SehatAbad

SehatAbad

Comments

https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSeQvRRuKpIjL5xMmvd9jFHLsL27ZkvZhiess-okVr4jQF8uqg/viewform?usp=sf_link
I m doing research on university students kindly participate in survey it will jst take 5 minutes

Doctor,Occasional Writer, Philanthropist

Operating as usual

Photos from SehatAbad's post 22/04/2022

11 اپریل کی رات ایک گروہ میرے کلینک میں داخل ہوتا ہے اور میڈیکولیگل کیس وصول نہ کرنے اور سرکاری ہسپتال ریفر کیے جانے پر گالم گلوچ اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا ہے جس کی رپورٹ متعلقہ تھانے میں کی گئ لیکن معاملے کو دبانے اور صُلح صفائ کی کوشش کی جاتی رہی جب کہ دوسری طرف دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا اور 16 اپریل کو پھر سے اسی طرح اُن کے والد کی طرف سے حرکت دُھرائ گئ جس پہ سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا اور ڈی ایس پی سٹی نے خود اِس معاملے کی انکوائری کی۔آج مورخہ 22 اپریل ڈہوک حسو کی سماجی وسیاسی شخصیات راجہ طارق کیانی اور نیاز محمد صاحب کی شخصی ضمانت پر صرف اسلیے مشروط معافی دے دی گئ کہ میں خود بھی ایک ادنیٰ سا سماجی کارکن ہوں اور ہمارا کام لوگوں کی بھلائ ہے اور اِس بھلائ کے چکر میں بہت سارے جاہل ان پڑھ لوگ شرافت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی حدود پار کر بیٹھتے ہیں۔ شریف بندہ صرف اسلیے خاموش ہوجاتا ہے کہ ہمارے ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قانون سکھانے کے لیے اُن کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے اور یہ وہی بندہ کر سکتا ہے جسے قانون کا علم ہوتا ہے ورنہ جس کا اس سے تعلق ہی نہیں ہوتا وہ بیچارا خاموش ہو کہ بیٹھ جاتا ہے اور اس طرح کے لوگ شیر بن جاتے ہیں کہ کوئ پوچھنے والا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں بہت سے ینگ ڈاکٹرز خاص طور پر خواتین ڈاکٹرز Independent Practiceسے کتراتے ہیں لیکن غلط بات کبھی برداشت نہیں کرنی چاہیے چاہے اس کے لیے کسی بھی ادارے کا دروازہ نہ کھٹکھٹانا پڑے۔۔۔

13/04/2022

Mob Attack at my Clinic

Do they deserve any forgiveness?
Yesterday A mob attacked my clinic while we refused to receive Medico legal case as it could only be done under the cover of police. These illiterate black sheeps seriously need a lesson for life.


Rawalpindi Police
Deputy Commissioner Rawalpindi
Punjab Healthcare Commission - PHC
VOICE of YOUNG doctors of pakistan
YOUNG DOCTORS ASSOCIATION PUNJAB (Media Cell)
YDA Punjab Official
YDA Rawalpindi (Official)

17/01/2022

Free Medical Camp 16-01-2022

Another Free Medical Camp by Team Sehaatabad at The Brook Field Schools System,Dhoke Hassu,Rawalpindi
Thanks to our Parents,Our Teachers,our Staff and all the participating Doctors for such a successful camp.

17/12/2021

Free Medical Camp

MashaaAllah Today another free Medical Camp was organized by team Sehatabad.
اللہ ہماری اس کاوش کو قبول کرے اوراس کے اجر میں میرے اور میری ٹیم کے ماں باپ،عزیزواقارب ہمارے اساتذہ کرام کو صحت والی لمبی زندگی اور تمام بیماروں کو شفایابی عطا فرمائے۔ آمین

20/09/2021

مورخہ 21ستمبر 2021 سے صحت آباد سنٹر کے اوقات کار مندرجہ ذیل ہونگے

صبح: 10تا2بجے
شام: 5 تا 10بجے

19/09/2021
21/07/2021
Photos from SehatAbad's post 10/07/2021

Photos from SehatAbad's post

03/07/2021

Once again tribute to unsung heroes🙏

Once again tribute to unsung heroes🙏

02/07/2021
01/07/2021

نوٹنکی مریضہ پھر سے بیمار

نوٹنکی مریضہ پھر سے بیمار

16/06/2021

Dr Sheharyar Clinic آپ کے علاقے ڈھوک حسو میں بین الاقوامی تعلیم یافتہ نوجوان ڈاکٹرز۔۔ڈاکٹر شہریار چوہدری۔۔M.B.B.S،R,M,P ڈاکٹر ذوہیب چوہدری فارماسسٹ کا

Dr Sheharyar Clinic
آپ کے علاقے ڈھوک حسو میں بین الاقوامی تعلیم یافتہ
نوجوان ڈاکٹرز
ڈاکٹر شہریار چوہدری۔۔(M.B.B.S،R,M,P)
ڈاکٹر ذوہیب چوہدری (Pharmacist)
کان،ناک گلے کے امراض،گردہ مثانہ،پیٹ کے امراض،سینہ کے امراض،بچوں کے امراض،شوگر بلڈ پریشر،الرجی،پٹھوں اور جوڑوں کا درد سمیت ہر طرح کا علاج کیا جاتا ہے ۔۔
Contact No.03165846406
پتہ : سابقہ کلینک ڈاکٹر فضل محمود(مرحوم)
گلی نمبر 11،علامہ اقبال کالونی،بالمقابل عُمر ہوزری،نزد جامعہ مسجدِ قُباء،ڈھوک حسو،راولپنڈی

09/06/2021

گرمی کی شدید لہر کا آغاز ہو چُکا ہے۔ برائے مہربانی ہیٹ سٹروک سے بچنے کے لیے کم سے کم دھوپ میں نکلیں۔پانی کا استعمال زیادہ کریں اور ہر وقت اپنے ساتھ پانی کی بوتل رکھیں۔ پیٹ بھر کر کھانا مت کھائیں بلکہ تھوڑا تھوڑا مُختلف اوقات میں کھاتے رہیں۔گوشت ،چاول، مِرچ مصالحہ جات اور روغنی غذاؤں سے اجتناب کریں۔مشروبات کا استعمال زیادہ کریں. سکول جانے والے بچوں کا خاص خیال رکھیں،گرمی کی شدت اور ماسک کا ہر وقت استعمال جسم کے درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے اسلیے جہاں ضرورت ہو صرف وہاں ماسک کا استعمال کریں۔ اور حکومتی اداروں سے بھی درخواست ہے کہ معیشت کا پہیہ اور غریب کے گھر کے چولہے کا خیال کرتے ہوئے کاروبار کے لیے شام کے اوقات میں اضافہ کیا جائے تا کہ لوگ درجہ حرارت میں کمی ہونے پر ضروری اشیاء کی خریداری کر سکیں اور غریب کا روزگار بھی مُتاثر نا ہو۔ طبیعت میں کسی بھی قسم کی ناسازی کی صورت میں اپنے معالج سے ضرور رُجوع کریں۔
ڈاکٹر شہریار احمد

17/04/2021

صحت آباد سنٹر کے اوقات برائے رمضان:
رات 7:30 تا 11:30 بجے

31/03/2021

ڈھوک حسو کے لوگوں کے نام میرا اہم پیغام

ڈھوک حسو کے لوگوں کے نام میرا اہم پیغام

Photos from SehatAbad's post 28/02/2021

28-02-2021.
MashaaAllah another Free Medical Camp at "Sehatabad Center"

25/02/2021

Self Planned Community Healthcare Projects 🙂

25/02/2021

انشاءاللہ ڈھوک حسو کے سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے لیے بہت جلد پراجیکٹ "صحت آباد" کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔ مزید معلومات جلد ہی شیئر کی جائیں گی۔ دوستوں سے تعاون کی درخواست ہے۔

10/02/2021

ذرا سوچیئے

09/01/2021

ایسے موضوعات سے گھبرانے کی بجائے اپنی بیٹیوں کو یہ پروگرام دکھایئے

افسوس صد افسوس

04/01/2021

Sexual Harassment and Section 509 of Pakistan Penal Code*

* پاکستان میں خواتین کو ہراساں کرنے کی سزا 3 سال قید بامشقت یا 5 لاکھ جُرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں*

