بہت چھوٹا یا کمزور ہو
⚠ (Amniotic Fluid) کی مقدار بہت زیادہ یا بہت کم ہو
⚠ ماں یا بچے کی کوئی طبی پیچیدگی ہو
⚠ جڑواں یا زیادہ بچوں کی حمل ہو
⚠ پچھلی کسی بڑی سرجری یا سیزرین کا ہسٹری ہو (بعض کیسز میں محتاط طریقے سے ECV کی جا سکتی ہے)

ECV کا طریقہ کار

1️⃣ سب سے پہلے الٹراساؤنڈ اور دیگر ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ بچے کی پوزیشن، نال (Placenta)، اور پانی کی مقدار کو دیکھا جا سکے۔
2️⃣ اگر سب کچھ نارمل ہو، تو ماں کو ہلکا Muscle Relaxant دیا جا سکتا ہے تاکہ رحم زیادہ سکڑنے نہ لگے۔
3️⃣ ڈاکٹر ماں کے پیٹ پر نرمی سے ہاتھ رکھ کر بچے کو آہستہ آہستہ گھمانے کی کوشش کرتا ہے۔
4️⃣ اگر بچہ کامیابی سے گھوم جائے، تو ماں کو کچھ دیر مانیٹر کیا جاتا ہے تاکہ کوئی پیچیدگی نہ ہو۔
5️⃣ اگر ECV کامیاب نہ ہو یا کوئی مسئلہ ہو، تو فوری فیصلہ کیا جاتا ہے کہ آگے کیا کرنا ہے۔

ECV کے بعد کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں؟

اگر بچہ صحیح پوزیشن میں آ جائے تو ماں کو زیادہ احتیاط کرنی چاہیے تاکہ دوبارہ برج نہ ہو۔

اگر کوئی درد یا غیر معمولی حرکت محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

کچھ کیسز میں، ECV کے بعد فوری ڈیلیوری کی ضرورت پڑ سکتی ہے، اس لیے مکمل تیاری ہونی چاہیے۔

میرے تجربے اور خدمات کے بارے میں

بطور گائناکالوجسٹ، آبسٹیٹریشن اور انفیرٹیلیٹی اسپیشلسٹ، میں نے ECV کے کئی کیسز کامیابی سے انجام دیے ہیں۔ اگر کسی کو برج بیبی کے مسئلے کا سامنا ہے اور وہ نارمل ڈلیوری کی امید رکھتا ہے، تو وہ مجھ سے رابطہ کر سکتا ہے۔ میں اپنی ماہرانہ مہارت اور تجربے کے ساتھ ECV کی سہولت فراہم کرتا ہوں، تاکہ ماں اور بچے کی صحت کو بہتر سے بہتر رکھا جا سکے۔

آپ کی صحت، ہماری اولین ترجیح!



بریچ پریزنٹیشن (Breech Presentation) – جب بچہ پیٹ میں الٹا ہوحمل کے دوران عام طور پر بچہ رحم میں سر نیچے اور پیر اوپر رک...
19/02/2025

بریچ پریزنٹیشن (Breech Presentation) – جب بچہ پیٹ میں الٹا ہو

حمل کے دوران عام طور پر بچہ رحم میں سر نیچے اور پیر اوپر رکھتا ہے، تاکہ ڈیلیوری کے وقت وہ آسانی سے نارمل طریقے سے پیدا ہو سکے۔ لیکن بعض اوقات، خاص طور پر آخری مہینوں میں، کچھ بچوں کی پوزیشن الٹی ہو جاتی ہے، یعنی *سر اوپر اور پیر یا کولہے نیچے ہوتے ہیں*۔ اس صورتحال کو بریچ پریزنٹیشن (Breech Presentation) کہا جاتا ہے۔

یہ ایک عام مسئلہ ہے، خاص طور پر حمل کے شروع میں، لیکن جیسے جیسے ڈیلیوری کا وقت قریب آتا ہے، زیادہ تر بچے خود ہی صحیح پوزیشن میں آ جاتے ہیں۔ تاہم، کچھ کیسز میں بچہ آخری وقت تک الٹا رہتا ہے، جس کی وجہ سے ڈیلیوری میں پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں۔

---

بریچ پریزنٹیشن کی تعریف
بریچ پریزنٹیشن ایک ایسی حالت ہے جس میں حمل کے آخری مہینے میں بچہ سر کے بجائے کولہوں یا پیروں کے بل رحم میں ہوتا ہے۔ عام طور پر، 36-37 ہفتے کے بعد اگر بچہ الٹا ہو تو اسے بریچ پریزنٹیشن سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس وقت زیادہ تر بچے اپنی نارمل پوزیشن میں آ چکے ہوتے ہیں۔

---

بریچ پریزنٹیشن کب تک مانی جاتی ہے؟
- 28 ہفتے سے پہلے: تقریباً 20-25% بچے الٹے ہوتے ہیں، لیکن یہ زیادہ اہم نہیں ہوتا کیونکہ زیادہ تر بچے وقت کے ساتھ خود سیدھے ہو جاتے ہیں۔
- 32 ہفتے پر: تقریباً 15% بچے بریچ پوزیشن میں ہوتے ہیں۔
- 36 ہفتے پر: تقریباً 5-7% بچے اب بھی بریچ پوزیشن میں ہو سکتے ہیں۔
- 38-40 ہفتے پر: تقریباً 3-4%* بچے ڈیلیوری سے پہلے بھی بریچ پوزیشن میں ہی رہتے ہیں۔

اگر 36-37 ہفتے کے بعد بھی بچہ الٹا ہو، تو اسے بریچ پریزنٹیشن مانا جاتا ہے اور اس کا علاج کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

---

بریچ پریزنٹیشن کی اقسام
1. فرینک بریچ (Frank Breech) – اس میں بچے کے کولہے نیچے اور دونوں ٹانگیں سیدھی اوپر کی طرف ہوتی ہیں۔ یہ سب سے عام قسم ہے۔
2. کمپلیٹ بریچ (Complete Breech) – اس میں بچے کے کولہے نیچے ہوتے ہیں، لیکن گھٹنے مڑے ہوتے ہیں، یعنی ٹانگیں اوپر نہیں بلکہ کراس پوزیشن میں ہوتی ہیں۔
3. انکمپلیٹ یا فُٹ لینگ بریچ (Incomplete/Footling Breech) – اس میں ایک یا دونوں پیر رحم کے نچلے حصے میں ہوتے ہیں، یعنی پیدائش کے دوران سب سے پہلے پیر باہر آ سکتا ہے۔

---

حمل کے آخری مہینوں میں بریچ پریزنٹیشن کی اہمیت
حمل کے ابتدائی مہینوں میں اگر بچہ الٹا ہو، تو یہ کوئی مسئلہ نہیں ہوتا کیونکہ زیادہ تر بچے 36-37 ہفتے تک خود ہی سیدھے ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر آخری مہینے میں بچہ الٹا ہو، تو اس سے نارمل ڈیلیوری میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ بریچ بچے کی نارمل ڈیلیوری میں کئی خطرات ہو سکتے ہیں، جیسے:
- بچے کے پھنسنے کا خطرہ – کیونکہ بچے کا سر آخر میں نکلتا ہے، اس لیے اگر رحم مکمل طور پر کھل نہ رہا ہو، تو سر پھنس سکتا ہے۔
- ناف کی نالی (Umbilical Cord) کے دبنے کا خطرہ – اگر نال دب جائے، تو بچے کو آکسیجن اور خون کی کمی ہو سکتی ہے، جو خطرناک ہو سکتا ہے۔
- زچگی میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے – کیونکہ بریچ بچے کی نارمل ڈیلیوری عام حالت سے زیادہ مشکل ہو سکتی ہے، اس لیے پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

---

اگر بچہ پیٹ میں الٹا ہو تو کیا کرنا چاہیے؟
1. قدرتی طریقے سے بچہ سیدھا کرنے کی کوششیں
کچھ طریقے ایسے ہیں جن سے بچہ خود نارمل پوزیشن میں آ سکتا ہے:
- ماں کو زیادہ چلنا چاہیے، تاکہ بچے کو گھومنے میں مدد ملے۔
- بعض یوگا پوز (Breech Tilt Exercises) مددگار ہو سکتے ہیں، لیکن یہ کسی ماہر کی نگرانی میں کرنے چاہئیں۔
- ماں کو زیادہ دیر لیٹنے کے بجائے گھومنے پھرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

