Tib e Nabvi

Tib e Nabvi herbal treatment for all types of dangerous disease.

ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے لیے لال مرچیں: فوائد اور محفوظ استعمال کا طریقہجی ہاں! لال مرچیں (جیسے کییّن، جلپینو یا عا...
04/05/2025

ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے لیے لال مرچیں: فوائد اور محفوظ استعمال کا طریقہ

جی ہاں! لال مرچیں (جیسے کییّن، جلپینو یا عام سرخ مرچ) ہائی بلڈ پریشر (بلند فشار خون) اور ذیابیطس (شوگر) دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں، اور اس کا کریڈٹ جاتا ہے ان میں موجود فعال جزو کیپسیسین کو۔ تاہم، ان کا استعمال اعتدال سے اور ذاتی برداشت کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنا ضروری ہے۔ ذیل میں تفصیل سے فوائد اور استعمال کا طریقہ دیا گیا ہے:

🌟 بلڈ پریشر اور شوگر کے لیے ٹاپ 5 صحت بخش فوائد

بلڈ پریشر کو کم کرتی ہے

کیپسیسین TRPV1 ریسیپٹرز کو ایکٹیویٹ کرتا ہے، جو خون کی نالیوں کو پُرسکون کرتا ہے اور دورانِ خون کو بہتر بناتا ہے۔

تحقیق (Cell Metabolism): باقاعدہ مرچوں کا استعمال ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو 13% تک کم کرتا ہے۔

پوٹاشیم سے بھرپور ہوتی ہیں، جو سوڈیم کا توازن قائم رکھتا ہے۔

بلڈ شوگر کو کنٹرول کرتی ہے

انسولین کی حساسیت میں بہتری: کیپسیسین خلیوں کو گلوکوز جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق (American Journal of Clinical Nutrition): مرچوں کے استعمال سے کھانے کے بعد شوگر لیول میں 15% کمی آئی۔

وقت کے ساتھ HbA1c (تین ماہ کی شوگر رپورٹ) کو بھی کم کر سکتی ہے۔

اینٹی انفلامیٹری اور اینٹی آکسیڈنٹ اثرات

وٹامن C کی مقدار نارنجی سے بھی زیادہ! خون کی نالیوں کو صحت مند رکھنے میں مددگار۔

کیپسیسین سوزش کو کم کرتا ہے، جو انسولین ریزسٹنس اور دل کی بیماریوں سے منسلک ہے۔

وزن کم کرنے میں مددگار

میٹابولزم کو تیز کرتا ہے (روزانہ تقریباً 50 کیلوریز زیادہ جلتی ہیں)۔

بھوک کم کرکے پیٹ بھرنے کا احساس پیدا کرتا ہے۔

کولیسٹرول کو کم کرتی ہے

LDL ("خراب") کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈز میں کمی۔

بعض تحقیقات کے مطابق HDL ("اچھا") کولیسٹرول میں اضافہ۔

📊 غذائی معلومات (فی ایک سرخ مرچ، 45 گرام)

غذائی جزو مقدار یومیہ ضرورت کا فیصد فائدہ
وٹامن C 65mg 72% اینٹی آکسیڈنٹ، قوتِ مدافعت
وٹامن A 428 IU 9% آنکھوں اور جلد کی صحت
پوٹاشیم 153mg 4% سوڈیم کا توازن، بلڈ پریشر کنٹرول
کیپسیسین 0.1–1mg - اینٹی شوگر، درد میں کمی
فائبر 0.8g 3% شوگر جذب ہونے میں تاخیر

✅ لال مرچوں کو محفوظ طریقے سے استعمال کرنے کے طریقے

بلڈ پریشر کے لیے:

تازہ مرچیں کھانوں میں شامل کریں: سلاد، سوپ یا سبزیوں میں کاٹ کر ڈالیں۔

کییّن پیپر ڈرنک: ¼ چمچ کییّن پاوڈر + نیم گرم پانی + لیموں (صبح ڈیٹاکس ڈرنک)۔

ذیابیطس کے لیے:

مرچ پاوڈر انڈوں، بھنی سبزیوں یا دال پر چھڑکیں۔

زیادہ فائبر والی غذاؤں (مثلاً لوبیا) کے ساتھ استعمال کریں تاکہ شوگر اچانک نہ بڑھے۔

خوراک کی مقدار:

ابتدا میں ¼ سے ½ مرچ روزانہ (یا ¼ چمچ پاوڈر)۔

زیادہ استعمال سے معدے میں جلن یا وقتی بلڈ پریشر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

⚠️ احتیاطی تدابیر

ایسڈ ریفلوکس / جلن: مرچیں تیزابیت کو بڑھا سکتی ہیں۔

ادویات کا اثر: بعض بلڈ پریشر کی دواؤں کے اثر کو بڑھا سکتی ہیں (بلڈ پریشر مانیٹر کریں)۔

گردوں کے مریض: زیادہ پوٹاشیم مضر ہو سکتا ہے۔

نرم معدہ: اگر مرچ برداشت نہیں تو ہلکی مرچیں (جیسے پوبلانو) استعمال کریں۔

🌶️ ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے لیے 3 آسان مرچ والے نسخے

مرچ لیموں ڈیٹاکس ڈرنک
1 کپ پانی + ¼ چمچ کییّن + 1 چمچ لیموں + چٹکی بھر ہلدی

مرچوں والے بھنے ہوئے چنے
چنوں کو زیتون کے تیل، مرچ پاوڈر، اور زیرہ کے ساتھ مکس کریں اور 400°F پر 20 منٹ بیک کریں۔

مرچوں والی سبزیاں
پالک یا کیل کو لہسن، آدھی کٹی ہوئی مرچ اور تل کے تیل میں ہلکا فرائی کریں۔

🔬 سائنس کی حمایت

BMJ کی تحقیق: مرچ کھانے والوں میں 10 سال میں ذیابیطس کا خطرہ 12% کم رہا۔

تحقیق (Nutrients): کیپسیسین نے سسٹولک بلڈ پریشر میں نمایاں کمی کی۔

📝 آخری رائے
✅ لال مرچیں اگر اعتدال سے استعمال کی جائیں تو بلڈ پریشر اور شوگر کے لیے فائدہ مند ہیں — اس کی وجہ ہے کیپسیسین، وٹامنز، اور فائبر۔
✅ بہترین استعمال: نمک یا چینی کے بغیر ذائقہ بڑھانے، میٹابولزم کو بڑھانے کے لیے۔
✅ اگر معدے میں تیزابیت، السر یا مصالحہ کی حساسیت ہو تو پرہیز کریں۔

🌶️ روزانہ کھانوں میں تھوڑی سی کییّن مرچ شامل کریں اور اپنا بلڈ پریشر یا شوگر لیول چیک کرتے رہیں!

شوگر ، بلڈ پریشر ، برص یا پھلبہڑی ، سوزاک ، رعشہ ، اٹھراہ ، تھیلیسیمیا ، السر ، کینسر ، ڈسک پرابلم ، فالج و لقوہ ، ہیپاٹ...
08/10/2021

شوگر ، بلڈ پریشر ، برص یا پھلبہڑی ، سوزاک ، رعشہ ، اٹھراہ ، تھیلیسیمیا ، السر ، کینسر ، ڈسک پرابلم ، فالج و لقوہ ، ہیپاٹائٹس ، بواسیر ، بے اولادی ، جوڑ درد ...

سورہ بقرہ کا خلاصہ
21/04/2021

سورہ بقرہ کا خلاصہ

سورہ فاتحہ کا خلاصہ
21/04/2021

سورہ فاتحہ کا خلاصہ

100 بیماریوں کا فطری اور آسان علاجبیماریوں پہ قابو پانے کے لیے قدرتی طریقہ علاج کی اہمیت اور مقبولیت روز افزوں ہےصحت زن...
23/02/2021

100 بیماریوں کا فطری اور آسان علاج
بیماریوں پہ قابو پانے کے لیے قدرتی طریقہ علاج کی اہمیت اور مقبولیت روز افزوں ہے
صحت زندگی ہے۔ بیماری کی صورت میں اچھی صحت کے لیے ادویات کا صحیح اور بے جا استعمال بہت ضروری ہے۔ ایلوپیتھک دوائیوں کے بے جا اور غیر ضروری استعمال سے ان دوائیوں کے مضر اثرات کے باعث صحت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہوش ربا مہنگائی کے اس دور میں آسمان سے باتیں کرتی ان ادویات کو خریدنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
دوائیوں کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وجہ سے ان گھریلو ٹوٹکوں کی اہمیت اور افادیت بڑھ گئی ہے۔ اسی وجہ سے بیماریوں پہ قابو پانے کے لیے قدرتی طریقہ علاج کی اہمیت اور مقبولیت روز افزوں ہے۔ مغربی ممالک میں اس پہ نت نئی تحقیقات جاری ہیں۔ چونکہ قدرتی طریقہ علاج میں کسی قسم کے مضر اثرات کا کوئی خطرہ نہیں اس لیے اس سے صحت کو نقصان پہنچنے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔
حالیہ برسوں میں امریکا، جاپان، چین اور انڈیا میں ہربل ادویات، مختلف پھلوں اور جڑی بوٹیوں سے بنی ہوئی ادویات کی انڈسٹری سب سے زیادہ ترقی کر رہی ہے۔ ہر سال ان ادویات پہ کروڑوں ڈالرز کا کاروبار ہو رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کی سبزیوں، پھلوں، اناج وغیرہ میں انمول طاقت رکھی ہے۔ شہد، لہسن، گھیا (لوکی) زیتون کا تیل، میتھی، کلونجی، کالی مرچ، اسپغول کا چھلکا، انجیر، تربوز، خربوزہ، ناشپاتی، آڑو، تازہ پانی، آلو بخارا، نمک، گڑ، دہی، ستو، جو، گاجر، دھنیا، پودینہ، مولی، پیاز، گھیکوار۔ کچی لسی وغیرہ حقیقتاً من و سلویٰ سے بڑھ کر نعمتیں ہیں۔ ان کے مناسب استعمال سے مختلف بیماریوں ان کی علامات اور پیچیدگیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
ذیل میں مختلف سبزیوں، پھلوں وغیرہ کے مختلف طریقوں سے استعمال پر مشتمل 100 آزمودہ نسخے بیان کیے جا رہے ہیں۔ ایلوپیتھک ڈاکٹر ہونے کے باوجود مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ قدرتی طریقہ علاج بہت کارگر ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں کسی قسم کے مضر اثرات اور دوائیوں کے غلط سلط ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ اس بات کا تجربہ اور مشاہدہ کیا گیا کہ بعض دفعہ جب ایلوپیتھک دوائیاں کچھ نہ کر سکیں تو قدرتی طریقہ علاج نے جادوئی اثر کر دکھایا۔ سینکڑوں مریضوں نے ان نسخوں پر عمل کر کے فائدہ اٹھایا۔
یہ سب آزمودہ نسخے ہیں ان کے لیے طب کی مشہور کتابوں سے استفادہ اور بزرگوں سے مشورہ لیا گیا۔ علاج ازیں مختلف حالات میں بیماریوں سے نمٹنے میںانھیںکامیابی کے ساتھ آزمایا بھی گیا۔ یہ نسخے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ بیماری کی مکمل تشخیص اور علاج کے لیے اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں جبکہ دوائیوں کے غیر ضروری استعمال سے پرہیز کریں۔
-1-گھیکوار کا گودا صبح شام منہ پر لگانے سے چہرے کے داغ دھبے آہستہ آہستہ دور ہو جاتے ہیں۔
-2-پیشاب کی جلن دور کرنے کے لیے پانی کا زیادہ استعمال کریں۔
-3-زیادہ پیاس لگے تو ککڑیاں کھائیں۔ پیاس کسی صورت نہ بجھے تو دودھ کی کچی لسی بنا کر دو تین گلاس پئیں۔ پیاس ختم ہو جائے گی۔
-4-پاؤں جلتے ہوں تو صبح شام گھیکوار کے گودے سے مالش کریں۔
-5-دل کی تیز دھڑکن اور پیٹ میں گیس کو روکنے کے لیے سونف اور خشک دھنیا ایک ایک چھٹانک صاف کرکے پیس لیں۔ ڈیڑھ چھٹانک شکر ملائیں، صبح شام ایک ایک چمچ لیں۔
-6-اپنی نظر بہتر بنانے کے لیے سات بادام پیس کر آدھا چمچ سونف مصری کے ساتھ روزانہ لیں۔
-7-گرمیوں میں آنکھ کی سرخی اور جلن دور کرنے کے لیے پانچ یا سات آملے لے کر مٹی کے پیالے میں رات کو بھگو دیں، صبح پانی چھان کر آنکھوں پر چھینٹے ماریں۔
-8-بچوں میں پیٹ کے کیڑوں سے نجات کے لیے کمیلہ کا 3 گرام سفوف صبح شام دیں۔
-9-پاؤں پھٹنے اور جلن کے علاج کے لیے ایک تولہ کچا سہاگا ایک تولہ پھٹکڑی، ایک تولہ گندھک لے کر پیس لیں اور اس میں پٹرولیم جیلی ملا کر رات کو سوتے وقت پاؤں پر لگائیں چند دنوں میں افاقہ ہو جائے گا۔
-10-موٹاپا کم کرنے کے لیے پسی ہوئی کلونجی کا آدھا چمچ ایک کپ پانی میں ابال کر صبح نہار منہ اور شام کو لیں۔ ایک گلاس پانی میں کلونجی تیل کے چار پانچ قطرے اور ایک لیموں کا رس ڈال کر صبح شام متواتر ایک مہینہ لینے سے بھی موٹاپے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
-11-زکام کے خاتمے کے لیے تھوڑی سی چینی دہکتے ہوئے کوئلوں پر ڈال کر اس کا دھواں سونگھیں۔
-12-ہرے دھنیے کا پانی نکال کر سونگھنے سے چھینکوں کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
-13-نکسیر کا خون بند کرنے کے لیے سبز دھنیے کا پانی نکال کر سونگھیں۔
-14-ناک کی بدبو دور کرنے کے لیے چٹکی بھر پھٹکڑی تھوڑے سے پانی میں حل کر کے ناک میں ڈالیں۔
-15-چھوٹے بچوں میں پیشاب کی جلن دور کرنے کے لیے پانی میں پیاز کچل کر 60 گرام چینی ملا کر صبح شام دو سے تین چمچ پلائیں۔
-16-بدہضمی اور الٹیاں روکنے کے لیے 30 گرام پیاز، پودینہ کے چند پتے سات عدد کالی مرچ اچھی طرح ملا کر دیں۔
-17-صبح شام سلاد کے طور پر پیاز کا استعمال بدہضمی روکتا ہے اور قوت باہ بڑھاتا ہے۔
-18-بھوک بڑھانے کے لیے پھلوں کے سر کے میں پیاز اور ادرک کاٹ کر، پودینے کے پتے، لہسن کے دو چار ٹکڑے اور تھوڑی سی کشمش ملا کر کھانے کے ساتھ بطور سلاد استعمال کریں۔
-19-سر کے زخم اور خارش دور کرنے کے لیے نیم کی نمولیاں پیس کر پانی میں ملا کر گاڑھا لیپ بنا کر رات کو بالوں میں اچھی طرح لگائیں۔
-20-سردیوں میں ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کی سوجن دور کرنے کے لیے گھیا (لوکی) کا کدوکش کر کے ہاتھ پاؤں پر اچھی طرح لگائیں ایک گھنٹے بعد ہاتھ پاؤں دھو لیں اور پھر پٹرولیم جیلی لگائیں۔
-21-کھانسی روکنے کے لیے صبح، دوپہر، شام ملٹھی منہ میں رکھ کر چوسیں اور اس کا جوس نگل لیں۔
-22-آنکھوں کی جلن دور کرنے کے لیے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں اور برف سے ٹکور کریں۔
-23-زخم کی سوجن دور کرنے کے لیے زخم پر پیاز جلا کر اس میں ہلدی ملا کر لیپ بنا کر لگائیں۔
-24-دائمی قبض روکنے کے لیے صبح شام زیتون کا تیل استعمال کریں۔
-25-پیٹ کے جملہ امراض روکنے کے لیے اسپغول کا چھلکا بلاناغہ استعمال کریں۔
-26-ہچکی روکنے کے لیے دیسی گھی میں سوجی کا حلوہ بنا کر کھائیں۔ منہ میں برف کی ڈلی رکھیں یا آہستہ آہستہ گنڈیریاں چوسیں۔
-27-بچوں میں بخار زیادہ ہو جائے تو فوراً نہلا دیں یا ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کریں۔
-28-دست اور قے روکنے کے لیے سونف، پودینہ دھنیا کا قہوہ بنا کر پلائیں۔
-29-پاؤں کو نرم و ملائم کرنے کے لیے سونے سے دس منٹ پہلے پاؤں تازہ پانی میں بھگوئیے۔ پانی میں چند قطرے روغن زیتون اور تھوڑا سا نمک ملائیں۔ خشک کر کے پٹرولیم جیلی یا سرسوں کا تیل لگائیں۔
-30-کولیسٹرول کم کرنے کے لیے ایک چمچ آملہ پاؤڈر اور مصری پاؤڈر ملا کر روزانہ صبح نہار منہ ایک گلاس پانی کے ساتھ لیں۔
-31-زہریلے کیڑے کے کاٹ لینے کی صورت میں لہسن کا تیل اور شہد ملا کر زخم والی جگہ پر لگائیں۔
-32-بچوں میں پیٹ کے کیڑے ختم کرنے کے لیے کلونجی کو پانی میں ابال کر اس کا پانی رات کو سونے سے پہلے پلائیں۔
-33-جوڑوں کی درد روکنے کے لیے نیم کے پتوں کے تیل کی مالش کریں۔
-34-کھانسی دور کرنے کے لیے ایک چمچ شہد اور ایک چمچ ادرک کا رس ملا کر روزانہ صبح دوپہر۔ شام تین سے پانچ روز تک لیں۔
-35-لہسن کو جلا کر سر کے اور شہد میں ملا کر لگانے سے پھوڑے پھنسیاں اور نشان دور ہو جاتے ہیں۔
-36-ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کے لیے ان چھنے آٹے میں تازہ یا پسی ہوئی میتھی ملا کر روٹی بنا کر روزانہ ناشتے میں کھائیں۔ دو سے تین ہفتوں میں شوگر کنٹرول ہو جائے گی۔
-37-دانت کے درد کو دور کرنے کے لیے لونگ استعمال کریں۔
-38-بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کے لیے آڑو، پھلیاں ، لوبیا ، مٹر ، ناشپاتی، کیلا زیادہ استعمال کریں۔
-39-کولیسٹرول کا لیول کم کرنے کے لیے جئی کا آٹا اورگاجر زیادہ استعمال کریں۔
-40-سونف کا زیادہ استعمال آنکھوں کی بینائی تیز کرتا ہے۔
-41-شکر اور سونف ہم وزن لے کر اس کو کوٹ لیں، چکر دور کرنے کے لیے صبح و شام ایک چمچ پانی کے ایک گلاس لے لیں۔
-42-صبح نہار منہ روزانہ دو سے تین گلاس پانی پئیں۔ نظام انہضام درست ہو جائے گا۔
-43-دانتوں کی چمک برقرار رکھنے کے لیے صبح و شام نیم کی مسواک استعمال کریں۔
-44-برص کے داغ دور کرنے کے لیے خالص شہد ایک چمچ، عرق پیاز ایک چمچ اور نمک آدھا چمچ ملا کر داغوں پر لگائیں۔
-45-حمل میں گرمی، قے اور سر درد دور کرنے کے لیے آلو بخارا کا زیادہ استعمال کریں۔ آلو بخارا کا شربت بنانے کے لیے پانچ چھ آلو بخارے رات کو پانی کے گلاس میں بھگو دیں ۔ تھوڑی سی چینی اور نمک ملا کر آلو بخارے مسل دیں۔ برف ڈال کر استعمال کریں۔
-46-موٹاپا دور کرنے کے لیے اپنی خوراک سے ہر قسم کی چکنائی، کولاڈر نکس اور مٹھائیوں کا استعمال بالکل ترک کردیں۔
-47-تازہ پھل اور سبزیاں زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔
-48-دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے صبح و شام سیر کریں اور مرغن غذاؤں سے پرہیز کریں۔
-49-چھینکوں کی بھرمار سے بچنے کے لیے ایک چمچ میتھی دانہ ایک کپ پانی میں ابال لیں۔ ٹھنڈا کر کے اس کو چھان کر سونے سے پہلے دو تین ہفتے تک پئیں۔
-50-ڈکار دور کرنے کے لیے کھانے کے بعد ادرک کے باریک ٹکڑوں پر نمک چھڑک کر آہستہ آہستہ چبا کر کھائیں اس کے علاوہ سالن میں ادرک اور لہسن کا استعمال زیادہ کریں۔
-51-خون کی کمی دور کرنے کے لیے انار کا جوس زیادہ پئیں۔ چقندر کا استعمال بطور سلاد کریں اور سیب بھی خوب کھائیں۔
-52-ہاتھ یا پاؤں میں پسینہ زیادہ آتا ہو تو پانی میں لیموں کا رس یا سرکہ ملا کر دن میں تین بار اور سونے سے پہلے دھوئیں، افاقہ ہو گا۔
-53-پیٹ میں ہر وقت گیس رہتی ہو تو میتھی کے بیج کھائیں۔گردے اور مثانے کی پتھری نکالنے کے لیے روزانہ نہار منہ پانچ عدد انجیر کھائیں اور پتھر چٹ پودے کے پتے چبائیں۔
-54-آنکھوں کے گرد حلقے دور کرنے کے لیے صبح سویرے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر رگڑیں اور گرم گرم انگلی آنکھوں کے گرد حلقے پر پھیریں۔
-55-جسم کی چربی پگھلانے کے لیے نہار منہ پانی میں شہد اور چند قطرے لیموں ڈال کر روزانہ لیں۔
-56-مسوڑھوں سے خون بہتا ہو تو جامن کے دو تین پتے دھو کر چبائیں اور اسے مسوڑھوں پر ملیں۔
-57-بچوں میں ناک کی نکسیر روکنے کے لیے انہیں ککڑی اور کھیرا کھلائیں۔
-58-ناخن مضبوط کرنے کے لیے روزانہ چند ہفتے تک ہلکے گرم زیتون کے تیل میں تھوڑی دیر ہاتھوں کے ناخنوں کو ڈبو کر رکھیں۔
-59-بدہضمی اور بھاری پن سے بچنے کے لیے کھانا کھانے کے بعد تھوڑا سا گڑ سویٹ ڈش کے طور پر لیں۔
-60-دانتوں میں خون آنے سے روکنے کے لیے ایک لیموں کا رس اور ایک کپ نیم گرم پانی اور آدھا چمچ نمک ملا کر صبح و شام غرارے کریں۔
-61-پھنسیوں پر فالسے کے پتے باریک پیس کر لگانے سے پھنسیاں ختم ہو جاتی ہیں۔
-62-قے روکنے کے لیے چھوٹی الائچی یا املی کا استعمال کریں۔
-63-چھوٹے بچے، نمکول کا پانی نہ پئیں تو دو چمچ شہد، آدھا چمچ نمک ۔ ایک چمچ چینی اور تین چار قطرے لیموں ڈال کر دوگلاس پانی میں حل کر گھریلو نمکول بنائیں اور اسہال اور قے کی صورت میں بچوں کو دیں۔
-64-ہاتھ جلنے کے صورت میں متاثرہ جگہ گاجر پیس کر اس کا لیپ لگائیں۔
-65-بھاپ سے ہاتھ جل جائے تو متاثرہ جگہ آلو کے ٹکڑے کاٹ کر ملیں۔
-66-آملہ کا مربہ کھانے سے بار بار نکسیر آنا بند ہو جاتی ہے۔
-67-پیٹ میں شدید درد روکنے کے لیے بڑی الائچی، دار چینی، سونف، پودینہ کا قہوہ بنا کر پئیں۔
-68-آواز بیٹھ جائے تو نیم گرم پانی میں ہلکا نمک ملا کر غرارے کریں یا ملٹھی چبائیں۔ ادرک کے رس میں شہد ملا کر چاٹنے سے بھی گلا ٹھیک ہو جاتا ہے۔
-69-انجیر کھانے سے منہ کی بدبو دور ہو جاتی ہے۔
-70-ٹیکہ کی جگہ سوجنے کی صورت میں برف سے ٹکور کریں۔
-71-آنکھوں کو طراوت دینے کے لیے کچی گاجروں کا استعمال زیادہ کریں۔
-72-سبز دھنیے کا عرق چھالوں پر لگانے سے چھالے دور جاتے ہیں۔
-73-دانتوں میں درد دور کرنے کے لیے لونگ پیس کر لیموں کے رس میں ملا کر درد والی جگہ پر لگائیں۔
-74-خراب اور کٹے پھٹے ہونٹ ٹھیک کرنے کے لیے گلاب کا پھول آدھا پیس کر اس میں ذرا سا مکھن لگا کر ایک ہفتہ تک ہونٹوں پر لیپ کریں۔
-75-زخموں میں پیپ آنے کو روکنے کے لیے دو سے تین جاپانی پھل روزانہ کھائیں۔
-76-جسمانی کمزوری دور کرنے اور وزن میں اضافہ کرنے کے لیے روزانہ دودھ کا ملک شیک لیں۔ رات کو گیارہ بادام اور ایک چمچ کشمش آدھی پیالی پانی میں بھگو کر صبح بادام اور کشمش کے دانے کھا کر بچا ہوا پانی پی لیں۔
-77-لیکیوریا اور ٹانگوں میں مستقل درد ختم کرنے کے لیے روزانہ تین ہفتے تک صبح کے وقت سات بادام لیں۔
-78-آپریشن وغیرہ کے زخم کے نشان دور کرنے کے لیے گھیکوار کے گودے میں تھوڑا سا زیتون کا تیل ڈال کرکے گرم کر کے روزانہ لگائیں۔
-79-ہاتھوں میں کھجلی اور خارش روکنے کے لیے گھیا (لوکی) کچل کر صبح شام اس کا رس ہاتھوں پر اچھی طرح ملیں۔
-80-دل کی گھبراہٹ دور کرنے اور ہائی بلڈ پریشر روکنے کے لیے ایک پیالی خالص شہد، پھلوں کا سرکہ ایک پیالی اور دیسی لہسن (آٹھ دانے) تینوں کو گرائینڈر میں اچھی طرح پیس کر ملا کر فریج میں رکھ دیں ایک ہفتے بعد صبح و شام ایک چمچ لیں۔
-81-سر کی خشکی دور کرنے کے لیے چقندر کے پتے ابال کر روزانہ سر دھوئیں۔
-82-موسم گرما میں پیشاب کی جلن اور رکاوٹ دور کرنے کے لیے ’’گرما‘‘ استعمال کریں۔
-83-جلنے کی صورت میں متاثرہ جگہ پر فوری طور پر کاسٹر آئل لگائیں۔
-84-خارش دور کرنے کے لیے ناریل کے تیل میں کافور ملا کر خارش زدہ جگہ پر لگائیں۔
-85-شہد کی مکھی یا بھڑ کے کاٹنے کی صورت میں نمک سرکہ میں ملا کر متاثرہ جگہ پر لگا کر ڈنگ نکال دیں۔ درد اور سوجن کم ہو جائے گی۔
-86-آدھے سرکے درد کو دور کرنے کے لیے لیموں کے چھلکے پیس کر اس میں زیتون کا تیل ملا کر سر پہ لیپ کریں۔
-87-نیند نہ آتی ہو تو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر خالص سرسوں کے تیل کی مالش کریں اور دو چمچ شہد لیں۔
-88-سخت ہاتھوں کو نرم و ملائم کرنے کے لیے رات کو سونے سے پہلے لیموں کا عرق اور گلیسرین ملا کر ہاتھوں پر ملیں۔
-89-منہ کی بدبو دور کرنے کے لیے دن میں دو تین بار سونف چبائیے اور اس کا عرق نگل لیں۔
-90-آواز بیٹھ جائے تو ایک گلاس پانی میں دو چمچ سونف ڈال کر اس کو پکائیں۔ چینی اور دار چینی بھی ڈال لیں۔ اس قہوہ کو دن میں دو تین بار استعمال کریں۔
-91-جسم میں کسی جگہ کانٹا چبھ جائے تو تھوڑا ساگڑ لے کر اس میں پیاز کاٹ کر ملائیں اور متاثرہ جگہ پر باندھ دیں، کانٹا خود بخود نکل آئے گا۔
-92-پاؤں کے چھالے دور کرنے کے لیے رات کو سوتے وقت آبلے پرانڈے کی سفیدی لگا لیں۔
-93-لو لگنے کی صورت میں پیاز کارس، لیموں اور تھوڑا سا نمک ڈال کر پئیں۔
-94-چھوٹے بچوں میں کھانسی ختم کرنے کے لیے تھوڑی سی کالی مرچ، الائچی پیس کر شہد کے آدھے چمچ میں ملا کر صبح و شام دیں۔
-95-چہرے کی جھریاں دور کرنے کے لیے سوگرام عرق گلاب، 15 گرام روغن بادام پندرہ گرام پھٹکڑی لے کر چار انڈوں کی سفیدی میں ملا کر ہلکی آنچ پر پکائیں اور سوتے وقت اس سے چہرہ کی مالش کریں۔
-96-چہرے کے کیل مہاسے دور کرنے کے لیے انڈے کی سفیدی پھینٹ کر چہرے پر پندرہ بیس منٹ کے لیے لگائیں، بعد میں صابن سے منہ دھو کر صاف کر لیں۔
-97-زکام سے بچنے کے لیے قہوہ میں ادرک اور دار چینی ملا کر استعمال کریں۔
-98-دانتوں کے کیڑے ختم کرنے کے لیے، چنبیلی کے پتے پانی میں ابال لیں اس میں تھوڑا سا نمک ملا کر غرارے کریں۔
-99-صبح چاق چوبند اور ترو تازہ رہنے کے لیے ایک پیالی گرم دودھ میں ایک چمچ شہد ڈال کر سونے سے پہلے روزانہ لیں۔
-100-بار بار پیشاب آنے سے روکنے کے لیے سونے سے پہلے اخروٹ کھائیں۔ چھوٹے بچوں کا سوتے میں پیشاب نکل جاتا ہو تو انہیں سونے سے پہلے تل کے لڈو یا باجرے کی کھچڑے کھلائیں۔
٭موسمی پھل و سبزیاں موسمی بیماریوں کا علاج ہوتا ہے ان کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں، ژ رات کو بھوک رکھ کر کھانا بھی بیماریوں سے بچنے کا ذریعہ ہے۔٭رات گئے شادی، بیاہ وغیرہ کے کھانے بھی بیماری بڑھنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے بے ہنگم کھانے سے پرہیز کریں۔

12/11/2020
‏چینی کی بجاےَ گُڑ استعمال کریں آپکا پیسہ نواز شریف زرداری جہانگیر ترین اور 5 خاندانوں کی بجاےَ 50 لاکھ کسانوں کو جائیگا...
09/11/2020

‏چینی کی بجاےَ گُڑ استعمال کریں آپکا پیسہ نواز شریف زرداری جہانگیر ترین اور 5 خاندانوں کی بجاےَ 50 لاکھ کسانوں کو جائیگا اور آپکی صحت بھی بہترین رہے گی..

پانی کو فلٹر کرنے کا آسان طریقہ۔مٹی کے گھڑے میں پانی بھرنا اور گھڑے کو کھلی ہوا میں رکھنا طب یونانی کی تحقیق کے مطابق پا...
19/09/2020

پانی کو فلٹر کرنے کا آسان طریقہ۔
مٹی کے گھڑے میں پانی بھرنا اور گھڑے کو کھلی ہوا میں رکھنا طب یونانی کی تحقیق کے مطابق پانی کو کافی حد تک صاف کر دیتا ہے۔۔۔ یعنی صاف پانی کو فلٹر کرنے کا قدرتی اور بےضرر طریقہ یہ ہے کہ پانی کومٹی کے صاف گھڑے میں بھر کے اس گھڑے کا منہ ڈھک کر کھلی فضاء میں رات بھر رکھ دیں اورصبح میں استعمال کریں۔
(اگر پانی کو مزید ٹھنڈا کرنا چاہیں تو اسی گھڑے میں سے پانی لے کر چھوٹے برتن میں بھر کے فریج میں رکھ لیں ) مٹی میں قوت جاذبہ رکھی ہے قدرت نے۔ ۔ ۔
وہ پانی کی زیادہ تر کثافتوں کو جذب کر لیتی ہے۔۔۔۔یعنی ایک نیا، اچھی مٹی کا صاف ستھرا گھڑا کافی مہینوں تک استعمال کیا جا سکتا ہے ۔پلاسٹک کی بوتلوں میں بند جو پانی بازاروں میں ملتا ہے وہ Preservatives کی ملاوٹ اور پلاسٹک میں بند رہنے کی وجہ سے کافی حد تک آلودہ ہو جاتا ہے ، کیونکہ وہ بوتلیں دوکانوں پہ اکثر ایسی جگہوں پہ پڑی رہتی ہیں جہاں سورج کی روشنی بلا واسطہ آتی ہے اس لئے پلاسٹک کی آمیزش اور دھوپ کی وجہ سے پانی میں بہت سی کیمیاوی تبدیلیاں رونما ہوجاتی ہیں۔۔۔بہتر طریقہ یہی ہے کہ پانی گھڑے کا استعمال کیا جائے۔۔۔۔ہم نے اپنی آسانی تلاش کر لی اور مٹی کے گھڑوں کو خَیر باد کَہہ دیا۔۔۔
نتیجہ : یہ نکلا کہ گھڑے ناپید ہو گئے ، آج بھی ہر شہر میں کم از کم ایک دوکان مٹی کے برتنوں کی مل ہی جاتی ہے

23/08/2020

شوگر، بلڈ پریشر ، معدہ ، جگر، کولیسٹرول ، یورک ایسڈ، گردوں اور ان جیسے بڑی بڑی امراض سے بچنے کے لٸے ہمیں چھ کام کرنا ہونگے۔
پہلا کام
گھر کے برتن بدلئے
سب سے ذیادہ بیماریاں گلے ہوئے کھانے سے ہوتی ہیں۔
گلے ہوئے کھانے اور پکے ہوئے میں فرق ھے۔ جس طرح ایک سیب پکا ہوا ہوتا ھے اور ایک گلا ہوا ہوتا ہے _ گلا ہوا سیب چمچ کے ساتھ بھی کھایا جاسکتاہےجب کہ پکا ہوا سیب چبانا پڑے گا_ چبانا صحت مندی اور صرف نگلنا غیر صحت مندانہ عمل ہے_
عام طور پر ہم گلا ہوا کھانا کھاتے ہیں چباتے نہیں ہیں کیونکہ کھانا پہلے سے گلا ہوتا ہے کیونکہ ہم سلور، سٹیل ، پریشر ککر یا نان سٹک استعمال کرتے ہیں ان میں کھانا گلتا ہے پکتا نہیں_ جب کہ مٹی کے برتن میں کھانا آہستہ آہستہ پکتا ھے تو آج سے عہد کر لیجئے کہ آپ نے پکا ہوا کھانا ہی استعمال کرنا ہے گلا ہوا نہیں _
اس عمل کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے ہم اپنے گھر تمام برتن بدلیں۔ یقین جانئے یہ برتن فطرت سے قریب ترین ہیں _ جن لوگوں نے برتن بدل لئے یقینا ان کی زندگی بدل جاۓ گی۔
دوسرا کام
سرسوں کا تیل استعمال کیجئے
کوکنگ آئل ہر گھر کی ضرورت ہے _ ایسا کوکنگ آئل استعمال کیجئے جو کبھی جمتا نہ ہو_دنیا کا سب سے بہترین تیل زیتون ھے۔ جس میں جمود نہیں لیکن یہ بہت مہنگا ھے۔
متوسط طبقہ کے لوگ اس کی قوت خرید نہیں رکھتے تاہم عام لوگوں کے لیے سرسوں کا تیل ھے، اس کے بھی بہت سے خواص ہیں یہ ساری عمر نہیں جمتا، ہتھیلی پہ سرسوں جمانے والی بات بھی اسی لیے کی جاتی ھے۔کیونکہ یہ ممکن نہیں ھے۔
سرسوں آئل کی ایک خوبی یہ بھی ھے کہ اس کے اندر جس چیز کو بھی ڈالیں یہ اسے بھی جمنے نہیں دیتا _اس کی زندہ مثال اچار ھے جو اچار سرسوں کے تیل کے اندر رہتا ھے اس کو فنگس نہیں لگتی اس لئے آج سے سرسوں کے تیل کی عادت ڈال لیجئے _ جب یہ آپ کے جسم کے اندر جاۓ گا تو آپ کو کبھی بھی فالج ،مرگی یا دل کا دورہ نہیں ہوگا۔ أپ کے گردے فیل نہیں ہونگے پوری زندگی أپ بلڈ پریشر سے محفوظ رہیں گے۔
کیونکہ
سرسوں کا تیل نالیوں کو صاف کرتاھے جب نالیاں صاف ہوں گی تو دل کو زور نہیں لگانا پڑے گا_ دیہاتوں میں جب جانور بیمار ہوتے ہیں تو بزرگ کہتے ہیں کہ ان کو سرسوں کا تیل پلاٸیں۔
أج ہم سب کو بھی سرسوں کے تیل کی ضرورت ھے
تیسرا کام
نمک بدلئے
نمک ہوتا کیاھے؟
نمک انسان کی ضرورت ہے _ نمک وہ لینا چاہیٸے جو مٹی سے نکلا ہو آج بھی پوری دنیا میں بہترین پاکستانی کھیوڑا کا گلابی (Pink) نمک ھے۔ انٹر نیشنل مارکیٹ میں اس کی مانگ ہے _ پنک ہمالین نمک(Pink Himalya salt) 25 ڈالر کا 90 گرام یعنی 4000 روپے کا نوے گرام اور چالیس ہزار روپے کا 900 گرام بکتا ھے اور ہمارے ہاں 10 روپے کلو ھے۔
بدقسمتی دیکھئے
ہم گھر میں أیوڈین ملا نمک کھاتے ہیں جس نمک نے ہماری صحت بہتر کرنا تھی وہ ہم کھانا چھوڑ دیا اگر صحت چاہئے تو ہمیشہ پتھر والا نمک استعمال کرنے کی عادت ڈال لیجئے
چوتھا کام
مٹھاس بدلئے
مٹھاس ہماری ضرورت ہے _ یہ دماغی تحریک کا اہم ترین جزو ہے اور میٹھا اللہ تعالی نے مٹی میں رکھا ھے یعنی گنا اور گڑ____ اور ہم نے گڑ چھوڑ کر کیمیکل زدہ چینی کھانا شروع کر دی ہے جس کی بنا پر بیماریوں نے ہماری صحت کا ستیا ناس کردیا ہے __
اگر میٹھا استعمال کرنا ہی ہو تو گڑ یا شکر لیجئے چینی سے حتی الامکان پر ہیز کیجئے __
پانچواں کام
پانی بدلئے
انسانی حیات کے لئے اہم ترین ضرورت پانی ہے جس کے بغیر انسان کا زندہ رہنا ممکن نہیں پانی مٹی سے نکلا ہوا پینا چاہئے ، پوری دنیا میں أب زم زم سب سے بہترین پانی ھے ، پنچاب کا پانی بھی بہت اچھا ھے۔
زمین سے نکلا ہوا پانی صحت بخش ہوتا ہے اسی لئے یہی پانی استعمال کرنا چاہئے تاہم اس کا ٹی ڈی ایس لازمی چیک کروالیجئے _ ہینڈ پمپ کا پانی گھڑے میں ڈال کر رکھ لیجئے یہ زیادہ بہتر ہوتا ہے برف سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کیجئے __
طاہر نوید جنجوعہ
چھٹا کام
پتھر کی چکی والا آٹا استعمال کیجئے
گندم انسان کی بنیادی ضرورت ہے ، مٹی سے نکلنے والی گندم استعمال کیجئے۔لیکن واضح رہے کہ گندم چھنی ہوئی نہ ہو کیونکہ چھاننے سے اس کے مقوی اجزاء نکل جاتے ہیں گندم جس حالت میں آتی ھے اسے ویسے ہی استعمال کرنا چاہئے _
طاہر نوید جنجوعہ

انسانی جسم رنگوں کا مجموعہ ہےاس کائنات میں کوئی چیز بے رنگ پیدا نہیں کی گئی، بلکہ زمین وآسمان کے درمیان پائی جانے والی ج...
25/07/2020

انسانی جسم رنگوں کا مجموعہ ہے
اس کائنات میں کوئی چیز بے رنگ پیدا نہیں کی گئی، بلکہ زمین وآسمان کے درمیان پائی جانے والی جملہ مادی وغیر مادی، جاندار و غیر جاندار اشیاء سے ہمارا پہلا انٹرایکشن اور انٹروڈکشن رنگ کے وسیلے سے ہوتا ہے۔ ہم محسوس کریں یا نہ کریں ہمارے شب و روز اور ہمارے مزاج رنگوں سے مانوس اور ہم آہنگ رہتے ہیں۔ ہم رات کو اس کی سیاہی سے جانتے ہیںاور دن کو سفیدی سے پہچانتے ہیں، ہمیں گلاب اس کی سرخی کی وجہ سے اچھا لگتا ہے، ہمیں پانی کی سفیدی راحت دیتی ہے اورہریالی ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتی ہے۔ رنگوں کی زبان بھی ہوتی ہے اور رنگوں میں جان بھی ہوتی ہے، ہم جب اپنے لیے کوئی لباس خریدنے جاتے ہیں تو جو رنگ ہماری سوچ پر غالب آجائے صرف اسے خریدتے ہیں۔ زندگی کے بیشتر معاملات میں ہمارے فیصلوں میں رنگوں کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے۔ رنگوں سے محبت انسان کے لاشعور میں رچی بسی ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ شعور کی آنکھ کھولنے سے پیشتر بچہ رنگوں کی طرف مائل ہوتا ہے اور اسے رنگوں سے کھیلنا اچھا لگتا ہے، عمر کا ہر حصہ رنگوں کی محبت سے رچا بسا ہوا ہے، رنگوں سے محبت کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ یہ جان کر ایک خوشگوار حیرت ہوئی کہ رنگوں سے بیماریوں کا علاج بھی ہوتا ہے اور یہ محض اخبار کی خبر نہیں بلکہ یہ طریقہ علاج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کامیابی کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ رنگوں سے علاج کے جدید طریقہ علاج میں چین، جاپان پیش پیش ہیں۔ معروف سائیکو تھراپسٹ Lynda Trainer نے کیا خوبصورت بات کی کہ ’’ جب آپ پوری توجہ سے رنگ بھررہے ہوتے ہیں تو درحقیقت آپ سکون کی وادی میں اتررہے ہوتے ہیں، جب کلر باکس آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے تو آپ رنگوں کے استعمال سے کچھ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘‘رنگوں کی اہمیت، ناگزیریت اور افادیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنی پاک کتاب کے اندر بھی رنگوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ سورہ البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہہ دو ہم اللہ کے رنگ میں رنگے گئے ہیں اور کس کا رنگ اللہ کے رنگ سے بہتر ہے ؟ ایک اور مقام پر اللہ رب العزت نے بنی اسرائیل کو زرد رنگ کی گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے زمین سے سرسبز کھیتی نکالی۔ سورۃ یوسف میں 7 سبز خوشوں کا ذکر کیاگیا۔ سورۃ الرحمن میں جنتیوں کو سبزقالینوں، بچھونوں پر بیٹھنے کی بشارت دی گئی۔ سورۃ فاطر میں اللہ نے پہاڑوں کے رنگوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کچھ سفید ہیں، کچھ سرخ اور کچھ سیاہ اور سب کی خصوصیات جدا ہیں۔ سورۃ البقرہ میں رات کے رنگ کو سیاہ اور صبح کے رنگ کو سفید پکارا گیا۔ سورۃ طحہٰ میں اللہ نے فرمایا جس دن صور پھونکا جائے گا اس دن ہم مجرموں کو یوں جمع کریں گے کہ ان کے جسم اور آنکھیں شدت خوف سے نیلگوں ہوں گی۔
رنگوں کا ہماری زندگی پر اثر مسلمہ ہے، جب آپ اردگرد دیکھتے ہیں تو آپ کی آنکھوں اور دماغ کو سب سے پہلے رنگ اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، ہم پھلوں کو ان کی رنگت سے پہچانتے اور ان کے ذائقوں کا تعین کرتے ہیں، سبزآم کی رنگت سے ہمیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس میں کھٹاس ہے، بھرپور زرد رنگ مٹھاس کا احساس دلاتا ہے، ہم کھائے بغیر بھی رنگوں کے اثرات اور ان کی غذائیت کو محسوس کر لیتے ہیں، آسمان اور بادلوں کے رنگ دیکھ کر ہمیں موسم کا اندازہ ہوتا ہے، بادل دیکھ کر ہم اندازہ لگاتے ہیں بارش ہونے والی ہے، مارکیٹنگ کی دنیا میں بھی عوامی توجہ کے حصول کے لیے رنگوں کا بھرپور استعمال کیا جاتا ہے، جب آپ خریداری کے لیے کسی بڑے سٹور پر جاتے ہیں تو بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن پر فوری نظر پڑتی ہے، دراصل ان چیزوں کے پیکٹ کو اس طرح بنایا جاتا ہے کہ لوگ فوری ان کی طرف متوجہ ہوں آپ محسوس کریں یا نہ کریں اشتہار باز اپنی چیزوں کو فروخت کرنے کے لیے ایسے رنگوں کا انتخاب کرتے ہیں جو لوگوں کی دلچسپی، جنس اور عمر کے مطابق ہوں، گھروں کی سجاوٹ، کپڑوں کے ڈیزائن میں رنگوں کی اہمیت مسلمہ ہوتی ہے، ایشیاء میں کچھ لوگ لال رنگ کو خوش نصیبی اور جشن سے منسوب کرتے ہیں، افریقہ کے کچھ علاقوں میں لال رنگ کو ماتم کا نشان سمجھا جاتا ہے لیکن کچھ رنگ ایسے بھی ہیں جو ہر شخص کے جذبات پر ایک جیسا اثر ڈالتے ہیں چاہے اس شخص کا پس منظر کچھ بھی ہو، سرخ رنگ کو توانائی، جنگ اور خطرے سے منسلک کیا جاتا ہے، سرخ رنگ سے بلڈپریشر بڑھ سکتا ہے، اس رنگ میں خوراک کو توانائی میں تبدیل کرنے کا عمل تیز ہوتا ہے، سفید رنگ کو روشنی، حفاظت، صفائی اور نفاست سے جوڑا جاتا ہے، زرد رنگ کو بیماری کی علامت سمجھا جاتا ہے، سبزرنگ ہشاش بشاش کرتا ہے اسی لیے ڈاکٹرز صبح کی سیر کو اہمیت دیتے ہیں کہ سرسبز ماحول ڈپریشن کو کم کرنے میں مددگار ہوتا ہے، آسمان کا نیلا رنگ آنکھوں کو راحت دیتا ہے، درختوں کے سبز پتوں اور پھولوں میں عجب سی کشش محسوس ہوتی ہے، انسان کی رنگوں سے یہی وابستگی اسے کائنات کے دیومالائی حسن کے قریب کر دیتی ہے، انسان خواں عمر کے کسی بھی حصے میں ہو وہ نہ صرف رنگوں کے امتزاج کی طرف متوجہ ہوتا ہے بلکہ وہ خود بھی ان رنگوں کو اپنے ہاتھ سے استعمال کرتے ہوئے ایک خوشی محسوس کرتا ہے، تصویروں میں رنگ بھرنا بچوں کا ہی نہیں بلکہ بڑوں کا بھی پسندیدہ مشغلہ ہے، اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بچے جب ہوم ورک کررہے ہوتے ہیں تو ان کی مائیں بھی بڑے شوق سے بچوں کی ڈرائنگ بکس میں رنگ بھرتی اور بچوں کے ساتھ مشغول ہو جاتی ہیں، اس سرگرمی کے دوران وہ خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ لطف اندوز بھی ہوتی ہیں، اگر رنگوں کی قوت کا اندازہ مقصود ہو تو کسی مصروف چوک کے قریب جا کر دیکھ لیں ٹریفک پولیس کے اشارے لگے ہیں اور وہاں رنگوں کی حکومت ہے، سرخ اشارہ چلتی گاڑیوں کو روک دیتا ہے، زرد اشارہ رکنے اور سپیڈ آہستہ کر لینے کی وارننگ دیتا ہے اور سبز اشارہ گاڑی کو چلنے کی اجازت دیتا ہے، کالا رنگ غم، گلابی انسیت، پیلا بیماری اور سفید امن کی علامت خیال کیا جاتا ہے۔ جہاں تک علاج کی بات ہو تو حکماء اکثر کمزور نگاہ والے مریضوں کو سبزہ دیکھنے کا مشورہ دیتے ہیں، سبزہ دیکھنے سے آنکھوں میں تراوٹ پیدا ہوتی ہے اور بینائی میں اضافہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آنکھوں کا آپریشن کرنے کے بعد آئی سپیشلسٹ سبزرنگ کی پٹی مریض کی آنکھ پر باندھ دیتے ہیں، اسی طرح کتے کے کاٹے مریض کیلئے نیلا رنگ دیکھنا مفید قرار دیا جاتا ہے، رنگوں کے مزاج کے حوالے سے اس بات پر ماہرین کا مکمل اتفاق ہے کہ سرخ رنگ کا مزاج گرم و خشک ہے، زرد رنگ کا مزاج گرم و تر ہے، آسمان رنگ کا مزاج سرد و تر ہے، نارنجی رنگ کا مزاج گرم محض ہے، سبز رنگ کا مزاج تر محض ہے، نیلے رنگ کا مزاج سرد محض ہے اور اودے رنگ کا مزاج خشک محض ہیں۔
رنگوں کی اور خصوصیات کیا کیا ہیں اور ہیومن باڈی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس حوالے سے ہمیں ڈاکٹر ثمینہ تعظیم یوسف عظیمی صاحبہ کی ریسرچ سے استفادہ کرنا ہو گا، گزشتہ ماہ منہاج یونیورسٹی لاہور میں رنگوں کی افادیت پر ایک خصوصی ورکشاپ کا انعقاد بھی ہوا جس میں معروف محقق، سائنسدان اور کلر تھراپسٹ ڈاکٹر ثمینہ تعظیم یوسف عظیمی نے خصوصی لیکچر دیا اور رنگوں کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ کس طریقے سے رنگ ہمیں جسمانی بیماریوں، کمزوریوں اور محتاجیوں سے چھٹکارا دلاتے ہیں۔ محترمہ ڈاکٹر ثمینہ تعظیم یوسف عظیمی صاحبہ سے رنگوں کی اہمیت اور طریقہ علاج کے بارے میں دختران اسلام کی خصوصی گفتگو بھی ہوئی ان کی تحقیق کے مختصر گوشے شامل اشاعت کیے جارہے ہیں۔ ڈاکٹر ثمینہ تعظیم یوسف عظیمی صاحبہ کا کہنا ہے کہ کروموتھراپی یا رنگ و روشنی سے علاج ایک ایسا طریقہ ہے جس میں برقی مقناطیسی شعاعوں کے رنگ دار حصے کی مختلف طول موج کو بیماری کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، رنگوں کو سمجھنے کے لیے روشنی کی سائنسی ہیت کو سمجھنا ہو گا، روشنی ایسی برقی مقناطیسی شعاع ہے جس سے کائنات میں موجود برقی مقناطیسی فیلڈ کے ذریعے ارتعاش وجود میں آتی ہے، روشنی توانائی ہے اور رنگ اور روشنی مادے کے ٹکرائو سے وجود میں آتے ہیں، نظریہ رنگ و نور کے مطابق ہر تخلیق روشنی کے غلاف میں بند ہے، کروموتھراپی کے قانون کے مطابق انسانی جسم دراصل رنگوں کا مجموعہ ہے، رنگ انسانی جسم کے بیمار خلیوں کے لیے اکسیر کا درجہ رکھتے ہیں، کروموتھراپی صدیوں پرانا طریقہ علاج ہے، روشنی سے علاج کے طریقہ کو فوٹوتھراپی کہتے ہیں، قدیم یونان، چین اور انڈیا میں یہ طریقہ علاج رائج تھا، قدیم مصر میں سورج کو بیماری سے علاج کے لیے شفاء بخشی مانا جاتا تھا، قدیم یونان میں تیل، رنگین پتھر اور مرحم علاج کے لیے استعمال کیے جاتے تھے، یہ لوگ رنگوں سے پیدا ہونے والی کیمیائی تبدیلیوں سے ناواقف تھے مگر رنگوں کے شفا بخش ہونے پر ان کا پختہ یقین تھا، Pleasenten (پلیسٹن) نے 1876 ء میں تحقیق سے بتایا کہ نیلے رنگ میں ابتدائی طبی امداد کی خوبیاں موجود ہیں، اس رنگ کو زخموں، جلے ہوئے حصوں اور درد میں استعمال کیا اور بعدازاں ایک تحقیق سے بتایا کہ مختلف رنگ خون میں موجود فاسد مواد کے اخراج اور سرکولیشن کے ذریعے اعضاء کو براہ راست متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، سائنسدان کلاشے نے ثابت کیا کہ مادی وجود کے اوپر روشنیوں کا جسم مثالی Aura ہی توانائی کا مرکز ہے، ڈاکٹر ثمینہ تعظیم یوسف عظیمی نے مزید بتایا کہ خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کی ایک معرکۃ الآرا کتاب کلر تھراپی پر لکھی گئی ہے جس میں رنگ اور روشنی سے علاج کے طریقہ کار پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے، ہم نے شہد کی مکھی کے کاٹنے سے ایک بیمار کا 100فیصدکامیاب علاج کیا، ایک بچہ جس کی عمر 10سے 12سال تھی اس کی والد کی رضا مندی اور ہسپتال انتظامیہ کی اجازت سے اس بچے کے زخموں پر نیلی، سبز اور سرخ روشنی مختلف دنوں میں مختلف اوقات میں ڈالی گئی اور الحمداللہ نتیجہ 100فیصد رہا۔
ڈاکٹر ثمینہ تعظیم یوسف عظیمی کا کہنا ہے کہ جدید دنیا میں رنگوں کے ذریعے طریقہ علاج سائنسی اور طبی اعتبار سے مسلمہ ہے یہی وجہ ہے ایم آر آئی، سی ٹی سکین اور لیزر سرجری میں مختلف رنگوں کی شعاعیں استعمال کی جاتی ہیں، عادات اور رویوں میں مثبت تبدیلی کیلئے رنگوں کے استعمال کی افادیت ایک حقیقت ہے، پریشانیوں اور تفکرات سے بچائو کے لیے دھوپ کی زرد رنگ کی روشنی بہترین علاج ہے، کینسر، ہیپاٹائٹس، امراض قلب، بلڈپریشر، جلدی بیماریوں کا کامیاب علاج رنگوں سے کیا جا چکا ہے اور کیا جارہا ہے، نہوں نے کہا کہ یہ بات دلچسپ بھی ہے اور ایک حقیقت بھی کہ بڑھتی عمر کو روکنے اور بالوں کے گرنے کا آسان اور سستا علاج بھی رنگوں (Chorome Theropy )سے ممکن ہے، انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں اللہ نے مختلف مقامات پر اپنی خصوصیات بیان کی ہیں، ایک جگہ پر فرمایا اللہ آسمان اور زمین کا نور ہے، جدید تحقیق سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ رنگوں کے استعمال سے خون کی کمی کو بھی پورا کیا جا سکتا ہے، گہرا نیلا رنگ ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط کرتا ہے، اسی طرح سبز، سفید، زرد، سرخ، سیاہ تمام رنگوں کے سائنسی اور طبی اثرات اور ثمرات ہوتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ دھوپ اور روشنی خوشی دیتی ہے، کھلی فضاء اور اس کے رنگ ڈپپریشن دور کرتے ہیں، محنت کرنے والا اور روشنی میں زیادہ وقت گزارنے والا مزدور کبھی اداس نہیں ہوتا جبکہ ٹھنڈے کمروں میں رہنے والے ڈپریشن کا شکار پائے جاتے ہیں۔

Address

Rawalpindi
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tib e Nabvi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Tib e Nabvi:

Share