پاکستان میں قوانین تو ہر چیز کے لیے موجود ہیں لیکن نہ تو کبھی ہمارے اداروں نے مکمل نفاذ کی کوشش کی اور نہ ہی ایک عام آدمی جانتا کہ کونسا قانون کب اور کس جگہ پر استعمال ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں ہر دوسری لڑکی ہراسگی کا شکار ہوتی ہے۔کوئ پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتے ہوئے ڈرائیور اور ساتھ بیٹھے نامردوں کی غلیظ نظروں سے تو کوئ دفتر میں اپنے باس یا ساتھی ورکرز سے، کوئ کسی استاد سے سرٹیفیکییٹ یا ڈگری کی خاطر ہراساں ہوتی ہے تو کوئ اپنی حلال کمائ کے حصول کی خاطر ادارے کے سرپرست سے۔ کوئ قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ٹھرکی بابوں سے تو کوئ بہتے ناک لیے سکول کے بچوں سے۔ جہاں جہاں مرد کے پاس طاقت ہوتی ہے وہاں وہاں عورت کی عزت ضرور پامال ہوتی ہے پھر وہ چاہے ایک استاد اور شاگرد کا معاملہ ہو، باس اور ورکر کا معاملہ ہو، ڈاکٹر اور مریض کا معاملہ ہو،سرکاری افسر اور اُس کے سائل کا معاملہ ہو عورت کو ہمیشہ اپنے حق کے حصول کے لیے گندی نظروں اور گندے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ ایک عورت کا اِس غلیظ مُعاشرے میں رہنا کِس قدر مُشکل کام ہے کہ جہاں اُسے سڑک پر چلتے ہوئے بھی ذہنی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے،ایک مرد بھی اگر ایک ہجوم کے پاس سے گُزر رہا ہو اور سب اُسے دیکھنے لگیں تو اُسے بڑا عجیب لگتا ہے لیکن یہ چیزیں ایک عورت کے لیے روزمرہ کا معمول ہیں۔
کہنے کو تو قانون موجود ہے لیکن مُعاشرتی بے حِسی کی انتہا یہ ہے کہ آدھی سے زیادہ عوام اُس وقت عورت کو قصور وار قرار دیتی اور تھانے کچہریوں میں بھی جب وہ انصاف کے لیے پہنچتی تو وہاں کی اکثریت بھی کسی وحشی جانور سے کم نہیں ہوتی۔ میری ایک مریضہ کے بقول وہ نفسیاتی بیماری کا شکار ہونے کے بعد جب جب توڑ پھوڑ کرتی تھی پولیس اُسے پکڑ کے لے جاتی تھی اور اُس کے ساتھ زیادتی کی جاتی تھی اور آج یہی وجہ تھی کہ وہ مُجھے رو رو کہ بتا رہی تھی کہ
My actual name was Monika(Now Jannat Ali),I was Born in Dubai,shifted to Pakistan with family,earlier Christian by religion,later i changed my religion and accepted Islam but my family boycotted me and i was homeless, I went to the shrines,stayed there for a shelter but people used to think I am a bad lady so everyday a lot of visitors used to offer me some money to fulfil their desires and some did forcefully, I was tortured many times which turned me to hate this country,hate Muslims and use to abuse the Muslims that how bad they are and then Police will arrest me for disrespecting the religion and then they will rape me and the next morning thrown to the roads again.