2. ایکسٹرنل سیفیلک ورژن (ECV) – پیٹ کے باہر سے بچے کو سیدھا کرنا
اگر 36-37 ہفتے پر بچہ الٹا ہو، تو ڈاکٹر ایک خاص طریقہ "ایکسٹرنل سیفیلک ورژن (ECV)" آزما سکتے ہیں۔ اس میں ڈاکٹر ماں کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر آہستہ آہستہ بچے کو گھمانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ سر نیچے آ جائے۔
- کامیابی کا امکان: تقریباً 50% بچوں میں یہ طریقہ کامیاب ہو سکتا ہے۔
- خطرہ: بعض اوقات اس سے ماں کو تکلیف ہو سکتی ہے یا بچہ واپس الٹا ہو سکتا ہے۔
- یہ کب کیا جا سکتا ہے؟* عام طور پر 37-38 ہفتے کے دوران۔

3. نارمل ڈیلیوری ہو سکتی ہے یا نہیں؟
- کچھ خواتین میں بریچ بچے کی نارمل ڈیلیوری ممکن ہوتی ہے، لیکن یہ تبھی ہو سکتا ہے جب:
- بچہ فرینک بریچ پوزیشن میں ہو (یعنی پیر اوپر کی طرف ہوں)۔
- زچگی کا عمل تیز اور بغیر پیچیدگیوں کے ہو۔
- ماں کا پہلے بھی نارمل ڈیلیوری کا تجربہ ہو۔
- لیکن زیادہ تر کیسز میں سیزیرین (بڑا آپریشن) ہی کیا جاتا ہے، کیونکہ نارمل ڈیلیوری میں زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

---

بریچ بچے کے لیے سیزیرین (بڑا آپریشن) کیوں کیا جاتا ہے؟
زیادہ تر ڈاکٹر بریچ پریزنٹیشن میں *سیزیرین کو زیادہ محفوظ طریقہ سمجھتے ہیں، کیونکہ:
1. بچے کے سر کے پھنسنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
2. ناف کی نالی کے دبنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے*، جس سے بچے کو سانس کی تکلیف نہیں ہوتی۔
3. ڈیلیوری زیادہ محفوظ ہو جاتی ہے، خاص طور پر پہلی بار ماں بننے والی خواتین کے لیے۔

اگر بریچ پوزیشن میں نارمل ڈیلیوری کی جاتی ہے، تو اس میں ڈاکٹر کو خصوصی مہارت درکار ہوتی ہے، اور ہر ہسپتال میں یہ ممکن نہیں ہوتا۔

---

نتیجہ
بریچ پریزنٹیشن ایک عام مسئلہ ہے، لیکن زیادہ تر بچے وقت کے ساتھ خود ہی سیدھے ہو جاتے ہیں۔ *اگر آخری مہینوں میں بچہ الٹا ہو، تو کچھ قدرتی طریقے اور ECV سے بچہ سیدھا کیا جا سکتا ہے۔ اگر بچہ خود سیدھا نہ ہو تو سیزیرین زیادہ محفوظ طریقہ ہوتا ہے، خاص طور پر پہلی بار ماں بننے والی خواتین کے لیے

15/02/2025

پہلے سیزیرین کے بعد دوسرا بچہ نارمل ہو سکتا ہے یا نہیں؟

جب کسی عورت کا پہلا بچہ سیزیرین (بڑے آپریشن) کے ذریعے پیدا ہو جائے تو اکثر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اگلا بچہ نارمل طریقے سے پیدا ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اس کا جواب سیدھا نہیں ہوتا کیونکہ یہ کئی چیزوں پر منحصر ہوتا ہے، جیسے ماں کی صحت، پچھلے آپریشن کی وجوہات، رحم کی حالت، اور ڈاکٹر کی رائے۔ کچھ خواتین دوسرے بچے کی نارمل ڈیلیوری (Vaginal Birth After Cesarean – VBAC) کروا سکتی ہیں، جبکہ کچھ کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا۔

دوسرا بچہ نارمل ہو سکتا ہے یا نہیں؟
بہت سی خواتین پہلے سیزیرین کے بعد نارمل ڈیلیوری کروا سکتی ہیں، لیکن اس کے لیے کچھ شرائط پوری ہونی ضروری ہیں:

