24/07/2025
از قلم: مامون احمد
مولوی کا اللہ اور صوفی کا اللہ
دنیا میں اللہ تعالیٰ کو پہچاننے اور سمجھنے کے بے شمار راستے ہیں۔ کچھ لوگ شریعت کی سختی میں اللہ کو دیکھتے ہیں، کچھ طریقت کی نرمی میں۔ کچھ خوف کے دائرے میں رب کو تلاش کرتے ہیں، اور کچھ محبت کی راہوں پر۔ انہی دو زاویوں کو ہم عمومی طور پر "مولوی" اور "صوفی" کی سوچ سے تعبیر کرتے ہیں۔
مولوی کا اللہ – عدل و قانون کا نگہبان
مولوی کی دنیا میں اللہ ایک عظیم حاکم ہے، جو اپنے بندوں کے ہر عمل کا حساب رکھتا ہے۔ ہر گناہ کا جواب، ہر غلطی کی سزا، اور ہر نافرمانی کی پکڑ۔ اس کا پیغام واضح ہوتا ہے: "اللہ سے ڈرو، اور اس کے احکام کی خلاف ورزی نہ کرو۔"
مولوی کا اللہ جلال میں لپٹا ہوا ہے۔ وہ انسان کو بار بار یاد دلاتا ہے کہ جہنم بھی ایک حقیقت ہے۔ اگر تو نافرمان ہوا، تو اللہ تجھے عذاب دے گا۔
ایسی سوچ انسان کے اندر خوف پیدا کرتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی، اگر میں پھسل گیا، تو اللہ ناراض ہو جائے گا۔ یوں بندہ نیکی کرتا ہے، لیکن خوف کے تابع ہو کر۔
صوفی کا اللہ – محبت اور رحمت کا سمندر
صوفی کہتا ہے: "اللہ کی طرف آ، وہ تیرا محبوب ہے۔ وہ تیرے اندر ہے، تیرا وجود ہی اس کی تخلیق کا کمال ہے۔"
اس کے لیے اللہ صرف سزا دینے والا نہیں، بلکہ سب سے زیادہ محبت کرنے والا ہے۔ اس کے نزدیک اللہ کی بندگی صرف نماز روزے تک محدود نہیں، بلکہ ہر سانس، ہر قدم، اور ہر احساس میں اللہ کی موجودگی کا شعور ہے۔
صوفی کہتا ہے کہ اگر تو گناہ گار ہے، تو اللہ توبہ کا دروازہ بند نہیں کرتا۔ اگر تو خطاکار ہے، تو اللہ ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ وہ سزا سے زیادہ معافی دینے والا ہے۔ وہ تو صرف بہانہ چاہتا ہے کہ تو اس کی طرف پلٹے۔
یہ فرق کیوں ہے؟
یہ فرق اس لیے ہے کہ دونوں کا زاویہ نظر الگ ہے۔ مولوی شریعت کی آنکھ سے دیکھتا ہے، اور صوفی معرفت کی آنکھ سے۔ مولوی نظم و ضبط کا نگہبان ہے، اور صوفی روح کی پرواز کا ساتھی۔ دونوں کا رب ایک ہی ہے، لیکن دیکھنے کا انداز مختلف ہے۔
اصل میں، انسان کو ان دونوں کے درمیان توازن پیدا کرنا چاہیے۔ نہ صرف اللہ سے ڈرنا ہے، بلکہ اس سے محبت بھی کرنی ہے۔ نہ صرف حدود کا خیال رکھنا ہے، بلکہ دل کی روشنی سے رب کو پکارنا بھی ہے۔