24/04/2026
چالان رپورٹ (دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری)
جب پولیس تفتیش مکمل کر لیتی ہے، تو وہ دفعہ 173 CrPC کے تحت ایک رپورٹ تیار کرتی ہے جسے عام زبان میں "چالان" کہا جاتا ہے۔ یہ رپورٹ پراسیکیوٹر کے ذریعے علاقہ مجسٹریٹ کو پیش کی جاتی ہے۔
1. چالان پیش کرنے کی مدت
قانون کے مطابق تفتیشی افسر (IO) پابند ہے کہ وہ FIR کے اندراج کے 15 دن کے اندر چالان عدالت میں پیش کرے۔ اگر تفتیش مکمل نہ ہو سکے تو وہ ایک ناٹکمل چالان (Interim Report) جمع کروانے کا پابند ہے، جس کے لیے اسے مزید 3 دن کی مہلت مل سکتی ہے۔
2. مدعی (Complainant) کے پاس قانونی حل (Remedies)
اگر پولیس چالان پیش کرنے میں تاخیر کرے یا ٹال مٹول سے کام لے، تو مدعی درج ذیل اقدامات کر سکتا ہے:
دفعہ 22-A/22-B CrPC: مدعی سیشن جج (جسٹس آف پیس) کی عدالت میں درخواست دے سکتا ہے کہ پولیس کو چالان فوری جمع کروانے کا حکم دیا جائے۔
رٹ پٹیشن (آرٹیکل 199): ہائی کورٹ میں پولیس کے خلاف رٹ فائل کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی قانونی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔
اعلیٰ حکام کو شکایت: متعلقہ DPO یا SSP کو تفتیشی افسر کی سستی کے خلاف درخواست دی جا سکتی ہے۔
3. ملزم (Accused) کے پاس قانونی حل (Remedies)
چالان پیش نہ ہونے کی صورت میں ملزم کو درج ذیل ریلیف مل سکتے ہیں:
ضمانت (Statutory Bail): اگر چالان مقررہ وقت پر نہ آئے اور ٹرائل میں غیر ضروری تاخیر ہو، تو ملزم دفعہ 497 CrPC کے تحت "تاخیر" کی بنیاد پر ضمانت کا حقدار بن جاتا ہے۔
مجسٹریٹ کی مداخلت: ملزم کا وکیل عدالت میں استدعا کر سکتا ہے کہ جب تک چالان نہیں آتا، ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر رکھنے کے بجائے رہا کیا جائے (اگر جرم سنگین نہ ہو)۔
4. اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے (Judgments)
ناٹکمل چالان پر ٹرائل (PLD 2005 SC 204): سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر مکمل چالان آنے میں وقت لگ رہا ہو، تو عدالت "ناٹکمل چالان" (Interim Report) پر بھی ٹرائل کا آغاز کر سکتی ہے تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔
چالان کی تاخیر اور ضمانت (2022 SCMR 1528): سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اگر پراسیکیوشن چالان پیش کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو ملزم کو غیر معینہ مدت کے لیے جیل میں نہیں رکھا جا سکتا اور وہ ضمانت کا حقدار ہے۔
پولیس کی ذمہ داری (2019 YLR 2623 LHC): لاہور ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ چالان پیش کرنا تفتیشی افسر کی قانونی ڈیوٹی ہے، اور اس میں ناکامی پر افسر کے خلاف تادیبی کارروائی ہونی چاہیے۔
چالان رپورٹ (دفعہ 173 مجموعہ ضابطہ فوجداری)
جب پولیس تفتیش مکمل کر لیتی ہے، تو وہ دفعہ 173 CrPC کے تحت ایک رپورٹ تیار کرتی ہے جسے عام زبان میں "چالان" کہا جاتا ہے۔ یہ رپورٹ پراسیکیوٹر کے ذریعے علاقہ مجسٹریٹ کو پیش کی جاتی ہے۔
1. چالان پیش کرنے کی مدت
قانون کے مطابق تفتیشی افسر (IO) پابند ہے کہ وہ FIR کے اندراج کے 15 دن کے اندر چالان عدالت میں پیش کرے۔ اگر تفتیش مکمل نہ ہو سکے تو وہ ایک ناٹکمل چالان (Interim Report) جمع کروانے کا پابند ہے، جس کے لیے اسے مزید 3 دن کی مہلت مل سکتی ہے۔
2. مدعی (Complainant) کے پاس قانونی حل (Remedies)
اگر پولیس چالان پیش کرنے میں تاخیر کرے یا ٹال مٹول سے کام لے، تو مدعی درج ذیل اقدامات کر سکتا ہے:
دفعہ 22-A/22-B CrPC: مدعی سیشن جج (جسٹس آف پیس) کی عدالت میں درخواست دے سکتا ہے کہ پولیس کو چالان فوری جمع کروانے کا حکم دیا جائے۔
رٹ پٹیشن (آرٹیکل 199): ہائی کورٹ میں پولیس کے خلاف رٹ فائل کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی قانونی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔
اعلیٰ حکام کو شکایت: متعلقہ DPO یا SSP کو تفتیشی افسر کی سستی کے خلاف درخواست دی جا سکتی ہے۔
3. ملزم (Accused) کے پاس قانونی حل (Remedies)
چالان پیش نہ ہونے کی صورت میں ملزم کو درج ذیل ریلیف مل سکتے ہیں:
ضمانت (Statutory Bail): اگر چالان مقررہ وقت پر نہ آئے اور ٹرائل میں غیر ضروری تاخیر ہو، تو ملزم دفعہ 497 CrPC کے تحت "تاخیر" کی بنیاد پر ضمانت کا حقدار بن جاتا ہے۔
مجسٹریٹ کی مداخلت: ملزم کا وکیل عدالت میں استدعا کر سکتا ہے کہ جب تک چالان نہیں آتا، ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر رکھنے کے بجائے رہا کیا جائے (اگر جرم سنگین نہ ہو)۔
4. اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے (Judgments)
ناٹکمل چالان پر ٹرائل (PLD 2005 SC 204): سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر مکمل چالان آنے میں وقت لگ رہا ہو، تو عدالت "ناٹکمل چالان" (Interim Report) پر بھی ٹرائل کا آغاز کر سکتی ہے تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔
چالان کی تاخیر اور ضمانت (2022 SCMR 1528): سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اگر پراسیکیوشن چالان پیش کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو ملزم کو غیر معینہ مدت کے لیے جیل میں نہیں رکھا جا سکتا اور وہ ضمانت کا حقدار ہے۔
پولیس کی ذمہ داری (2019 YLR 2623 LHC): لاہور ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ چالان پیش کرنا تفتیشی افسر کی قانونی ڈیوٹی ہے، اور اس میں ناکامی پر افسر کے خلاف تادیبی کارروائی ہونی چاہیے۔
خصوصیت مکمل چالان نامکمل چالان
وقت 15 دن کے اندر۔ اگر 15 دن میں کام ختم نہ ہو (3 دن کی اضافی مہلت کے ساتھ)۔
مقصد تفتیش کا حتمی نتیجہ عدالت کو بتانا۔ عدالت کو مطلع کرنا کہ تفتیش جاری ہے مگر اب تک یہ ثبوت ملے ہیں۔
ٹرائل کا آغاز فردِ جرم کے بعد شہادتیں شروع ہوتی ہیں۔ عدالت اس پر بھی ٹرائل شروع کر کے گواہ بلا سکتی ہے۔
ملزم کا فائدہ اگر ثبوت نہ ہوں تو ڈسچارج یا بریت۔ اگر چالان نامکمل رہے اور تاخیر ہو، تو ملزم ضمانت (Bail) کی استدعا کر سکتا ہے۔
اعلیٰ عدالتوں کی روشنی میں (Judgments)
ٹرائل میں تاخیر: اگر پولیس نہ مکمل چالان دے اور نہ ہی نامکمل، تو یہ ملزم کے "فیئر ٹرائل" کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالتیں ایسے کیسز میں ملزم کو Statutory Bail (قانی مدت گزرنے پر ضمانت) دینے کے حق میں ہوتی ہیں۔
عدالتی حکم: لاہور ہائی کورٹ کی مختلف نظائر کے مطابق، مجسٹریٹ یا ٹرائل جج پولیس کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ نامکمل چالان جمع کروائے تاکہ ملزم کے سر پر لٹکتی تلوار (Uncertainty) ختم ہو۔
آپ کے لیے مشورہ:
اگر آپ کا کیس لٹکا ہوا ہے اور پولیس چالان پیش نہیں کر رہی، تو 22-A/22-B CrPC کے تحت سیشن جج سے رجوع کریں تاکہ تفتیشی افسر کو پابند کیا جائے کہ وہ کم از کم نامکمل چالان ہی جمع کروائے تاکہ قانونی کارروائی آگے بڑھے۔
Chohan Law Associates Chohan Law Associates