1. پچھلے سیزیرین کی وجہ – اگر پہلا سیزیرین صرف اس وجہ سے ہوا تھا کہ بچہ الٹا تھا یا اس وقت کوئی وقتی پیچیدگی تھی، تو دوسرے بچے کی نارمل پیدائش کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر پہلا آپریشن کسی مستقل طبی مسئلے (جیسے رحم کی کمزوری یا کوئی بیماری) کی وجہ سے ہوا تھا، تو دوبارہ نارمل ڈیلیوری کا فیصلہ مشکل ہو سکتا ہے۔
2. رحم کے زخم کی قسم – اگر پہلا سیزیرین ایک مخصوص قسم کے ہموار (Low Transverse) کٹ کے ساتھ ہوا تھا، تو دوسرا بچہ نارمل پیدا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ لیکن اگر رحم میں لمبا یا پیچیدہ کٹ (Vertical یا Classical incision) لگایا گیا تھا، تو نارمل ڈیلیوری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ ایسے کیسز میں رحم کے دوبارہ پھٹنے (Uterine Rupture) کا امکان ہوتا ہے۔
3. ماں کی مجموعی صحت – اگر ماں صحت مند ہے، اور اسے ہائی بلڈ پریشر، شوگر، یا دیگر پیچیدگیاں نہیں ہیں، تو نارمل ڈیلیوری زیادہ ممکن ہو سکتی ہے۔
4. پچھلے آپریشن کو کتنے سال ہو چکے ہیں؟ – اگر پہلے سیزیرین کے بعد کم از کم 18-24 مہینے کا وقفہ دیا گیا ہو، تو رحم کی مکمل بحالی ہو چکی ہوتی ہے، اور نارمل ڈیلیوری زیادہ محفوظ ہوتی ہے۔ لیکن اگر دوسرا حمل بہت جلد ہو، تو رحم کے پھٹنے کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔
5. بچے کی پوزیشن اور سائز – اگر بچہ صحیح پوزیشن (یعنی سر نیچے) میں ہو اور زیادہ بڑا نہ ہو، تو نارمل ڈیلیوری آسان ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر بچہ بہت بڑا ہو، تو سیزیرین زیادہ محفوظ انتخاب ہو سکتا ہے۔
6. نارمل ڈیلیوری کا تجربہ – اگر کسی عورت کی پہلے بھی کوئی نارمل ڈیلیوری ہو چکی ہو (پہلے یا دوسرے سیزیرین سے پہلے)، تو دوسرے بچے کی نارمل پیدائش کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

کب نارمل ڈیلیوری نہیں کرنی چاہیے؟
کچھ ایسی صورتیں ہوتی ہیں جن میں ڈاکٹر نارمل ڈیلیوری کی اجازت نہیں دیتے اور سیزیرین کو ہی ترجیح دی جاتی ہے، جیسے کہ:

1. پہلے آپریشن میں رحم کا زخم کمزور ہو چکا ہو – اگر الٹرا ساؤنڈ یا دیگر معائنے سے پتا چلے کہ رحم کا زخم پوری طرح مضبوط نہیں ہوا، تو نارمل ڈیلیوری خطرناک ہو سکتی ہے۔
2. پہلے سیزیرین میں پیچیدگیاں ہوئی ہوں – اگر پہلے آپریشن کے دوران ماں کو کوئی بڑی پیچیدگی پیش آئی تھی، تو اگلی بار بھی ویسا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
3. بچہ بہت بڑا ہو – اگر بچے کا وزن 4 کلو یا اس سے زیادہ ہو، تو نارمل ڈیلیوری میں مشکلات آ سکتی ہیں۔
4. دو یا زیادہ سیزیرین ہو چکے ہوں – عام طور پر، اگر ایک عورت کے دو یا زیادہ سیزیرین ہو چکے ہوں، تو نارمل ڈیلیوری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اور ڈاکٹر عام طور پر سیزیرین کا مشورہ دیتے ہیں۔
5. ماں کو کوئی اور طبی مسئلہ ہو – اگر ماں کو ہائی بلڈ پریشر، شوگر، یا کوئی ایسی بیماری ہو جو نارمل ڈیلیوری میں خطرہ پیدا کر سکتی ہے، تو سیزیرین زیادہ محفوظ طریقہ ہو سکتا ہے۔
6. پلاسینٹا کے مسائل – اگر پلاسینٹا نیچے لگا ہو (Placenta Previa) یا وقت سے پہلے الگ ہونے کا خطرہ ہو (Placental Abruption)، تو نارمل ڈیلیوری ممکن نہیں ہوتی۔

اگر دوسرا بچہ نارمل پیدا کرنے کی کوشش کی جائے تو کیا خطرات ہو سکتے ہیں؟

اگر کوئی عورت پہلے سیزیرین کے بعد نارمل ڈیلیوری کی کوشش کرے تو کچھ خطرات ہو سکتے ہیں:

- رحم کا پھٹ جانا (Uterine Rupture) – اگر زخم پوری طرح ٹھیک نہ ہوا ہو، تو نارمل ڈیلیوری کے دوران رحم پھٹ سکتا ہے، جو ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
- ایمرجنسی سیزیرین کی ضرورت پڑ سکتی ہے – اگر نارمل ڈیلیوری کے دوران پیچیدگیاں ہو جائیں، تو فوری طور پر دوبارہ سیزیرین کرنا پڑ سکتا ہے۔
- *زیادہ خون بہنے کا خطرہ* – اگر زخم سے خون زیادہ بہنے لگے تو یہ ماں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

*
نتیجہ
پہلے سیزیرین کے بعد دوسرے بچے کی نارمل پیدائش ممکن ہے، لیکن یہ مختلف عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر ماں کی صحت اچھی ہو، رحم کا زخم ٹھیک ہو چکا ہو، اور پہلے سیزیرین کی وجہ کوئی وقتی پیچیدگی ہو، تو نارمل ڈیلیوری ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر ماں کی صحت کمزور ہو، رحم کے زخم میں کوئی خرابی ہو، یا پہلے آپریشن میں کوئی مسئلہ پیش آیا ہو، تو دوبارہ سیزیرین زیادہ محفوظ انتخاب ہو سکتا ہے۔

لہٰذا، دوسرے بچے کی پیدائش کے طریقے کا فیصلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ماں مکمل طور پر اپنی صحت پر توجہ دے، ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرے، اور ہر ممکنہ خطرے کو مدنظر رکھے۔

10/02/2025

بڑا آپریشن (سیزیرین سیکشن) – کب اور کیوں کیا جاتا ہے؟

سیزیرین سیکشن، جسے عام طور پر بڑا آپریشن کہا جاتا ہے، وہ طریقہ ہے جس میں ماں کے پیٹ اور رحم کو کاٹ کر بچے کو باہر نکالا جاتا ہے۔ یہ آپریشن عام طور پر تب کیا جاتا ہے جب نارمل ڈیلیوری (قدرتی طریقے سے بچہ پیدا کرنا) کسی بھی وجہ سے ممکن نہ ہو یا ماں اور بچے کی جان کو خطرہ ہو۔ یہ ایک عام مگر بڑا آپریشن ہے، اس لیے اسے صرف ضرورت پڑنے پر ہی کرنا چاہیے۔

سیزیرین سیکشن کب کیا جاتا ہے؟
یہ آپریشن مختلف وجوہات کی بنا پر کیا جا سکتا ہے، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