بُرا بھی لگ رہا تھا کہ میرے مذہب کے بارے میں اُس کے یہ تاثرات تھے کہ اُس کے ساتھ جو ہوا اُس نے سب کو ایک صف میں لا کھڑا کیا لیکن ندامت سے آنکھیں بھی نہیں ملا پا رہا تھا کہ وہ جو بتا رہی تھی اُس میں کوئ شک بھی تو نہیں تھا کہ ہم نے کیسے کیسے اپنے مذاہب کی تذلیل کی ہوئ ہے ۔ یہ سب تو ہم میں سے ہر ایک کو نظر آتا ہر ایک روز اس کا سامنا کرتا لیکن ہم تب تک خاموش رہتے جب تک یہ سب ہمارے گھر کی کسی عورت کے ساتھ نہیں ہوجاتا۔ اِس معاشرے میں ایک عورت کا اکیلے سفر کرنا،اکیلے رہائش رکھنا اِس قدر مُشکل ہے کہ جیسے جہنم میں رہ رہی ہو۔ اُس عورت کو یہ سب کہنے پہ مجبور بھی میرے یا آپ جیسے کسی شخص نے ہی کیا ہونا جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر کسی کی جان لینے سے بھی گُریز نہیں کرتا ہوگا لیکن ساتھ میں اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے اُسی مذہب کی تذلیل کرنے سے بھی گُریز نہیں کرتا ہوگا۔ بات بہت سادہ سی ہے کہ اِس کا مذہب سے تو کوئ لینا دینا نہیں ہاں البتہ آپ کی حرام حرکات یہ ضرور ثابت کرتی ہیں کہ آپ کی پرورش میں کمی رہ گئ تھی جس نے آپ کو انسان کہلانے کے قابل نہیں چھوڑا مسلمان تو بعد کی بات ہے۔
مختصراً یہ کہ میں شروع سے عورت کی خود مُختاری کے حق میں ہوں کہ جِس میں اُسے ایک شخص کی طرف سے کی گئ زیادتی کسی دوسرے شخص کو بتاتے ہوئے شرمندگی محسوس نہ ہو کہ جیسے اُس سے کوئ جُرم سرزد ہوگیا ہو، اُسے اُس تکلیف کو اپنی ذندگی کا حصہ بنانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔یا اُسے اپنے ہی حق کے حصول کے لیے زیادتی کا نشانہ نہ بننا پڑے۔ ایک عورت کو اتنا خود مُختار ہونا چاہیے کہ غلط ارادے سے اُٹھنے والا ہاتھ کاٹ پھینکے اور قانونی کاروائ کرتے ہوئے کسی باپ بھائ کی عزت میں کمی کا خیال ذہن میں نہ لائے کیونکہ یہی خیال ایک عورت کو کمزور اور بُزدل بناتا ہے کہ اگر اُس نے اپنے حق کے لیے آواز اُٹھائ تو لوگ اُس کے باپ بھائ پہ اُنگلیاں اُٹھائیں گے اور وہ ظُلم برداشت کرتی رہتی ہے اور ظالم مزید وحشی ہوتا رہتا ہے اور پھر ایک اور Monikaجنم لیتی ہے اور وہ پھر ایک مرد کو بھی گالیاں دیتی ہے اور ایک مذہب کو بھی اور پھر اُسے مرد اور مذہب کی توہین کی سزا سُنا کہ یہ مُعاشرہ اپنا فرض پورا کردیتا ہے اور یہ کہانی چلتی رہتی ہے جِس پر ہم سب بے حِسی کی چادر اوڑھے سوئے رہتے ہیں اور پھر درندے اِس قدر وحشی ہوجاتے ہیں کہ دو دو سال کی بچیوں کو بھی نہیں چھوڑتے. حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ Mental Health Ordinance and Harassment act کو فی الفور لاگو کر کے متعلقہ تھانوں میں اِس بات کو یقینی بنائے کہ وہاں کسی مجبور اور مظلوم کو جاتے ہوئے اپنی عزت کی مزید پامالی کا ڈر نہ ہو۔
بقلم ڈاکٹر شہریار احمد
Note: Actual Names of the Patient are Replaced.

03/01/2021

قبرستانوں میں مرے ہوئے لوگوں کے تقدس کی خاطر احتیاط سے چلنے والے لوگ زندہ لوگوں کو پاؤوں تلے ایسے کُچلتے ہیں کہ جیسے اُن کا اور کُچلے جانے والے کا رب کوئ اور ہو۔

01/01/2021

فردوس عاشق اعوان ریسکیو بائیک پر بیٹھتی ہے پیچھے سے 8 بندے سہارا دے رہے ہوتے ہیں اور 20 چینلز پہ خبر بریک ہوتی ہے کہ فردوس عاشق اعوان نے بائیک چلا کہ بتا دیا کہ خواتین کسی سے کم نہیں اور ایک غریب کا بچہ سڑک پر پڑا مر گیا لیکن دُھند نے حدِ نگاہ صفر میٹر رکھی۔ صحیح پُھدو لگایا ہوا ہے ایک دوسرے کو ہم لوگوں نے۔مُجھے لگتا ہے قیامت گُزر چُکی ہے اور ہم جہنم میں رہ رہے ہیں اور ایک دوسرے کے گھٹیا پن کو عذاب کی صورت جھیل رہے ہیں۔

Photos from SehatAbad's post 29/12/2020

Licensing Pathways for the International Graduates. Those who have already Passed NEB 3 steps don't need any kind of Exam to get their Permanent License.

23/12/2020

A Doctor in Court
آپ بیتی

3ماہ پہلے ایمرجنسی میں ڈیوٹی کے دوران پیش آنے والے واقعے پر عدالت جانے کا اتفاق ہوا۔ مُلزمان کو تو میں پہلے ہی مُعاف کر چُکا تھا لیکن عدالتی کاروائ ضروری تھی تو اسلیے جانا پڑا۔ کالے اور سفید کوٹ میں چُھپے کُچھ بھیڑیوں کی وجہ سے عموماً اختلافات سامنے آنے کی وجہ سے میرے زہن میں بھی کُچھ مِلا جُلا سا تاثر تھا لیکن آج جو ہوا اُس سب کے بعد یہی کہوں گا کہ انسان کا اخلاق اور اچھا رویہ معاشرے کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا زندہ رہنے کے لیے سانس لینا۔ 10بجے کے لگ بھگ مُخالف پارٹی کے ایک بندے کی کال آتی ہے کہ آپ عدالت آکر اپنا بیان ریکارڈ کروادیں جب کہ میں اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا۔ غالباً سردیوں کی چُھٹیوں پر جانے والے جج صاحب میرا کیس سُننے کے بعد گھر جانے کے لیے تیار بیٹھے تھے لیکن میں بتا چُکا تھا کہ جب تک میرے کمرے کا باہر مریض موجود ہونگے میں اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر نہیں جاسکتا اور مُخالف پارٹی جو کراچی سے پیشی پر آئ تھی اُسے یہ ڈر تھا کہ ابھی بھی اگر اُن کی جان نہ چُھٹی تو چُھٹیوں کے بعد اُنہیں دوبارہ آنا پڑے گا. اُن کے وکیل نے جیسے ہی جج کو بتایا کہ ڈیوٹی پر موجود ہونے کے باعث میری طرف سے تاخیر ہے تو جج نے وکیل کو پیغام دیا کہ وہ میرے فارغ ہونے تک کا انتظار کر سکتے ہیں کیونکہ میں بھی نہیں چاہتا تھا کہ پہلے سے معاف کردینے کے باوجود دوسری پارٹی کو دوبارہ آنا پڑے اور جج صاحب کی تاکید تھی کہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کو تنگ نہ کیا جائے. 2 بجے ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد عدالت پُہنچا،مُجھے تھا کہ ایک جج صرف میرا انتظار کر رہا ہے تو نجانے کیسا رویہ ہوگا میرے ساتھ لیکن جیسے ہی وہاں پُہنچا گیٹ پر موجود سیکورٹی گارڈ نے مُجھے یونیفارم میں موجود ہونے کے باعث سیلوٹ مارا، دِل باغ باغ ہوگیا کہ مُعاشرے کہ کُچھ لوگ اتنی قُربانیوں کے باوجود قصائ کہتے ہیں اور کُچھ صرف سفید کوٹ دیکھ کر سیلوٹ مارتے ہیں،آگے مُخالف پارٹی کے وکیل صاحب میرے انتظار میں کھڑے تھے عُمر میں شاید دوگنا ہونے کے باوجود اُنہیں اِس بات کی فِکر تھی کہ میں کھڑا نہ رہوں اور جہاں جہاں جاتا تھا وہ میرے آگے کُرسی لا کر رکھ دیتے تھے، ایک آفس بوائے سے لے کر سینئر وکلاء تک ہر بندہ بڑی خندہ پیشانی سے ملا اور جیسے ہی جج صاحب تشریف لائے آتے ساتھ اُن کے یہ الفاظ تھے "We are extremely sorry that you are troubled to come here, we highly respect you and sacrifices of doctors community but we needed to listen your stance before dismissing the Case"
میرا بیان لینےکے بعد جج صاحب نے فیصلہ سُنایا اور روانہ ہوگئے۔میری طرف سےکُچھ کاغذی کاروائ کے لیے مُخالف پارٹی کے وکیل خود بھاگ دوڑ کرتے رہے اسی دوران میرے ایک کالج کے کلاس فیلو اور بہترین دوست جو اب ماشاءاللہ ایک مایہ ناز وکیل ہیں وہیں پر موجود تھے، اُن سے ملاقات ہوگئ۔ مُخالف پارٹی کا وکیل اور میرا دوست وکیل آپس میں اُلجھنے لگے کہ میں اُن کا مہمان ہوں اسلیے کھانا اُن کے ساتھ کھائوں۔مُجھے بھوک نہیں تھی اسلیے دوست کے ساتھ چائے پینے پر اکتفا کیا اور دوسرے کے ساتھ وعدہ کیا گیا کہ ضرور کسی دِن اُن کی دعوت پر حاضر ہوں گا۔ یہ سب دِکھنے میں بہت ہی عام سا لگتا ہے لیکن ایک چیز ضرور واضح ہوگئ کہ اچھے بُرے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں جو انتشار پسند کرتے ہیں لیکن جو عزت مُجھے مِلی اُس نے مُجھے آج اتنا متاثر کیا کہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ انسان کا اخلاق اور رویہ ہی وہ چیز ہے کہ جو ایک وحشی جانور کو بھی سدھار سکتی ہے تو انسان تو ہوتا ہی پیار کا بھوکا ہے تو بجائے چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپس میں اختلافات رکھنے کے ایک دوسرے کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئیں اور آسانیاں پیدا کریں۔آٹے میں نمک جیسے کُچھ لوگوں کی وجہ سے جو غلط تاثر بنا ہوا ہے اُس کو ختم کرنے کے لیے میں عہد کرتا ہوں کہ آج کے بعد میں بھی اِس پیشے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ ایسے ہی پیش آؤں گا جیسے آج میرے ساتھ پیش آیا گیا اور اتنی ہی عزت سے پیش آؤں گا جتنی میری طرف سے علاج کی غرض سے آئے کسی بزرگ شہری،کِسی استاد یا کسی سیکورٹی فورسز کے عہدیدار کو دی جاتی ہے۔

بقلم ڈاکٹر شہریار احمد

20/12/2020

جہیز ایک لعنت ہے

ہسپتال میں ایک نئ بلڈنگ کی تعمیر ہورہی تھی۔ اپنے کام سےفارغ ہو کر وہاں قریب دھوپ میں بیٹھ گیا۔ ایک 65 سالہ مزدور چچا میرے لیے چائے لے آئے۔ چائے ویسے بھی پسند تھی اور اُن کے خلوص کی وجہ سے انکار بھی نہ ہوسکا۔مزدور چچا وہیں نیچے زمین پر بیٹھ کر چائے پینے لگے۔ باتوں باتوں میں اُن کے ہاتھوں پہ نظر پڑی تو سیمنٹ کا کام کر کر کے اُن کے ہاتھ بُری طرح چھلنی تھے۔ ازرائے ہمدردی اُنہیں کہا کہ آئیں آپ کو دوائ لگا دیتا ہوں ایسے تو آپ کے ہاتھ مزید خراب ہوجائیں گے تو وہ کُچھ دیر چُپ رہے اور پھر بہت ہی اُداس لہجے میں بولے کہ نہیں میرے ہاتھوں کو کُچھ نہیں ہوا ایک مزدور کے ہاتھ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ میرے اصرار کرنے پر وہ رونے لگے اور بتایا کہ انسان کی قسمت اُسے کیا کیا کرواتی ہے۔ گاڑیوں کا بزنس تھا اُنکا،بیٹا نشئ تھا،باپ کو پیارا تھا، سب لُٹا دیا اور ایک دِن نشے ہی کی وجہ سے اُس کی لاش کسی نالے سے ملی۔ گھر میں جو کُچھ تھا بیٹھا پہلے ہی اُجاڑ چُکا تھا۔ اپنی بیٹھک میں کریانے کی چھوٹی سی دوکان ڈالی جو چل نہ سکی۔بیٹی کا رشتہ بیٹے کی وجہ سے نہیں آتا تھا،بال سفید ہوگئے عمر 35 ہوگئ ایک رشتہ آیا ہی تو جہیز کی ڈیمانڈ اتنی تھی کہ ایک دفعہ تو کانپ گیا لیکن پھر سوچا کہ یہ رشتہ بھی چلا گیا تو بیٹی ایسے ہی خواب دیکھتے دیکھتے بوڑھی ہوجائے گی۔ اب مزدوری کرتا ہوں، سردی بھی نہیں لگتی،زخم بھی تکلیف نہیں دیتے۔کورونا کا بھی ڈر نہیں لگتا۔ ڈر صرف لگتا ہے کہ جب صبح 7 بجے سڑک پہ آکر بیٹھتا ہوں اور کوئ مزدوری کے لیے نہ لے کے جائے اور گھر خالی ہاتھ لوٹنا پڑے۔اُن کی باتوں میں اس قدر اُداسی تھی کہ میں بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ ایسے لالچی لوگوں پر لعنت بھیجنے کا سوا کُچھ کر بھی نہیں سکتا تھا۔ مزدور چچا سے وعدہ کیا کہ میں آپ کے گھر آؤں گا اور جو بھی مُجھ ناچیز سے ہوسکا میں ضرور مدد کروں گا اور مُجھے بہت خوشی ملے گی کے کسی کی بیٹی کسی کی بہن کی زندگی سنور سکے۔
لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں تھا، خود سے عہد کیا کہ میں اس چیز پہ آواز اُٹھاؤں اور اس لعنت کو ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کروں اور انشاءاللہ آج سے بھر پور ایک مہم شروع کر رہا ہوں اس قوم کو شرم دلانے کی جس کی شروعات میں خود اپنے آپ سے کروں گا۔ ایک باپ کے لیے زندگی کا مُشکل ترین کام اپنی بیٹی کو خود سے ہمیشہ کے لیے جُدا کرنا ہوتا ہے اور وہ اُس وقت بُری طرح ٹوٹ چُکا ہوتا ہے جو میں خود اپنے باپ کو اپنی بہنوں کی شادی پر اُس حالت میں دیکھ چُکا تھاتو یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ ایک باپ جو استطاعت رکھتا ہے وہ اپنی بیٹی کی آرام دہ زندگی کے لیے کوئ بندوبست اپنی مرضی سے کر رہا ہو لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک بندہ جو استطاعت بھی نہیں رکھتا اُسے آپ اُس تکلیف سے گُزارتے ہیں کہ وہ جیتے جی مر رہا ہوتا ہے۔جس بیڈ پہ آپ نے سونا ہے، جس صوفے پہ آپ نے بیٹھنا ہے جس واشنگ مشین میں آپ کے کپڑے دُھلنے ہیں تو وہ بوجھ لڑکی کے باپ پہ کیوں ڈالتے ہو۔ بڑی مونچھ میں مردانگی کا معیار رکھنے والوں کی اُس وقت مردانگی کہاں جاتی ہے جب وہ بیٹی بھی مانگتے ہیں اور ساتھ میں آسائش کا سامان بھی۔ خُدارا کسی پہ اتنا بوجھ نہ ڈالا کریں کہ اُسے اپنے بچوں کی خوشیوں کے لیے آرام کی عُمر میں بھی کام کرنا پڑے۔ اِس لعنت کو ختم کریں اور ایک دوسرے کی زندگیوں کو آسان بنائیں ورنہ یہ یاد رکھیں کہ زمانہ جس تیزی سے دوڑ رہا ہے کل کو آپ کے سامنے آپ کا آئینہ ہوگا اور آپ بے بس ہونگے
بقلم ڈاکٹر شہریار احمد

Videos (show all)

Mob Attack at my Clinic
Free Medical Camp 16-01-2022
Free Medical Camp
Once again tribute to unsung heroes🙏
نوٹنکی مریضہ پھر سے بیمار
Dr Sheharyar Clinic  آپ کے علاقے ڈھوک حسو میں بین الاقوامی تعلیم یافتہ  نوجوان ڈاکٹرز۔۔ڈاکٹر شہریار چوہدری۔۔M.B.B.S،R,M,...
ڈھوک حسو کے لوگوں کے نام میرا اہم پیغام

Location

Category

Telephone

Address


Sehatabad Medical Center,Chairman House,Dhoke Darzian Road,Dhoke Hassu
Rawalpindi
46000

Other Hospitals in Rawalpindi (show all)
REDO Foundation REDO Foundation
REDO Complex, Behind Naz Cinema, REDO Hospital Road
Rawalpindi

Eye Hospital, Dialysis Center, MCH Center, Laboratory Services

Dr Pirzada Wajid Hussain Shah Dr Pirzada Wajid Hussain Shah
Roots Pakistan
Rawalpindi, 46000

Former WTO Chief, Senior Scientist, Researcher, Consultant and Vet. Surgeon

AMIGOS HEALTH CITY AMIGOS HEALTH CITY
Amigos Tower, Main Adyala Road
Rawalpindi, 46000

DR. M ZAFAR IQBAL DR. M ZAFAR IQBAL
Rawalpindi

HOMOEOPATHIC IS A SAFE AND FREE OF SIDE EFFECTS IT'S TREAT IN FRIENDLY WAY AND CAN REMOVES STONES WITH OUT OPERATION IT'S TREAT GOUT GENRAL MUSCULAR AND MALE FEMALE 100% SUCESSFULLY. WE ARE LOOKING FORWARD TO GIVE PEOPLS POSSITIVE SERVICES.

Doctors international hospital Doctors international hospital
55-A Iran Road Opp. Arshi Masjid Satelite Town Rawalpindi
Rawalpindi

heart Specialist ,Medical Specialist, gynae, nephrology ,vascular surgery, paeds surgery, orthopedic surgery,

Fauji Foundation Hospital, Rawalpindi Fauji Foundation Hospital, Rawalpindi
Jehlum Road
Rawalpindi

The Mission of Fauji Foundation Hospital is to provide high quality, cost effective healthcare to the community through excellent clinical quality.

Baqai Dawakhana & Homoeo Clinic Baqai Dawakhana & Homoeo Clinic
Talwaran Bazar Rd, Talwaran Bazar,Rawalpindi 46000, Pakistan
Rawalpindi

Health

Al-Shifa Eye Bank Al-Shifa Eye Bank
Al-Shifa Trust Eye Hospital Near Ayub Park, Grand Trunk Rood, Rawalpindi
Rawalpindi, 46000

Established First Eye Bank of Pakistan of International Standards at Al-Shifa Trust Eye Hospital, Rawalpindi in collaboration with Ever Sight Eye Bank USA.

PhysioWorks by StayFit PhysioWorks by StayFit
Khidmat Medical Center, Service Road East, Near Islamabad Expressway, Ghouri Town VIP Block
Rawalpindi, 44000

We are determined to provide best possible treatment to all your Muscular and spinal problems with combined approach of chiropractic/Manipulative therapy, physical Therapy and Fitness Training all at one place...

Fatima hospital 22 No chungi. Fatima hospital 22 No chungi.
MAIN 22 NO CHUNGI CHOWK. NEAR TO CMH RAWALPINDI.
Rawalpindi, 42000

IT IS AN ART TO BE HEALTY. WE TREAT IN ALL CHRONIC DISEASES BY ADDRESSING THE ROOT CAUSE OF THE DISEASE. DEPARTMENTS . GYNEA,PEADS,ORTHO,RADIO,UROLOGY,ENT ETC

Howal Shafi Family Clinic Howal Shafi Family Clinic
Adyala Village
Rawalpindi

Howal Shafi Family Clinic delivers free healthcare services to the poor & underprivileged. Such households face discrimination in the society & are unable to provide quality & affordable healthcare to members of the family.