04/02/2025
پرائمری اور سیکنڈری ڈسمنوریا – ماہواری کے دوران درد کی وجوہات، علامات اور علاج
ڈاکٹر عبدالباسط (MBBS, MD, FCPS – ماہر امراضِ نسواں، زچگی و بانجھ پن)
ڈسمنوریا کیا ہے؟
ڈسمنوریا (Dysmenorrhea) ایک طبی اصطلاح ہے جو خواتین میں ماہواری کے دوران ہونے والے شدید درد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ درد عام طور پر پیٹ کے نچلے حصے، کمر اور رانوں میں محسوس ہوتا ہے اور بعض اوقات متلی، سر درد اور کمزوری کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ ڈسمنوریا کی دو بنیادی اقسام ہیں:
1. پرائمری ڈسمنوریا (Primary Dysmenorrhea)
2. سیکنڈری ڈسمنوریا (Secondary Dysmenorrhea)
---
1. پرائمری ڈسمنوریا
پرائمری ڈسمنوریا وہ حالت ہے جس میں ماہواری کے دوران ہونے والا درد کسی بیماری یا پیچیدگی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک عام اور قدرتی عمل ہے جو زیادہ تر نوجوان لڑکیوں اور خواتین میں پایا جاتا ہے۔
وجوہات:
یہ درد زیادہ تر پروسٹاگلینڈن (Prostaglandins) نامی ہارمون کی زیادتی کی وجہ سے ہوتا ہے جو رحم کے سکڑنے کا سبب بنتا ہے۔
علامات:
- درد عام طور پر ماہواری شروع ہونے سے 24 گھنٹے پہلے یا فوراً بعد شروع ہو جاتا ہے۔
- یہ 48 سے 72 گھنٹوں میں خود بخود کم ہو جاتا ہے۔
- پیٹ کے نچلے حصے میں شدید کھنچاؤ اور درد۔
- کمر اور رانوں میں درد کا پھیلاؤ۔
- بعض خواتین میں متلی، الٹی، تھکن اور سر درد کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔
علاج:
پرائمری ڈسمنوریا کے علاج میں درج ذیل دوائیاں مؤثر ثابت ہوتی ہیں:
- ٹیبلٹ پونسٹان فورٹ (Mefenamic Acid 500mg) – درد کم کرنے کے لیے۔ یا
- ٹیبلٹ بروفن (Ibuprofen 400mg) – سوزش کم کرنے کے لیے۔ اور
- ٹیبلٹ نوسپا (Tablet No-Spa) صبح دوپہر شام
اس کے علاوہ، تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اگر ڈسمنوریا کی مریضہ کو دو انجیکشن وٹامن D 200000 unit گوشت میں لگوا دیے جائیں تو 3 سے 5 مہینوں تک ماہواری کے دوران درد کی شکایت نہیں رہتی۔
---
2. سیکنڈری ڈسمنوریا
سیکنڈری ڈسمنوریا عام طور پر کسی طبی پیچیدگی یا بیماری کی وجہ سے ہوتا ہے، جیسے:
- اینڈومیٹریوسس (Endometriosis) – رحم کی اندرونی جھلی کا غیر معمولی طور پر بڑھ جانا۔
فائبرائیڈز (Fibroids)– رحم میں غیر سرطانی گلٹیاں۔
- PID (Pelvic Inflammatory Disease) – تولیدی اعضاء میں انفیکشن۔
علامات:
- پرائمری ڈسمنوریا کے برعکس، اس درد کا آغاز ماہواری سے کئی دن پہلے ہو سکتا ہے اور یہ زیادہ طویل عرصے تک رہتا ہے۔
- عام طور پر درد زیادہ شدید ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ مزید بڑھ سکتا ہے۔
- ماہواری کے دوران غیر معمولی خون کا بہاؤ۔
- ج**ع کے دوران یا بعد میں درد۔
- بعض اوقات بخار، تھکن اور بدبو دار لیکوریا بھی ہوتا ہے۔
علاج:
سیکنڈری ڈسمنوریا کے علاج کے لیے اصل وجہ کا تعین کرنا ضروری ہوتا ہے، جس کے بعد بیماری کے مطابق علاج تجویز کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات الٹراساؤنڈ اور دیگر ٹیسٹ کروانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
---
احتیاطی تدابیر اور گھریلو علاج
- گرم پانی کی بوتل سے پیٹ اور کمر کی سکائی کریں۔
- زیادہ پانی اور متوازن غذا کا استعمال کریں۔
- ہلکی ورزش یا واک کریں تاکہ خون کی روانی بہتر ہو۔
- کیفین اور چکنی غذاؤں سے پرہیز کریں۔
---
میری خدمات اور آپ سے رابطہ
میں، ڈاکٹر عبدالباسط (MBBS, MD, FCPS – ماہر امراضِ نسواں، زچگی و بانجھ پن)، خواتین کی صحت اور بانجھ پن کے جدید علاج میں مہارت رکھتا ہوں۔ اگر آپ کو ماہواری کی بے ترتیبی، بار بار حمل ضائع ہونے، بانجھ پن یا کسی بھی گائناکالوجی سے متعلق مسئلہ ہو تو آپ مجھ سے براہِ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔ میں کوشش کروں گا کہ مزید تحقیق اور تجربات کی روشنی میں آپ کو مزید مفید معلومات فراہم کر سکوں۔
صحت مند زندگی کے لیے باخبر رہیں!