24/06/2022
فالج ایک طویل مدتی مرض ہے،جس میں انسان معذور ہو کررہ جاتاہے۔یہ دنیا میں تیسرا ایسا مرض ہے ،جس سے سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔فالج میں دماغ کی طرف خون کی روانی رک جاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دماغ کو خون اور اوکسیجن کی فراہمی بند ہو جاتی ہے اور خلیے(سیلز)مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔اس کے علاوہ ہائی بلڈ پریشر میں جب دماغ کی رگیں پھٹ جاتی ہیں تو دماغ میں خون کے لو تھڑے جمع ہو جاتے ہیں اور خون کی روانی بند ہو جاتی ہے،جس کے نتیجے میں جسم کا نصف حصہ یا پورا جسم مفلوج ہو جاتاہے۔
جسم کمزور ہوجاتا ہے اور دیکھنے،سننے اور بولنے کی صلاحیت متاثر ہو تی ہے۔اب ایسا علاج دریافت ہو چکا ہے،جس سے دماغ کو پہنچنے والا نقصان کم کیا جا سکتاہے۔
فالج کی دو قسمیں ہیں ،پہلی کو کمی خون والا فالج(ISCHEMIC STROKE) کہتے ہیں،جس میں کسی رگ میں خون کا لوتھڑا آجاتا ہے اور دماغ کی طرف خون نہیں پہنچ پاتا،جس سے دماغ کو اوکسیجن بھی نہیں مل پاتی،لہٰذا دماغ کے اس حصے کی کا ر کردگی بند ہو جاتی ہے۔
تقریباً7فیصد افراد کو کمی خون والا فالج ہوتا ہے۔فالج کی دوسری قسم کو جریان خون والا فالج(HEMORRHAGIC STROKE)کہتے ہیں۔اس میں ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے دماغ کی کوئی رگ پھٹ جاتی ہے تو خون دماغ میں جمع ہو جاتاہے۔
ایک فالج کم دورانیے کا بھی ہوتا ہے ،جسے چھوٹے حملے والا فالج(TRANSIENT ISCHEMIC ATTACK)کہتے ہیں۔اس کا دورانیہ15منٹ سے لے کر دو گھنٹے تک ہوتا ہے ۔
اس کے بعد یہ خود بخود ختم ہو جاتا ہے،لیکن اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،کیونکہ یہ فالج ہونے کی علامت ہے۔اس کا باقاعدہ علاج کرانا چاہیے،اس لیے کہ فالج ہونے کے خدشات پھر بڑھ جاتے ہیں۔کم دورانیے کے فالج میں جسم کا کوئی حصہ کمزور یا سُن ہو جاتا ہے اور بولنے میں دقت ہوتی ہے۔
فالج ہونے کی بہت سی وجوہ ہیں ،جن میں سے کچھ پر ہمارا اختیار نہیں ہے،مثلاً جنیاتی عوامل ،جنس اور عمررسیدگی۔
عمر جیسے جیسے بڑھتی ہے ،فالج ہونے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔فالج موروثی مرض ہے۔خاندان میں کسی بڑے کو ہوتو بچوں کو بھی ہو سکتا ہے۔بہت سی وجوہ ایسی بھی ہیں،جن پر قابو پانا ہمارے اختیار میں ہے،مثلاً کولیسٹرول ،بلڈ پریشر ،ذیابیطس ،تمباکونوشی اور دل کی ناہموار دھڑکنیں وغیرہ ۔
اگر دل ٹھیک طریقے سے خون کو پمپ نہیں کرتا تو وہ رگوں میں جمنے لگتا ہے۔
پھر جمے ہوئے لوتھڑے رگوں کے ذریعے دماغ میں پہنچ جاتے ہیں اور خون کی آمد ورفت کو بند کر دیتے ہیں ۔ترقی یافتہ ملکوں میں عام طور پر 60برس کی عمر کے بعد فالج ہو سکتا ہے،لیکن ترقی پذیر ملکوں میں یہ 40اور50برس کی عمر میں بھی ہو سکتا ہے۔
ہمارے ملک میں بھی یہ عمر کے اسی حصے میں لا حق ہو سکتا ہے،کیونکہ ہمارے ہاں بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے علاوہ کئی دوسری بیماریاں عام ہیں اور بازار کے تیار شدہ کھانے کھانے کا رواج بہت بڑھ چکا ہے۔
خواتین میں ہارمونوں کی تبدیلی زیادہ عمل میں آتی ہے،لہٰذا ان میں فالج ہونے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک خاتون اور ہر چھے میں سے ایک مرد فالج میں مبتلا ہوتا ہے۔خواتین کو یہ مرض عموماً 75برس کی عمرکے بعد ہوتاہے۔
فالج کا مرض اچانک حملہ آور ہوتا ہے۔کچھ دکھائی نہیں دیتا،سر میں شدید درد ہوتاہے۔جب دکھائی دیتا ہے تو ایک کے دو نظر آتے ہیں۔
قے یا متلی ہونے کے بعد جسم کاا یک حصہ کمزور ہو جاتا ہے۔علامات ظاہر ہونے پر مرض کو جانچنے کے لیے ایف،اے ،ایس ،ٹی( FACE,ARM,SPEECH AND TIME)کے اصول کے تحت کام کیا جاتا ہے۔اس کامطلب یہ ہے کہ اگر چہرہ(FACE)ایک طرف سے ٹیڑھا ہو جائے ،اگر بازوؤں(ARMS)کو کاندھوں تک لائیں اور ان میں سے ایک ڈھلک کر نیچے گر جائے اور بولنے(SPEECH)پر الفاظ سمجھ میں نہ آئیں تو وقت (TIME)ضائع کیے بغیر معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔
جب مریض کسی معالج کے پاس جاتا ہے تووہ سب سے پہلے اس کا بلڈ پریشر اور خون میں شکر کی سطح کو چیک کرتا ہے ۔پھر سی ٹی اسکین(C.T.SCAN)کیا جاتا ہے اور سب سے آخر میں دماغ کا ایم آر آئی(MRI)کیا جاتاہے،جس سے فالج کی تصدیق ہو جاتی ہے۔بعض اوقات گردن کی رگوں کا الٹراساؤنڈ بھی کیا جاتاہے۔ان سارے ٹیسٹوں کا جائزہ لینے کے بعد معالج کسی نتیجے پر پہنچ جاتا اور علاج شروع کر دیتاہے۔
علاج کے ساتھ ورزش بھی بہت ضروری ہے۔اس سے جسم کے اصل حالت پر لوٹنے میں آسانی رہتی ہے اور مریض کی حالت دن بہ دن بہتر ہوتی جاتی ہے۔مرض پیچیدگی اختیار نہیں کر پاتا،مثلاً اگر بازو کمزور ہوں تو ان کی ورزش نہ کرنے سے وہ اکڑ جاتے ہیں۔بعض افراد کی مٹھیاں بھنچ جاتی ہیں ،جو ورزش کرنے سے ہی کھلتی ہیں۔
اپنے کولیسٹرول اور بلڈ پریشر پر خاص طور پر نظر رکھیں اور اسے پابندی سے چیک کرکے اس کے بارے میں معالج کو آگاہ کرتے رہیں ۔