Korean Language Center Pakistan

We provide a quality of Korean Language for EPS-TOPIK MoU extended for sending Pakistani workers to Korea ISLAMABAD: Ministry of Human Resource Development Government of Pakistan and Ministry of Employment and Labour Republic of Korea have signed a Memorandum of Understanding (MoU) here on Tuesday.

The document is an extension of existing MOU between the two friendly countries for export of Pakistani work force to Republic of Korea under 'Employment Permit System' (EPS) which is executed jointly by the Overseas Employment Corporation (OEC), Ministry of Human Resource Development Pakistan and Human Resources Development Service of Korea (HRD). Talking to APP, minister for HRD Chaudhry Wajahat Hussain said that the understanding is in place between the two countries for export of Pakistani manpower since 2007 and the Overseas Employment Corporation (OEC) hitherto has sent over 2800 unskilled workers to Republic of Korea who are earning on average monthly salary of US $ 1200-1500. "It is an ongoing programme and it is anticipated that a sizeable number of Pakistani work force seeking foreign employment will be dispatched to Republic of Korea in future as well," he added. The MOU was signed by Federal Minister for Human Resource Development Ch Wajahat Hussain and the Director Human Resources Development Service of Korea Lim Worl Jae. On this occasion, Secretary Ministry of Human Resource Development Muhammad Ahsan Raja and the Managing Director Overseas Employment Corporation Saeed Ahmed Shaikh were also present.

Operating as usual

[12/31/20]   이 힘든 시기가 지나가고 내년엔 모두가 좋은 일만 생기기를 바랍니다.
2021년도의 도 많이 응원해 주세요.
새해 복 많이 받으세요

[11/02/20]   وقت آ گیا ہے کہ مسلمانوں کو مساجد میں کچھ تبدیلیاں کرنی چاہیں

بہت ہو چکا مساجد کے درودیوار کے رنگ و روغن پر، بیت الخلإ کے سنگ مرمر پر ، قمقموں فانوس و جھومر پر، اٸر کنڈیشن اور اٸر کولرز پر اور نفیس قالینوں پر خرچ

مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ترجیحات بدل کر کچھ ضروری جگہوں پر بھی اپنا مال خرچ کیا کریں
مگر کیسے۔ ۔ ۔ ۔؟
چند تجاویز

1۔ مساجد کو صرف نماز پڑھنے کی ہی جگہ نہ بناٸیں بلکہ اسلامی کمیونٹی سنٹر کی طرز پر وہاں غریبوں کے کھانے کا انتظام موجود ہو

2۔ ڈپریشن میں الجھے لوگوں کی رہنمائی (counseling) ہو۔

3۔ لوگوں کے خاندانی جھگڑے سلجھانے کا انتظام ہو

4۔ مدد مانگنے والوں کی مناسب تحقیق کے بعد اجتماعی و انفرادی طور پر مدد کی جا سکے

5۔ اپنے گھروں کے فالتو سامان کو نادار افراد کیلیۓ عطیہ کرنے کی غرض سے مساجد کا ایک حصہ مخصوص ہو

6۔ آپسمیں رشتے ناتے کرنے کیلیۓ ضروری واقفیت کا موقع ملے

7۔ نکاح کا بندوبست سادگی کے ساتھ مساجد میں کیۓ جانے کو ترجیح دی جاۓ

8۔ قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان کے ازالہ کیلیۓ اجتماعی کوششوں کا آغاز مساجد سے ہو

9۔ بڑی جامعہ مساجد سے ملحق مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کا بھی اہتمام ہو

10۔ ھماری مساجد میں ایک شاندار لاٸبریری ہو جہاں پر مکمل اسلامی و عصری کتب مطالعے کیلیۓ دستیاب ہوں

قوم میں باصلاحیت افراد کی کمی نہیں ان پڑھ یا کم لکھے پڑھے لوگوں کو اس کار خیر کیلیۓ استعمال کیا جا سکتا ہے

اپنے اندر عوامی فلاح و بہبود کی سوچ والے لوگ پیدا کریں

ان میں سے کوٸ بھی تجویز نٸ نہیں ہے ان تمام کاموں کی نظیر 1400 سال پہلے دور نبوی ﷺ کے مدینہ میں بھی ہوتے تھے

جیسے ہی ہم نے ان شاندار روایات کو چھوڑا ہم بربادی کی طرف بڑھتے چلے گیۓ اور چلے ہی جا رہے ہیں

