Wapsi drug treatment nd psychiatry clinic

Wapsi drug treatment nd psychiatry clinic Drugs rehabilitation nd psychiatry treatment center rawalpindi

14/02/2026

لوگوں کی عاقبت کے حوالے سے ہمیں کوئی بات نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ جانے اور وہ بندہ جانے۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے، ’’وہ شخص جنت میں نہیں جاسکتا جس کے شر کی وجہ سے لوگ اسے چھوڑنا شروع کردیں۔‘‘ دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ملیں گے جن میں اور تو کوئی خامی نہیں پائی جاتی، لیکن یہ خامی پائی جاتی ہے کہ ان کے شر سے لوگ محفوظ نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں نے اپنی طرف سے خود ساختہ اصول وضوابط بنائے ہوتے ہیں۔ تعلقات کے احساسات ہوتے ہیں۔ ان کا زبان سے پتا نہیں چلتا، صرف محسوس ہوتا ہے۔ کسی کے ساتھ کتنا تعلق ہے، اس کا آسان سا حل یہ ہے کہ اپنے اندر سے پوچھا جائے تو جواب مل جائے گا۔ یہ گھاٹے کا رویہ ہے۔ کوئی بھی شخص گھاٹے کا سودا نہیں کرنا چاہتا۔ کوئی بھی شخص اپنی چیز کسی ایسے بینک میں نہیں رکھوانا چاہتا ہے جہاں چوری ہونے کا گمان ہو۔ کوئی ایسی گاڑی نہیں خریدنا چاہتا جس کے بارے میں گمان ہو کہ اس کا لازماً ایکسیڈنٹ ہونا ہے۔ کوئی ایسا کپڑا خریدنا نہیں چاہتا جس کے بارے میں گمان ہو کہ یہ پھٹ جائے گا۔ اور کوئی ایسی شادی نہیں کرنا چاہے گا جس کے بارے میں گمان ہو کہ اس کا انجام اچھا نہیں ہے۔ اگر کسی کو دوست بنانے کیلئے یہ شرط رکھ د یں کہ اپنے آپ کو تھوڑا ٹھیک کرو تو وہ کبھی بھی دوست نہیں بن سکتا۔ دوستی کیلئے وہ جیسا بھی ہے، اس کو ویسا ہی قبول کرنا پڑے گا۔ سمجھ دار انسان دوست بنا کر اس پر مثبت انداز میں اثرانداز ہوسکتا ہے۔
جو دوسروں میں عیب تلاش کرتا ہے اس کے ماضی میں جا کر دیکھیں تو پتاچلتا ہے کہ یہ رویہ اس میں شروع سے بنا ہوا تھا۔ ویسے یہ رویہ زیادہ تر تنگ دل لوگوں کا ہوتا ہے۔ بہت سارے رویے ایسے ہوتے ہیں جو ہم نے لاشعوری طور پر نقل کیے ہوتے ہیں۔ جس گھر کے بڑے سب سے چھوٹے کے بارے میں احساس کر رہے ہوں تو اللہ تعالیٰ انھیں بہت نوازتا ہے۔ ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اچھے بھلے بندے کو چھوٹا کر دیتے ہیں، جبکہ اللہ کے ہاں اس کا مقام بڑا ہوتا ہے۔
ہر انسان اہم ہوتا ہے۔ کسی کی اہمیت جاننے کیلئے گھر میں کام کرنے والی خادمہ کو دس دن کی چھٹی دے دیں، اوقات یاد آجائے گی۔جو شخص کسی کو قدر نہیں دیتا، وہ خود بے قدرا ہو جاتا ہے۔جب بندہ دوسروں کی قدر کرتا ہے تو اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ اس کی قدر کراتا ہے۔ یہ وہ شے ہے جو دی کہیں جاتی ہے اور ملتی کہیں اور سے ہے۔ ہم بندے کی قدر کرتے ہیں اور اسی سے صلہ چاہ رہے ہوتے ہیں۔ جب کسی کی قدر کی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں چلی جاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایسی جگہ پر صلہ دیتا ہے جس کی توقع نہیں ہوتی۔
رویہ زیادہ تر ریفلیکشن سے بنتا ہے اور یہ زیادہ تر گھروں سے بنتا ہے۔ دوسرے نمبر پر منبر سے بنتا ہے۔ تیسرے نمبر پر استادوں سے بنتا ہے۔ چوتھے نمبر پر معاشرے سے بنتا ہے۔ شرعی طور پر لوگ ٹھیک ہوتے ہیں، لیکن لوگ انھیں سماجی طور پر برا کہہ رہے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک شخص کی عمر پچاس برس ہے۔ اس کی بیوی کا انتقال ہوجاتا ہے۔ اب شرعی طور پر وہ ایک لڑکی سے شادی کرلیتا ہے جس کی عمر اٹھائیس بر س ہے۔ اس کے اس عمل پر پورا معاشرہ باتیں کرے گا۔ لوگ اتنے گندے نہیں ہوتے، لیکن ان کا ذہن بہت گندا ہوتا ہے۔ جب بندہ اپنے اندر غلاظت تلاش کرتاہے تو اسے پتا چلتا ہے کہ سب سے زیادہ غلاظت تو میرے ہی اندر ہے۔ جب پتا لگ جائے کہ میرا یہ رویہ غلط زاویہ نظر پر قائم ہے تو پھر جتنی جلدی ممکن ہوسکے، اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کیجیے۔ لوگوں کے دلوں کے اندر گھس کر نہ دیکھئے۔ بندہ جانے اور اللہ جانے۔ صرف نصیحت ہوسکتی ہے، ہاتھ سے روکا جاسکتا ہے ، دل میں برا کہاجا سکتا ہے، لیکن مہر نہیں لگا ئی جاسکتی۔ کیا پتا، وہ توبہ کرکے بخشا جائے اور جو فتویٰ لگانے والا ہے، وہ رہ جائے۔

14/02/2026

عافیت کی دعا

31/10/2025

دماغ کی شریان پھٹنا ۔۔۔
ٹینشن پیدا کرنے والے کام نہ کریں
زیادہ غصہ میں کسی سے بات نہ کریں
صدمہ آئے تو زیادہ تسبیح ذکر میں مصروف رہیں
بلاوجہ سوچوں میں مت ڈوبیں
بی پی کو کنٹرول میں رکھنے کےلیئے سالن گوشت لائٹ کھائیں ...
ہمیشہ مثبت گمان اور سوچ پوزیٹو رکھیں
کسی بھی مصیبت پریشانی کو اپنے دماغی کیفیت پر ہیوی مت کریں.
تلاوت کلام پاک، تسبیحات اور دعاؤں کا اہتمام کریں۔



Copied

31/10/2025
31/10/2025
31/10/2025
31/10/2025
10/09/2025

یہ واقعہ شام کے شہر دمشق میں ہوا۔ایک نوجوان خوبصورت لڑکی روزانہ اکیلی یونیورسٹی جاتی تھی اسی یونیورسٹی میں اسکا والد ایک ڈپارٹمنٹ کا انچارج تھا ۔
ایک دن چھٹی کے فورا بعد اچانک بادل گرجنے لگے اور زوردار بارش ہونے لگی ،ہر کوئی جائے پناہ کی تلاش میں دوڑ رہا تھا، سردی کی شدت بڑھنے لگی، آسمان سے گرنے والے اولے لوگوں کے سروں پر برسنے لگے،
یہ لڑکی بھی یونیورسٹی سے نکلی اور جائے پناہ کی تلاش میں دوڑنے لگی، اس کا جسم سردی سے کانپ رہا تھا لیکن یہ نہیں جانتی تھی کہ اسے پناہ کہاں ملے گی،جب بارش تیز ہوئی تو اس نے ایک دروازہ بجایا،
گھر میں موجود لڑکا باہر نکلا اور اسے اندر لے آیا اور بارش تھمنے تک اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دے دی،
دونوں کا آپس میں تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ لڑکا بھی اسی یونیورسٹی میں پڑھتا ہے جہاں وہ خود زیر تعلیم ہے۔
اور اس شہر میں اکیلا رہتا ہے،ایک کمرہ برامدہ اور باتھ روم اس کا کل گھر تھا نوجوان نے اسے کمرے میں آرام کرنے کو کہا اور اسکے پاس ہیٹر رکھ دیا اور کہا کہ کمرہ جب گرم ہو جائے گا تو وہ ہیٹر نکال لے گا،
تھوڑی دیر لڑکی بستر پر بیٹھی کانپتی رہی،اچانک اسے نیند آ گئی تو یہ بستر پر گرگئی۔ نوجوان ہیٹر لینے کمرے میں داخل ہوا تو اسے یہ بستر پر سوئی ہوئی لڑکی جنت کی حوروں کی سردار لگی وہ ہیٹر لیتے ہی فورا کمرے سے باہر نکل گیا
لیکن شیطان جو کہ اسے گمراہ کرنے کے موقع کی تلاش میں تھااسے وسوسے دینے لگا اس کے ذہن میں لڑکی کی تصویر خوبصورت بنا کر دکھانے لگ اتھوڑی دیر میں لڑکی کی آنکھ کھل گئی،
جب اس نے اپنے آپ کو بستر پر لیٹا ہوا پایا تو ہڑبڑا کر اٹھ گئی
اور گھبراہٹ کے عالم میں بے تحاشا باہر کی طرف دوڑنے لگی اس نے برامدے میں اسی نوجوان کو بیہوش پایا
وہ انتہائی گھبراہٹ کی عالم میں گھر کی طرف دوڑنے لگی اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا یہاں تک کہ اپنے گھر پہنچ کر باپ کی گود میں سر رکھ دیا جو کہ پوری رات اسے شہر کے ہر کونے میں تلاش کرتا رہا تھا
اس نے باپ کو تمام واقعات من و عن سنا دیے اور اسے قسم کھا کر کہا کہ میں نہیں جانتی جس عرصہ میں میری آنکھ لگی کیا ہوا
