
04/01/2025
السلام علیکم ورحمتہ ﷲ وبرکاتہ
صباح الخیر
ایک پرانی پوسٹ دوبارہ احباب کی بصیرتوں کی نظر
پڑھئے سمجھئے اور عمل کیحیئے۔
دعاؤں میں یاد رکھئے گا
شکریہ و ﷲ حافظ
عᷟلـــᷞــــᷝــم ᷞالاᷰوفـᷭــᷧـــᷫــⷰـــⷣــاق ⷪوطⷮـلــــᷧــــᷟـــᷤسـᷝـᷞماتⷣــⷮـــ
Law Of Attraction, Law of Reversed Effort- 30
السلام علیکم ورحمتہ ﷲ وبرکاتہ
ابھی ایک بہت عزیز بہن کی پوسٹ پڑھی تو میرے ذہن کے لاء آف اٹریکشن والے حصہ کو تحریک ملی اور جواب غزل تو نہیں :) لیکن جواب پوسٹ پیش خدمت ھے:-
"بارہا بار تجربہ کیا ہے اچھی چیز مینیوفیسٹ نہیں ہوتی بری ایک دفعہ سوچ لوں ٹھاہ کر کے منہ پہ آکر لگتی ہے"
اور عموماً یہی سوال میرے انباکس میں بھی بہت سے لوگ کرتے ھیں۔
اسے نیچرل لاز کی دنیا میں Law of Reversed Effort یا قانون مخالفت کہتے ھیں۔ مطلب چاہ تو آپ کچھ اور رہے ھوتے ھیں اور نتیجہ 180 ڈگری مختلف ملتا ھے باوجود آپ کی تمام اچھی سوچوں کے اور ان سوچوں یا مینیفیسٹیشنز کو مہمیز کرنے کے لئے ہر طرح کے وظائف عملیات و دعائیں یعنی سب کچھ کرنے کے باوجود ہر بار ناکامی ہی ملتی ھے کیوں؟
کیوں؟ یقیناً بہت دفعہ سوچا ہوگا کہ ایسا کیوں یا پھر تنگ آکر یہی بات سوچی ہوگی نا کہ آخر میں ہی کیوں ہر بار؟ یہ ہر بار میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ھے؟ میری ساری اچھی خواہشات کیوں پوری نہیں ہوتیں اور بری بات یا خیال بھی آئے تو فوراً ہوجاتا ھے۔ ایسا ہی ھے نا؟
تو چلئے آج اسی بات کا جواب دیتے ھیں کہ ایسا کیوں ہوتا ھے؟
لاء آف ریورسڈ ایفرٹ کا اصول یاد کر لیجیئے "جب بھی آپ کی خواہشات اور تصورات کا مقابلہ ہوگا تو آپ کے تصور نے بلا مقابلہ ہی جیت جانا ھے"۔ یعنی آپ کی اچھی مینیفیسٹیشن کی بجائے آپ کی بری یا غلط بات نے فوراً پورا ہوجانا ھے۔
اس بات کو سمجھانے کے لئے ایک بہت آسان سی مثال دیتا ہوں۔
اگر میں آپ سے کہوں کہ آپ زمین پر پڑے ایک لکڑی کے 15 فٹ چوڑے اور 30 فٹ لمبے تختے سے گزر کر دوسری طرف جائیں تو آپ بنا کسی ہچکچاہٹ کے, بنا کسی دوسری سوچ کے یکدم گزر جائیں گے۔ یہاں تک کہ میں اس کی چوڑائی کو 5 فٹ بھی کردوں تب بھی یقیناً آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا۔
اب یہاں پر آپ کی خواہش ھے (لکڑی کے تختے سے گزر کر دوسری طرف جانا ھے) اور آپ کے ذہن کے کسی گوشے میں بھی تختے سے نیچے گرنے کا کوئی تصور موجود نہیں ھے اور بالفرض اگر ہو بھی تو یہی خیال آئے گا کیا ہوا اگر تختے سے نیچے آ بھی گئے تو پھر بھی زمین پر ہی ہوگا نا۔
اب تصور کیجیئے یہی 15x30 فٹ کا تختہ دو بلند عمارتوں کے درمیان زمین سے صرف 20 میٹر اوپر یعنی پانچویں یا چھٹی منزلوں کے درمیان لگا ہوا ھے۔
اب سوچ کر بتائیے ذرا؟ کیا آپ ویسے ھی چل سکتے ہیں جیسے زمین پر چلے تھے؟ ؟ ؟
ارے اب کیا ہوا؟ یار وہی تحتہ ھے نا اتنی ہی لمبائی, اتنی ہی چوڑائی ھے پھر اب انکار کیوں؟ اب ڈر کیوں؟
اب وجہ سنیئے جی۔ اب اگر آپ اسی تختے پر چلنے کا سوچیں گے تو اب آپ کا تصور آپ کو اتنی اونچائی سےگرنے اور تکلیف یا مرنے کی تصویر دکھائے گا اور باوجود آپ کی خواہش یعنی اس تختے پر سے گزر جانے کی اس پر حاوی ہو جائے گا۔ اور نتیجہ یہی ہونا کہ اب آپ نہیں چل پائیں گے اس تختے پر۔
اب مجھے بتائیے یہ گرنے اور تکلیف یا مرنے کی سوچ یا تصور کہاں سے آیا؟ دراصل یہ ہمارے سب کانشیئیس مائنڈ یعنی لاشعور میں پہلے سے پروگریمڈ ھے۔ جو کہ ہماری زندگی کے %90 سے زیادہ افعال کو چلاتا ھے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ایک ڈرائیور کسی گاڑی کو چلاتے وقت نظریں روڈ پر رکھتے ھوئے بنا ایکسیلیٹر کو دیکھ کر دبانے یا بریک کو دیکھ کر لگانے یا گئیر تبدیل کرنے والے اور باقی تمام افعال بنا دیکھے آٹومیٹیکلی سرانجام دیتا ھے۔
ہم میں سے ھر ایک شخص اس زندگی میں اپنے تمام کاموں میں کامیابی چاہتا ھے لیکن باوجود ہماری تمام ممکنہ کوششوں کے ھم ناکام ہوجاتے ھیں۔ کیوں؟ آخر وجہ کیا ھے؟
کیونکہ ہمارے ذہن میں موجود پری پروگریمڈ ناکامی کا تصور ہماری کامیابی کی خواہشات کو کنٹرول کرتا ھے۔
مثلاً آپ کی خواہش ھے صحت مند ہونا لیکن ہو نہیں پا رہے کیونکہ آپ کے تصور میں بیماری زیادہ بڑی ھے۔ اب جتنا مرضی زور لگالیں سب کانشیئیس کو Program کرنے پر لیکن نہیں ہو کر دینا کیونکہ وہ زبردستی والی بات تو سنتا ہی نہیں ۔ پریشر میں کام ہی نہیں کرتا۔
جو بھی سوچتا ھے کہ انٹرویو میں کامیابی لازمی حاصل کرنی ھے لیکن تصور میں وہی انٹرویو پینل کے سامنے خود کو کنفیوز دیکھنا۔ تو اب ایسا ضرور ہوکر ہی رہنا کیونکہ اس وقت اس نے کنفیوز ہونا ھے اور نتیجہ ناکامی ہی ہوگا۔
جو بھی لوگوں کو فیس کرنے سے ڈرتا ھے بھلے وہ جتنی مرضی خود کو تسلیاں دے لے بہتر مینیفیسٹیشن کرلے لیکن جب بھی وقت آیا اس کے تصور کے مطابق اس نے لوگوں کو فیس کرتے ڈرنا ہی ھے۔
بہت سے لوگ ٹینشن, انزائٹی, ڈپریشن, sociophobia یا obsessive obsession کا شکار رہتے ہیں دراصل وہ ہر وقت negative imagination یا منفی تصورات یا scenerios کو ہی زیادہ سوچتے رہتے ھیں۔
امید ھے اب آپ کو سمجھ آیا ہوگا کہ باوجود آپ کے تمام اچھا سوچنے کے آپ کی تمام تر اچھی مینیفیسٹیشن کے اچھی افرمیشنز یا دعاؤں کے آپ کی اچھی خواہشات کیوں مینیفیسٹ نہیں ہوتی ہیں۔
اور مجھے یہ بھی امید ھے کہ اب یہ تو بخوبی سمجھ آگیا ہوگا کہ کسی بھی مقصد میں کامیابی کے لئے آپ کی خواہش اور آپ کے تصور کا ایک ہونا لازمی ھے۔
چلئے اب جب اتنا کچھ لکھا تو اس کا حل بھی بتاتے ھیں کہ آپ اپنی خواہشات اور تصورات کو ایک فریکوئینسی یا ایک پیج پر کیسے لائیں:-
1- اپنے سب کانشیئیس یا لاشعور کو ری پروگرام کرنے کے لئے اسے ریلیکس کریں اور اپنی سٹریس اور نرویس نیس کو ختم کیجیئے۔
2- اب ہر وقت صرف وہ تصور کریں جو آپ چاہتے ہیں ناکہ وہ جو آپ نہیں چاہتے۔ یعنی آپ اس تصور میں جینا شروع کردیں جو آپ چاہتے ھیں۔ ویسی خوشی محسوس کریں جیسی تب ملنی جب وہ خواھش پوری ہوجائے۔ یہ پریکٹس زندگی کے ھر موقعہ ہر خواہش ہر مقصد کے لئے کیجیئے۔
3- اپنے سب کانشیئیس مائنڈ یعنی لاشعور کو صرف کامیابی کے لئے ٹرین کریں۔ ناکامی تو دور تک سوچئے بھی نا۔ اور اپنے لاشعور کو اپنے ساتھ کیجیئے بجائے مخالف کرنے کے۔
4- دعا کریئے اور کروائیے اور پھر مکمل یقین رکھئے کہ ان شاءﷲ اب بہترین ہی ہونا ھے۔ ذرا برابر بھی شک کا عنصر نا رہے اس میں۔ کیونکہ ﷲ رب العزت کا ارشاد ھے میں اچھے گمان والوں کو ویسے ھی عطا کرتا ہوں جیسا وہ گمان کرتے ھیں۔
چلئے جی اجازت دیجیئے اور پھر ملتے ھیں کسی اور عمدہ سی پوسٹ پر
دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔
شکریہ و ﷲ حافظ
عᷟلـــᷞــــᷝــم ᷞالاᷰوفـᷭــᷧـــᷫــⷰـــⷣــاق ⷪوطⷮـلــــᷧــــᷟـــᷤسـᷝـᷞماتⷣــⷮـــ