Anas Zia

I want To deliver my own thoughts to other who they want to change the mind and our society . I want

Operating as usual

31/05/2021

*جیون ساتھی کی تلاش میں کن باتوں کا خیال رکھا جائے؟*

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
‏السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ

*جیون ساتھی کی تلاش میں کن باتوں کا خیال رکھا جائے؟*
تمام والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی اپنے بچوں کو شادی کے بندھن میں بندھتا ہوا دیکھیں۔ اسی لیے جب ان کے بچے (خواہ وہ بیٹا ہو یا بیٹی) بالغ اور شادی لائق ہوجاتے ہیں تو بس پھر وہ اسی حوالے سے سوچتے رہتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں والدین اپنے بچوں کے جیون ساتھی کے انتخاب میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ والدین کے اپنے خواب، ان کی اپنی خواہشات اور تمنائیں ہوتی ہیں۔ اکثر اوقات تو وہ اپنے بیٹے یا اپنی بیٹی کے لیے آئیڈیل جیون ساتھی کا خاکہ بھی ذہن میں بنالیتے ہیں۔

اپنے بیٹے یا اپنی بیٹی کے لیے اچھے سے اچھے رشتوں کی تلاش کی خاطر وہ اپنی وساطت، روابط اور اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہیں، یہاں تک کہ میرج بیوروز کا رخ بھی کرتے ہیں۔ بچوں کی شادی سے متعلق درست انتخاب میں بہت زیادہ ہوم ورک، دُور اندیش سوچ، سماجی تعلقات اور تعلقاتِ عامہ کا عمل دخل شامل ہوتا ہے۔

چونکہ شادی کسی بھی شخص کی زندگی کا ایک سب سے اہم ترین موقع ہے اس لیے آخری فیصلہ لینے سے قبل سنجیدگی سے سوچ بچار کرنا بہت ضروری ہے۔ لیکن جب ان سارے مراحل سے گزر کر فیصلہ کیا جائے تو یہ ساری محنت وصول ہوجائے گی اور بدلے میں زندگی بھر کی خوشیاں مل جائیں گی۔

نصف صدی قبل زندگی کافی زیادہ سادہ تھی جس میں دکھاوا نہ ہونے کے برابر تھا۔ جب کسی کی اولاد بلوغت کی عمر کو پہنچتی اور ان میں ذمہ داری نبھانے اور اپنے معاملات خود سنبھالنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی تو خاندان والے اس کی شادی خود اپنے طور پر طے کردیتے تھے، جسے عام طور پر ارینج میرج کہا جاتا ہے۔

ارینج میرج میں دولہے اور دلہن کا انتخاب گھر کے بڑے کرتے ہیں، یہی اس دور میں ہوتا تھا۔ چند ایک جگہوں پر ہی لوگ اپنے جیون ساتھی کا انتخاب خود کیا کرتے تھے لیکن معاشرے میں عام رواج ارینج میرج کا ہی ہوا کرتا تھا۔

لیکن آج صورتحال بدل چکی ہے، اب لڑکے والے ہوں یا لڑکی والے، دونوں طرف کے مطالبات اور خواہشات کٹھن سے کٹھن ہوتی جارہی ہیں۔ بعض اوقات تو لڑکا اور لڑکی والوں کے درمیان ہونے والے ابتدائی روابط اور ابتدائی ملاقاتیں ان پر منفی چھاپ چھوڑ جاتی ہیں۔

حال ہی میں ایک خاندان اپنے بیٹے کے لیے جیون ساتھی کی تلاش میں تھا، انہوں نے کئی رشتے دیکھے لیکن انہیں ایک بھی لڑکی اپنے معیار پر اترتی ہوئی نہیں ملی۔ انہوں نے تمام رشتے جِلد کی رنگت، قد یا پھر عمر کے فرق و دیگر وجوہات کے باعث مسترد کردیے۔ اس کا بہت ہی بُرا تاثر پڑسکتا ہے، بالخصوص لڑکیوں پر۔ ماضی میں صرف بڑوں کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ فیصلہ کریں کہ ان کی اولاد کے مفاد میں کیا بہترین ہے لیکن آج کل صورتحال مختلف ہے۔

عام طور پر والدین چاہتے ہیں ان کا ہونے والا داماد اور بہو تعلیم یافتہ، اچھی آمدن والا/والی، خوبرو، پتلا/پتلی، سندیافتہ اور بہت سی ایسی کئی قابلیتوں اور خوبیوں کا/کی مالک ہو۔ چند والدین تو جہیز کی صورت میں زیورات، گاڑی، گھر یا ہوم اپلائنسز وغیرہ جیسے مادی سازو سامان کی شدید خواہش کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

لیکن یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مادی چیزیں زیادہ دن تک باقی نہیں رہتیں۔ اسی لیے مادی ساز و سامان کی مانگ کے بجائے آپ کو گہرائی میں اترنا چاہیے، یعنی دیگر شخصی خوبیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ یہ دیکھیے کہ وہ ایمان، اچھے اخلاق، افہام و تفہیم، عادات، تعلیم، صحت اور ہر قسم کے حالات میں صبر کے ساتھ خود کو ڈھالنے کی صلاحیت جیسے پیمانوں پر کتنا پورا اترتے ہیں، کیونکہ یہی وہ ساری خوبیاں ہیں جو ایک کامیاب شادی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

یہاں آکر آپ کو شادی سے متعلق اسلامی تعلیمات کا رخ ضرور کرنا چاہیے۔ اسلام کے نزدیک شادی ایک معاشرتی معاہدہ ہے جس میں 2 افراد اپنی مرضی سے زندگی بھر کی شراکت داری کے لیے رشتہ قائم کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی تجویز کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے شوہر اور بیوی کے طور پر زندگی ساتھ گزارنے کا خود سے عزم کرتے ہیں۔

ذمہ داریوں کو بانٹنے کے لیے باہمی عزم درکار ہوتا ہے۔ اسی لیے انہیں احترام، اعتماد اور اس پختہ یقین کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا چاہیے کہ وہ اپنے حصے کا معاہدہ ہر طرح سے پورا کریں گے۔

کسی ایک فریق کو بھی جلدبازی، زیادہ سوچ بچار کیے بغیر، غیر سنجیدگی کے ساتھ معاہدے کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ اس کے نتیجے میں آگے چل کر شادیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور پھر چند برسوں بعد وہ پچھتا رہے ہوتے ہیں کہ انہوں نے شادی ہی کیوں کی۔ اس طرح مایوسی کی فضا چھائے گی اور سماج میں دراڑیں پڑجائیں گی۔

شادی کو گاڑی کے 2 پہیوں سے تمثیل بھی دی جاسکتی ہے، یعنی اگر پہیوں کی سیدھ برابر ہوگی تو گاڑی بھی پُرسکون انداز میں آگے بڑھتی جائے گی۔ انہیں زندگی کے اس طویل سفر میں ایک دوسرے کا معاون اور سہارا بننا ضروری ہوتا ہے جو ہمیشہ پُرسکون و سہل نہیں ہوتا۔

