18/10/2025
آپ کا بُرج اور آج کا دن کیسا رہے گا؟
آپ میں سے اکثر حضرات فیس بُک، یوٹیوب، انسٹا یا دیگر سوشل پلیٹ فارمز پر سنتے، دیکھتے اور پڑھتے ہوں گے کہ فلاں بُرج کے دن اچھے ہونے والے ہیں، اور فلاں بُرج کے دن اب خراب گزرنے والے ہیں۔
اور یقیناً ایسی پوسٹس پر تبصرے (کمنٹس) بھی بہت ہوتے ہیں، مگر کسی علمی پوسٹ پر ریچ (پہنچ) نہیں ہوتی۔
اکثر لوگ ایسی پوسٹس کو اپنے ساتھ منسوب کر لیتے ہیں، لیکن کیا آپ نے کبھی ایک قاری (پڑھنے والے) کی حیثیت سے یا نجومی (پوسٹ کرنے والے) کی حیثیت سے یہ سوچا ہے کہ آپ دراصل کر کیا رہے ہیں؟
دنیا کی کل آبادی تقریباً آٹھ ارب ہے، اور کل بارہ بُروج ہوتے ہیں۔ اگر ان بارہ بروج کو آٹھ ارب انسانوں پر تقسیم کیا جائے تو ایک بُرج میں تقریباً 68 کروڑ 58 لاکھ لوگ شامل ہو سکتے ہیں، جو دنیا کی کل آبادی کا تقریباً ساڑھے آٹھ فیصد بنتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک ہی وقت، یا ایک ہی ماہ یا ایک ہی سال میں ان ساڑھے آٹھ فیصد یا 68 کروڑ لوگوں کے خراب دن چل رہے ہوتے ہیں؟
کیا ان سب کو ایک ساتھ بتائے گئے "خراب دن" کا سامنا ہوتا ہے؟
میرے خیال میں بالکل بھی نہیں۔
تو پھر ایسا کیوں ہوتا ہے؟
---
🔹 آپ کا بُرج کون سا ہے؟
نجوم (Astrology) فیس بُک کی عام پوسٹس سے بالکل مختلف علم ہے۔
ایک زائچہ (Birth Chart) بنانے اور سمجھنے کے لیے انسان کی تاریخِ پیدائش، وقتِ پیدائش اور مقامِ پیدائش ضروری ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر زائچہ یا کنڈلی بنتی ہے۔
ایک زائچہ میں بارہ گھر، بارہ بُروج اور نو سیارے ہوتے ہیں (بعض جدید نظاموں میں بیرونی تین سیارے یورینس، نیپچون اور پلوٹو کو شامل کر کے کل بارہ کر لیے جاتے ہیں)۔
یہ سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ ہر بُرج کے اندر سوا دو حصے ہوتے ہیں جنہیں نچھتر (Nakshatra) کہا جاتا ہے، اور کل بارہ بروج میں ستائیس نچھتر بنتے ہیں۔
ہر نچھتر کے چار چار پاد (حصے) ہوتے ہیں، جنہیں نوآنش کہا جاتا ہے۔ اس طرح بارہ بروج میں کل 108 نوآنش بنتے ہیں۔
اسی وجہ سے، ایک ہی دن میں دو گھنٹے کے فرق سے پیدا ہونے والے دو افراد کا بُرج بدل سکتا ہے،
53 منٹ کے فرق سے پیدا ہونے والے افراد کا نچھتر بدل سکتا ہے،
اور صرف 13 منٹ کے فرق سے نوآنش تبدیل ہو جاتا ہے۔
بلکہ بعض اوقات چند سیکنڈز کا فرق بھی زائچے کی سمت کو بدل دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اگر دو بچے ایک ہی ہفتے میں پیدا ہوں اور اُن کا بُرج، نچھتر اور نوآنش بھی ایک ہی ہو، تب بھی سیارگان کی پوزیشن مختلف ہونے کی وجہ سے اُن کی زندگیوں کے واقعات اور رجحانات مختلف ہوں گے۔
---
🔹 پاکستان میں astrology کے متعلق بڑی غلط فہمی
پاکستان میں نجوم کے متعلق سب سے بڑی غلط فہمی اخبارات اور نام نہاد نجومیوں نے پیدا کی ہے۔
اخبارات میں لکھا جاتا ہے کہ جو انسان 21 مارچ سے 21 اپریل کے درمیان پیدا ہوا ہے، اس کا بُرج حوت بنتا ہے — اور پھر اسی ایک ماہ کی بنیاد پر پیشگوئیاں کی جاتی ہیں۔
یہ بالکل غلط طریقہ ہے۔
یہ شمسی برج (Solar Sign) کی بنیاد پر تقسیم ہے، جو دراصل سیارہ شمس (سورج) کے سفر کو ظاہر کرتی ہے۔
اصل میں، نجومی اعتبار سے سب سے اہم برج وقتِ پیدائش کا طلوعی برج (Ascendant) ہوتا ہے،
اس کے بعد قمر کا برج دیکھا جاتا ہے (جو تقریباً ڈھائی دن میں ایک بُرج بدلتا ہے)،
اور آخر میں شمس کا برج (جو ایک ماہ میں بدلتا ہے)۔
اب جب کہ صرف 13 منٹ میں نوآنش بدل سکتا ہے، تو 68 کروڑ لوگوں کی قسمت ایک ساتھ کیسے بدل سکتی ہے؟
لہٰذا ہر انسان کے لیے الگ زائچہ بنایا جاتا ہے — اس کی تاریخ، وقت اور مقامِ پیدائش کے مطابق۔
فیس بُک کی عام "آج کا دن" پوسٹوں پر اپنی زندگی کا فیصلہ کرنا یا ان کی بنیاد پر "ریمڈیز" کرنا سراسر غلط ہے۔
(ریمڈیز سے متعلق پاکستانیوں کی غلط فہمیاں ان شاءاللہ کسی اور پوسٹ میں واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔)
---
🔹 اصل گناہ کہاں ہے؟
ان سب قیاس آرائیوں میں عام قاری کی غلطی نہیں —
کیونکہ وہ نجوم سے نابلد ہوتا ہے۔
غلطی دراصل اُن لوگوں کی ہے جو خود کو ماہرِ نجوم ظاہر کرتے ہیں مگر علم نجوم کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔
یہ نہ صرف گمراہی ہے بلکہ ایک ذمہ داری کا گناہ بھی۔
میں اپنے تمام نجومی دوستوں سے گزارش کرتا ہوں کہ خدارا ایسی قیاس آرائیوں سے دور رہیں۔
ذاتی مفاد یا فالوورز بڑھانے کے لیے لوگوں کو گمراہ نہ کریں۔
نجوم پر لکھنے سے پہلے اسے سمجھیں، پڑھیں اور پریکٹس کریں۔
دنیا بھر میں سکھانے اور پڑھانے کے کچھ معیار (parameters) ہوتے ہیں، جن میں سب سے اہم شرط یہ ہے کہ آپ اپنے مضمون کے ماہر ہوں۔
لیکن یہاں ہم صرف کلاس لے کر یا چند لیکچرز سن کر فوراً دوسروں کو سکھانے لگ جاتے ہیں —
اور یہی آدھی ادھوری معلومات سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔
نیم حکیم خطرۂ جان...
خالد جمالی