14/10/2025
🌑 بلوچستان کا استحصالی منظرنامہ 🌑
بلوچستان کی مٹی، جو کبھی غیرت و آزادی کی علامت تھی، آج زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔
یہاں فیصلے عوامی ایوانوں میں نہیں بلکہ پردوں کے پیچھے طے پاتے ہیں۔
ووٹ محض رسمی ہیں، نمائندے کٹھ پتلیاں، اور اقتدار کی طنابیں اُن ہاتھوں میں ہیں جو عوام سے نہیں بلکہ اشاروں سے حکم لیتے ہیں۔
عوامی مفاد کے نام پر ذاتی مفادات کا بازار گرم ہے، اصول پسپا اور مفاہمت غالب۔
وہ اہلِ ضمیر جو قوم کی خودمختاری کے ترجمان تھے، ایک ایک کر کے مٹائے گئے۔
نواب اکبر بگٹی کی قبر خاموش مگر گواہ ہے،
اور حضرت مولانا محمد خان شیرانی جیسے صاحبِ بصیرت رہنما کو ان کے اپنے ہمراہوں نے اس مقام تک پہنچایا کہ ان سے ان کی جماعت تک چھین لی گئی۔
آج بلوچستان میں سچ بولنا جرم اور سوال اٹھانا بغاوت بن چکا ہے۔
یہ سرزمین گواہی دے رہی ہے کہ حق کہنے والا غدار، اور خاموش رہنے والا وفادار ٹھہرا۔
یہ بلوچستان ہے — وہ دھرتی جو اب بھی چیخ کر کہتی ہے:
“ہم سے ہماری آواز مت چھینو، یہی تو ہماری پہچان ہے۔”
🌍 The Exploitative Landscape of Balochistan 🌍
The land of Balochistan — once a symbol of pride and freedom — now lies chained in silence.
Decisions here are not made in assemblies but behind closed doors.
Votes have lost their worth, representatives are mere puppets, and power strings are pulled not by the people but by unseen hands.
Under the banner of “public interest,” personal gain thrives while principles fade.
Those who spoke for sovereignty and conscience were erased one by one.
Nawab Akbar Bugti was silenced in his grave, and visionary leaders like Maulana Muhammad Khan Sherani were stripped of their own platforms by those closest to them.
Today, in Balochistan, truth has become treason, and questioning — rebellion.
This land stands as a witness that silence has become loyalty, and honesty a crime.
This is Balochistan — still crying out:
“Do not take away our voice; it is our only identity.”