01/03/2026
مٹی کی حرمت اور دو طرح کے حکمران
تاریخ گواہ ہے کہ زمین سے وفا کرنے والوں اور بزدلوں کے راستے ہمیشہ الگ رہے ہیں ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کے لیے اقتدار محض ایک کرسی نہیں بلکہ اپنی مٹی اور قوم کی عزت کا سودا نہ کرنے کا عہد ہوتا ہے ایرانی سپریم لیڈر 87 سالہ آیت اللہ خامنہ ای ڈاکٹر نجیب صدام حسین اور کرنل قذافی ملا عمر کے انجام سے دنیا کا کوئی بھی اختلاف ہو لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے مشکل وقت میں اپنی سرزمین کو چھوڑ کر بھاگنے پر موت کو ترجیح دی انہوں نے ثابت کیا کہ غیرت مند قوموں کے لیڈر اپنی مٹی میں ہی دفن ہونا پسند کرتے ہیں
آج پشتون افغان اور ایرانی جس پامردی سے اپنے نظریات اور زمین کے لیے کھڑے ہیں وہ اسی دلیری کی تسلسل ہے زمین وطن پر قربانی ہر کسی کا مقدر نہیں ہوتی یہ صرف ان کے حصے میں آتی ہے جن کے دلوں میں موت کا خوف نہیں بلکہ زمین کی محبت رچی بسی ہوتی ہے
دوسری طرف وہ نام نہاد اشرافیہ ہے جن کے پاؤں تو اس زمین پر ہیں لیکن دل اور جائیدادیں سات سمندر پار انگلستان اور دیگر ممالک میں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے عوام کا خون چوس کر اپنے لیے فرار کے راستے پہلے سے تیار کر رکھے ہیں حالات کی تھوڑی سی تپش محسوس ہوتے ہی ان کے نجی جہازوں کے انجن اسٹارٹ ہو جاتے ہیں ان کے لیے یہ ملک صرف مال بنانے کی جگہ ہے جبکہ جینے مرنے کے لیے انہوں نے غیروں کی دہلیز چنی ہوئی ہے
موت تو برحق ہے اور اس نے ایک دن سب کو ہی آ لینا ہے لیکن کتنی بدنصیبی ہے وہ موت جو جلاوطنی اور بزدلی کے سائے میں آئے اس سے کہیں بہتر وہ موت ہے جو اپنی مٹی کی خوشبو میں بسے ہوئے آئے جو لوگ زمین سے پیار کرتے ہوئے جان دیتے ہیں تاریخ انہیں ہمیشہ زندہ رکھتی ہے اور جو مشکل وقت میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہیں انہیں وقت کی گرد ہمیشہ کے لیے مٹا دیتی ہے
#اےآرشیرانی