خدا را

اب رک جاٸیں، سوچیں اور اپنی ترجیحات بدلیں۔
اللہ کریم ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرماۓ تا کہ اسلامی معاشرہ اپنی اصل شکل میں قائم ہو اور ہماری آنے والی نسلیں بہترین انداز میں زندگی گذار سکیں
۔آمین
Copied

علم کی طلب

جَگراتا شرط ہے!!
(قاسم علی شاہ)
لاڈلے مرید نے فرمائش کی:’’ حضور ! مجھے فیض چاہیے ۔‘‘ مرشد نے کہا:b’’مجھے نہیں معلوم کہ فیض کیا ہوتا ہے لیکن ہاں! مجاہدہ اور ریاضت ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو کمال پر پہنچادیتی ہے۔ تم جنگل میں چلے جاؤ اور اللہ کے نام کا وِرد شروع کرلو۔ ساتھ میں کھانے کا سامان لے جانا ،وہاں تمہیں کئی طرح کے چیلنجز اورلڑائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پہلا چیلنج موسم کا ہے،بیابان میں تمہیں ٹھنڈ بھی زیادہ لگے گی اور گرمی بھی۔ دوسری لڑائی خوف کے ساتھ ہے ۔سانپ ، بچھو اور درندے کے خوف سے تمہیں نیند نہیں آئے گی۔تیسری لڑائی تنہائی کی ہے ۔وہاں تم اکیلے ہوگے تو تنہائی کی اذیت بھی جھیلنی پڑے گی اور اس کے ساتھ چوتھی لڑائی جو تمہیں لڑنی ہے وہ پیٹ کی ہے۔ تمہیں بھوک لگے گی اور بھوک ایسی چیز ہے جو انسان کو اس قدر بے بس کردیتی ہے کہ پھر وہ مجرم بننے کوبھی تیار ہوجاتا ہے ۔‘‘ مرشد کی نصیحت سن کر مرید جنگل چلا گیا اور اپنا مجاہدہ شروع کرلیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ مرشد کی باتیں حقیقت کا رُوپ دھارنے لگیں. سب سے پہلے موسم حملہ آور ہوا۔پھر خوف نے اُسے اپنے چنگل میں لیا ، اس کا چین و سکون اڑگیا۔تنہائی نے بھی ڈسنا شرو ع کردیا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کی اذیت ناک قید’’قید تنہائی‘‘ ہے ۔ کال کوٹھڑی میں انسان کی اپنی تنہائی اُس کو پاگل بنادیتی ہے۔جب تینوں چیزوں نے اس کو بے بس کردیا تو ا س کے ساتھ چوتھی چیز بھی آگئی ۔اس کے پاس کھانا ختم ہوگیا اور وہ بھوک کی شدت سے تڑپنے لگا۔

مرشد نے بتایا تھا کہ جب مقررہ دِنوں تک وظیفہ مکمل کرنے کے بعدتم جنگل سے نکلو گے تو ایک پگڈنڈی گاؤں کی طرف جارہی ہوگی ،وہاں پر تمہیں فرشتے کی شکل میں اللہ کاایک نیک بندہ ملے گاجو تم سے تمہاری خواہش پوچھے گا۔ اُس وقت تم اِ ن چاروں مسائل سے دوچار ہوگے اور عین ممکن ہے کہ انہی کے بارے میں اپنی خواہش کا اظہار کردو لیکن میں تمہیں یہ وصیت اور نصیحت کرتا ہوں کہ تم نے اس وقت صرف ایک چیز مانگنی ہے اور وہ ہے: علم

ریاضت مکمل کرلینے کے بعد مرید جنگل سے نکلا۔ بھوک نے اس کے جسم کو نڈھال کردیا تھا ۔اس کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا مشکل ہورہا تھا۔ قیدِتنہائی کی وجہ سے وہ اپنوں کے چہرے بھی بھول گیا۔ سامنے پگڈنڈی پر اس کو ایک شخص ملا اور پوچھا :’’حکم فرمائیے!میں آپ کے لیے کیا کرسکتا ہوں ؟‘‘ اس وقت اس کو کھانے ،لباس اور پرسکون جگہ کی ضرورت تھی لیکن پھر مرشد کی نصیحت یاد آگئی اور اس نے کہا :’’مجھے علم چاہیے۔‘‘

ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ وہ قریبی قصبے میں پہنچا۔ایک دروازہ کھٹکھٹایا لیکن ساتھ ہی اس کی ہمت جواب دے گئی اور وہ وہیں گرگیا۔ گھر والے نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک مفلوک الحال شخص کو دیکھا ۔میزبان نے اُسے اٹھایا ، منہ پر چھینٹے مارے تومرید کو ہوش آئی اور وہ بولا:’’ مجھے شدید بھوک اور سردی لگی ہے۔‘‘میزبان نے انگیٹھی کے پاس اس کے لیے نرم بستر بچھایا اور اس کے لیے کھانے کا بندو بست کرنے لگا.

اجنبی مہمان کی آمد کا سن کر کچھ ہی دیر میں گاؤں کے لوگ جمع ہوگئے ۔ یوں کچھ ہی دیر میں اُس کو خوراک ، گرم بستر ،سکون اور لوگ مل گئے۔کچھ دیر بعد میزبان نے اسے آرام کرنے کا کہا وہ جیسے ہی سونے کے لیے لیٹا تواس نے کچھ آوازیں سنیں جیسے کوئی تڑپ کر رورہا ہو ۔اس نے میزبان سے پوچھا :یہآوازیں کیسی ہیں؟ میزبان نے بتایا :’’یہ ہمارے سردار ہیں ۔ ان کا بیٹا ایک لاعلاج مرض میں مبتلا ہے اور مرنے کے قریب ہے۔یہاں کا رواج یہ ہے کہ شدید بیمارکے لیے گھر گھر دُعا کی اپیل کی جاتی ہے ۔‘‘مرید نے یہ بات سنی ، فوراً ہی اس کے ذہن میں ایک جھماکا ہوا اور ایک پودے کی تصویر سامنے آگئی ۔اس نے میزبان سے کہا: ’’ فلاں پودا جو کہ گاؤں کے باہر موجود ہے، لے آؤ اور اس کا عر ق مریض کے منہ میں نچوڑ دو۔‘‘ لوگ دوڑے اور پودا لاکر اس کا عرق مریض کے منہ میں ٹپکایا تو وہ صحت یاب ہوگیا۔

کچھ دِنوں بعد اس گاؤں وں پر دشمن نے حملہ کیا۔ مرید دُور کھڑا تماشا دیکھتا رہا اورپھر سردار کے پاس جاکر ایک مخصوص چال چلنے کو کہا۔سردارنے اس کے کہنے پر وہ چال چلی اور ایک ہی لمحے میں جنگ کی کایا پلٹ گئی ۔گاؤں والے جنگ جیت گئے ۔جنگ کے بعد گاؤں کا جرگہ اکھٹاہوا او ر سردار نے یہ کہہ کر اپنی پگڑی مرید کو پہنادی کہ’’ یہ مجھ سے زیادہ علم والا ہے، کیونکہ اس کو چال کا بھی پتا ہے اور علاج کا بھی لہٰذا سرداری کا اہل بھی یہی ہے ۔ــ‘‘مرید مسکرانے لگا ۔درحقیقت اُسے کسی چیز کا پتا نہیں تھا، اس کے پاس صرف علم تھااور علم نے اسے سردار بنادیا۔

▪شارٹ کٹ نہیں ،ریاضت
آج کا انسان ترقی کی اعلیٰ معراج پر پہنچ چکا ہے ۔اس کے پاس دنیا جہاں کی آسائشات اور سہولیات موجود ہیں ۔بہترین تعلیم ، جدید ٹیکنالوجی اور بے تحاشا وسائل ،لیکن اس کے باوجود بھی ہمارے اِردگرد شکوہ شکایات کرنے اور تنگی کا رونا رونے والوں کی بھرمار ہے. ایسا کیوں ہے؟ کمزوری ہمارے اپنے اندر ہے۔آج آپ کو فیس بک ، یوٹیوب اور بے مقصد فلموں میں کئی گھنٹے ضائع کرنے والے جوان تو مل جائیں گے لیکن ٹیکنالوجی کو اچھے مقصد اور کچھ نیا سیکھنے والے کے لیے استعمال کرنے والوں کی تعدادآٹے میں نمک کے برابر ہے۔

’’علم‘‘ بہت خوددار ہے ،یہ کسی بے قدرے کے پاس نہیں جاتا ۔اس کو اپنا پورا آپ دینا پڑتا ہے تب کہیں جاکر یہ انسان کے دِل میں بسیرا کرتا ہے،لیکن جس کو بھی یہ دولت نصیب ہوجائے تو پھر اس کی قدر و منزلت بھی بھرپور ہوتی ہے۔

یادرَکھیں! علم والا انسان ہی مہنگا ہوتا ہے،ڈگری والا نہیں۔ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم صرف ڈگری چاہتے ہیں ، ہم خواب نہیں دیکھتے،ہم نمبروں کے پیچھے بھاگتے ہیں، جبکہ علم اسی کو ملتا ہے جو اس کے لیے خواب دیکھے ، مجاہدہ اور ریاضت کرے اور اس کے لیے چھوٹے سے چھوٹا کام کرنے کو بھی تیار ہوجائے ۔ ریاضت کا مطلب ہوتا ہے پریکٹس ، محنت اور سمت کے ساتھ کوشش۔

میرا ایک شاگرد جو نویں کلاس میں مجھ سے ٹیوشن لیتا تھا،اس نے اپنی محنت کے بل پر اتنی ترقی کرلی کہ آج وہ لاکھوں میں تنخواہ لے رہا ہے اور یہ صرف ایک طالب علم نہیں میرے سیکڑوں شاگرد ایسے ہیں جن کی تنخواہ چھ ہندسوں میں ہے۔کوئی کسی گروپ کا سی ای او ہے ، کوئی کسی پراجیکٹ کو ہیڈ کررہا ہے توکوئی اپنا بزنس کررہا ہے ۔استاد کا کام علم دینا ہوتا ہے ، کامیابی شاگرد کی اپنی ہوتی ہے ۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اپنی پوری تعلیم میں ہم شارٹ کٹ اور ٹوٹکے ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں ،حالانکہ کا میابی کاکوئی شارٹ کٹ کسی کے پاس نہیں ہوتا اور نہ ہی شارٹ کٹ کے سہارے زندگی بسر کی جاسکتی ہے۔زندگی رزلٹ مانگتی ہے اور رزلٹ وہی دے سکتا ہے جو خواب دیکھے اور اس کی تعبیر کے لیے اپنی راحت و آرام کو قربان کردے.

▪ٹیوشن پڑھانے سے جوڈیشری پڑھانے تک
ٹیوشن پڑھاتے ہوئے میرا یہ عزم کبھی نہیں تھا کہ میں نے ہمیشہ ٹیوشن ہیح پڑھانی ہے ۔میرا خواب یہ تھا کہ آج اگرمیرے سامنے نویں ، دسویں کے بچے ہیں تو وہ وقت دور نہیں جب ججزمیرے شاگرد ہوں گے ۔میں اب تک اسٹاف کالج (پاک آرمی) کے کئی سیشنز پڑھا چکا ہوں ، سول سروسز میں اس وقت میرے بے شمار شاگرد ہیں ۔پاکستان کے معروف اداروں کے ایڈوائزری بورڈ کا میں حصہ ہوں ۔ٹیوشن پڑھانے سے آغاز کرکے اس مقام تک پہنچنے نے میری زندگی سے ’’ناممکن‘‘ کا لفظ ختم ہے.

ہمارے جوان کوئی بڑا قدم اس لیے نہیں اٹھاسکتے کیوں کہ ان کے دماغوں میں یہ لفظ موجود ہوتا ہے۔میری ا س تحریر کا مقصد Impossible کو
I am possible
سے بدلنا ہے ،کیونکہ اگر ایک اسٹینو گرافر اور اَن پڑھ ماں کا بیٹا اپنی محنت کے بل پر اس قابل ہوسکتا ہے کہ اس کی ویڈیوز سات سمندر پارپہنچ جائیں توآج کے نوجوان جواعلیٰ تعلیم اور بے تحاشا وسائل سے مالا مال ہیں ، وہ اگر محنت وہمت سے کام لیں تو کس قدر عروج پاسکتے ہیں!! آج میں اپنی تحریر و تقریر سے نوجوانوں کو جو رہنمائی دے رہا ہوں ؛میری بڑی حسرت سے سوچتا ہوں کہ کاش !اس طرح کی رہنمائی مجھے بھی مل چکی ہوتی.

▪3 بنیادی قابلیتیں
بڑا کام کرنے کے لیے قابلیت کے ساتھ ساتھ مثبت ذہن ،مثبت رویہ اوراچھا اخلاق چاہیے ہوتا ہے۔انسان کوئی بھی میدان اختیار کرلے لیکن اس میں بلندی پر جانے کے لیے تین طرح کی صلاحیتیں اپنے اندر پیدا کرنا ضروری ہوتی ہیں۔
Soft Skills
Middle Skills
Hard Skills
یونیورسٹیز میں طلبہ نے صرف کتابوں کا رٹا لگایا ہوتا ہے لیکن اس تھیوری کوعملی طورپر کیسے لاناہے یہ کسی کو نہیں معلوم ۔کتاب کی بات کو عملی وجود دینا Hard Skillsکہلاتا ہے ۔اسی طرح اپنے کلائنٹ کے ساتھ آپ کا رویہ اور اخلاق اس قدر عمدہ ہو کہ آ پ اس کو مطمئن کرسکیں ،یہ Soft Skillsکہلاتی ہیں۔آج اکثر لوگوں کے پاس وہ اخلاق نہیں ہوتا جس کی وجہ سے لوگ ان پر اعتماد کرسکیں ،جبکہ جدید دنیا میں تعلیم سے زیادہ قابلیت کی ڈیمانڈ ہے ۔میرے پاس اس وقت 150افراد کام کرتے ہیں اور ان میں ایک شخص ایسابھی ہے جو انگوٹھا چھاپ ہے لیکن اس کی تنخواہ ایک لاکھ روپے ہے،کیونکہ میں اس کی قابلیت کو دیکھتا ہوں ، ڈگری کو نہیں۔ ہمیں ڈگری والی اس سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔یہ تبدیل ہوگی تو اس معاشرے میں بہتری آئے گی۔تیسرے نمبر پرMiddle Skills ہیں ، جن کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا جو کام ہے اس کے مطابق کپڑے کیسے پہننے ہیں؟ ٹیبل مینرز کا خیال کیسے رکھنا ہے؟آپ نے اٹھنا بیٹھنا کیسے ہے؟ موبائل فون کیسے استعمال کرنا ہے اور کہاں کہاں پرسائلنٹ موڈ میں لگانا ہے؟ جس انسان کی بھی یہ تینوں اسکلز بہترین ہوجائیں وہ کسی بھی بڑے ادارے میں لاکھوں کی تنخواہ پاسکتا ہے۔میں نے بہت سارے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو قابل بدتمیز ہیں، یعنی قابلیت تو بہت ہے لیکن ان کے Soft Skills بالکل زیرو ہیں۔دنیا کو ایسے افراد کی ضرورت ہے جن میں صلاحیت بھی ہو اور ان کا اخلاق بھی اچھا ہو۔ جب بھی آپ کے اندر یہ دوچیزیں ہوں گی آپ مہنگے ہونا شروع ہوجائیں گے۔

دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ آپ اپنی فیلڈ میں اتنی مہارت اور تجربہ حاصل کرلیں کہ آپ کے پاس بے شمار افراد ہوں اور آپ ان سے کام لے رہے ہوں ۔اس سے بھی اگلا مرحلہ یہ ہے کہ آپ کے پاس پروفیشنل افراد ہوں اور آپ دوسرے اداروں کو اپنی خدمات دیں ،لیکن یہ تب ہوگا جب آپ وسیع النظر ہوں ، آپ صرف موجودہ کام پر اکتفا نہ کریں بلکہ اگلی منزلوں کے لیے بھی سوچیں اور یہ بات یاد رکھیں کہ اگر آپ کا دِل تنگ ہے تو آپ آگے نہیں جاسکتے۔آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے پیچھے قابل لوگ پیدا کیے جائیں ۔عقل مند کہتے ہیں :’’سمندر کا کنارا چھوڑوگے تو نیا کنارہ ملے گا۔‘‘کیونکہ ذہنی بونا کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔

آپ طالب علم ہیں ، ملازم ہیں ،خود کفیل ہیں یا ابھی جدوجہد کررہے ہیں۔آپ میں یہ خواہش ضرور ہوگی کہ زندگی میں ایک بلند مقام حاصل کیا جائے،لیکن ٹھہرئیے!ایک دفعہ پھر سوچ لیجیے کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟اگر واقعی آپ عام سے خاص بننا چاہتے ہیں تو پھر کچھ چیزوں کا فیصلہ ابھی کرنا ہوگا۔آپ نے اپنے لیے ایک بڑا خواب دیکھنا ہے، کیونکہ خواب نہیں ہوگا تو تعبیر کبھی نہیں ملے گی۔آپ نے معیار پر سمجھوتا نہیں کرنا ،جو بھی کام ہو وہ معیار کے لحاظ سے آپ کا اعلیٰ ترین کام ہو ، آپ نے اپنے ایک لمحے کو بھی ضائع نہیں کرنا ،آپ نے جگراتوں کے لیے اپنی ہمت بڑھانی ہوگی اور جب آپ محنت و پریکٹس کو اپنا شعار بنالیں گے تو پھر آپ کی زندگی سے بھی ’’ناممکن‘‘ کا لفظ ختم ہوجائے بن گا اور شاندار منزلیں آپ کا استقبال کریں گی۔

passtrack.nitb.gov.pk

Pass Track

코로나19 대응 공지(46) - 파키스탄 입국 절차 개편 안내(2020.10.2.)

1. (입국 절차 개편) 파키스탄 정부는 9월 중순 예고한 대로 코로나19 방역과 관련된 일부 입국 절차를 개편해 10.5.부터 시행할 예정이니, 참고하시기 바랍니다.

ㅇ (음성 확인서 제시) 국가별 코로나19 상황에 따라 카테고리 A/B로 분류, 카테고리 B 국가에서 출발하는 입국자들은 탑승 96시간 전 발급된 코로나19 음성 확인서(RT-PCR)를 탑승/도착시 제시해야 함.

- 한국을 포함, 카테고리 A로 분류된 국가(현재 38개국, 별첨 참조)에서 출발하는 입국자들은 음성 확인서를 제시할 의무가 면제됨.
※ 파키스탄 보건부는 2주마다 국가별 코로나19 상황을 평가해 카테고리 A/B 분류를 업데이트 할 예정
※ 도착시 기침, 고열 등 증상을 보이는 입국자는 48시간 이내 코로나19 검사를 실시, 결과를 파키스탄 보건 당국에 제출해야 함.

ㅇ (어플 설치) 모든 입국자들은 파키스탄 도착 전 Pass Track 어플을 설치, 계정을 생성한 후 성명, 여권번호 등 개인 정보를 입력해야 함.
※ 현재 Pass Track 어플은 안드로이드 폰에서만 다운로드 가능하며, 어플 다운이 불가할 경우 인터넷 링크(https://passtrack.nitb.gov.pk/login)상 정보 입력 가능

ㅇ (자가 격리 의무 폐지) 종전과 달리 입국자들은 자가 격리를 지킬 의무가 없음.

- 단, 입국시 증상을 보여 실시한 코로나19 검사에서 확진 판정을 받거나, 확진자의 밀접 접촉자로 분류되면 자가 격리가 요구됨.

2. (코로나19 상황) 최근 파키스탄 내 코로나19 신규 확진자 수는 일일 500~600명 수준을 유지 중이지만, 카라치 일부 지역에서는 확진자 수가 다시 증가하고 있어 각별한 주의가 요구됩니다.
※ 10.2. 현재 총 확진자/사망자 수는 313,431명/6,499명을 기록, 전일 대비 625명/15명 증가

ㅇ 따라서 우리 국민들께서는 기존에 안내해 드린 일상생활 속 방역수칙을 계속 실천해 줄 것을 당부 드립니다.

passtrack.nitb.gov.pk

보람되고 행복한 명절
맞이 하시기 바랍니다^^

[09/28/20]   날씨는 좋고
갈곳은 없으니
셀프세차

HUNZA

Why I Love Pakistan / Independence Day 2018

Korean Embassy in UAE

Korean Flag Displayed on ADNOC on the 40th Anniversary of Diplomatic Relations between Korea and UAE

Commemorating the 40th anniversary of the establishment of diplomatic relations between ROK-UAE, the two governments jointly held an event to display the national flags of both countries in representatvie buildings in the capitals of each country. The national flags of each country were displayed in ADNOC (Abu Dhabi National Oil Company) building, Abu Dhabi, and in Namsan Tower, Seoul, which is highly known to Korean nationals.

Especially, we could see the phrase 'Friendship', 'Trust', and 'Let's go together' in Korean on the ADNOC building, which shows our strong commitment to develop the bilateral relations.

한-UAE 수교 40주년을 맞아 6월 18일 저녁 양국 수도 (서울, 아부다비)의 대표적인 건물에 양국 국기를 조영하는 행사가 개최되었습니다.

아부다비에서는 아부다비 석유공사 (ADNOC) 건물에, 서울에서는 남산타워 (N Tower)에 각각 UAE 국기와 태극기가 조영되었습니다.

​특히, 아부다비의 ADNOC 건물에는 태극기와 함께 '우정, 신뢰', '함께 갑시다'라는 한글 문구가 게재되어 양국 관계의 특별함이 잘 표명되었습니다.

Video Link: https://www.youtube.com/watch?v=mgr5iPGIlSg

Photos from Korean Language Center Pakistan's post

[05/19/20]   کوریا کا چکر
ڈآکٹر نادر اعوان

اگر میرا بس چلے تو پاکستان سے پاس آؤٹ ہونے والے ہر بچے کو ماسٹرز کے کھاتے میں مفت کا دو سال کا کوریا کا چکر لگواؤں۔ ایسا چکر جو زندگی بھر ان کو ستاتا رہے۔ چین سے جینے نہ دے۔ ایک دفعہ ان نوزائیدا بچوں کے ہوش ٹھکانے آجائیں کہ دنیا ہوتی کیا ہے۔ محنت کسے کہتے ہیں اور پڑھائی کس چڑیا کا نام ہے۔ جہاں کھانے کی مشکل ہو پینے کی مشکل ہو رہنے کی مشکل ہو دھونے کی مشکل ہو وہاں گذارہ کیسے چلایا جاسکتا ہے۔

جو قوم بارہ گھنٹے کام کرے اس کی زندگی کیسی ہوتی ہے؟ ارب پتی لوگ مرسڈیز گھر کھڑی کرکے بس میں کیوں سفر کرتے ہیں؟ 55 سالہ ورلڈ فیموس پروفیسر 10 کلومیٹر پیدل چل کر یونیورسٹی کیوں آتا ہے؟ 45 کلو کی لڑکی کو وزن کی فکر کیوں کھائی جا رہی ہے؟ ستر سالہ بوڑھا ہر دوسرے دن ہائیکنگ کرنے کیوں جارہا ہوتا ہے اور 50 سالہ مائ اتنی پیاری کیوں لگتی ہے؟ لوگ بڑے بڑے بنگلوں کی بجائے اپارٹمنٹ کو کیوں پسند کرتے ہیں۔ دکانوں میں کام کرنے والی خواتین گھنٹہ گھنٹہ تک گاھک نہ آنے کے باوجود کھڑی کیوں رہتی ہیں، بیٹھ کیوں نہیں جاتیں۔

آپ نے ضرور یہ فقرہ بہت دفعہ سنا ہوگا کہ مملکت خداداد کو اللہ نے بہت سے قدرتی ذخائر سے مالا مال کیا ہے۔ آپ کو کوریا جا کر سمجھ آئے گی کہ سب سے بڑا قدرتی وسیلہ انسانی ذہن ہے۔

کوریا ایسی بھٹی ہے کہ جو اس میں سے پار ہو جائے وہ سونا بن جاتا ہے۔ یہ دو سالہ ٹریننگ گویا پی ایم اے کاکول کی طرح ساری زندگی کیلئےبچوں کو سیدھا کر دے گئی۔ ان کو ہر کھانا اچھا لگے گا۔ چائے کے بغیر جینا آجاۓ گا۔

کوریا ایک طلسم ہوشربا ہے۔ جو چھ سال میں نے کوریا میں گزارے اب ان کے بارے میں سوچوں تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی خواب تھا یا خیال تھا یا کوئ معراج نما تھی کہ نہ ایسی جگہ پر پہلے کبھی گیا اور نہ بعد میں جا پاؤں گا۔ ہر چیز مختلف تھی۔ وہ دنیا الگ ہے، وہ لُونلی پَلینیٹ ہے۔ وہاں لوگ ہنستے رہتے ہیں۔ ٹرین کے ڈبے میں ایسا ہُو کا عالم ہوتا ہے کہ سوئ گرنے کی آواز تک سنائی دیتی ہے۔ یہ لوگ بات نہیں کرتے، ٹانگ نہیں پھیلاتے، کھانستے نہیں، باقی چھوڑیے ان کی ٹرین میں تو بچے بھی نہیں ہوتے کیونکہ ان کی شرح پیدائش پاکستان کے مقابلے میں سورج کو چراغ دکھانے والی بات ہے۔ اگر کوئی بچہ ہو بھی تو آرام سے چپ کر کے پڑا رہتا ہے۔ صرف میری بیٹی روتی رہتی تھی۔

کوریا ایک عجیب ملک ہے جہاں پر کوئی مرد کسی عورت کو دیکھتا ہی نہیں۔ اگر آپ اپنی بیگم یا خدانخواستہ یوجا چنگو (گرل فرئینڈ) کے ساتھ ٹرین کے ڈبے میں ہیں تو یوں سمجھیں آپ اپنے گھر کی تنہائی میں ہیں۔ کیونکہ کوئی آپ کو نہیں دیکھ رہا۔ نہ جانے ہمارے خطے کے لوگ اتنی بھوکی نظروں سے عورتوں کو کیوں دیکھتے ہیں۔ اگر آپ کی ماں بہن یا بیٹی کوریا جانا چاہتی ہے تو یقین مانئے وہ اسلام آباد سے کئی گُنا محفوظ ہے۔

پوسٹ ڈآک کے دوران یونیورسٹی سے گھر آنے جانے میں تقریبا چھ کلومیٹر وآک کرتا تھا۔ اب تو دو کلومیٹر نہیں چلا جاتا۔ لوگ ایویں ہی بیس بیس کلومیٹر سائیکل دوڑائی پھرتے ہیں۔ ان کو شوگر کم ہوتی ہے، ان کو ہارٹ اٹیک کم ہوتے ہیں، بڑھاپے میں بھی اچھی صحت کی وجہ سے زندگی کا لطف لے لیتے ہیں۔

شائید یہ سب دیکھ کر میرے ملت کے جوان بھی اقبال کے شاہین بن جائیں۔

منقول

youtube.com

How to protect yourself against COVID-19

COVID-19 is an infectious disease caused by a new coronavirus introduced to humans for the first time. It is spread from person to person mainly through the ...

youtube.com

How to protect yourself against COVID-19

COVID-19 is an infectious disease caused by a new coronavirus introduced to humans for the first time. It is spread from person to person mainly through the ...

Emirates Nuclear Energy Corporation

لحظة فخر للبرنامج النووي السلمي الإماراتي باستلام شركة نواة للطاقة رخصة تشغيل المحطة الأولى في #براكة من الهيئة الاتحادية للرقابة النووية.
نبارك لقيادتنا الرشيدة وجميع موظفينا وشركاءنا الاستراتيجيين هذا الإنجاز التاريخي

A moment of national pride and a milestone for the UAE Peaceful Nuclear Energy Program as Nawah receives the Operating License for Unit 1 of the Barakah plant from FANR.

Congratulations to our employees and partners who have turned this vision into a reality.

Want your business to be the top-listed Clinic in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Videos (show all)

Korean Language center Pakistan student
korea work visa
Muslim  food in korea

Location

Telephone

Address


NUCOM I Nstitute Al Mustafa Palaza 6th Road Rawalpindi
Rawalpindi
87500
Other Rawalpindi clinics (show all)
Menstrual Cups - Pakistan 0300-9125507 Menstrual Cups - Pakistan 0300-9125507
Offce 201-202, 2nd Floor, Umer Khan Plaza , Commitee Chowk
Rawalpindi, 46000

American Fertility Centre Islamabad American Fertility Centre Islamabad
Office # 08, 2nd Floor, Pak Land Square, G-8 Markaz, Islamabad
Rawalpindi, 44080

American Fertility Centre Pakistan is here to provide you the world`s best infertility evaluation & treatment with most advanced procedures and highly trained & experienced consultant in collaboration.

MS PET Clinic Rawalpindi MS PET Clinic Rawalpindi
Chaduary Bostan Khan Road,Scheme 3 ,opposite To Adiyala Electronics Shop Basement Of Irshad Plaza Rawalpindi
Rawalpindi

Dog & cat vaccination,Treatment, Minor surgery,Sale purchase, Dog &cat feed and accessories

Loonza herbal laboratories. Loonza herbal laboratories.
Al Awan Agencies
Rawalpindi, 46000

LOONZA HERBAL LABORATORIES RAWALPINDI PAKISTAN .03425563260, 03009568232 we deal in all types of herbal products and 3rd party manufacturing

Arsalan's Orthopedics Arsalan's Orthopedics
Shaheen Health Plus. Ground Floor, Mega Medical Complex, Police Station Road, Saddar, Rawalpindi
Rawalpindi

orthopedic surgical services

The Dental Lounge The Dental Lounge
376, Lane 1, Sir Syed Avenue, Gulrez III
Rawalpindi, 46000

Dental Lounge is a relaxed and modern dental clinic, committed to making people smile using the latest technology.

Medicine point - home delivery Medicine point - home delivery
OFFICE 201,202, 2ND FLOOR, UMER KHAN PLAZA, UMER ROAD, NEAR GULISTAN CINEMA, COMMITTEE CHOWK
Rawalpindi, 46000

medicines home delivery service across pakistan, you can share your health issues and get required medicine via home delivery

Dr fozia - DHMS Dr fozia - DHMS
Dhoke Khabba Rawalpindi
Rawalpindi

Society For Mentally Handicapped Childeren Society For Mentally Handicapped Childeren
20 B, Satellite Town
Rawalpindi

Chambeli Institute is a project of Society for mentally handicapped children. We are grooming the mentally retarded children with intense care.

British Slimming Clinic British Slimming Clinic
209/A-1 Firdousi Road
Rawalpindi, 46000

Elite Physical Therapy Centre Elite Physical Therapy Centre
1st Floor Rafay Mall Peshawar Road
Rawalpindi, 46000

Elite Physical Therapy Centre Offers You Complete Rehabilitation Approach Through Latest Modalities And Advanced Treatment Expertise.

Dr Shyna Shahid dermatology clinic Dr Shyna Shahid dermatology clinic
Hope Clinic Peshawar Road Rawalpindi
Rawalpindi

consultant dermatologist and cosmetologist

About   Contact   Privacy   FAQ   Login C