میرے ساتھ کیا کیا گیا، کچھ نہیں پتا،
اسکا باپ انتہائی غصے کے عالم میں اٹھا اور یونیورسٹی پہنچ گیا اور اس دن غیر حاضر ہونے والے طلبہ کے بارے میں پوچھا تو پتا لگا کہ
ایک لڑکا شہر سے باہر گیا ہے اور ایک بیمار ہے، ہسپتال میں داخل ہے،
باپ ہسپتال پہنچ گیا تاکہ اس نوجوان کو تلاش کرے اور اس سے اپنی بیٹی کا انتقام لے،
ہسپتال میں اسکی تلاش کے بعد جب اسکے کمرے میں پہنچا تو اسے اس حالت میں پایا کہ اسکی دونوں ہاتھوں کی انگلیاں پٹیوں سے بندھی ہوئی تھی اس نے ڈاکٹر سے اس مریض کے بارے میں پوچھا
تو ڈاکٹر نے بتایا جب یہ ہمارے پاس لایا گیا تو اسکے دونوں ہاتھ جلے ہوئے تھے
باپ نے نوجوان سے کہاکہ تمہیں اللہ کی قسم ہے!
مجھے بتاؤ کہ تمہیں کیا ہوا ہے باپ نے اپنا تعارف نہیں کروایا، وہ بولا ایک لڑکی کل رات بارش سے بچتی ہوئی میرے پاس پناہ لینے کے لیے آئی،
میں نے اسے اپنے کمرے میں پناہ تو دے دی لیکن شیطان مجھے اس کے بارے میں پھسلانے لگا تو میں اسکے کمرے میں ہیٹر لینے کے بہانے داخل ہوا،
وہ سوئی ہوئی لڑکی مجھے جنت کی حور لگی،
میں فورا باہر نکل آیا لیکن شیطان مجھے مسلسل اسکے بارے میں پھسلاتا رہا اور غلط خیالات میرے ذہن میں آ ٓتے رہے تو جب بھی شیطان مجھے برائی پر اکساتا میں اپنی انگلی آگ میں جلاتا تاکہ جھنم کی آگ اور اسکے عذاب کو یاد کروں اور اپنے نفس کو برائی سے باز رکھ سکوں
یہاں تک کہ میری ساری انگلیاں جل گئی اور میں بے ہوش گیا ،
مجھے نہیں پتا کہ میں ہسپتال کیسے پہنچا۔یہ باتیں سن کر باپ بہت حیران ہوا۔ بلند آواز سے چلایا
اے لوگو۔۔۔۔۔۔! گواہ رہو میں نے اس پاک سیرت لڑکے سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے سبحان اللہ یہ ہے اللہ سے ڈرنے والوں کا ذکر،
اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو اس لڑکی کی عزت محفوظ نہ رہ سکتی ۔
جو بھی لڑکا یا لڑکی ناجائز تعلقات قائم کرتے ہیں یا غیر شرعی دوستیاں یا محبتیں کرتے ہیں تو وہ اپنے اس برے فعل کو چھپانے کی حتیٰ الامکان کوشش کرتے ہیں ۔
وہ چاہتے ہیں کہ والدین ان کے ان کاموں سے بے خبر رہیں حالانکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ اللہ ان کے ہر فعل سے با خبر ہے……
پھر بھی انکے دل میں اللہ کا خوف پیدا نہیں ہوتا …!!ایسا کیوں ہے…؟؟
کیونکہ والدین نے بچپن سے ان کے دل و دماغ میں اللہ کے خوف کے بجائے اپنا ذاتی خوف، رعب و دبدبہ ، سزا کا ڈر ہی بٹھایا ہے۔
اسی لیے آج وہ اللہ سے بے پرواہ ہو کر والدین سے چھپ کر گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
اور ایسے بھی والدین ہیں
جنہوں نے اپنی اولاد کی تربیت خوف خدا پر کی تو انکی اولاد نے بھی ہمیشہ برائیوں سے اپنے آپ کو باز رکھا —

