With Shirazi Village Vlogs – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
14/01/2024
ماں! یہ سہ حرفی لفظ بڑی محبت عزت واحترام کا حامل ہے، ماں کہتے ہی ذہن میں ایثار و خلوص بے لوث محبت اور سراپا خیر و برکت کا ایک پیکر ابھرتا ہے۔ اس لفظ کے اظہار ہی سے ایک ایسی لہر خاکساری اور نیاز مندی کی انسان کے جسم و جان میں دوڑتی ہے کہ
”ماں“
جس سے متکلم کی طرف مخاطب کے جذبہ ہمدردی کا رجوع ہونا لازمی ہوتا ہے۔ جیسے
ہی زبان سے ”ماں“ کا لفظ ادا ہوتا ہے۔ کہنے والے میں اپنی نیاز مندی۔ کمتری اور تعلق
خاطر کا احساس جنم لیتا ہے اور سننے والے کے دل میں جذبہ رحم۔ شفقت و محبت کا بجر
بیکراں ٹھاٹیں مارنے لگتا ہے۔اور وہ تمام واقعات۔ رشتے و تعلقات صبر وتحمل۔ ضبط و
قرار پوری طرح سامنے آجاتے ہیں جو گرانی عمل کے ایام سے بچے کی کبرسنی تک وابستہ
رہتے ہیں ”ماں“ کے لفظ سے متکلم ایک سائل معلوم ہوتا ہے جو ماں کے حضور اپنی
تمام خاکساری و نیاز مندی سے اپنا مطلب واضح کرتا ہے اور اس یقین و اعتبار کے ساتھ
کہ مخاطب اس سے مادرانہ شفقت اور محبت کا بیمثال رویہ رکھے گی اور اس کی خواہش
و تمنا کا احترام اور لفظ ماں کی لاج رکھتے ہوئے اس کی ضرورت پوری کر دے گی۔
ماں ایک پیکر جودوسخاشرافت و مروت۔ صبر وضبط۔ ایثار و قربانی ہے جس کا منشاء
اور منزل ہی بچے کی آسائش و سکون ہے ۔اس لفظ ”ماں“ کے تین حرف ”م“ اور
”ن“ بڑے رموز اور نکات کے حامل ہیں۔ان تینوں حروف کا خمیر تین مختلف اقلیموں
میں تیار کیا گیا ہے۔ ”م“ نے محبت کے اقلیم میں جنم لیا ہے ” نے ایثار کی آغوش میں
آنکھیں کھولی ہیں۔ اور ”ن“ کا وطن مالوف ”ناز“ ہے۔ اسی لئے ”ماں“ کے اجزائے
ترکیبی کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ معلوم ہو گا کہ محبت کرنا اس کا شیوہ ایثار اس کا ایمان
اور بچے پر ناز اس کی کمزوری ہے۔ اگر دنیا کے اس طلسم کدے میں صرف ”م“ کے
Be the first to know and let us send you an email when home health care posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.