اس سفر میں انہیں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے اور اتار چڑھاؤ بھی آسکتے ہیں لیکن دونوں پہیوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے مددگار بنے رہیں، مضبوطی سے جڑے رہیں اور ایک دوسرے پر انحصار کریں، تاکہ یہ سفر خوشیوں اور سکون سے بھرپور رہے۔ اس طرح کی شادیاں قابلِ رشک ثابت ہوتی ہیں اور قرآن مجید ہمیں یہ دعا مانگنے کی تلقین کرتا ہے کہ

’۔۔۔اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘ (سورت الفرقان، آیت 74)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ‘تم میں سے ہر ایک نگران بنایا گیا ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (قوم کا) رہنما (اس کا) نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ آدمی اپنے گھر کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔‘

چنانچہ درست ساتھی کی تلاش کا مطلب ہے کہ ایک ایسا ساتھی تلاش کیا جائے جو زندگی کے ہر مرحلے میں آخر تک مضبوط اور ساتھ دینے والا شریکِ حیات ثابت ہو۔

یہ زندگی بھر کی ایک شراکت داری ہے جس میں ایک دوسرے سے اس عزم کا اظہار کیا جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی ضروریات کی جانب بدستور ثابت قدمی، بھروسہ، معاون اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

31/05/2021

*دوستوں سے بچ کر رہیں*

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
‏السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
میں پچھلے کمرے میں بیٹھ گیا‘ درمیان میں شیشے کی دیوار تھی‘ میں دیوار کے پیچھے سے لوگوں کو دیکھ اور سن سکتا تھا‘ یہ میرے دوست کا دفتر تھا‘ وہ کسٹم انٹیلی جینس آفیسر تھا‘ میں ملنے کےلئے آیا تھا‘ اچانک اسے ایک ٹیلی فون آیا‘ اس نے مجھے پچھلے کمرے میں بٹھا دیا اور ملاقاتی کا انتظار کرنے لگا‘ میں بھی اشتیاق سے شیشے کے پار دیکھنے لگا‘ تھوڑی دیر بعد ایک سوٹڈ بوٹڈ نوجوان اندرداخل ہوا اور میرے دوست کے سامنے بیٹھ گیا‘ میں دونوں کو دیکھ بھی سکتا تھا اور سن بھی‘
نوجوان نے کوٹ کی جیب سے تین تصویریں نکالیں اور کسٹم انٹیلی جینس آفیسر کے سامنے رکھ دیں‘ یہ سفید رنگ کی جیپ کی تصویریں تھیں‘ نوجوان تصویر پر انگلی رکھ
کر بولا ”سر یہ سمگلڈ اورٹمپرڈ ہے اور ڈیفنس کے وائے بلاک میں کھڑی ہے‘ میں آپ کو ایڈریس دے دیتا ہوں آپ یہ پکڑ لیں“ میرے دوست نے غور سے تصویریں دیکھیں اور تھوڑا سا سوچ کر بولا ”ہم کسی کے گھر چھاپہ نہیں مار سکتے ہاں البتہ یہ گاڑی اگر سڑک پر ہو تو ہم اسے کسٹڈی میں لے سکتے ہیں“ نوجوان نے بھی تھوڑی دیر سوچا اور پھر بولا” میں گاڑی کے مالک کے ساتھ شام چار بجے جوس پینے کےلئے گھر سے نکلوں گا‘ میں آپ کو ایس ایم ایس بھی کر دوں گا اور جوس کارنر کا ایڈریس بھی بھجوا دوں گا‘ آپ وہاں چھاپہ مار کر گاڑی قبضے میں لے لیں لیکن بس ایک شرط ہے!“۔ وہ خاموش ہو گیا‘ میرا دوست خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ تھوڑی دیر رک کر بولا ”گاڑی کا مالک میرا دوست ہے‘ آپ کسی قیمت پر کسی کو میرا نام نہیں بتائیں گے اور دوسرا جب آپ کی ٹیم چھاپہ مارے گی تو میں شور کروں گا‘ میں ٹیم کے ساتھ لڑوں گا بھی لیکن آپ نے اسے زیادہ سیریس نہیں لینا‘ آپ گاڑی لے کر نکل جائیے گا“ میرے دوست نے قہقہہ لگایا اور ڈن کر دیا‘ نوجوان تھوڑی دیر مزید بیٹھا‘ چائے پی اور چلا گیا‘ میں باہر آ گیا اور میں نے اپنے دوست سے اس ڈیل کے بارے میں پوچھا‘
میرے دوست نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ”یہ لاہور کے ایک امیر زادے کا دوست ہے‘ امیر زادے نے نان کسٹم پیڈ سمگلڈ گاڑی خریدی ہے‘ گاڑی کی مالیت چار کروڑ روپے ہے اور یہ دوست اپنے عزیز ترین دوست کی مخبری کےلئے ہمارے پاس آیا ہے“ میں نے پوچھا ”اور اب کیا ہوگا؟“ میرے دوست نے جواب دیا ”یہ اپنے دوست کو جوس پلانے کےلئے باہر لائے گا اور ہم گاڑی اور گاڑی کے مالک کو پکڑ لیں گے“ میں نے حیرت سے پوچھا ”لیکن اس مخبر کو کیا فائدہ ہو گا“ میرے دوست نے ہنس کر جواب دیا ”اس کے حسد کا کلیجہ ٹھنڈا ہو جائے گا‘ یہ امیر زادے کا حاسد دوست ہے‘دوست کی گاڑی اس سے ہضم نہیں ہو رہی چنانچہ یہ اسے اس سے محروم بھی دیکھنا چاہتا ہے اور پریشان بھی اور اس کا یہ جذبہ اسے ہمارے پاس لے آیا ہے“۔
یہ تمام باتیں میرے لئے حیران کن تھیں‘میں نے اس سے پوچھا ”کیا تمہارے زیادہ مخبر ایسے لوگ ہوتے ہیں“ میرے دوست نے جواب دیا ”ہمارے 98 فیصد مخبر یہ لوگ ہوتے ہیں‘ دوست عزیز ترین دوست کی مخبری کرتے ہیں‘ بھائی بھائی کے خلاف انفارمیشن دیتا ہے‘ بہو ساس کے بارے میں بتاتی ہے IQ سالہ بہنوئی اور بہنوئی سالے کا مخبر بن جاتا ہے“ میں خاموشی سے سنتا رہا‘ وہ بولا ”ہمارے پاس دوست اور ملازمین زیادہ آتے ہیں‘دوست پہلے دوست کو سمگلڈ گاڑی خرید کر دیتے ہیں اور پھر مخبری کر دیتے ہیں‘
یہ دوستوں کو ٹیکس چوری کا طریقہ بھی بتاتے ہیں اور دوست جب ٹیکس چوری کر لیتے ہیں تو یہ اس کے خلاف مخبر بن جاتے ہیں‘ یہ مخبر لوگ یوں دوستوں کو دہرا نقصان پہنچاتے ہیں‘ پہلے گاڑی کی خریداری کے ذریعے دوست کو مالی نقصان پہنچاتے ہیں اور پھر وہ گاڑی پکڑوا کر اسے ذلیل کراتے ہیں‘ ہمارے پاس مختلف کمپنیوں کے ملازمین بھی آتے ہیں‘ یہ ہمیں اپنے مالکان کے خلاف ٹھوس ثبوت دیتے ہیں‘ یہ عموماً پرانے اور اعتباری ملازمین ہوتے ہیں‘