18/08/2025

❤️ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
The Evolution of : A Legacy of Engineering Excellence
Introduction
Bayerische Motoren Werke AG, commonly known as BMW, is a renowned German automobile and motorcycle manufacturer celebrated for its performance-oriented vehicles and cutting-edge technology. Founded in 1916, BMW has become synonymous with luxury, innovation, and driving pleasure. This article explores the history, evolution, and impact of BMW on the automotive landscape.
History and Foundation
BMW was established in Munich, Germany, originally as a manufacturer of aircraft engines during World War I. The company's first product was the BMW IIIa aircraft engine, which gained acclaim for its performance and reliability. However, the end of the war in 1918 led to a ban on aircraft engine production in Germany, prompting BMW to diversify its offerings.— bersama Tasty Besty Food 1M.
In 1923, BMW shifted its focus to motorcycles, launching the R32, which featured a revolutionary flat-twin engine and shaft drive. This motorcycle laid the foundation for BMW's reputation in the two-wheeled segment, eventually leading to several racing successes in the years that followed.
The Automotive Era
BMW entered the automotive market in 1928 with the acquisition of the Fahrzeugfabrik Eisenach. The first BMW car was the BMW 3/15, based on the Austin Seven. The introduction of the BMW 328 in the 1930s marked a turning point for the company, establishing it as a manufacturer of high-performance sports cars. The 328 gained recognition in motorsports, winning the Mille Miglia in 1940.
However, World War II led to significant challenges for BMW. The company was forced to redirect its production to support the German war effort, resulting in severe damage to its factories and infrastructure. After the war, BMW faced the daunting task of rebuilding and redefining its identity.
Post-War Recovery and Growth
In the post-war years, BMW focused on producing small, a

Address

Sarwar Road H. No 168/8
Rawalpindi
SADARRAWALPINDI

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wapsi drug treatment nd psychiatry clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram