We care for you and your Family. Contact us to Keep your animals healthy and highly productive.
15/11/2025
Dogs reaction 😺
08/11/2025
Hay what's up?
25/10/2025
Catch up
25/10/2025
Cat was found at road was rescued by veterinarian. Thanks #
25/10/2025
25/10/2025
In a surprising display, a monkey masters the challenge of fire.
#$
25/10/2025
14/08/2024
سوال: ڈیورمنگ کیسے اور کیوں کی جاتی ہے؟
جواب: Method of Deworming
تعارف اور ضرورت:
جانور کا معدہ اکثر بیرونی جراثیم کی بنا پر کیڑوں کا شکار ہو جاتا ہے، جو اس کے معدے کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں اور خوراک کے مفید اجزاء کو مکمل طور پر جز و بدن نہیں بننے دیتے۔ ان کیڑوں کی کچھ اقسام جانور کے جگر کو بھی متاثر کرتی ہیں، اور جگر تازہ خون بنانے کے عمل کو سست کر دیتا ہے۔ ان کیڑوں کے علاوہ کچھ جراثیم جانور کے خون میں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔یہ تمام کیڑے/ کرم اور جراثیم مل کر، جانور کے نظام کا حصہ بن کر اس کو سست، کمزور اور بے رونق بنا دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ کچھ بیرونی کِرم جیسے چچڑ، جوں وغیرہ بھی ماحول کی گندگی کی وجہ سے جانور کے جسم سے چمٹ کر، اس کے خون کو چوستے ہوئے، اسے کمزور اور بے رونق بناتے ہیں۔
کِرم کُشی /ڈیورمنگ، ان اندرونی و بیرونی کِرموں کے خاتمہ کے لئے، کسی بھی ولایتی یا دیسی نسخے کے پلانے، کھلانے اور کسی انگریزی دوائی کے بطور ٹیکہ لگاۓ جانے کا نام ہے۔
ضرورت:
ڈیورمنگ کسی بھی جانور کی تیاری کا پہلا مرحلہ ہے، خواہ وہ گوشت کے لئے ہو یا افزائش نسل کے لئے۔ جب تک جانور کا معدہ صاف، مضبوط اور متحرک نہ ہو، جانور اپنی خوراک اچّھی طرح ہضم نہیں کر سکتا، اور نتیجہ کے طور پر خوراک کے مفید غذائی اجزاء کا ایک بڑا حصہ فُضلہ کی شکل میں خارج ہو جاتا ہے، جانور صیح طرح سے اپنی بڑھوتری نہیں پکڑتا، جلد بے رونق ہو جاتی ہے، محنت کا اصل ثمر نہیں ملتا۔
طریقہ:
یہ مندرجہ ذیل طریقہ ہے، جو ہم سالہا سال سے کر رہے ہیں (مختلف طریقہ ہیں، ہمیں یہ طریقہ موزوں لگتا ہے۔ جسے جو جو طریقہ ٹھیک لگے، کِرم کُشی کر سکتا ہے، لیکن براہِ کرم کیجئے ضرور):
آج شام کو ونڈے اور چارے کی نسبتا تھوڑی مقدار دینا، تا کہ جانور کا معدہ کل صبح کے وقت اچّھی طرح خالی ہو۔
رات کو جانور کو کوئی بھی میٹھی چیز جیسے، ایک یا دو ٹافیوں کے برابر گڑ، یا نرم ٹافی یا رس گلا، یا دس/بیس روپے والی ڈیری مِلک وغیرہ دے دینا۔ بڑے جانور کو ایک پیسی گڑ دے دیتے ہیں۔
اگلی صبح سویرے بکری/بکرے/بڑے جانور کو اس کے وزن کے حساب سے، اندازہ کر کے، دوائی کی کمپنی کی جانب سے تجویز کردہ مقدار، تھوڑے سے پانی میں حل کر کے پلا دینا۔
دوائی دینے کے دو گھنٹے تک جانور کو کچھ نہ دینا۔
اس کے بعد پانی پلا کر ایک آدھ دن صرف سبز چارا چوکر وغیرہ دینا۔ ( کچھ ادویات ڈیورمنگ کے بعد جانور کے لئے ایک یا دو دن تک ہلکی پیچش کا باعث بن سکتی ہیں، اگر اس سے ذیادہ دیر رہیں تو لازمی ڈاکٹر سے رجوع کریں)۔
دوائی دینے کے ایک دو دن بعد سے معمول کا چارا ونڈا دے سکتے ہیں۔
پلانے والی دوائی کے تین دن بعد ہم لوگ اپنے جانوروں کو آیورمیکٹین کا ٹیکہ، صبح منہ اندھیرے، ٹھنڈا کر کے، بالحساب وزن، زیر جلد لگاتے ہیں۔
پہلی دفعہ کے لئے ہم آئی سی آئی کی نلزان پلس استعمال کرتے ہیں، اس میں دو مختلف سالٹ اور ایک دھات کوبالٹ کا مرکب شامل ہوتا ہے۔
پہلی ڈوز نسبتا ہلکی دیتے ہیں۔ پندرہ دن بعد اضافی خوراک (Boosting Dose) دیتے ہیں۔ اور سالٹ/دوائی تبدیل کرتے ہیں۔ اس کے بعد، ہر ڈھائی ماہ بعد ڈیورمنگ کرتے ہیں، اور ہر بار دوائی تبدیل کرتے ہیں، جیسے تھنڈر، پنچ، ٹرائکلیو وغیرہ،
دوائی دینے کے لئے جتنی مقدار دوائی کی ہو، اس سے دو سے تین گنا پانی ملا کر محلول تیار کر کے، سرنج یا نال سے صبح منہ اندھیرے پلا دیتے ہیں۔
موسم سرما میں سورج طلوع ہونے پر دوائی دیتے ہیں۔ شدید موسم میں، بارش میں، جانور کے بیمار ہونے پر، یا کسی بیماری سے بحالی کے فوری بعد ڈیورمنگ نہیں کرتے۔
ایسے جانور کی ڈیورمنگ نہیں کرتے، جسے کراس یا حاملہ ہوۓ ابھی ساٹھ دن نہ ہوئے ہوں۔ اور ایسے جانور کی بھی نہیں کرتے جسے خوشیاں دیکھنے میں ساٹھ دن رہ گئے ہوں۔ احتیاط کرتے ہیں کہ محلول جانور کی سانس کی نالی میں نہ جاۓ۔ احتیاط کے طور پر بھنے ہوۓ چنے کا پاؤڈر، بیسن، آٹا جو بھی دستیاب ہو، وہ پاس رکھتے ہیں، اور (خدانخواستہ) ضرورت پڑنے ایک مٹھی پاؤڈر، اخبار کے کاغذ میں لپیٹ کر فوری کھلا دیتے ہیں۔
ڈیورمنگ کے بعد دو گھنٹے تک جانور کو کچھ نہیں دیتے۔ پھر پانی پلاتے ہیں۔ تا کہ مردہ اور کمزور ہو چکے کِرم بڑی آنت میں چلے جائیںٹھیک 15 یوم کے بعد اس عمل کو دوبارہ دہرائیں۔
13/08/2024
بھینس کی غذائی ضروریات، اہمیت اور ان کی فراہمی
ڈیری سیکٹر میں کسی بھی سیٹ اپ میں چاہے آپ گھریلو سطح پر جانور پال رہے ہوں، بریڈنگ کر رہے ہوں یا کمرشل ڈیری فارمننگ میں ملوث ہوں روزمرہ کے اخراجات میں جانوروں کی خوراک سب سے اہم پہلو ہے اور سب سے زیادہ اخراجات بھی اسی پر آتے ہیں اسلیۓ اس کو سمجھنا بہت ضروری ہے. نا صرف متوازن غذا جانوروں کی صحت اور نشوونما کیلیۓ ضروری ہے بلکہ ایک موثر اور سستا ظریعہ خوراک ہمارے منافع میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتا ہے.
جانوروں سے اچھی پیداوار اور منافع کیلیۓ ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہمارے جانوروں کی غذائی ضروریات کیا ہیں. تو آج ہم بھینس کی غذائی ضروریات پر دور حاضر میں کی گئ ریسرچ اور موجودہ لٹریچر کی روشنی میں بحث کریں گے.
سب سے پہلے جو بات سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ بھینس کو اپنے جسمانی وزن کے اعتبار سے ایک خاص تناسب سے خشک مادہ کی ضرورت ہوتی ہے. آسان اصطلاح میں ڈرائی میٹر یعنی خشک مادہ خوراک میں موجود ٹھوس اجزا کو کہتے ہیں مثال کے طور پر یوں کہہ لیں کہ سبز چارے میں سے اگر پانی کو نکال لیں تو باقی ہمارے پاس خشک مادہ ہی بچے گا.
دور حاضر تک ڈیری سیکٹر میں زیادہ ریسرچ گاۓ پر ہوئی ہے اور بھینس پر ریسرچ تقریباً نا ہونے کے برابر ہے. بحرحال کچھ اچھی اسٹڈیز دیکھنے کو ملتی ہیں جن میں بھینس کو اس کے جسمانی وزن کے لحاظ سے 3 سے 4 فیصد تک خشک مادہ کی فراہمی کی سفارش کی گئ ہے. مثال کے طور پر اگر ایک بھینس کا جسمانی وزن 500 کلو گرام ہے تو اس کو درکار ڈرائی میٹر / خشک مادہ
500 * 3٪ = 15 Kg
500 * 4٪ = 20 Kg
15 سے 20 کلو گرام ہے. اسی طرح ہمیں اپنے پاس موجود ہر بھینس کے جسمانی وزن کا اندازہ ہونا چاہیے تا کہ اس کو درکار ڈرائی میٹر کا بہتر تخمینہ لگایا جا سکے.
دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بھینس کو درکار ڈرائی میٹر اور اس میں موجود ضروری اجزا کن کن عوامل کی وجہ سے مختلف ہو سکتے ہیں. تو کچھ اہم نقات یہاں ڈسکس کریں گے.
1. بڑھوتری کیلیۓ
2. دودھ کی پیداوار کیلیۓ
3. ریپروڈکشن کیلیۓ
4. حاملہ ہونے کی صورت میں
5. دودھ میں موجود چکنائی کی مقدار
6. جانور کھلے ہیں یا بندھے ہوۓ
7. موسم اور درجہ حرارت
اہم غذائی ضروریات
پانی
بھینس کیلئے پانی بہت ضروری ہے. کتنا ضروری ہے یہ سوال اہم ہے. مختلف ریسرچ اسٹڈیز میں بھینس کو درکار پانی اور جسمانی وزن کے تناسب کو زیرِ بحث لایا گیا ہے. بھینس کو درکار پانی ماحول، درجہ حرارت اور مہیا کردہ خوراک میں موجود ڈرائی میٹر سے مشروط کیا گیا ہے. لٹریچر میں پانی اور بھینس کے جسمانی وزن کی شرح کو تقریباً 6 سے 10 فیصد تک مقرر کرنے کی سفارش کی جاتی ہے. اس اثنا میں ایک بھینس پال کو اپنے ڈیری ماڈل کو مدنظر رکھتے ہوۓ بھینس کیلیۓ تازہ اور صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے.
انرجی
پانی کی طرح بھینس کو بڑھوتری، ریپروڈکشن اور دودھ اور گوشت کی پیداوار کیلیۓ مناسب انرجی کی بھی ضرورت ہوتی ہے. لٹریچر میں اسے TDN ٹوٹل ڈیزالو نیوٹرینٹس سے مشروط کیا جاتا ہے.
پروٹین
پروٹین بھینس کی خوراک کا ایک نہایت اہم جز ہے. بہتر صحت، نشوونما اور ریپروڈکشن کیلیۓ بھینس کو درکار پروٹین کو تکنیکی لحاظ سے لٹریچر میں CP کروڈ پروٹین سے مشروط کیا جاتا ہے.
منرلز
باقی اجزا کی طرح بھینس کو مختلف جسمانی عوامل کیلیۓ اس کے جسمانی وزن کے لحاظ سے منرلز کی بھی ضرورت ہوتی ہے. لٹریچر میں درج ذیل منرلز کی دستیابی کی سفارشات کی گئ ہیں...
Calcium
Phosphorus
Magnesium
Sodium
Potassium
Chloride
Sulphur
غذا کی اقسام
جبکہ ہم یہ جان چکے ہیں کہ بھینس کو درکار ضروری غذائی اجزا کون کون سے ہوں تو اب ہم ان کی دستیابی پر بحث کریں گے. کون کون سی چیز کتنی کتنی مقدار میں چاہیۓ اور ان کا حصول کیسے ممکن ہے اس کو سمجھنا سب سے زیادہ اہم ہے. بھینس کی خوراک کو ہم دو بنیادی حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں.
Concentrates and roughage (یعنی اجناس اور چارہ)
اسی طرح Roughage یعنی چارے کو ہم مزید دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں.
خشک چارہ. اس میں توڑی، پرالی اور (hay) ہے شامل ہیں
سبز چارہ
یہاں ایک اور اصول کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے اور وہ ہے کنسنٹریٹ یعنی ونڈے اور چارے کا تناسب. کسی بھی طرز کا ٹی ایم آر بناتے ہوۓ ہمیں اس تناسب کا خیال رکھنا ہو گا. اس ٹاپک پر جو اصول گاۓ پر لاگو ہوتا ہے وہ 60/40 ہے. یعنی 40 فیصد غذائی ضروریات ہمیں کنسنٹریٹ سے پوری کرنی ہیں اور 60 فیصد غذائی ضروریات چارے سے.
بھینس کے معاملے میں ہمارے ہمسایہ ملک میں کی گئ ایک ریسرچ کے مطابق یہ تناسب 1/3 اور 2/3 رکھنے کی سفارش کی گئی ہے. یعنی 1/3 (٪33.3) غذائی ضروریات کنسنٹریٹ اور 2/3 (٪66.7) غذائی ضروریات چارے سے پوری کریں گے.
سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس تناسب پر کاربند ہونا کیوں ضروری ہے. تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سبز چارے اور خصوصاً خشک چارے یعنی توڑی وغیرہ میں فائبر کی مقدار کنسنٹریٹ سے قدرے زیادہ ہوتی ہے جو کہ جگالی کرنے والے جانوروں کیلئے نہایت ضروری ہے.
اسی طرح کسی بھی کمبینیشن میں ٹی ایم آر کی تکمیل سے پہلے ایک اور بات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے اور وہ ڈرائی میٹر اور کروڈ پروٹین کی ریشو ہے. اس ریشو کو گاۓ اور بھینس دونوں پر ہونے والی ریسرچ اسٹڈیز میں ٪10 سے ٪14 فیصد تک رکھنے کی سفارش کی گئی ہے. جبکہ ہمارے ہمسائے ملک میں بھینس کی غذائی ضروریات پر کی گئی ایک ریسرچ میں اس تناسب کو 10 فیصد مقرر کیا گیا ہے.
اسی طرح ایک اور انڈین ریسرچ میں ہر ایک کلو دودھ جس کی فیٹ ٪4 کانسٹنٹ تصور کی گئی ہے کیلیۓ بھینس کو 90 گرام کروڈ پروٹین مزید مہیا کرنے کا کہا گیا ہے. اور یہ اصول دس کلو گرام دودھ سے اوپر لاگو کیا گیا ہے. ایک اور اسٹڈی میں ہر ایک کلو دودھ پر آدھا کلو کنسنٹریٹ میں اضافہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے. جبکہ ہمارے پاکستان میں مختلف ونڈہ کمپنیوں والے ایک کلو دودھ پر ایک کلو ونڈہ کچھ دو کلو دودھ پر ایک کلو ونڈہ تجویز کرتے ہیں. خیر اس کے پیچھے کی سائنس وہ ہی جانیں.
تو چلیں اب ہم کوشش کرتے ہیں کہ موجودہ معلومات اور اصولوں کی روشنی میں ایک بہتر اور کم خرچ والا ٹی ایم آر بنائیں.
اصول نمبر 1. بھینس کے جسمانی وزن اور ڈرائی میٹر کا تناسب
بھینس کا جسمانی وزن = 500 کلو
ڈرائی میٹر ریشو = 3.5 فیصد
درکار ڈرائی میٹر = 500 * 3.5٪ = 17.5 کلو
اصول نمبر 2. ڈرائی میٹر میں کنسنٹریٹ اور چارے کا تناسب
آپ درج ذیل کسی بھی اصول کو فالو کر سکتے ہیں.
40-60 تناسب اور 33.3-66.7 تناسب
ہم یہاں دوسرے اصول کو فالو کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈومیسٹک سسٹم میں چارہ اور توڑی عام فارمر کو قدرے سستے داموں میسر ہوتی ہے اور بھینس کو اللہ نیں قدرتی صلاحیت دی ہے کہ وہ قدرے لو کوالٹی کی خوراک پر بھی بہتر پرفارم کر جاتی ہے.
کنسنٹریٹ سے درکار ڈرائی میٹر
17.5 * 33.3٪ = 5.83 کلو
فوریج یعنی خشک اور سبز چارے سے درکار ڈرائی میٹر
17.5 * 66.7٪ = 11.67 کلو
کیلکولیشنز.
اب ہم کنسنٹریٹ یعنی ونڈے کی کیلکولیشن کر لیتے ہیں. عام طور پر ونڈے کا ڈرائی میٹر 90 فیصد کے لگ بھگ ہوتا ہے. اگر ہم اس کو کانسٹنٹ لیں تو 5.83 کلو ڈرائی میٹر پورا کرنے کیلۓ چوبیس گھنٹوں میں ایک 500 کلو گرام جسمانی وزن والی بھینس کو جو ونڈہ کھلایا جاۓ گا اس کی کیلکولیشن درج ذیل ہے.
5.83 * 110٪ = 6.413 کلو گرام
یعنی ایک ایسی بھینس جس کا جسمانی وزن 500 کلو ہے اور وہ 10 کلو دودھ دیتی ہے اس کو تقریباً 6.5 کلو گرام ونڈہ درکار ہو گا.
فوریج سے ڈرائی میٹر کیلکولیشنز
11.6 کلو گرام ڈرائی میٹر جو فوریج سے پورا کرنا ہے اس کیلیۓ ہر فارمر اپنے علاقے کے حساب سے خشک چارے اور سبز چارے کا کمبینیشن بنا سکتا ہے. پاکستان میں رائج گوال اور کمرشل فارمننگ سسٹم کے لحاظ سے ہم توڑی، سائیلج اور مکئ کے سبز چارے کے کمبینیشن کو بطور کیس اسٹڈی ٹیسٹ کرتے ہیں کہ ہمیں درکار غذائی ضروریات پوری ہوتی ہیں کہ نہیں...
اس ضمن میں 1/3 ریشو سے تینوں اجزاء کو ٹی ایم آر کا حصہ بنانے والے اصول کو ٹیسٹ کرتے ہیں.
11.6/3 = 3.86 کلو ڈرائی میٹر توڑی
توڑی کا ڈرائی میٹر 90 فیصد کے لگ بھگ ہوتا ہے تو اس لحاظ سے توڑی سے 3.86 کلو درکار ڈرائی میٹر پورا کرنے کیلیۓ ہمیں درج ذیل توڑی کو اپنے ٹی ایم آر کا حصہ بنانا ہو گا
3.86 * 110٪ = 4.25 کلو توڑی
11.6/3 = 3.86 کلو ڈرائی میٹر سبز مکئ چارہ
اس کیلکولیشن کیلیۓ ہر فارمر کو اپنے علاقے میں موجود مکئ کے سبز چارے کے ڈرائی میٹر کا پتا ہونا چاہیے. مکی کے چارے کا ڈرائی میٹر فصل کی کٹائی پر منحصر ہوتا ہے کہ کس اسٹیج پر چارہ کی کٹائی کی جا رہی ہے. ویسے نارملی گاچے کا ڈرائی میٹر 18 فیصد کے لگ بھگ ہوتا ہے تو ہمیں تقریباً 21.5 کلو گرام مکئ کا سبز چارہ درکار ہو گا.
11.6/3 = 3.86 کلو ڈرائی میٹر سائیلج
سائیلج کا ڈرائی میٹر بھی اس کی کوالٹی پر منحصر ہوتا ہے جو عموماً 30 سے 35 فیصد تک ہوتا ہے. اگر ہم 33-32 فیصد ڈرائی میٹر والے سائیلج کو اپنے ٹی ایم آر کا حصہ بناتے ہیں تو 3.86 کلو ڈرائی میٹر پورا کرنے کیلیۓ ہمیں تقریباً 12 کلو سائیلج درکار ہو گا.
فرض کریں ونڈے کی CP 20% ہو تو
5.83 * 20٪ = 1172 گرام
گندم کی توڑی میں کروڈ پروٹین تقریباً ٪3 ہوتی ہے تو
3.86 * 3٪ = 115.8 گرام
مکئ گاچے کی CP تقریباً ٪6 کے لگ بھگ ہوتی ہے تو اس لحاظ سے کیلکولیشن کچھ یوں ہو گی...
3.86 * 6٪ = 231.6 گرام
مکئ کے سائیلج کی کروڈ پروٹین بھی تقریباً ٪6 ہوتی ہے تو
3.86 * 6٪ = 231.6 گرام
ٹوٹل (1172 + 115.8 + 231.6 + 231.6) 1751 گرام یعنی 1.751 کلو گرام بنتی ہے.
جب ہم ٹوٹل کروڈ پروٹین اور ڈرائی میٹر کی ریشو نکالتے ہیں تو
(1. 751 / 17. 5) * 100 = 10.005 ٪
یعنی تقریباً 10 فیصد نکلتی ہے جیسا کہ ایک انڈین ریسرچ اسٹدی میں سفارش کی گئی ہے.
اور اسی طرح اگر ہم ہر ایک کلو اضافی دودھ کیلیۓ 90 گرام پروٹین ایڈ کریں تو ہمیں ایگزیکٹلی 0.45 کلو گرام ونڈہ مزید دینا ہو گا بھینس کو...
0.45 * 20٪ = 90 گرام
ٹی ایم آر پرائس کیلکولیشن
میں اپنے علاقے میں موجودہ قیمتوں کے حساب سے اگر کیلکولیٹڈ ٹی ایم آر کی ٹوٹل قیمت نکالوں تو وہ کچھ یوں ہو گی....
ونڈہ-- 6.5 * 80 = 520 روپے
توڑی -- 4.25 * 18 = 76.5 روپے
مکئ گاچا-- 21.5 * 7.5 = 161.25 روپے
سائیلج-- 12 * 19 = 228 روپے
اسی طرح غذا میں کیلشیم اور فاسفورس کی کمی کو پورا کرنے کیلۓ اگر ہم سو سو گرام منرل مکسچر اور DCP ٹی ایم آر میں شامل کریں اور پانچ پانچ گرام ٹاکسن بائینڈر اور Yeast شامل کریں تو ان کی قیمت تقریباً (50+10+5+5) 70 روپے بنتی ہے.
تو ٹوٹل خرچ ایک دن کا ہوا تقریباً 1056 روپے
ونڈہ = 520
توڑی = 76.5
چارہ = 161.25
سائیلج = 228
منرلز ڈی سی پی وغیرہ = 70
ٹوٹل (520 + 76.5 + 161.25 + 228 + 70) 1055.75 روپے
Be the first to know and let us send you an email when Vet Dr. Noman Bashir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.