01/02/2025
اووری سسٹ (Ovarian Cyst) عورتوں میں پائی جانے والی ایک عام حالت ہے جس میں خواتین کے اووریز (بیضہ دانی) میں ایک یا زیادہ سیال سے بھرے ہوئے غبارے (سسٹس) بن جاتے ہیں۔ یہ سسٹ عام طور پر بغیر کسی علامات کے ہوتے ہیں، لیکن کچھ کیسز میں یہ درد، خون آنا یا دیگر مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
اووری سسٹ کی اقسام:
فولیکولر سسٹ (Follicular Cyst):
یہ سسٹ اووری کے فولیکول کے بڑھ جانے کی وجہ سے بنتا ہے، جو کہ بیضہ دانی میں انڈے (Egg) پیدا کرتا ہے۔
یہ سسٹ عام طور پر ہارمونل تبدیلی کی وجہ سے بن سکتے ہیں اور عام طور پر بغیر علاج کے خود ہی ختم ہو جاتے ہیں۔
کوریپٹیو سسٹ (Corpus Luteum Cyst):
جب فولیکول انڈے کو جاری کرنے کے بعد کوریپٹس بناتا ہے اور پھر سیال سے بھر جاتا ہے، تو یہ کوریپٹیو سسٹ بنتا ہے۔
یہ سسٹ اکثر درد پیدا کر سکتا ہے اور کبھی کبھار خون آنا بھی ہو سکتا ہے۔
چاکلیٹ سسٹ (Endometriomas):
یہ سسٹ اینڈومیٹریوسس کی وجہ سے بنتے ہیں، جب اینڈومیٹریال ٹشو (جو عام طور پر بچہ دانی کے اندر ہوتا ہے) بیضہ دانی یا دیگر اعضا پر اگتا ہے۔
ان سسٹ میں چاکلیٹ جیسا سیال ہوتا ہے اور یہ درد اور بانجھ پن کا سبب بن سکتے ہیں۔
پولی کلسٹک اووری سنڈروم (PCOS):
یہ حالت اووری میں چھوٹے سسٹ کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے اور ہارمونز میں عدم توازن کی وجہ سے ہوتی ہے۔
PCOS میں عورتوں کے ماہواری کے مسائل، زائد جسمانی بال، اور بانجھ پن کا سامنا ہو سکتا ہے۔
پریمیورل سسٹ:
یہ سسٹ عام طور پر پریمیورل عمر کی لڑکیوں میں پائے جاتے ہیں اور ان کا خود بخود ٹھیک ہو جانا عام ہے۔
اووری سسٹ کی علامات:
زیادہ تر اووری سسٹ میں علامات نہیں ہوتیں، مگر جب سسٹ بڑا ہو یا پیچیدگیاں پیدا ہوں تو کچھ علامات ہو سکتی ہیں:
پیٹ یا کمر میں درد: جو عام طور پر پٹھوں میں کھچاؤ کی صورت میں ہوتا ہے۔
پریڈز میں بے قاعدگی: ماہواری میں تاخیر یا خون آنا۔
دردناک ج**ع: جنسی تعلق کے دوران درد محسوس ہونا۔
پہلے سے زیادہ خون آنا: یا پھر معمول سے کم خون آنا۔
وزن میں اضافہ: کچھ خواتین میں سسٹ کی وجہ سے وزن میں اضافے کا سامنا ہوتا ہے۔
بخار یا متلی: بعض صورتوں میں، سسٹ پھٹنے یا مڑنے سے یہ علامات ہو سکتی ہیں۔
اووری سسٹ کی وجوہات:
ہاؤرمونل عدم توازن: جو سسٹ بننے کی اہم وجہ ہو سکتی ہے۔
ایسٹروجن کی زیادتی: جب ایسٹروجن ہارمون کی سطح زیادہ ہو، تو یہ سسٹ کی تشکیل کا سبب بن سکتا ہے۔
ایسٹرون کی کمی: ایسٹرون کی کمی بھی اس مسئلے کی وجہ بن سکتی ہے۔
اینڈومیٹریوسس: اینڈومیٹریوسس کی صورت میں، اینڈومیٹریال ٹشو اووریز میں پھیل جاتا ہے اور سسٹ بناتا ہے۔
PCOS: اگر خواتین کو پولی کلسٹک اووری سنڈروم ہو، تو اووریز میں کئی سسٹ بن سکتے ہیں۔
اووری سسٹ کا علاج:
علاج کا انتخاب سسٹ کی نوعیت، سائز اور اس کی پیچیدگیوں پر منحصر ہوتا ہے:
مفاصلی علاج:
پین کلرز (Pain relievers) جیسے پیرسیٹامول یا آئیبوپروفین پٹھوں کے درد کو کم کرنے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔
ہارمون تھراپی:
ہارمونل علاج جیسے کونٹراسیپٹیو گولیاں اووریز کی سسٹ کی تشکیل کو روکنے میں مدد کر سکتے ہیں۔
سرجری:
اگر سسٹ بہت بڑا ہو یا پیچیدگی پیدا کرے، تو سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ سسٹ کو نکال دیا جائے۔
لیپروسکوپی ایک کم پیچیدہ آپریشن ہے جس میں سسٹ کو نکالنے کے لیے چھوٹے سوراخ کیے جاتے ہیں۔
اینڈومیٹریوسس یا PCOS کا علاج:
اینڈومیٹریوسس یا PCOS کی حالت میں مخصوص علاج کیا جا سکتا ہے تاکہ سسٹ کی تشکیل اور اس کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
ہومیوپیتھک علاج:
ہومیوپیتھک علاج میں اووری سسٹ کے لئے کچھ مخصوص ادویات دستیاب ہیں جو علامات کی شدت کو کم کرنے اور سسٹ کی تشکیل کو روکنے میں مدد دیتی ہیں:
Thuja Occidentalis: اینڈومیٹریوسس یا پولی کلسٹک اووریز میں مددگار۔
Lachesis Mutus: خون کی کمی، درد اور ماہواری کی بے قاعدگیوں کے لئے۔
Pulsatilla: خون آنا، پیٹ میں درد اور پریڈز کے دوران مشکلات کے لئے۔
Calcarea Carbonica: اووریز میں سسٹ کی تشکیل کو روکنے کے لئے۔
Sepia: ہارمونل تبدیلیوں کے باعث ہونے والی علامات کے لئے۔
احتیاطی تدابیر:
ورزش: مناسب ورزش کریں تاکہ وزن کو قابو میں رکھا جا سکے اور ہارمونز کا توازن بہتر ہو۔
صحت مند غذا: وٹامنز، معدنیات، اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور غذا کھائیں تاکہ جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہو۔
پانی کی مناسب مقدار: جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔
چیک اپ: اگر اووری سسٹ کی علامات میں شدت آئے، تو فوری طور پر ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
اووری سسٹ کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے تاکہ تشخیص اور علاج درست طریقے سے کیا جا سکے۔