مالکان ان کو مخلص سمجھتے ہیں لیکن یہ اندر سے مالکان کے خلاف ہوتے ہیں‘ ان کے سینوں میں کینہ‘ حسد اور بغض بھرا ہوتا ہے چنانچہ یہ ہمیں مالکان کے خلاف وہ ثبوت بھی دے دیتے ہیں جو مالکان کے پاس بھی نہیں ہوتے“ وہ خاموش ہو گیا‘ میں نے پوچھا ”یہ ملازمین کس کیٹگری کے ہوتے ہیں“ وہ بولا” یہ لوگ دو کیٹگری کے ہوتے ہیں‘ پہلی کیٹگری سیلف میڈ لوگوں کے ملازمین پر مشتمل ہوتی ہے‘ یہ لوگ ملازمین کے سامنے ترقی کرتے ہیں‘
ملازمین بیس تیس ہزار روپے کے ملازم رہ جاتے ہیں جبکہ مالک کروڑوں روپے میں پہنچ جاتے ہیں چنانچہ یہ لوگ مالکان کے حاسد بن جاتے ہیں اور دوسری کیٹگری میں وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جن پر مالکان دوسرے ملازمین کو فوقیت دے دیتے ہیں‘ مثلاً مالکان نے نئے ملازمین کو پروموٹ کر دیا اور یہ نئے ملازمین کو پرانوں کے مقابلے میں زیادہ تنخواہ اور مراعات دینے لگے تو پرانے ملازمین اندر سے زخمی ہو جاتے ہیں اور یہ مالکان کے خلاف مخبر بن جاتے ہیں“
میں نے اس سے پوچھا ”آپ نے اپنی نوکری کے دوران مخبری کا سب سے افسوس ناک واقعہ کیا دیکھا“ وہ رکا‘ مسکرایا اور بولا ”بے شمار واقعات ہیں لیکن مجھے ایک واقعہ نہیں بھولتا‘ کراچی میں ایک بزرگ خاتون نے اپنے اکلوتے بیٹے کے خلاف مخبری کر دی‘ والدہ سے اپنی بہو کی آسائش ہضم نہیں ہوتی تھی چنانچہ اس نے بیٹے کی مخبری کی‘ ہم نے گودام پر چھاپہ مارا اور بیٹا تین دن میں سڑک پر آ گیا“ وہ رکا اور پھر ”میرے پاس جگری دوستوں کے حسد کی بے شمار مثالیں بھی ہیں‘
میں کراچی کی ایک فیملی کو جانتا ہوں‘ ان کا بیٹا اکلوتا تھا‘ بیٹے نے سمگلڈ سپورٹس کار خرید لی‘ جگری دوست نے مخبری کر دی‘ ہم نے کار قبضے میں لے لی‘ بیٹے کو کار بہت عزیز تھی چنانچہ والد نے وہ گاڑی آکشن میں خریدی‘ زیادہ ٹیکس اور زیادہ ڈیوٹی دی اور گاڑی بیٹے کو گفٹ کر دی‘ بیٹا دوبارہ گاڑی چلانے لگا‘ جگری دوست کو دوست کی یہ خوشی بھی نہ بھائی‘ اس نے گاڑی ادھار لی اور بریک آئل کے چیمبر میں چھوٹا سا سوراخ کرا دیا‘ گاڑی کا مالک گاڑی چلاتا رہا‘
گاڑی اسے بریک آئل کے بارے میں وارننگ دیتی رہی لیکن دوست اسے حوصلہ دیتا تھا‘ تم فکر نہ کرو‘ بریک آئل پورا ہے‘ گاڑی کا سافٹ ویئر خراب ہو گیا ہے‘ لڑکا اپنے دوست کی ہر بات پر یقین کرتا تھا چنانچہ وہ گاڑی چلاتا رہا‘ وہ ایک دن گاڑی لے کر نکلا‘ ہائی وے پر آیا‘ گاڑی کے بریک فیل ہوئے اور گاڑی آئل ٹینکر سے ٹکراگئی‘ لڑکا ایٹ دی سپاٹ مر گیا‘ باپ نے تحقیقات کرائیں تو کہانی کھل کر سامنے آ گئی لیکن اب کیا ہو سکتا تھا‘ جانے والا جا چکا تھا“۔میں افسوس سے سنتا رہا‘
میرے دوست نے بتایا ”آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے خلاف مخبری بھی ان کے قریبی دوستوں نے کی تھی‘ یہ دوست آج بھی ان کے ساتھ نظر آتے ہیں لیکن یہ لوگ اپنی آستینوں میں چھپے ان سانپوں کے وجود تک سے واقف نہیں ہیں‘ یہ انہیں اپنا مخلص دوست‘ اپنا وفادار ساتھی سمجھ رہے ہیں جبکہ یہ ان کی جڑیں کاٹ رہے ہیں“ میں خاموشی سے سنتا رہا‘ میرا دوست آخر میں بولا ”تم اگر دوستی کا تماشہ دیکھنا چاہتے ہو تو چار بجے میرے ساتھ چلو‘ ہم تمہارے سامنے وہ گاڑی پکڑیں گے اور پھرتم اپنی آنکھوں سے دیکھنا حاسد دوست دوستوں کو کس طرح ذلیل کرتے ہیں“ میں نے ہامی بھر لی۔
میں چار بجے تک اس کے پاس بیٹھا رہا‘ چھاپہ مارنے کےلئے سکواڈ تیار ہوا‘ پونے چار بجے مخبر نے اطلاع دی میں ٹارگٹ کے گھر پہنچ گیا ہوں‘ پانچ منٹ بعد پیغام آیا ہم سمگلڈ گاڑی میں جوس پینے کےلئے نکل رہے ہیں‘ ہم گلبرگ میں فوارہ چوک کے قریب فلاں جوس کارنر پر جا رہے ہیں‘ آپ چار بج کر پانچ منٹ تک پہنچ جائیں‘ میرے دوست نے مجھے گاڑی میں بٹھایا اور ہم گلبرگ پہنچ گئے‘ نان کسٹم پیڈ ٹمپرڈ گاڑی سامنے کھڑی تھی‘ دونوں دوست گاڑی میں بیٹھ کر جوس پی رہے تھے‘
کسٹم کے اہلکار گاڑی کے پاس پہنچے‘ گاڑی کا شیشہ بجایا اور مالک سے گاڑی کے کاغذات مانگ لئے‘ مالک نے پورے اعتماد کے ساتھ کاغذات نکال کر کسٹم کے حوالے کر دیئے‘ اہلکاروں نے کاغذات دیکھے‘ بونٹ کھلوایا اور گاڑی کا انجن اور چیسز نمبر چیک کرنے لگے‘ گاڑی ظاہر ہے ٹمپرڈ تھی ‘ کسٹم حکام نے گاڑی قبضے میں لے لی‘ مالک کا دوست گاڑی سے اترا اور پلان کے مطابق کسٹم حکام کے گلے پڑ گیا‘ سڑک پر ٹھیک ٹھاک تماشہ لگ گیا‘ گاڑی کا مالک دوست کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن وہ بار بار اہلکاروں کے گلے پڑتا تھا‘ میں اور میرا دوست گاڑی میں بیٹھ کر یہ منظر دیکھتے رہے‘
مخبر نے ایک آدھ بار لڑتے لڑتے میرے دوست کو آنکھ بھی ماری‘ یہ کھیل چند منٹ چلتا رہا یہاں تک کہ کسٹم حکام نے گاڑی کا چارج لے لیا‘ میں نے دیکھا مخبر نے چیخ بھی ماری اور جوس کارنر کے تھڑے پر لیٹ کر بے ہوشی کا ناٹک بھی کیا‘ گاڑی کا مالک اسے اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا‘ ہم واپس چل پڑے‘ میں راستہ بھر اداس رہا‘ میرا خیال تھا دوست کو کم از کم دوستوں کے ساتھ یہ نہیں کرنا چاہیے جبکہ میرا دوست مزے سے گنگنا رہا تھا ‘ ہم دفتر واپس پہنچ گئے‘
میں نے اجازت مانگی‘ میرا دوست باہر آیا‘ مجھے گلے لگایا اور آہستہ سے میرے کان میں کہا ”ہمارے آدھے سے زائد دوست بروٹس ہوتے ہیں‘ یہ لوگ جب تک جولیس سیزر کو قبر تک نہ پہنچا لیں اس وقت تک ان کے سینے ٹھنڈے نہیں ہوتے‘ ہم لوگ دشمنوں کے تیروں سے نہیں مرتے‘ دوستوں کے ہاتھوں سے مرتے ہیں اور اگر ہمیں ہمارا دشمن بھی مارے تو اس کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے چنانچہ ہمیں دشمنوں سے نہیں دوستوں سے بچ کر رہنا چاہیے‘ انسان اگر دوستوں سے بچ جائے تو دشمن اس کا بال تک بیکا نہیں کر سکتے اور یہ انسان کی تاریخ بھی ہے اور جغرافیہ بھی.
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

=================

23/05/2021

*اسرائیل اتنا طاقتور کیسے ہوگیا؟ ؟؟؟*


ایک شخص "Gree Ac" کی ٹھنڈک سے سو کرصبح "Seiko-5" کے الارم سے اٹھتا ھے "Colgate" سے برش کرتا ہے "Gellet" سے شیو کرکے "Lux" صابن اور "Dove" شیمپو سے نہاتا ہے اور نہانے کے بعد "Levis" کی پینٹ "POLO" شرٹ اور "GUCCI" کے شوز "Jocky" کے socks پہن لیتا ہے چہرے پر "Nevia" کریم لگا کر "Nestlé food" سے ناشتہ کرنے کے بعد "Rayban" کا چشمہ لگا کر "HONDA" کی گاڑی میں بیٹھ کر کام پر چلا جاتا ہے۔
راستے میں ایک جگہ سگنل بند ھوتا ہے وہ جییب سے
"آئی فون 11" نکالتا ہے اور "زونگ" پر 4G internet چلانا شروع کر دیتا ہے اتنے میں سبز بتی جلتی ہے آفس پہنچ کر "HP" کے کمپیوٹر میں کام میں مشغول ھو جاتا ہے کافی دیر کام کرنے کے بعد اسے بھوک محسوس ھوتی ہے تو "McDonald's " سے کھانا اور ساتھ میں "Nestlé " کا پانی بھی منگواتا ہے۔
کھانے کے بعد "Nescaffe" کی کافی پیتا ہے اور پھر تھوڑا آرام کرنے چلا جاتا ہے کچھ آرام کے بعد "Red Bull" پیتا ھے اور دوبارہ کام میں مشغول ھو جاتا ہے تھوڑا بوریت محسوس ھونے پہ جیب سے Apple کے "i-pods"نکال کے انڈین گانے سنتا ھے ساتھ ھی "TCS" سے ایک پارسل بیرون ملک بھیجواتا ھے اور "PANASONIC" کے لینڈ لائن سے اطلاع کرتا ھے۔ اور "PARKER" کے Pen سے ایک نوٹ لکھتا ھے۔کچھ دیر بعد "ROLEX" کی گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ واپسی کا وقت ہو گیا ہے تو وہ دوبارہ "HONDA" کی گاڑی اسٹارٹ کرتا ہے اور گھر کے لئے روانہ ہو جاتا ہے۔
کچھ ہی لمحے بعد "Shell" کا پیٹرول پمپ آ جاتا ہے وہاں سے ٹنکی فل کرواتا ہے اور "HYPER STAR" کا رخ کر لیتا ہے سٹور سے بچوں کے لئے "میگی" اور "کنور" کے نوڈلز "CADBARY" KIT KAT" اور "SNIKERS" اور "Nestle" کے مہنگے جوس وغیرہ خرید لیتا ہے سپر سٹور کے ساتھ ہی "PIZZA HUTT" سے وہ بیوی بچوں کے لئے پیزا اور "KFC" سے برگرز کی ڈیل بھی خرید لیتا ہے۔
گھر جا کر کھانا کھانے کے بعد سب گھر والے "SONY" کے Led پر مشہور زمانہ " NewsChannel " پر مایوسی والی خبریں سن رہے ھوتے ہیں اور ہاتھ میں "Coke" کے گلاس پکڑے ھوتے ہیں کہ خبر آتی ہے کہ اسرائیل نے فلسطینوں بمباری کی یہ سن کر وہ آگ بگولہ ھو جاتا ہے اور اونچی آواز میں بولتا ہے !!!
اسرائیل اتنا طاقتور کیسے ہوگیا؟

22/05/2021

وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ انسان کے مانگنے کا بھی طریقہ بدل جاتا ہے،۔گلیوں بازاروں میں بھیک مانگنے والے لوگ کروڑ پتی ہوتے ہیں اور لوگوں کا حق کھاتے ہیں، ایسی ہی ایک بوڑی عورت لوگوں سے اپنی گاڑی کے پیٹرول کے لئے بھیک کر ہزاروں روپے روز کے جمع کرتی ہے۔ کرتوت چیک کریں، لوگوں کے پاس سائیکل نہیں ہوتی یہ گاڑی لیکر بھیک مانگ رہی ہیں۔ زرا ایسی بہودہ عوام کو شعور دینے کے لئے انکو مشہور کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

19/05/2021

اج کل شادی مرد کی جیب کو اور عورت کے خسن کو دیکھ کر کی جاتی ہے۔
پھر شادی کے بعد نہ جیب چاہیے ہوتی نہ حسن۔ اس وقت صرف شرمندگی ہی ہوتی ہے۔

تھوڑا سوچیں اچھا سوچیں،
کم ہی سہی لیکن وفادار ڈھونڈیں۔
تھوڑی بہت کمیوں کو نظر انداز کر دیں۔

Photos from Anas Zia's post 18/05/2021

Must read it and try to improve yourself.

07/11/2020

*❗Bismillahirrahmanirraheem❗*

*🔹Mafhum e hadith: Jo aurat iss haal mein faut ho ke uska shohar us se razi ho to wo jannat mein dakhil hogi*
-----
🔹Rasool-Allah Sallallahu Alahih Wasallam ne farmaya jo aurat iss haal mein faut ho ke uska shohar us se razi ho to wo jannat mein dakhil hogi
----
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت مر جائے اور اس کا شوہر اس سے خوش ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گی“
---
🔹Rasool-Allah Sallallahu Alahih wasallam said:“Whichever woman dies while her husband is pleased with her, then she enters Paradise.”
Jamia Tirmazi - 1161 Hasan

08/10/2020

*🛑کیا بیوہ عورت کا دل نہیں ہوتا؟🛑*

*♦️میں آپ کو ایک عورت کا قصہ سناتا ہوں اور آپ پڑھ کر بتائیں کیا بیوہ کو شادی نہیں کرنی چاہیے؟*

*♦️ایک عورت نے مجھے بتایا کہ اسکی 4 بیٹیاں ہیں ، اور شوہر کی وفات ہو چکی ہے۔*

*♦️کہنے لگی میں نکاح کی ضرورت محسوس کرتی ہوں کیونکہ میں اکیلی بہت ڈرتی ہوں۔*

*♦️اور پھر گھر اور باہر کی ہر ذمے داری مجھ پر ہے۔*

*♦️جب گھر سے باھر نکلتی ہوں تو لوگ عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔*

*♦️میں چاہتی ہوں کہ نکاح کر لوں*

*♦️تاکہ میری ذمے داریاں بھی کم ہو جائیں، اور لوگوں کی نظروں سے بھی محفوظ ہو جاؤں۔*

*♦️تاکہ ہر کسی کے دل میں یہ ھو کہ یہ اب بیوہ نہیں بلکہ فلاں کی بیوی ہے ۔*

*♦️کہنے لگی میری شادی میں سب سے زیادہ میرے بھائی رکاوٹ بن رہے ہیں۔*

*♦️بھائی کہتے ہیں اب کیا کرو گی شادی کر کے ۔*

*♦️ہم موجود ہیں تمھارا خیال رکھنے کو۔*

*♦️میرا جواب تو یہ ہے*

*♦️سب سے پہلی بات یہ ہے بیوہ یا طلاق یافتہ لوگوں کی شادی کا اللہ نے حکم دیا ہے۔*

*♦️اللہ سے بڑھ حکیم ذات کس کی ہو سکتی ہے۔*

*♦️دوسری بات یہ ہے کہ کوئی بھائی کسی بہن کا ساری زندگی سہارا نہیں بنتا۔*

*♦️تیسری بات ۔ میاں بیوی کو اللہ نے ایک دوسرے کا لباس کہا ہے*

*♦️لباس کے بغیر انسان ننگا ہوتا ہے۔*
*♦️جس طرح لباس پوری زندگی کےلئے ضروری ہے اسی طرح یہ رشتہ بھی انسان کی پوری زندگی کی ضرورت ہے۔*

*♦️مجھے ایسے بھائیوں پہ تعجب ھے ۔ جو خود تو چار شادیوں کی خواہش رکھتے ہیں*

*♦️لیکن بہن سے کہتے ہیں تمھیں اب شادی کی کیا ضرورت ہے۔

21/09/2020

*💞💞*

مجھے آج بھی ایک یہودی عالم کے الفاظ یاد ہیں جو اس نے مسلمان عورتوں کے بارے میں کہے تھے کہ "مسلمان عورتوں کو پہلے ان کے دین سے دور کردو، جب یہ دین سے دور ہوجائے گی تو حجاب کو ترک کرکے بے پردہ ہوجائے گی، جب بےپردہ ہوجائے گی تو اپنے مسلمان مردوں کے لیے فتنہ(آزمائش) بن جائے گی، جب فتنہ بن جائے گی تو زنا عام ہونے لگے گا، جب زنا عام ہونے لگے گا تو ایک وقت آئے گا کہ ان میں اکثریت حرام زادوں اور حرام زادیوں کی ہوگی"
لہذا میری بہنوں خود کو قرآن و حديث کی تعلیمات سے جوڑو اور اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا شروع کرو اسی میں ہماری دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔“

16/09/2020

💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞صحابیات میں سے کوئی ایک صحابیہ بھی آپکو نہیں ملے گی جس نے طلاق یا بیوہ ہونے کے بعد بغیر نکاح کے زندگی بسر کی ہو ۔ صحابہ کرام کے دور میں ایسا ممکن ہی نہیں تھا ۔ تکمیل عدت کے بعد پیغامات نکاح اس رفتار سے آتے جس رفتار سے کسی کنواری لڑکی کو بھی نہیں آتے۔

ہمارے معاشرے میں جہاں مطلقہ و بیوہ عورت کو اچھا نہیں سمجھا جاتا وہاں اکثر بیوہ یا مطلقہ خواتین بھی نکاح نا کر کے معاشرے میں بے راہ روی کا سبب بنتی ہیں ۔الا ماشاءاللہ
جس طرح سانس ، پانی اور کھانے کے بغیر جینا نا ممکن ہے اسی طرح جنسی تسکین کے بغیر بھی جینا نا ممکن ہے۔
تنہائی میں موبائل غیر محرم کی حیثیت رکھتا ہے
معاشرہ پاک کرنے کے لیے نکاح آسان کرنا لازم ہے ورنہ قیامت سے پہلے قیامت تو ہم دیکھ ہی رہے ہیں
نکاح آسان کرو تاکہ زنا کے اڈے بند ہو سکیں.

02/09/2020

مردوں کیلئے دوسری شادی کیوں ضروری ہے؟؟؟؟
میں نے دو ماہ کی کوشش سے اپنے ایک دوست کے ذریعےشہر میں جسم فروشی کا دھندہ کرنے والی خواتین سے ملاقاتیں کی.

ملاقات کے بعد جو رپورٹ تیار کی ( جس میں ہمارے صحافی دوست کی مدد بھی شامل ھے) اس کو مناسب انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ھوں. تاکہ بات سمجھ آسکے.... کہ ھم مردوں کی دوسری تیسری شادی کو عام کرنے کی محنت کیوں کر رھے ہیں. پاگلوں کی طرح دعوت دے رہیں ہیں خدارا جہنم سے بچ جاو دین پر آجاو. اور جو چیز اسلام نے جائز رکھی ھے اس پر آو. یہ ہی خواتین کو سمجھاتے ہیں مردوں کی دوسری شادی میں رکاوٹ بن کر گناہ گار نہ بنیں

رپورٹ کو مختلف اینگل سے تیار کیا گیا.. جس میں ایسے سوالات کیے گیے جس سے پتہ چلے جو مرد ان خواتین کو استعمال کرتے ہیں وہ کون ھوتے ہیں؟؟ ان کی عمریں کیا ہیں،؟؟ شادی شدہ ہیں؟؟ مالی طور پر کیسے ہیں؟ کس فیملی سے تعلق رکھتے ہیں؟؟؟؟دین دار ہیں؟؟؟ نمازیں پڑھتے ہیں.؟؟؟؟؟ وغیرہ وغیرہ

تقریباً تمام خواتین جن سے ملاقات کی گئی سب کا ایک ہی المیہ تھا.. غربت.... پیسوں کی ضرورت گھر بار چلانا. کسی کا والد بیمار شوہر بیمار.. بے روزگار. گھر کے اخراجات مکان کا کرایہ وغیرہ....

ان خواتین نے آٹھ سے دس مرد رکھے ھوتے ہیں جو مختلف اوقات میں ان خواتین کو بلاتے ہیں.. اکثریت مردوں کی شادی شدہ.. اور چالیس سال کے لگ بھگ.... جی غور سے پڑھیں اس لفظ کو "چالیس سال" ....... اچھی فیملی کے لوگ بھی شامل...... اعلی تعلیم بھی..... کاروباری بھی... مڈل کلاس بھی... بچوں والے بھی... ان خواتین نے بتایا شادی شدہ مرد شوق سے بلاتے ہیں. اپنے ہی گھر میں.. یا کسی ھوٹل... یا کہی اور... شادی شدہ مردوں سے مسلے مثائل نہیں ھوتے... وہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں. نوجوانوں کی نسبت بہتر ھوتا ھے.... نوجوان جذباتی بے وقوف اور بعد میں تنگ کرتا ھے.. بے روز گار ھوتا ھے تو پیسے ہی نہیں ھوتے جیب میں تو کیا فایدہ.
اتنی تفصیل لکھنا کافی ھے..

زنا کس قدر عام ھورہا ھے. اب زنا کے اڈے نہیں ھوتے ہر گلی محلے میں یہ سہولت موجود ھے. جس نے غلط کام کی طرف جانا ھے اسے کوئی نہیں روک سکتا.

ھم جب بات کرتے ہیں دوسری تیسری شادی کو عام کیا جائے تو اکثر خواتین پر یہ کسی کفریہ نظریہ سے کم نہیں ھوتا.. خواتین کو کیا پتہ باہر کیا ھوتا ھے برای کتنی کس انداز سے ہماری رگوں میں شامل ھوگئی ھے. یہ خواتین تو ہندوؤں کے کلچر سے نکل ہی نہیں رہی وہی سوتن وہی رسومات ذہنی غلامی دقیانوسی سوچ سے جڑی ہیں.. جو تھوڑی بہت قائل ھوتی ہیں تو اتنے سخت قسم کی شرائط لگا دیتی ہیں جس کا اسلام سے تعلق نہیں..پھر جب کچھ نہیں سمجھ آتا تو کہتی ہیں ہمت ھے تو کر لو کس نے روکا ھے....

میں انتہائی زمہ داری سے کہتا ھوں جس مرد نے برائی کی طرف جانا ھے ان کی بیویوں کو ھوا بھی نہیں لگتی.. لاکھ جاسوسی کر لیں لاکھ اپنے دماغ کے فتنے کھول لیں مگر نہیں... ناکام ھونگی... جو نیک نظر آتے ہیں پردے کے پیچھے کیا ھے صرف اللہ جانتا ھے. الزام تراشی نہیں زمہ داری سے کہتا ھوں.. بہت کچھ دیکھا ھے..

بھوک کا اعلاج روٹی ھے. اور بھوک گناہ گار کو بھی لگتی ھے نیک انسان کو بھی. اسی طرح شہوت گناہ گار کو بھی ھے نیک انسان کو بھی... شہوت کا اعلاج نکاح ھے اللہ نے نکاح ہی بتایا ھے ایک کرو دو کرو تین کرو... چار کرو.. اور پھر اس دور میں جہاں بے راہ روی فحاشی عریانیت عام ھے.

حدیثیں وعیدیں سنا کر جنت دوزخ کے فیصلے سنا دینا آسان ھے مگر جو حل. عمل بتا دیا اللہ نے اس پر عمل نا کرنا.... ایسے ہی باتیں کرتے رھے تو ہمارا معاشرہ زانی ھوجائے گا.. نکاح بوجھ ھوجائے گا زنا عام زندگی میں شامل ھوجائے گا....
اسلام.فطرت کے عین مطابق دین ھے. فطرت کے اصول میں جب جہاں انسان نے مداخلت کی بگاڑ پیدا ھوا ھے..
میرا تاریخی جملہ یاد رکھنا...." مرد ایک عورت کے لیے بنا ہی نہیں ھے"

24/08/2020

ایک شوھر کو چاھیے کہ وہ اپنی بیوی کو اھمیت دے.
اسے ایک قیمتی چیز کی طرح سنبھال سنبھال کر رکھے. اسے بے توقیر نہ ھونے دے.
نہ خود اولاد کے سامنے اس کی بےعزتی کرے اور نہ کسی کو کرنے دے..
یاد رکھئے ! اس کی بیوی کی عزت اس کی اپنی عزت ھے اور بیوی کی بےعزتی اس کی ذاتی بےعزتی ھے..
جس عورت کو اس کی اولاد کے سامنے مارا پیٹا جاتا ھے یا گالی گلوچ اور طنز و استہزاء کا نشانہ بنایا جاتا ھے وہ اپنی اولاد کی نظر مین بے توقیر اور بے وقار ھو جاتی ھے،
پھر ایسی ماں سے اولاد سنبھالے نہیں سنبھالی جاتی.. وہ بھی ماں کو ھاؤس میڈ کی طرح ٹریٹ کرتے ھیں..
ایسے بچے آگے چل کر اپنی بیویوں کے لئے بھی برے شوھر ثابت ھوتے ھیں.
یا پھر وہ بچے ماں کی محبت میں باپ کو ظالم سمجھنا شروع کردیتے ہیں اور انکے دل میں باپ کی محبت اور عظمت ختم ہوجاتی ہے ایسے بچے بڑھاپے میں اپنے والد کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے.
میاں بیوی میں ناچاقی یا رنجش ھو بھی جائے (جو کہ ایک فطری اور لازمی چیز ھے)
تو شوھر کو چاھئے کہ کچھ دیر کے لئے گھر سے باھر چلا جائے.
عورت بھی انسان ھے اسے بھی غصہ آتا ھے تو وہ غصہ اپنے شوھر پر ھی نکالے گی یا محلے والوں پہ نکالے گی..؟
میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ھیں.. لباس ستر بھی ڈھانپتا ھے اور
خوبصورتی اور زینت بھی بخشتا ھے..
کبھی اس کے والدین یا بھائیوں کے لطیفے نہ بنائیں..
اپنی اولاد کے سامنے ان کے ننھیال کو تمسخر کا نشانہ نہ بنائيں بلکہ !
انہیں اپنے والدین کی سی عزت ديں تاکہ بیوی بھی اس کے والدین کی دل و جان سے خدمت کرے.

08/08/2020

جنہیں "بیوی چاہیے" تھی انہوں نے لاک ڈاؤن میں سادگی سے نکاح کر کیا۔
اور
جنہیں "ویل سیٹل ویل ایجوکیٹڈ" چاہیے تھا انہوں نے شادی ملتوی کر دی۔
انس ضیاء

08/08/2020

جنہیں بیوی چاہیے تھی انہوں نے لاک ڈاؤن میں سادگی سے نکاح کرلی.
اور
جنہیں ویل سیٹل ویل ایجوکیٹڈ چاہیے تھا انہوں نے شادی ملتوی کر دی۔
انس ضیا

07/08/2020

اسلام علیکم۔۔۔!!!
یہاں سب لوگ ٹائم پاس کرتے نظر آتے ہیں۔ جن میں زیادہ تر خواتین ہیں۔ اور کچھ مرد حضرات بھی۔
میں بارہا مرتبہ کہ چکا ہوں جو اپکو ملے اسے قبول کریں۔
خوا وہ اپسے چھوٹا ہو یا بڑا۔

پاکستان کی ابادی 60% نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی عمریں 18 سے 25 تک ہیں۔
اس کے بر عکس عورتوں کے تعداد مردوں سے تین گنا زیادہ ہے۔ اور خواتین کی عمریں زیادہ تر 25 سے 40 تک ہیں۔
اور زیادہ تر بیوہ ' طلاق یافتہ ہیں جن کی تعداد سنگل خواتین سے زیادہ ہے۔
اب اس اثنا میں ہر عورت اچھے سے اچھے مرد کی تلاش میں ہے۔ مرد بھی اسی طرح کسی معجزہ کے انتظار میں ہیں کو برطانیہ سے لڑکی ائے اور شادی کر لیں۔
لیکن کوئی ہمارے معاشرہ کو سمجھ نہیں پا رہا ہے۔
اسلام اسلام کرنے والے اپنے لئیے نئی نویلی دوشیزہ ڈھونڈنے میں مصروف ہیں۔ اور عورتیں امیر سے امیر ڈھونڈنے کے چکروں میں اپنی زندگیوں کو خراب کر رہی ہیں۔

خداراہ اسلام کی مان لو۔ کم سے کم ایک رشتہ بنانے کے لئے اسلام کی مان لو باقی کی زندگی اسانی سے گزر جائے۔

نکاح کو اسان بنانا ہے نکاح اسانی کرنا ہوگا۔ عمر میں فرق کو ختم کریں۔ اپنے سے چھوٹوں کے ساتھ بھی نکاح کریں۔ اپنے سے بڑوں سے۔
برائی کرتے وقت عمریں نہیں دیکھتے ہو صرف نکاح کرتے وقت بڑا چھوٹا یاد آتا ہے۔

خداراہ چھپ کے گناہ کرنے سے بہتر ہے اسانی سے کسی بھی مرد عورت سے نکاح کریں۔

عمر کے فرق کو ختم کریں۔ اسلام کے پیچھے چل پڑو یا پھر اسلام کا نام نہ لو۔

ازتحریر : انس ضیاء

اللہ تعالیٰ سبکو نیک اور اچھا ہمسفر نصیب کرے۔ اولاد کی ڈھیروں خوشیاں دے رب ہم سبکو۔ اللہ پاک برے مردوں بری عورتوں کو ہدایت دے۔ آمین یا رب العالمین۔
شکریہ.

07/08/2020

باتوں کی مٹھاس اندر کے بھید نہیں کھول سکتی ۔۔۔۔
‏مور کو دیکھ کر کون یہ کہہ سکتا ہے
‏کہ یہ سانپ کھاتا ہو گا ۔۔۔

07/08/2020

میں نے آزما کر دیکھا کہ اگر کچن میں کام کرتی عورت کو جا کر یہ حقیقت بتا دیں کہ "یہ آپ کی ہی ہمت ہے ورنہ میں تو ایک سیکنڈ یہاں نہ رک سکوں" تو اس کی دن بھر کی تھکاوٹ اتر جاتی ہے اور وہ آگ کے پاس بھی ایسے مسکرانے لگتی ہے جیسے ٹھنڈی ہوا چل پڑی ہو.

07/08/2020

بیوی کے لیئے کوئی چیز لاتا تو کہتا جاؤ امی کو بھی دو. امی کے لیئے کچھ لاتا تو کہتا امی اُس کو بھی دینا.

بیوی کو لگتا کہ امی نے اپنی خوشی سے دی ہے. امی کو لگتا کہ بہو نے اپنی خوشی سے دی ہے. محسوس کرتا کہ بھائیوں کو کسی چیز کی ضرورت ہے تو خود اپنے پیسوں سے لاتا. بیوی کو کہتا جاؤ دے آؤ. اور یہ محسوس نہ ہونے دینا کہ تمہارا شوہر لایا. بلکہ اُن کو ایسا لگے آپ لائی ہو.

ماشاء اللّه 2 سال ہوگئے. اب تو میری ماں اور میری بیوی کی آپس میں ایسی محبت ہوگئی ہے کہ ایک دوسرے کے بغیر ایک دن بھی رہنا مشکل ہو جاتا ہے. بیوی جب ایک دن کے لیئے مائکے جائے تو امی سے گلے مل کر جاتی ہے.

بھائی اگر کچھ لائیں تو مجھے دینے سے پہلے بھابھی کو دیتے ہیں. کہ وہ بھی تو ہمارے لیئے چیزیں لاتی ہے. میرے بھائی اور میری بہن کی میری بیوی سے ایسی دوستی جُڑ گئی ہے کہ مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں گھر میں کوئی مہمان ہوں. باقی لوگ آپس میں بہن بھائی ہیں..

بیوی کپڑے دھوتی تو امی کو کہتا امی زرا ہاتھ لگوا دینا. امی اگر سلائی کر رہی ہو تو بیوی کو کہتا ہوں امی کے ساتھ زرا ہاتھ لگوا دینا. تا کہ اُس کا کام جلدی ہو جائے..
بہن کھانا پکا رہی ہو تو بیوی کو کہتا ہوں ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتی رہو. کھانا بھی پک جائے گا. اور میری بہن بور بھی نہ ہوگی. اگر بیوی کھانا پکا رہی ہو تو بہن کو کہتا ہوں جاؤ زرا اُس کے ساتھ کچھ باتیں کرو. وہ اکیلی ہو تو بہت جلد بور ہو جاتی ہے..

اب ماشاء اللّه.. اللّه پاک نظر بد سے بچائے دونوں کی ایسی دوستی ہوگئی ہے کہ شاید ہی ایسا کوئی کام ہو جو وہ اکیلی کرتی ہوں. ورنہ سب کام مل کر کرتی ہیں.

اگر مجھے بھوک لگی ہے. اور بھائیوں کو بھی. تو بیوی کو کہتا ہوں پہلے میرے بھائیوں کو کھانا دو مجھے بعد میں دینا. عید پر بھائیوں کے کپڑے میں اپنے پیسوں سے لاتا ہوں بیوی کو کہتا ہوں کہ تم کہنا امی نے پیسے دیئے تھے. اُس سے آپ کے لیئے کپڑے لائی ہوں..

بیوی جب مائکے جاتی ہے تو میری امی اُس کی پیٹھ پیچھے اُس کی تعریفیں کرتی نہیں تھکتی. اکثر کہتی ہے. رجب میں نے نہ جانے کون سے اچھے کام کیئے تھے. جو اتنی اچھی بہو ملی.

بیوی میرے ساتھ اکیلی بیٹھی ہو تو خُدا کی قسم اکثر کہا کرتی ہے نہ جانے کون سے اچھے کام کیئے تھے جو اتنی اچھی ساس ملی ہے..

میرا آپ لوگوں کو یہ سب بتانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اگر بنیاد اچھی رکھی گئی ہو. تو گھر کئی سال تک مظبوط رہتا ہے.. بیوی کے گھر میں آتے ہی الگ سلوک ہو برابر کا سلوک نہ ہو. تو وہ گھر جلدی گِر جاتے ہیں. جلد ہی ٹوٹ جاتے ہیں..

کوئی بھی ساس یہ نہیں چاہتی کہ میری بہو مجھ سے لڑے. اور کوئی بھی بہو یہ نہیں چاہتی کہ میری ساس مجھ سے لڑے..

مگر شوہر کی غلطیوں کی وجہ سے ساس بہو کی آپسی لڑائی ہوتی ہے. دوسرا شوہر کی بے وقوفی کی وجہ سے کسی ایک کو قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے.. جبکہ قصور سب سے زیادہ شوہر کا ہی ہوتا ہے..

آپ کو لگتا ہے کہ شادی کر لی تو بس سب ہی خواہشات پوری ہوگئی. سب کچھ اب خود ہی چلے گا. بیوی اور امی خود ہی آپسی دوستی بنائیں گی..

کبھی نہیں شادی کے بعد شوہر کی زمہ داری بڑھ جاتی ہے.
تم کسی کے گھر سے کسی کے جگر کا ٹُکڑا لائے ہو. تمہیں کیا علم اُس کو ماں باپ نے کتنے لاڈ پیار سے پالا ہے.
تمہیں کیا پتا عورت کتنی حساس اور نازک ہے. تمہیں بس اتنا پتا ہے کہ رات گزار لی ہے. صبح کام پر جانا ہے. بس باقی گھر خود ہی چلتا رہے گا..

نہیں میرے بھائی جس پودے کو پانی نہ دیا جائے وہ سوکھ جاتا ہے.جس گھر کو ٹائم نہ دیا جائے. ہر اچھے بُرے کا خیال نہ رکھا جائے. وہ گھر بھی مرجھائے ہوئے پھولوں کی طرح ہو جاتا ہے..

کوشش کریں ہر لمحہ خوشیاں بانٹیں. اور ہر کسی سے دعائیں سمیٹیں..

اللّه پاک ہم سب کو اپنے حقوق ایمانداری کے ساتھ نبھانے کی توفیق عطا فرمائے..

14/06/2020

*مسلم بہنوں کے لیے عبرت جو کافروں اور مشرکوں کے ساتھ نکاح(شادی) کرتی ہے*

🌹 حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی حضرت سارہ علیھا السلام کے ساتھ اپنے ملک سے ہجرت کر رہے تھے. راستے میں ایک شہر میں داخل ہوئے. شہر کے بادشاہ کو معلوم ہوگیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی بہت خوبصورت ہیں. چنانچہ اس بادشاہ نے حضرت ابراہیم کی بیوی حضرت سارہ سے اپنی خواہش پوری کرنے کی کوشش کی. حضرت سارہ علیہا السلام نے وضو کیا نماز شروع کی اور اللہ تعالیٰ سے انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ دعا کرنے لگیں کہ اے اللہ تو مجھے اس ظالم سے بچالے. اللہ نے ان کی دعاء قبول فرمائی اور ظالم بادشاہ کا ہاتھ بندھ گیا. اور وہ حضرت سارہ کو حاصل نہ کر سکا.

*سوچنے کی بات*

✒️ یہ واقعہ ان لڑکیوں کے عبرت ہے جو بہت کمتر کافروں اور ہندوؤں مشرکوں کے ساتھ اپنی شادی رچانے میں فخر محسوس کرتی ہیں. جبکہ حضرت سارہ علیھا السلام نے وقت ایک بڑے بادشاہ کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیا.

📘 حضرت سارہ عليها السلام کا قصہ صحیح بخاری حدیث نمبر (3358). و صحیح مسلم حدیث نمبر (2372) میں دیکھا جا سکتا ہے...

Videos (show all)

وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ انسان کے مانگنے کا بھی طریقہ بدل جاتا ہے،۔گلیوں بازاروں میں بھیک مانگنے والے لوگ کروڑ پتی ہوتے ہی...

Location

Telephone

Address

Rawalpindi & Islamabad
Rawalpindi

Other Women's Health Clinics in Rawalpindi (show all)
Ultra V Gel Ultra V Gel
Rawalpindi
Rawalpindi, 44000

Ultra V Gel in Pakistan at Best Sale Price | Best Ever Vaginal Tightening Cream Shopping Online

Hope Gynae & Fertility Clinic Hope Gynae & Fertility Clinic
Flat 304 Prince 1 Safdar Arcade Mini Commercial, Phase 7, Bahria Town
Rawalpindi

Bringing light and life

Bahria Valley Clinic Bahria Valley Clinic
Al-Zamurd Plaza, Near Bahria International Hospital OPD Gate 3, Hub Commercial,
Rawalpindi, 46000

Run by Dr. Naheed Fatima (MBBS, MCPS), Bahria Valley Clinic provides quality consultation and ultras

Maan Jee Memorial Clinic - ماں جی میموریل کلینک Maan Jee Memorial Clinic - ماں جی میموریل کلینک
Maan Ji Memorial Clinic, Street#6, Al Ghani Market, Sector#3, Airport Housing So
Rawalpindi, 56000

Maan Ji Memorial Clinic is a clinic. That aims to provide a checkup facility and basic medical facil

Kare & Kure Clinics Kare & Kure Clinics
Kare & Kure Clinic
Rawalpindi, 75300

KarenKureOfficial is the only Official page of Kare & Kure Clinics. A registered Group of

Gynae Zone Gynae Zone
Shaheen Health Plus , (Basement Mega Medical Complex Hospital) , Police Line Roa
Rawalpindi, 46000

Prof Lt Col Dr Humaira Arshad (R) is a renowned gynaecologist in Pakistan with over 35 years of experience and thousands of satisfied patients Gynae zone is situated in heart of Rawalpindi Mega medical complex,basement ,Opposite AFIC, saddar, Rawalpindi

American Specialty  Acupuncture Center American Specialty Acupuncture Center
407-B, Commercial Market Road, Satellite Town
Rawalpindi, 4600

We treat all types of pain,men & women health, digestive issues, anxiety, weight loss, depression,

AMH Clinic Rawalpindi AMH Clinic Rawalpindi
In Basement Of Sardar Dilpazeer Plaza Opposite Of Fabian Public School, Main Lia
Rawalpindi, 46000

Abbas Maternity Home & Clinic specializing in Gynecologist and Medical professionals as well only on

Lut Machao.pk Lut Machao.pk
Near CMH
Rawalpindi, 46000

Dive into the Best Shopping Experience!

Health. Dr Manzoor Ahmed Butt Health. Dr Manzoor Ahmed Butt
Dr Manzoor Ahmed Butt, Main Chowk Dhoke Kala Khan, Shamsabad
Rawalpindi, 46300

Family health services including Women Health Problems ( treatment of Breast & Infertility), treatm

Maqbool Clinic. Dr Manzoor Butt Maqbool Clinic. Dr Manzoor Butt
Main Chowk, Dhoke Kala Khan, Shamsabad
Rawalpindi, 46300

Advancement of Primary Health Care facilities, imparting knowledge and skills of Primary Health C