1. بچے کی غلط پوزیشن – اگر بچہ الٹا ہو (یعنی سر کی بجائے پاؤں نیچے ہوں) یا کسی اور غلط پوزیشن میں ہو، تو نارمل ڈیلیوری مشکل ہو سکتی ہے۔
2. ماں کی صحت کے مسائل – اگر ماں کو ہائی بلڈ پریشر، شوگر یا دل کی بیماری ہو تو نارمل ڈیلیوری خطرناک ہو سکتی ہے، اس لیے سیزیرین کیا جاتا ہے۔
3. پہلے بھی سیزیرین ہوا ہو – اگر کسی عورت کا پہلے بھی سیزیرین ہو چکا ہو، تو بعض صورتوں میں دوبارہ سیزیرین کی ضرورت پڑ سکتی ہے، خاص طور پر اگر زخم پوری طرح ٹھیک نہ ہوا ہو۔
4. بچے کی دل کی دھڑکن کمزور ہونا – اگر نارمل ڈیلیوری کے دوران بچے کی دل کی دھڑکن بہت کمزور پڑنے لگے، تو فوری سیزیرین کیا جا سکتا ہے۔
5. بچے کا سائز بہت بڑا ہونا – اگر بچہ بہت زیادہ وزنی یا بڑا ہو تو نارمل ڈیلیوری میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
6. ماں کے رحم میں کوئی مسئلہ ہو – بعض عورتوں کے رحم میں پیدائشی نقص ہوتا ہے یا پہلے کی کسی بیماری یا آپریشن کی وجہ سے رحم کمزور ہو سکتا ہے، اس صورت میں نارمل ڈیلیوری خطرناک ہو سکتی ہے۔
7. جڑواں یا زیادہ بچوں کی پیدائش – اگر جڑواں یا اس سے زیادہ بچے ہوں تو سیزیرین زیادہ محفوظ طریقہ ہو سکتا ہے۔
8. پلاسینٹا کے مسائل – اگر پلاسینٹا (جو ماں کے رحم میں بچے کو خوراک دیتا ہے) صحیح جگہ نہ ہو یا وقت سے پہلے الگ ہونے لگے، تو سیزیرین کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

سیزیرین کب نہیں کرنا چاہیے؟
اگر ماں اور بچے کی حالت ٹھیک ہو اور کوئی پیچیدگی نہ ہو، تو نارمل ڈیلیوری کو ہی ترجیح دینی چاہیے۔ بعض لوگ بغیر کسی ضرورت کے سیزیرین کروانے کی خواہش رکھتے ہیں، جو کہ صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

1. صرف درد سے بچنے کے لیے – کچھ خواتین درد سے بچنے کے لیے سیزیرین کروانے کا سوچتی ہیں، مگر یہ غیر ضروری آپریشن صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
2. بغیر کسی طبی ضرورت کے – اگر ماں اور بچہ دونوں صحت مند ہوں اور ڈاکٹر کوئی خطرہ نہ بتائے، تو نارمل ڈیلیوری بہتر انتخاب ہے۔
3. پہلے سیزیرین ہونے کے باوجود نارمل ڈیلیوری ممکن ہو – اگر پچھلا آپریشن کئی سال پہلے ہوا ہو اور زخم ٹھیک ہو چکا ہو، تو بعض خواتین نارمل ڈیلیوری کروا سکتی ہیں۔

سیزیرین کے نقصانات
سیزیرین کے بعد صحت یاب ہونے میں زیادہ وقت لگتا ہے، اور بعض اوقات اس کے نقصانات بھی ہو سکتے ہیں:
- خون زیادہ بہنے کا خطرہ
- زخم میں انفیکشن کا خدشہ
- آئندہ حمل میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کا امکان
- دودھ بننے میں تاخیر ہو سکتی ہے
- ماں کو زیادہ عرصے تک آرام کی ضرورت ہوتی ہے

نتیجہ
سیزیرین سیکشن ایک اہم اور ضروری آپریشن ہے، لیکن اسے صرف اسی وقت کرنا چاہیے جب ڈاکٹر واقعی اسے لازمی قرار دے۔ نارمل ڈیلیوری عام طور پر ماں اور بچے دونوں کے لیے زیادہ محفوظ اور بہتر ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیشہ خدا ترس ڈاکٹر سے مکمل مشورہ لے کر ہی کوئی فیصلہ کریں۔

04/02/2025

پرائمری اور سیکنڈری ڈسمنوریا – ماہواری کے دوران درد کی وجوہات، علامات اور علاج

ڈاکٹر عبدالباسط (MBBS, MD, FCPS – ماہر امراضِ نسواں، زچگی و بانجھ پن)

ڈسمنوریا کیا ہے؟
ڈسمنوریا (Dysmenorrhea) ایک طبی اصطلاح ہے جو خواتین میں ماہواری کے دوران ہونے والے شدید درد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ درد عام طور پر پیٹ کے نچلے حصے، کمر اور رانوں میں محسوس ہوتا ہے اور بعض اوقات متلی، سر درد اور کمزوری کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ ڈسمنوریا کی دو بنیادی اقسام ہیں:

1. پرائمری ڈسمنوریا (Primary Dysmenorrhea)
2. سیکنڈری ڈسمنوریا (Secondary Dysmenorrhea)

---

1. پرائمری ڈسمنوریا
پرائمری ڈسمنوریا وہ حالت ہے جس میں ماہواری کے دوران ہونے والا درد کسی بیماری یا پیچیدگی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک عام اور قدرتی عمل ہے جو زیادہ تر نوجوان لڑکیوں اور خواتین میں پایا جاتا ہے۔

وجوہات:
یہ درد زیادہ تر پروسٹاگلینڈن (Prostaglandins) نامی ہارمون کی زیادتی کی وجہ سے ہوتا ہے جو رحم کے سکڑنے کا سبب بنتا ہے۔

علامات:
- درد عام طور پر ماہواری شروع ہونے سے 24 گھنٹے پہلے یا فوراً بعد شروع ہو جاتا ہے۔
- یہ 48 سے 72 گھنٹوں میں خود بخود کم ہو جاتا ہے۔
- پیٹ کے نچلے حصے میں شدید کھنچاؤ اور درد۔
- کمر اور رانوں میں درد کا پھیلاؤ۔
- بعض خواتین میں متلی، الٹی، تھکن اور سر درد کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔

علاج:
پرائمری ڈسمنوریا کے علاج میں درج ذیل دوائیاں مؤثر ثابت ہوتی ہیں:
- ٹیبلٹ پونسٹان فورٹ (Mefenamic Acid 500mg) – درد کم کرنے کے لیے۔ یا
- ٹیبلٹ بروفن (Ibuprofen 400mg) – سوزش کم کرنے کے لیے۔ اور
- ٹیبلٹ نوسپا (Tablet No-Spa) صبح دوپہر شام

اس کے علاوہ، تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اگر ڈسمنوریا کی مریضہ کو دو انجیکشن وٹامن D 200000 unit گوشت میں لگوا دیے جائیں تو 3 سے 5 مہینوں تک ماہواری کے دوران درد کی شکایت نہیں رہتی۔

---

2. سیکنڈری ڈسمنوریا
سیکنڈری ڈسمنوریا عام طور پر کسی طبی پیچیدگی یا بیماری کی وجہ سے ہوتا ہے، جیسے:
- اینڈومیٹریوسس (Endometriosis) – رحم کی اندرونی جھلی کا غیر معمولی طور پر بڑھ جانا۔
فائبرائیڈز (Fibroids)– رحم میں غیر سرطانی گلٹیاں۔
- PID (Pelvic Inflammatory Disease) – تولیدی اعضاء میں انفیکشن۔

علامات:
- پرائمری ڈسمنوریا کے برعکس، اس درد کا آغاز ماہواری سے کئی دن پہلے ہو سکتا ہے اور یہ زیادہ طویل عرصے تک رہتا ہے۔
- عام طور پر درد زیادہ شدید ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ مزید بڑھ سکتا ہے۔
- ماہواری کے دوران غیر معمولی خون کا بہاؤ۔
- ج**ع کے دوران یا بعد میں درد۔
- بعض اوقات بخار، تھکن اور بدبو دار لیکوریا بھی ہوتا ہے۔

علاج:
سیکنڈری ڈسمنوریا کے علاج کے لیے اصل وجہ کا تعین کرنا ضروری ہوتا ہے، جس کے بعد بیماری کے مطابق علاج تجویز کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات الٹراساؤنڈ اور دیگر ٹیسٹ کروانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

---

احتیاطی تدابیر اور گھریلو علاج
- گرم پانی کی بوتل سے پیٹ اور کمر کی سکائی کریں۔
- زیادہ پانی اور متوازن غذا کا استعمال کریں۔
- ہلکی ورزش یا واک کریں تاکہ خون کی روانی بہتر ہو۔
- کیفین اور چکنی غذاؤں سے پرہیز کریں۔

---

میری خدمات اور آپ سے رابطہ
میں، ڈاکٹر عبدالباسط (MBBS, MD, FCPS – ماہر امراضِ نسواں، زچگی و بانجھ پن)، خواتین کی صحت اور بانجھ پن کے جدید علاج میں مہارت رکھتا ہوں۔ اگر آپ کو ماہواری کی بے ترتیبی، بار بار حمل ضائع ہونے، بانجھ پن یا کسی بھی گائناکالوجی سے متعلق مسئلہ ہو تو آپ مجھ سے براہِ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔ میں کوشش کروں گا کہ مزید تحقیق اور تجربات کی روشنی میں آپ کو مزید مفید معلومات فراہم کر سکوں۔

صحت مند زندگی کے لیے باخبر رہیں!


01/02/2025

Dr Abdul Basit Gynecologist – خواتین کی صحت، زچگی اور بانجھ پن سے متعلق مستند معلومات کا قابلِ بھروسہ ذریعہ۔

یہ چینل خواتین کی صحت، حمل کی دیکھ بھال، تولیدی صحت اور بانجھ پن کے مسائل پر مفید اور مستند معلومات فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ بحیثیت ماہر امراضِ نسواں و زچگی، میرا مقصد درست طبی رہنمائی دینا، زچگی اور بانجھ پن کے جدید طریقہ علاج پر بات کرنا اور خواتین کی عام صحت سے متعلق مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔

یہاں آپ کو امراضِ نسواں، حمل کی پیچیدگیاں، بانجھ پن کے علاج، حیض کی بے قاعدگی، اور دیگر متعلقہ موضوعات پر تفصیلی پوسٹس ملیں گی۔ اگر آپ مریضہ ہیں اور قابلِ اعتماد طبی معلومات چاہتی ہیں یا اگر آپ ایک طبی ماہر ہیں اور اس فیلڈ میں ماہرانہ گفتگو میں دلچسپی رکھتی ہیں، تو یہ چینل آپ کے لیے ایک مفید پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔

Dr Abdul Basit Gynecologistکو فالو کریں تاکہ آپ کو تحقیق پر مبنی طبی مشورے، تولیدی صحت کے بارے میں آگاہی اور امراضِ نسواں کے عام مسائل کے عملی حل میسر آ سکیں۔ صحت مند رہیں، باخبر رہیں!

Follow the Dr Abdul Basit Gynecologist channel on WhatsApp:

میرا نام ڈاکٹر عبدالباسط ہے۔ میں ایک کوالیفائیڈ گائناکولوجسٹ (ماہر امراض نسواں) اور بانجھ پن کے علاج کے ماہر ہوں۔ میں خو...
29/12/2024

میرا نام ڈاکٹر عبدالباسط ہے۔ میں ایک کوالیفائیڈ گائناکولوجسٹ (ماہر امراض نسواں) اور بانجھ پن کے علاج کے ماہر ہوں۔ میں خواتین کی صحت، بانجھ پن اور زچگی کے مسائل کا خصوصی علاج کرتا ہوں۔

اگر کزن میرج یا قریبی رشتوں کی شادی کی وجہ سے بچوں میں پیدائشی مسائل پیدا ہوں، تو میں ان کا علاج کرنے میں مہارت رکھتا ہوں۔ اس کے علاوہ حمل کے دوران پیچیدگیوں اور مسائل کا مکمل علاج فراہم کرتا ہوں۔

میں بانجھ پن کی تمام اقسام—چاہے وہ مردانہ ہو یا زنانہ—کا جدید طریقوں سے علاج کرتا ہوں۔ بانجھ پن کے حوالے سے مریضوں کو مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہوں اور اگر ضرورت ہو تو آپریشن یا سرجری بھی کرتا ہوں۔

میری خواہش ہے کہ میں آن لائن کلینک شروع کروں تاکہ دور دراز علاقوں میں موجود افراد کو بھی مکمل رہنمائی اور علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

اس پیج پر آپ کو گائنی، بانجھ پن اور خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں گی۔ اگر آپ کو کسی بھی مسئلے کا سامنا ہو تو آپ مجھ سے براہِ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔

Address

Zareen Pharmacy, Main Hussain Chowk, Old Haji Camp, Peshawar, KPK, PAKISTAN
Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 10:00 - 20:00
Tuesday 10:00 - 20:00
Wednesday 08:00 - 20:00
Thursday 10:00 - 20:00
Sunday 10:00 - 22:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Abdul Basit Gynecologist & Infertility Specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram