Taj homeopathic health care clinic

Taj homeopathic health care clinic making your health better is our responsibility. we provide services to you.medical services

30/12/2025

*ہومیوپیتھی کے تین ستون*
*➖ آرگینن • میٹیریا میڈیکا • ریپرٹری ➖*
*DHMS/BHMS*
*ہومیوپیتھی کے اسٹوڈنٹس متوجہ ہوں۔۔۔۔۔۔*
ہومیوپیتھی میں حقیقی مہارت صرف دوا جان لینے سے نہیں آتی۔۔۔۔۔۔ اور نہ ہی صرف اصول پڑھ لینے سے۔۔۔ بلکہ
ایک کامیاب ہومیوپیتھک پریکٹشنر بننے کے لیے تین علوم کا جاننا ضروری ہے۔
🔘 آرگینن آف میڈیسن (6th ایڈیشن)
🔘 میٹیریا میڈیکا ، (دواؤں کی پہچان)
🔘 ریپرٹری ، (عملی پریکٹس میں اطلاق)۔۔۔۔

اسی مقصد کے تحت نئے سال (جنوری 2026) سے
ہم آرگینن اور میٹیریا میڈیکا کے ایک سالہ، اور ریپرٹری کے (دو ماہی) مربوط اور عملی کورسز شروع کر رہے ہیں.
جو مل کر ہومیوپیتھی کی ایک مضبوط تکون بناتے ہیں۔
*📘 ایک سالہ آرگینن آف میڈیسن کورس (6th Edition)*
➖ہومیوپیتھک اصولوں کے مطابق چلنے کی مکمل تربیت ➖
• یہ کورس صرف چند منتخب ایفورزم تک محدود نہیں
بلکہ
✔️ تمام ایفورزم
✔️ ایک ایک کر کے
✔️ لفظ بہ لفظ
✔️ کلینیکل مثالوں کے ساتھ
✔️ مکمل اور مربوط انداز میں پڑھائے اور سمجھائے جائیں گے۔
•اس کورس کا ایک ہی مقصد ہو گا:
*۔Organon کو صرف پڑھنا نہیں ، بلکہ سمجھ کر اس کے مطابق پریکٹس کرنا*
•••••••••••••••••••••
*📗 ایک سالہ میٹیریا میڈیکا کورس پروگرام 2nd Batch*
➖ 300 کلینیکل ادویات کو جیتی جاگتی شخصیت کی طرح سمجھنے کا کورس ➖
•اس کورس میں ہر دوا کی حقیقی کلینیکل کیس اسٹڈیز ، جس کا مقصد دوا کو یاد کروانا نہیں بلکہ دوا کی پہچان کرانا ہے۔
• پہلے بیچ کی شاندار کامیابی کے بعد دوسرا بیچ 10جنوری 26 سے شروع ۔۔۔
••••••••••••••••••••
*📕 بیسک & ایڈوانس لیول ریپرٹری ٹریننگ کورس 17 واں سیشن (جنوری- فروری 2026)*
➖ مریض سے دوا تک کا عملی راستہ ➖
یہ کورس اُن ڈاکٹرز کے لیے ہے جو
ریپرٹری کو
✔️ clinical decision-making tool
بنانا چاہتے ہیں۔
🔹 اس کورس میں:
✓ درست rubric selection
✓ ۔cross-rubrics کی سمجھ
✓elimination vs evaluation
✓Materia Medica + Organon کے ساتھ ربط
✓عملی کیسز پر ریپرٹری اپلائی کرنا
✓ مکمل سافٹ ویئر ٹریننگ
سب میں مہارت حاصل کرنے کا موقع!

*یہ تینوں کورسز کیوں ضروری ہیں؟*
کیونکہ:
🔸 آرگینن کو سمجھے بغیر صحیح پریکٹس ممکن نہیں ۔
🔸 میٹیریا میڈیکا میں مہارت کے بغیر دوا کی سلیکشن ممکن نہیں ۔
🔸 ریپرٹری کے بغیر کرانک کیسز کا حل ممکن نہیں
*جب یہ تینوں مل جائیں تو پریکٹس مضبوط ہو جاتی ہے۔*

*کورسز کے فوائد*
معمولی سی فیس میں آپ سیکھ سکیں گئے ۔
👈 کیس ٹیکنگ میں واضح سمت
👈 دوا کے انتخاب میں اعتماد
👈 صحیح پوٹینسی اور درست repetition
۔👈 chronic اور difficult کیسز میں بہتر نتائج
👈 پریکٹس میں وقار اور استحکام
چاہے آپ نوآموز ہوں یا سینئر ڈاکٹر
یہ تینوں کورسز آپ کی پریکٹس کو
اندازوں سے نکال کر اصولوں کے تحت، پہچان اور یقین تک لے جائیں گے، ان شاء اللہ۔
نوٹ
کورسز میں شمولیت اور مکمل معلومات کے لیے رابطہ کریں:
📱 واٹس ایپ
03039868629
ڈاکٹر آرتاج خان خٹک
پشاور
📞 03039868629

*Welcome to Gandhara Homoeopathic Academy.Taxila*At Gandhara Homoeo Academy, we offer modern and practical Homeopathic c...
22/10/2025

*Welcome to Gandhara Homoeopathic Academy.Taxila*

At Gandhara Homoeo Academy, we offer modern and practical Homeopathic courses designed to enhance your clinical skills and boost your professional success.
✨ 300 doctors have already transformed their practice through our programs, now it’s your turn!
👉 Book your seat today and take the next step in your medical journey!

*📚 Ongoing Courses*

*🌟Materia Medica Course*
Duration: 1 Year (January 25 to December 25)

*📜Upcoming Courses (Starting from November 25 )*

*1️⃣ Repertory Training Course (16th Session)* Duration: 2 Months

*2️⃣ Diabetology / Sugar Course (2nd Session)*
Duration: 1 Month

*3️⃣Skin Diseases Course (2nd Session)*
Duration: 2 Months

*4️⃣ Advanced Clinical Practice Course (3rd Session)* Duration: 2 Months

*5️⃣ Child Specialist Course (4th Session)* Duration: 1 Month

*6️⃣ Clinical Psychology Course 🧠 (New Course 1st Session)* Duration: 3 Months

*Gandhara Homoeopathic Medical Academy*
📞 Contact: *03444065510*
What's up
*03039868629*
*Homoeopath*
*Dr Artaj khan khattak

22/06/2025
..ہماری آج کی دوا ہے 👇 *اوپیم O***m*1.ماخذ اور تعارف (Source & Introduction):**ماخذ (Source):*اوپیم پودے Papaver somnife...
03/06/2025

..ہماری آج کی دوا ہے 👇
*اوپیم O***m

*1.ماخذ اور تعارف (Source & Introduction):*

*ماخذ (Source):*
اوپیم پودے Papaver somniferum (افیون کا پودا) کے خشک دودھ سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ ایک نشہ آور مادہ ہے جو افیون کے دانے دار یا گاڑھے رس کو خشک کر کے بنایا جاتا ہے۔
افیون نسوں اور پٹھوں کو بے حس کرتی ، غنودگی طاری کرتی ،نیند لاتی اور یثرمردگی کی علامات پیدا کرتی ہے ۔ اس میں کئی ایک عناصر مثلاً مارفیا، نارشیا،لکونیا، کوڈیااور تھیمیا وغیرہ ملے ہوتے ہیں ۔ ہر ایک عنصر کا انسانی جسم پر علیحدہ علیحدہ اثر ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر ہانیمن کہتے ہیں کہ اس دوا کا اثر جانچنے کے لئے باقی دواؤں کی نسبت زیادہ دشواریاں پیش آئی ہیں۔

*ہومیوپیتھی میں تعارف:*
اوپیم کو ہومیوپیتھی میں ڈاکٹر سموئیل ہنی مین نے متعارف کروایا۔ یہ دوا Hahnemann’s Materia Medica Pura میں شامل ہے اور بہت ابتدائی دواجات میں سے ہے۔

*2. اوپیم (O***m) کی خاص کلیدی علامات (Keynote Symptoms):*
اوپیم کی کچھ ایسی نمایاں علامات جو اسے منفرد بناتی ہیں اور اکثر دوسری دواؤں میں اس شدت یا کیفیت کے ساتھ نہیں ملتیں، درج ذیل ہیں:

*1. غیر معمولی غفلت، بے خبری اور بے ہوشی کی کیفیت:*
*👈 مکمل غفلت (Profound stupor):* مریض کو ہوش نہیں رہتا، لیکن آنکھیں کھلی ہوتی ہیں۔

👈 آواز یا چوٹ پر بھی ردعمل نہیں ہوتا
(No response to loud noise or touch).
👈 غنودگی والی نیند جس میں آنکھیں آدھ کھلی رہتی ہیں ۔ اس نیند سے تازگی حاصل نہیں ہوتی۔
👈 سانس اندر لیتے ہوئے یا باہر نکالتے ہوئے خراٹے آتے ہیں ۔
👈 گہری بے خبری کی نیند، جس میں خراٹے دار سانس ہوتی ہے ، چہرہ سرخ اور آنکھیں آدھ کھلی ۔۔۔۔۔ ممرگی کا دورہ جس میں خراٹے دار سانس ہوتی ہے ۔۔۔۔ دوران نیند ہلکی مرگی ہے دورے جس میں مریض زور زور سے خراٹے لیتا ہے۔
👈 غنودگی اور بے ہوشی کے لئیے اوپئیم لاجواب دوا ہے ۔(مریض بے ہوش ہو کسی بھی وجہ سے تو چار دوائیں ذہن میں رکھیں ۔۔۔
*ایکو نائیٹ:* مریض کی آنکھیں بند ہوں مگر ڈیلے حرکت کر رہے بوں تو ایکو نائیٹ۔۔۔
*اوپیم:* مریض کی آنکھیں آدھ کھلی ہوں اور ڈیلے ساکت ہوں تو اوپیم۔۔۔۔۔
*جلسیمیم:* مریض کی آنکھیں بند ہوں اور ڈیلے بھی ساکت ہوں تو جلسیمیم۔۔۔۔
*امائل نائٹریٹ:* کسی بھی وجہ سے مریض بے ہوش ہو ۔۔۔)

*2. درد کی عدم موجودگی یعنی ہر مرض ، ہر شکایت بغیر درد کے ہوتی ہے:*
*👈 بے حس و حرکت (Insensibility to pain):* شدید بیماریوں، چوٹ یا جراحت میں بھی درد کا احساس نہیں ہوتا۔
👈 اس میں یہ نہیں ہوتا کہ مریض کو درد نہیں ہوتا بلکہ اصل میں انکے قوائے حس اس قدر مفلوج ہو جاتے ہیں کہ درد ہوتے ہوئے بھی یہ لوگ درد کا احساس نہیں کر سکتے ۔۔ انکی تقریباً تمام تکالیف میں درد محسوس نہیں ہوتا ۔ سارے بدن میں حس ، احساس اور پہچان کی کمی ہوتی ہے ۔
👈 اس دوا میں درد کا غیر معمولی فقدان اور اثر پزیری کی کم

Taj Homeopathic Health Care Clinic – آپ کے اعتماد کا مرکز!کیا آپ معدے کے مسائل، گردے کی تکلیف، بواسیر یا بانجھ پن جیسے ا...
25/05/2025

Taj Homeopathic Health Care Clinic – آپ کے اعتماد کا مرکز!
کیا آپ معدے کے مسائل، گردے کی تکلیف، بواسیر یا بانجھ پن جیسے امراض سے پریشان ہیں؟
اب پائیں مؤثر، محفوظ اور سستا علاج ڈاکٹر کے خشک سے، جو کہ ایک تجربہ کار ہومیوپیتھک معالج ہیں:
ڈاکٹر اے کے خٹک
D.H.M.S,
R.H.M.P,
D.M.L.T (Peshawar),
M.S.C (ultrasound)

ماہر امراض:
معدہ
گردہ
بواسیر
زنانہ و مردانہ بانجھ پن
کلینک اوقات کام:
صبح 9 بجے تا دوپہر 12 بجے
دوپہر 3 بجے تا شام 6 بجے
پتہ:
وچ نہر، شمشتو روڈ، پولیس چوک، پشاور

رابطہ نمبر۔۔۔
0344-4065510
0303-9868629

قدرتی علاج کے ساتھ صحت مند زندگی کی طرف قدم بڑھائیں!





24/05/2025
24/05/2025

This is second video from School of Anatomy,The topic is about Anatomical Planes. The main idea behind this video is to clear the concept of students and doc...

24/05/2025

In this short video Human Anatomical Directions are well explained.it has been tried to make the topic interesting for those who take human anatomy intimidat...

24/05/2025

Human body is divided in specific regions to establish relationships among different organs and easy to understand the strutter and organization of human bo...

13/03/2025

*2.آرسینک البم (Arsenicum Album)*

*ماخذ (Source)*
آرسینک البم، جسے آرسینک ٹرائی آکسائیڈ (Arsenic Trioxide) بھی کہا جاتا ہے، ایک معدنی مرکب ہے جو قدرتی طور پر آرسینک کی مختلف اشکال میں پایا جاتا ہے۔ یہ زہریلا عنصر ہے، لیکن ہومیوپیتھی میں اسے بار بار "پوٹینٹائز" (dilute and succuss) کر کے دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جس سے اس کی زہریلی خصوصیات ختم ہو جاتی ہیں اور علاجی اثرات نمایاں ہو جاتے ہیں۔
*ہومیوپیتھی میں تعارف*
آرسینک البم ہومیوپیتھی کی ایک اہم اور کثرت سے استعمال ہونے والی دوا ہے، جو جسمانی، ذہنی اور جذباتی علامات کے وسیع دائرے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس دوا کی سب سے نمایاں خصوصیات میں اضطراب (anxiety), کمزوری (weakness), جلن (burning pains) اور سخت صفائی پسندی (fastidiousness) شامل ہیں۔

*1. عمومی طبیعت اور مزاج*
👈مریض انتہائی پریشان، بے چین، اور خوفزدہ ہوتا ہے، خاص طور پر اپنی صحت کے بارے میں۔
👈موت کا خوف ہوتا ہے، خاص طور پر رات کے وقت یا بیماری کے دوران۔
👈صفائی پسند اور منظم طبیعت کا حامل ہوتا ہے، اور چیزوں کو ترتیب سے رکھنے پر زور دیتا ہے۔
👈دوسروں کی مدد حاصل کرنے میں جھجکتا ہے لیکن اندرونی طور پر کسی پر انحصار کرنا چاہتا ہے۔
*2. جسمانی علامات*
*جلن کے ساتھ درد (burning pains)،* جو عام طور پر گرمی سے بہتر ہوتا ہے۔

*کمزوری (extreme weakness)* جو بیماری کے باوجود غیر متناسب حد تک زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

*الٹی، دست (vomiting, diarrhea)* اور معدے کی خرابی، خاص طور پر رات 12 سے 2 بجے کے درمیان بڑھ جاتی ہے۔
*دمہ اور سانس کی بیماریاں،* سانس لینے میں دشواری جو بیٹھنے یا آگے جھکنے سے بہتر ہوتی ہے۔

*جلدی امراض (skin diseases)* جیسے ایگزیما، چھالے اور کھجلی، جو خارش کرنے پر خراب ہو جاتی ہے۔

*گنٹھیا (rheumatism) یا جوڑوں کے درد، جو سردی اور نمی میں بگڑتے ہیں اور گرمی سے سکون ملتا ہے۔*
*3. دیگر نمایاں خصوصیات*
بہت زیادہ پیاس لیکن تھوڑا تھوڑا پانی پیتا ہے۔

بیماری میں جلدی مایوسی اور موت کے قریب ہونے کا احساس۔

سردی سے شدید حساسیت، لیکن متاثرہ جگہ پر گرمی لگانے سے آرام آتا ہے...!

*کلینیکل استعمال*
آرسینک البم کو مختلف وائرل اور بیکٹیریل انفیکشنز، فوڈ پوائزننگ، الرجی، دمہ، گنٹھیا، اور ذہنی اضطراب میں استعمال کیا جاتا ہے۔ COVID-19 کے دوران بھی اس دوا کو علاج اور قوت مدافعت بڑھانے کے لیے تجویز کیا گیا تھا۔
*متعلقہ ادویات*
فاسفورس (Phosphorus) → آرسینک کی طرح جلنے والے درد، *مگر ٹھنڈے پانی سے بہتر محسوس ہوتا ہے۔*

کاربو ویج (Carbo Vegetabilis) → کمزوری اور بے ہوشی، *مگر تازہ ہوا سے سکون محسوس ہوتا ہے۔*

نکس وومیکا (Nux Vomica) → معدے کے مسائل، *مگر مریض چڑچڑا اور غصے والا ہوتا ہے..*

*مختصراً یہ کہ*
آرسینک البم بے چینی، کمزوری، معدے کے مسائل، جلدی بیماریوں اور الرجی کے علاج میں ایک بہت مؤثر دوا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو صفائی پسند، حساس، اور خوفزدہ ہوتے ہیں، اور جن کی علامات گرمی سے بہتر اور سردی سے بدتر ہوتی ہیں۔

*آرسینک البم (Arsenicum Album) کو ہومیوپیتھی میں ڈاکٹر سیموئل ہانیمن (Samuel Hahnemann) نے متعارف کروایا، جو ہومیوپیتھی کے بانی تھے۔*
ہانیمن نے آرسینک البم پر اپنے تجربات "Materia Medica Pura" اور "Chronic Diseases" میں تفصیل سے بیان کیے۔ انہوں نے اس دوا کے زہریلے اثرات کو باریک بینی سے جانچا اور اسے پوٹینٹائز کرنے کے بعد اس کے مزید کلینیکل فوائد دریافت کیے۔
ہانیمن کے تجربات کے مطابق، آرسینک البم خاص طور پر ان مریضوں کے لیے مفید ہے جو شدید بے چینی، کمزوری، صفائی پسندی، اور موت کے خوف میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس کا اثر جلن، سانس کے مسائل، اور معدے کی خرابیوں پر بھی نمایاں ہوتا ہے۔...

13/03/2025

*ہومیوپیتھی سے پہلے آرسینک (سنکھیا/سم الفار) کا طبی استعمال..... تاریخی پس منظر*
سنکھیا کا دوا کے طور پر استعمال قدیم زمانے سے مختلف ثقافتوں میں موجود تھا۔ *یہ زہر ہونے کے باوجود طب میں کئی طریقوں سے استعمال کیا جاتا تھا*، خاص طور پر روایتی چینی، یونانی، اور مغربی طب میں۔
*1. قدیم چین اور ہندوستان میں استعمال*
*👈آیورویدک طب* میں آرسینک کے مرکبات کا استعمال خاص طور پر جلدی بیماریوں، بخار، اور زہریلے مادوں کے اخراج کے لیے کیا جاتا تھا۔
*👈چینی طب* میں اسے بعض امراض، خاص طور پر ملیریا اور آتشک (Syphilis) کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
*2. یونانی اور رومی طب*
👈بقراط (Hippocrates) اور جالینوس (Galen) نے آرسینک کو دواؤں میں شامل کیا اور اسے السر، جلدی مسائل اور بعض سانس کی بیماریوں کے علاج کے لیے تجویز کیا۔
*👈رومی دور* میں آرسینک کے مرکبات کو بطور tonic اور اینٹی سیپٹک استعمال کیا جاتا تھا۔
*3. قرونِ وسطیٰ اور یورپ میں استعمال*
👈عرب اطباء جیسے ابن سینا (Avicenna) نے آرسینک کو مختلف زہریلے اثرات کے علاج کے لیے استعمال کیا۔
👈قرونِ وسطیٰ میں یورپ میں اسے کینسر، سفلس (Syphilis)، اور جلدی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
👈الکیمسٹ (کیمیائی ماہرین) اسے "حیات بخش دوا" سمجھتے تھے اور طویل زندگی کے لیے مختلف مرکبات تیار کرتے تھے۔
*4. 18ویں اور 19ویں صدی میں طبی استعمال*
👈آرسینک ٹرائی آکسائیڈ (Arsenic Trioxide) کو یورپ میں کینسر، بخار، ملیریا،/,ف ر دمہ اور ذہنی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
👈(آرسینک کا ایک مشہور محلول)
"Fowler’s Solution"
1786 میں برطانوی ڈاکٹر ٹوماس فاؤلر نے تیار کیا، جو مختلف امراض جیسے کہ دمہ، جلدی بیماریوں، اور آرتھرائٹس میں استعمال ہوتا تھا۔
👈سفلس (Syphilis) کے علاج کے لیے آرسفینامین (Arsphenamine) نامی دوا 1909 میں متعارف ہوئی، جو پینسلین سے پہلے سفلس کا اہم علاج تھا۔
*ہومیوپیتھی میں آرسینک کا استعمال*
ہینیمن (ہومیوپیتھی کے بانی) نے آرسینکم البم (Arsenicum Album) کو ایک ہومیوپیتھک دوا کے طور پر 19ویں صدی میں متعارف کرایا، جو آج بھی بدہضمی، اسہال، دمہ، الرجی، خوف، بے چینی اور وائرل بیماریوں میں استعمال ہوتی ہے۔
*آرسینک کو ہومیوپیتھی سے پہلے روایتی، ایلوپیتھک اور آیورویدک طب میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا تھا، حالانکہ اس کے زہریلے اثرات کی وجہ سے غلط خوراک مہلک ثابت ہوتی تھی. اور اس کی غلط خوراک اور مقدار سے اموات معمول بن چکی تھیں*
صرف ہومیوپیتھی نے اس کے زہریلے اثرات ختم کر کے اس کو *لائف سیونگ دوا* کی شناخت دی اور یہ آج بھی ایک مؤثر میڈیسن کے طور پر دنیا بھر میں استعمال کی جا رہی ہے!

Address

Wouch Nehar, Shamshatoo Road, Near Police Phatak
Peshawar
24251

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Taj homeopathic health care clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram