Hakeem/ Dr Mohammad Ali Malik

herbalist, homeopath, natureopath, hijamah expert, cupping therapist, Chiropractor, pulse diagnose expert. if u got any issue regarding health, share on my page & we'll give U the best solution about ur problem.

Your problem will be answered within 24 Hr.

Operating as usual

Another Happy patient review about Clinic Plus Healthcare Center

[03/27/20]   کورونا وائرس تحقیقات،تفصیلات و علاج علم طب کی روشنی میں...
راقم : حکیم محمد علی ملک.
اسسٹنٹ پروفیسر، اجمل طبیہ کالج، راولپنڈی. 03335555730
(COVID-19)
کورونا کے اوپر لکھنے سے پہلے بتاتا چلو کہ نیچے جو تحقیقات و تفضیلات لکھ رہا ہوں، یہ انٹرنیشنل ویب سائٹس جو چائنہ،یورپ اور پاکستان کی ہیلتھ انفارمیشن، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور نشنیل انسٹیوٹ آف ہیلتھ وغیرہ پر مبنی ہیں سے تجویز کردہ ہیں اور علاج ان سب علامات کو مدنظر رکھ کر تجویز کردہ ہیں اور بے شک اللہ تعالی ہی شفا دیتا ہے
کرونا وائرس ( COVID-19 )
کرونا وائرس (2019-nCoV) ایک متعدی اور وبائی مرض ہے جس کی پہلی مرتبہ نشاہدنی دسمبر 2019 میں چائنہ کے شہر ووہان میں ہوئی کرونا وائرس پیدا ہونے کی وجوہات جانوروں کے گوشت کھانے جیسا کہ چمگادڑ، کتا،بلی، گدھا وغیرہ اور تقریبا تمام حرام جانور اس میں شامل ہیں اور پاکستان کی ویب سائٹ نشینل انسٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق اونٹ کا گوشت کھانے سے جبکہ فقیر بلکل بھی اس بات سے متفق نہیں ہے کیونکہ اونٹ کا گوشت مسلم ممالک میں بے تحاشہ استعمال کرنے کے باوجود بھی کوئی مریض اس سے متاثر نہیں ہوا اور بقول ہیلتھ آرگنائزیشن کے پاکستان میں تمام مریض غیر ملک سے ہی بیمار ہو کر آئے ناں کہ اونٹ کے گوشت سے لہذا اونٹ کا گوشت جو کہ حلال ہے بے دریغ استعمال کر سکتے ہیں انشاء اللہ اس سے وبا نہیں پھیلی گی بلکہ مسلم ممالک میں وبا پھیلنی کی وجہ جو مریض کرونا وائرس سے بیمار ہے اس کے قریب جانے اور ساتھ کھانے سے لاحق ہوئی ہیں

کرونا وائرس اور مرض کی حقیقت:
چائنہ کی انٹرنیشنل ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق کرونا وائرس جسے COVID19 کا نام دیا گیا ہے
کوڈ 19 سے مراد کورنا وائرس سے پیدا ہونے والا نمونیا نما مرض ہے

کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی علامات:
کورونا وائرس کی انفیکشن ہونے پر ایک ہفتہ کے اندر مندرجہ ذیل مسائل ظاہر ہوتے ہیں:
نظام تنفس کے مسائل جیسا کہ کھانسی،سانس پھولنا،سانس لینے میں شدید دشواری، شدید سر درد، گلے میں درد اور اس کے ساتھ بدنی علامات میں شدید تھکاوٹ محسوس کرنا اور بخار شامل ہیں. مگر بعض مریضوں میں کورونا وائرس کی انفیکشن بڑھنے پر بھی بخار نہ چڑھنا اور بعض مریضوں میں آنکھوں کی جھلی کی سوزش اور شدت مرض یعنی کورونا وائرس کی انفیکشن بڑھنے سے قلبی تکالیف، دھڑکن تیز ہونااور سانس رک جانے سے موت واقع ہو جانا شامل ہیں. کیونکہ پھیپھڑوں میں شدید تعدیہ(Infection) کی وجہ سے پھیپھڑے آکسیجن کو جسم میں جزب کروانے سے معزور ہو جاتے ہیں.

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بنیادی ذرائع:
نظام تنفس
رابط

ترسیل بذریعہ نظام تنفس
گفتگو یعنی بات چیت کے دوران کھانسنے یا چھینکنے سے تقریبا ایک تا دو میڑ تک حساس لعابی جھلی میں داخل ہو سکتے ہیں جس سے تندرست مریض مرض نمونیا سے لاحق ہو جاتا ہے.

ترسیل کرونا بذریعہ رابطہ:
قطرات متاثرہ مریض کے کسی چیز پر جمع ہو جائے اور پھر تندرست آدمی کے ہاتھ اس متعلقہ چیز پر ٹچ ہو جائے اور وہ ہاتھ پھر منہ،ناک،آنکھ یا دیگر اعضاء کی لعابی جھلی سے مس ہو تو کورونا وائرس سے متاثر ہو جاتا ہے

وبا کو روکنے کی حفاظتی تدابیر
باہر کم نکلیں.
ذیادہ لوگ جمع نہ ہو تاکہ ترسیل بذریعہ تنفس نہ ہو
چہرے پر ماسک پہنے (صرف سرجیکل ماسک یا این 95 یا اس سے اوپر والا ہی کورونا وائرس کی روک تھام کے لیئے کار آمد ہیں لہذا سوتی یا ریشمی ماسک سے پرہیز کریں )
باقاعدگی سے ہاتھ دھوئیں
( بقول ورلڈ ہیتلھ آرگنائزیشن کھلے پانی میں 75 فیصد الکحل یعنی شراب والا مرکب جراثیم کش دوا ڈال کر ہاتھ دھوئے جائے )
یہ بلکل غلط اور مسلم امہ پر اپنی رائے دھونسنے والی بات ہو گی. فقط سنت سمجھ کر نمازوں کے اوقات میں ہاتھ دھونا،کھانے سے پہلے اور بعد میں دھونا،کام سے فارغ ہو کر ہاتھوں کو صاف رکھنا مطلب جو سنت طریقہ ہے بس ان پر ہی اکتفا کرنا کافی و شافی ہو گا انشاءاللہ. لہذا الکوحل کے مرکبات استعمال نہ کریں. صابن سے چہرہ اور ہاتھ اچھی طرح دھو لینا کافی ہے.

علاج...
پرہیز علاج سے ہزار گنا بہتر ہے لہذا باہر جانے کی صورت میں سرجیکل ماسک پہنے اور واپس آ کر ہاتھ اور منہ صابن سے دھوئیں اور لباس تبدیل کریں. تمام حضرات حفاظتی تدابیر خود بھی اپنائیں اور دوسروں کو بھی آگاہ کریں.
قابل اعتماد اور مستند ذرائع سے ہی معلومات حاصل کریں اور وباء کو معقول انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں اور افواہوں پر دھیان نہ دیں اور نہ ہی ان پر یقین کریں.

طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور حفاظتی ٹوٹکہ...
انجیر خشک 3 عدد
کلونجی 1 چٹکی
سوگی (کشمش) دیسی 20 گرام
بوقت صبح نہار منہ یا بوقت عصر نیم گرم پانی میں شہد ملا کر پی لیں.
اس کا استعمال آپ کی قوت مدافعت کو مظبوط کرے گا اور کرونا وائرس کی وبا سے محفوظ رکھے گا، انشاءاللہ اور اگر خدانخواستہ مرض لاحق ہو جائے تو نیچے والی ادویات سے فائدہ اٹھائیں.

ھو الشافی
اجزاء
زعفران 1گرام
عناب 35 گرام
لسوڑیاں 20 گرام
خطمی بیج 15 گرام
تخم جبازی 15 گرام
انجیر خشک 50 گرام
ملٹھی 30 گرام
زوفا 30 گرام
پروسیشاں 25 گرام
پانی 2 کلو
شکر دیسی 750 گرام
شہد خالص 250 گرام
طریقہ تیاری :
اوپر والی تمام ادویہ رات کو پانی میں بھگو کر اور صبح ہلکی آنچ پر رکھ دیں جب1لیٹر پانی رہ جائے تو مل چھان کر شکر اور شہد ملا کر حسب دستور شربت بنا لیں
طریقہ استعمال
تین بڑے کھانے کے چمچ 1کپ گرم پانی میں ملا کر دن میں 4 تا 5 مرتبہ پلائیں اور ممکن ہو تو اس کی بھاپ بھی دیں.
اور اس کے ساتھ خمیرہ بنفشہ میں کشتہ بارہ سنگا ایک رتی ملا کر صبح و شام دیں انشاءاللہ ہفتہ عشرہ میں مریض شفایاب ہو گا.
مزید کسی بھی راہنمائی کے لئیے رابطہ کر سکتے ہیں. 03335555730

Back pain removed from the 1st session of Chiropractic Adjustment

Backpain removed in 1st session of Chiropractic Adjustment

گھٹنوں سے آوازیں کیوں آتی ہیں..؟

نوکنگ ، پوپپنگ ، نوائزی گھنٹوں کی آوازیں پچاس سال سے اوپر ہر دوسرے شخص کے گھٹنوں سے اٹھتے، بیٹھتے آوازیں آتی ہیں۔
کبھی کبھی زیادہ وزن کے نوجوان بھی گھٹنے کی آوازیں محسوس کرتے ہیں۔
عام طور پر یہ آوازیں سننے والے کو پریشان کر دیتی ہیں
اور خوف آتا ہے کہ، اندر کہیں کچھ ٹوٹ پھوٹ تو نہیں ہوگئی.. ؟

اس شعبے کے ماہرین بتاتے ہیں بغیر درد کے آنے والی آوازیں بالکل بے ضرر ہیں چاہے وہ کسی بھی ایج میں آئیں۔

یہ آواز پوپپنگ نوکنگ جیسی ہوتی ہےجیسے پوپ کورن کے پکتے وقت یا دروازہ کھلتے بند ہوتے وقت آتی ہیں
لیکن اگر آوازوں کے ساتھ ساتھ درد بھی ہوتو پھر ان آوازوں پر کان دھرنا چاہیے۔

🔹️ سب سے پہلے وزن کی فکر کرنی چاہیے۔
کیونکہ اگر زیادہ وزن والے افراد گھٹنوں کے درد کی شکایت کریں تو ان کی مثال ایسے ہی ہے کہ انہوں نے مکان کا نقشہ تو پاس کرایا تھاگراؤنڈ پلس ون، دو منزل کا
لیکن عمارت کھڑی کر لی چار منزلہ..!
اب بنیادیں شور تو کریں گی..!
اگر گھٹنوں کی آوازیں درد کے ساتھ ہیں تو سب سے پہلے وزن کم کیجئے۔

🔹️اس کے ساتھ ساتھ ورزش کی عادت ڈالیں۔
ایک بہت آسان اور مفید ورزش یہ ہےکہ اپنے بیڈ پر الٹے لیٹ جائیں پیٹ کے بل اور دونوں پیروں کو ملا کر کسی ململ کے کپڑے سےباندھ لیں اور دونوں ٹانگیں اپنی کمر کی طرف بند کریں۔
👈نوٹ
ابتداء میں ہر ورزش بہت آہستہ شروع کی جانی چاہیے
پہلے دو چار دن صرف دو سے تین منٹ کیجئےاور جس قدر آسانی سے موڑا جا سکتا ہو موڑیں زورہرگز نہ لگائیں۔
جب پریکٹس ہو جائے تو ایک سیشن کا دورانیہ پندرہ منٹ تک کیا جانا چاہیئے۔

🔹️اس کے ساتھ ساتھ گھٹنوں کی بیک پر سرسوں یا زیتون کے تیل سے مالش کرائیں خود بھی کر سکتے ہیں۔
نہانے سے پہلے گھٹنوں پر تیل کی مالش کو زندگی بھر کے لیے لازم کر لیں۔

🔹️ایک عادت مستقل بنا لی جائے بستر، صوفہ، کرسی، کموڈ، اور ٹوائلٹ سےاٹھتے وقت اپنا سر، کندھے اوپر کا پورا دھڑآگے کی جانب جھکا لیں جس قدر ممکن ہو آگے کی طرف جھک کر اٹھیں اس دوران دونوں گھٹنوں پر ہاتھ رکھ لیں کسی حد تک یہ کرسی پر نماز ادا کرتے وقت رکوع کرنےوالی پوزیشن ہےاس طرح اٹھنے سے آوازیں کم سے کم ہوجائںں گی یقینی بات ہے یہ بھی پریکٹس سے آسان ہوتا جائے گا۔

🔹️اپنی غذا میں بادی اشیاء سے پرہیز کریں۔
یعنی چاول، آلو، بیف ،بیکری کی سب چیزیں سفید چینی ،سفید آٹا ،سفید فارمی مرغی ہر وہ چیز جوپیٹ میں گیس پیدا کرتی ہےگھٹنوں کے درد کی بہت بڑی وجہ ہے۔

👈گھٹنوں کی شدید تکلیف دہ صورتحال میں کسی مستند حجامہ تھراپسٹ سے حجامہ ضرور کروا لیں۔
اس سے آپ جوڑ کی تبدیلی جیسے میجر آپریشن سے بچ سکتے ہیں ۔

اللہ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے آمین۔
گھٹنوں کی تکالیف کے بہت سےقدرتی علاج موجود ہیں۔
دنیا میں کوئی بیماری لاعلاج نہیں اپنے کھانے پینے، سونےجاگنے، چلنے پھرنےاور سوچنے کے انداز میں مثبت تبدیلی سےہر تکلیف میں کمی آسکتی ہے۔

[02/01/20]   On air at FM 92.4
Chiropractic pain management

کائروپریکٹک ایڈجسٹمنٹ اب پاکستان میں بھی۔۔۔۔
خاص طور پر کمر اور گردن کے مہروں سے متعلق تمام مسائل کا مکمل اور یقینی علاج اب پاکستان میں کروایئں اور وہ بھی آپریشن کے بغیر۔۔۔۔
آج ہی رابطہ کریں اور اپنی تکلیف سے نجات حاصل کریں۔ پہلے سیشن میں ہی واضح فرق محصوص کریں۔
رابطہ کے لئے ابھی موبائل نکالیں اور نمبر ملایئں 5555730 0333

[12/29/19]   ایک حدیث قدسی میں اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں کہ "تم مجھے جیسا گمان کرو گے ویسا ہی پاؤ گے".

ہالی وڈ نے ایک ڈاکومنٹری فلم بنائ " The Secret" کے نام سے جو کہ Law of Attraction پر مبنی ہے اور اس کی بہت خوب صورت تشریح ہے. انٹرویوز, ویڈیوز, واقعات, تھیوری, حالات اور تدبیر پر مبنی یہ فلم دیکھنے لائق ہے. اس فلم کو دیکھ کر آپ با آسانی اپنی زندگی بدلنے کا فن جان سکتے ہیں.

لاء آف اٹریکشن کیا ہے؟
ہم اسکی مدد سے اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ کیسے دے سکتے؟

لاء آف اٹریکشن یہ ہے کہ ایک جیسی چیزیں ایک دوسرے کو اٹریکٹ کرتی ہیں۔ جیسے مقناطیس صرف اپنی ہی ساخت کی دھات کو اٹریکٹ کرتا ہے اسی طرح قائنات کی ہر مادی اور غیر مادی چیز اپنی ہی جیسی چیزوں کو اٹریکٹ کرتی ہے. اس نظریے کے تحت ہم اپنی سوچ کے صحیح استعمال سے اپنی من پسند چیزیں اٹریکٹ کر سکتے ہیں جیسے خوشی, سکون, کامیابی اور خوشحالی وغیرہ.

جب ہم کچھ سوچتے ہیں تو ہماری سوچ احساسات کی شعائیں پیدا کرتی ہے جو لہروں کی صورت میں فضاء میں تحلیل ہوتے ہیں اور قائنات کے اطراف سے ٹکرا کر اس جیسے واقعات،حالات،اور مواقع اٹریکٹ اور پیدا کرتے ہیں.

احساسات یا سوچ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ مثبت اورمنفی

اگر آپ کچھ بھی سوچ رہے ہیں اور اس سوچنے کی وجہ سے آپ کے احساسات منفی ہورہے ہیں تو وہ دوسروں تک پہنچ رہے, قائنات کے کونے کونے میں پہنچ رہے ہیں, یہ سوچ کی لہریں قائنات میں گردش کر رہی ہیں اور اسی طرح کے حالات اور واقعات پیدا کر رہی ہیں۔ ہم یہ کام لاشعوری طور پر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب ہم یہ سمجھ جاتے ہیں کہ ہم نے اپنے احساسات یا سوچ کو کیسے کنٹرول میں رکھنا ہے تو پھر لاء آف اٹریکشن کو مینج کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اگر ایک دن میں ہمارے زہن میں ساٹھ ہزار خیال آتے ہوں۔اتنے زیادہ خیالات کو مینج نہیں کیا جا سکتا یہ بات سچ ہے۔دنیا کا کوئی بندہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اتنے زیادہ خیالات کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ ہم اپنے احساسات کو مینج کر لیں۔اب ہوتا کیا ہے اگر آپ اچھا محسوس کر رہے ہیں تو خیالات بھی اچھے ہی آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کی صبح کا اغاز اچھا نہیں ہوتاتو سارا دن بھی خراب گزرتا ہے۔

آسان الفاظ میں لاء آف اٹریکشن یہ کہتا ہے کہ اگر آپ زندگی میں خوشی چاہتے ہیں تو خوشی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سوچیں, ان شاء اللہ خوشی اٹریکٹ ہو گی اور خوشی مل کر رہے گی, اور اگر کامیابی چاہتے ہیں تو اس کے بارے میں سوچیں تو کامیابی اٹریکٹ ہو گی. دولت چاہتے ہیں تو اس کو ہی سوچیں تو دولت آپ کے مقدر میں ہو گی.

بس اتنا سا فلسفہ ہے لاء آف اٹریکشن کا.

لیکن ہم غلطی یہاں کرتے ہیں کہ چاہتے تو ہم خوشی ہیں لیکن سوچتے ہر وقت اپنی مشکلات کو ہیں کہ کبھی خوشی نہیں ملی, ہمیشہ غم ہی ملا وغیرہ وغیرہ. اس کی جگہ یہ سوچیں کہ ان شاء اللہ جلد ہی بہت خوشی ملے گی, اور جب خوشی نصیب ہو گی تو ایسا ماحول ہو گا, ہم ایسے ایسے اعمال کریں گے وغیرہ وغیرہ.

اسی طرح چاہتے تو ہم صحت ہیں لیکن سوچتے سارا دن بیماری کو ہیں تو صحت کیسے اٹریکٹ ہو گی.

ہماری چاہت اور سوچ متضاد ہیں. اگر ہم اپنی سوچ کو چاہت کے مطابق کر لیں تو ہم لاء آف اٹریکشن کے تحت اپنی چاہت کے نتائج حاصل کر سکتے ہیں.

اور سب سے اہم بات کہ یہ یقین پیدا کریں کہ ایسا ممکن ہے,
لاء آف اٹریکشن سے میرے خیالات اور حالات بدل سکتے ہیں. یقین پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس تھیوری کو سجھ جائے ،جانا جائے۔

د ی سیکریٹ اس موضوع پر بنائ گئی ایک شاندار فلم ہے جو اس موضوع پر بننے والی پہلی فلم ہے. کوشش کریں اس فلم کو زندگی میں کم از کم ایک بار ضرور دیکھیں بلکہ اپنے چاہنے والوں کو بھی دکھائیں. انٹرنیٹ سے ڈاؤنلوڈ کی جا سکتی ہے. اس فلم میں بتایا گیا ہے کہ لاء اف اٹریکشن دور حاضر کا وہ علم اور اصول ہے جس سے آپ کوئی بھی کام لے سکتے ہیں.

اس فلم میں یہ نظریہ بھی دیا گیا ہے کہ ہماری زندگی میں جو بھی opportunities آتی رہتی ہیں اگر ہم ان opportunities کو avail کرتے رہیں تو یہ ساری زندگی آتی ہی رہتی ہیں اور اگر ہم ان کو reject کرنا شروع کر دیں تو ایک خاص حد کے بعد ہماری زندگی میں opportunities آنا ہی بند ہو جاتی ہیں. جیسا کہ بعض والدین بہترین سے بہترین رشتے کی تلاش میں جب آنے والے متعدد رشتوں کو انکار کرتے رہتے ہیں تو ایک وقت کے بعد رشتے آنے ہی بند ہو جاتے ہیں. اسی طرح بہترہن سے بہترین نوکری کی تلاش میں اپنی چاہت سے کم والی نوکریوں کو چھوڑتے رہتے ہیں تو ایک وقت ایسے آتا ہے کہ نوکریاں ملنا ہی بند ہو جاتی ہیں اور پھر وہ لوگ سوچتے ہیں کہ کاش وہ والی نوکری کر لی ہوتی یا فلاں رشتہ کر لیا ہوتا.

فلم کے بنیادی نظریے "جیسا سوچو گے ویسا پاؤ گے" کے تحت جب میں نے غور کیا تو مجھے یہ انکشاف ہوا کہ انگریزوں کی بنائ ہوی یہ فلم تو بلکل حدیث قدسی کی تشریح ہے.

حدیث قُدسی: ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں : "میرا بندہ مجھ سے جو توقع رکھتا ہے اور جیسا گمان اس نے میرے متعلق قائم کر رکھا ہے ویسا ہی مجھے پائے گا۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے تنہائی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے تنہائی میں یاد کرتا ہوں ۔ اگر وہ کسی جماعت کے ساتھ بیٹھ کر مجھے یاد کرتاہے تو میں اس سے بہتر جماعت میں اس کو یاد کرتاہوں۔ اگر وہ میری طرف بالشت بھر بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں اور اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف چار بڑھتا ہوں اور اگر وہ میری طرف آہستہ آہستہ آتا ہے تو میں اُس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔" (بخاری ومسلم ).

اس نظریے کو اپنائیں, ہمیشگی اختیار کریں اور نتائج خود دیکھیں. یہی اللہ نے ہمیں کرنے کو کہا ہے بیان کردہ حدیث پاک میں.

اللہ پاک ہم سب کو کامیاب, خوشحال اور صحت و ایمان والی زندگی عطا فرماۓ. آمین.
طالب دعا: محمد علی ملک

[12/20/19]   السلام علیکم ۔میرے محترم عزیز دوستو بھایو عزیز نوجوانوں۔آپ سب کے لیے میں موسم سرما کا تحفہ خاص لے کے آیا ہوں۔جی بلکل یہ موسم سرما کا خاص تحفہ ہے میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ کوئ نسخہ اپنے سینہ میں بند نا کروں۔علم کی روشنی اپنے سینہ سے منتقل کرتا رہوں۔کوئ نسخہ بھی نا چھپاوّں ۔اللہ پاک کی کرم نوازی سے آج بھی میں جو۔نسخہ آپکو پیش کرنے لگا ہوں میرے مجربات میں سے ہے۔معمول مطب ہے بنائیں اور مجھے ڈھیروں دعائیں دیں۔
**********سفوف مغلظ سپیشل*************

ھوالشافی۔

موصلی سفید۔5 تولہ۔
سنگاڑے۔5 تولہ۔
بہمن سفید۔2 تولہ
عقر قرحا۔تولہ۔
بادام۔5 تولہ
نرچھوارا۔5تولہ
ثعلب پنجہ۔دو تولہ
ثعلب مصری۔دو تولہ
الائیچی خورد۔ایک تولہ
تخم لاجونتی۔تین تولہ
زعفران۔6 ماشہ
اسگندھ ۔تین تولہ۔

ترکیب تیاری:سب ادویہ کو علیدہ علیدہ پیس لیں۔بعد میں سب کو یکجان کر لیں۔زعفران کو علیدہ کھرل کرنے کے بعد شامل کریں۔تیار ہے۔

مقدار خوراک:چھ ماشہ صبح و شام خالی پیٹ دودھ ساتھ۔40 دن مکمل کورس کافی ہے۔دوران استعمال جماع سے پرھیز کرنا ہو۔گا۔

*********فوائید******
👈سستی باہ و نامردی کا شرطیہ علاج،مشت زنی،کثرت جماع،اغلام پرستی کے تمام تر نقائص کے ازالہ کیلۓ تیر بہ ہدف سفوف ہے۔
👈 جسم و جاں میں طاقت و سرور کے جلترنگ بجا دینے والی کامیاب ترین دوا شاکیان باہ کیلۓ گوہر نایاب اکسیری سفوف ہے۔

👈 اس قدر قوت و طاقت پیدا کرتی ہے کہ اس کے استعمال کنندہ کے ہونٹ لال گلابی اور گالوں پہ سرخیاں نمایاں نظرتی ہیں ماہ دسمبر و جنوری اس دوا کے استعمال کا آئیڈیل موسم ہے۔

👈ہاتھوں سے اپنا گوھر نایاب ضائع کرنے والوں کے لیے پیام شفاء سفوف ہے۔

👈قدرتی امساک پیدا کرتا ہے ۔طبعی ٹائیمنگ مستقل بحال رکھتا ہے۔
نوٹ۔نسخہ کے رزلٹ کا تعلق معیاری اجزاء پر ہوتا ہے اجزاء کا معیاری و ایک نمبر ہونا ضروری ہے۔
طالب دعا: حکیم محمد علی ملک

Hakeem/ Dr Mohammad Ali Malik's cover photo

[10/22/19]   اشتہار بڑا دلچسپ تھا، میں رکشے کے قریب ہوکر غور سے پڑھنے لگا۔۔۔لکھا تھا ’’چھوٹے قد، کینسر، ہپاٹائٹس، گرتے بالوں، بے اولادی، موٹاپے، جوڑوں کے درد، امراضِ مخصوصہ، کالی کھانسی، گردن توڑ بخار، جسمانی کمزوری، پٹھوں کے کھنچاؤ ،دل کے امراض اور کسی بھی بیماری میں مبتلا افراد پریشان نہ ہوں ، ہر مرض کا شافی علاج موجود ہے۔۔۔ فراز دواخانہ ۔۔۔میں نے کچھ دیر غور کیا، مجھے لگا جیسے ساری بیماریاں مجھ میں موجود ہیں، اگلے ہی دن میں حکیم صاحب کے دواخانے میں موجود تھا۔ میرا خیال تھا کہ حکیم صاحب بیہودہ سے لباس میں ملبوس کوئی روایتی سے حکیم ہوں گے ، لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب واقعی میرا خیال درست ثابت ہوا۔ انتظار گاہ میں مریضوں کا رش لگا ہوا تھا، ایک طرف ایک بڑا سا اشتہار لگا ہوا تھا جس پر لکھا تھا’’بڑا آپریشن کرانے پر چھوٹا آپریشن فری‘‘۔۔۔دوسری لائن میں ایک عجیب و غریب انعام کی ترغیب دی گئی تھی، لکھا تھا ’’چار دفعہ ریگولر حکیم صاحب سے علاج کرانے پر انعامی کوپن حاصل کریں جس پر آپ کا 70 سی سی موٹر سائیکل بھی نکل سکتا ہے‘‘ ساتھ ہی کچھ خوش نصیبوں کی تصویریں بھی دی ہوئی تھیں جن کا موٹر سائیکل نکل چکا تھا۔

دو گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد میری باری آگئی، حکیم صاحب پر نظر پڑتے ہی میں اورحکیم صاحب دونوں اچھل پڑے۔میں نے اپنی آنکھیں ملیں، بازو پر چٹکی کاٹی، زور زور سے سر کو جھٹکے دیے ، لیکن حقیقت نہیں بدلی۔۔۔میرے سامنے میرا دوست فراز بھٹی بیٹھا ہوا تھا جسے ہم پیار سے فراڈ بھٹی بھی کہتے تھے۔اس سے پہلے کہ میرے منہ سے کچھ نکلتا، اس نے ایک چھلانگ لگائی، جلدی سے دروازہ بند کیا اور میرے قریب آکرگھگھیایا’’خدا کے لیے کسی کو پتا نہ چلے کہ میں کون ہوں‘‘۔ میں نے غصے سے اس کی طرف دیکھا ’’اوکے، نہیں بتاتا لیکن یہ سب کیا ہے، تم کب سے حکیم ہوگئے؟ ‘‘۔اُس نے ایک گہری سانس لی اور اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا ’’تمہیں تو پتا ہے چھ سال سے مجھے معدے کی پرابلم تھی، اتنے حکیموں کے چکر لگائے کہ معدہ تو ٹھیک نہیں ہوا البتہ مجھے حکمت آگئی، اب دوسال سے یہ دواخانہ کھولے بیٹھا ہوں‘‘۔ میں نے گھورا’’تو کیا اب تمہارا معدہ ٹھیک ہوگیا ہے؟‘‘ اس نے قہقہہ لگایا’’ہاں! اصل میں معدہ اس لیے خراب تھا کیونکہ اچھی خوراک نہیں مل رہی تھی، یقین کرو جب سے دواخانہ کھولا ہے، روز بیس ہزار کی دیہاڑی لگا کر اٹھتا ہوں، معدہ بھی ٹھیک ہوگیا ہے اور معاشی حالات بھی‘‘۔میں نے حیرت سے پوچھا’’اگر تمہیں حکمت نہیں آتی تو لوگوں کو ٹھیک کیسے کرلیتے ہو؟‘‘۔ اس نے ایک اور قہقہہ لگایا’’ابے لوگ بڑے وہمی ہوتے ہیں، اول تو پانچ ہزار کی دوائی خریدتے ہی اس خوف سے ٹھیک ہوجاتے ہیں کہ اگر ٹھیک نہ ہوئے تو مزید دوائی خریدنا پڑے گی۔۔۔اور بالفرض ٹھیک نہ بھی ہوں تو میرے پاس اپنی دوائی کی بجائے مریض کو غلط ثابت کرنے کے ایک سو ایک طریقے ہیں، مریض لاکھ کوشش کرلے لیکن اس سے دوائی کھانے میں کوئی چھوٹی موٹی کوتاہی ہوہی جاتی ہے، یہی کوتاہی میرے کام آتی ہے اور مریض کو یقین ہوجاتا ہے کہ حکیم صاحب کا کوئی قصور نہیں، غلطی خود اس کی ہے۔۔۔!!!‘‘

’’فراڈ بھٹی ‘‘۔۔۔آج ایک کامیاب حکیم ہے، اس کی کامیابی کی وجہ مریضوں کی صحت یابی نہیں بلکہ کیبل پر گھٹیا ترین اشتہارات کی بھرمار ہے، اس کے دواخانے کے اشتہارات میں ہر مشہور بندہ اس کی تعریفیں کرتا نظر آتاہے، فراڈ بھٹی کی خواہش ہے کہ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام میں سے اُس کا ٹارگٹ صرف ایک کروڑ عوام کو اپنے دواخانے تک لانا ہے تاکہ اس کے بعد وہ امریکہ شفٹ ہوجائے اور وہاں کسی اچھے سے ڈاکٹر سے اپنے جوڑوں کے درد کا علاج کرائے۔

آج کل ایسے ہی حکیموں اور دواخانوں کی بھرمار ہوچکی ہے، ہومیوپیتھک اور حکمت کی ڈگریاں فریم کروائے ایسے حکیم اور ڈاکٹر ہر مرض کا شافی علاج کرنے کے دعویدار ہیں۔کیبل پر اِن کے مضحکہ خیز اشتہارات معصوم لوگوں کو دھڑا دھڑ اِن کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ مجھے بڑی حیرت تھی کہ بڑے بڑے ٹی وی سٹارز بھی دھڑلے سے آکر کہہ رہے تھے کہ فلاں حکیم صاحب کے علاج سے اب میں بالکل ٹھیک ہوچکا ہوں۔میں نے آٹھ دس ایکٹرز کو فون کر کے اصل صورتحال پوچھی تو پتا چلا کہ حکیم صاحب ایکٹروں کواس کام کا بھاری معاوضہ ادا کررہے ہیں، ایک معروف ایکٹر کہنے لگے کہ ’’حکیم صاحب بہت بڑا ڈرامہ ہیں لہٰذا ہم سے بھی ڈرامہ ہی کرواتے ہیں‘‘۔

اِس قسم کے حکیم صاحبان نے ریڈیو پر بھی پورے پورے پروگرام خرید رکھے ہیں جس میں یہ جعلی خط پڑھتے ہیں اورسننے والوں کو’’طبی مشورے‘‘ دیتے ہوئے دواخانے کا ایک چکر لگانے کی ترغیب دیتے ہیں، ایسے حکیموں کے علاج سے بہت زیادہ فائدہ ہوتاہے۔۔۔لیکن صرف حکیموں کو۔۔۔میٹرک پڑھے ہومیوپیتھک ڈاکٹروں نے بھی کیبل کے ساتھ ساتھ رکشوں اور ویگنوں کے پیچھے اشتہارات لگا کر خوشخبریاں سنانا شروع کررکھی ہیں کہ اب کوئی مرض لاعلاج نہیں۔سادہ لوح لوگوں کو مذہبی طور پر بلیک میل کرنے کے لیے کئی ایک نے اپنے دواخانوں کے نام کے ساتھ سعودیہ، اسلامی اور مدینہ وغیرہ کے الفاظ شامل کر لیے ہیں۔ ان کے چیلے سرکاری ہسپتالوں میں پھرتے ہیں اور مریضوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ اگر وہ بہتر علاج کروانا چاہتے ہیں تو ہسپتال کا چکر چھوڑیں اورفلاں دواخانے کا رخ کریں۔

ایسے معالجوں نے ذاتی دوائیاں بھی ایجاد کر رکھی ہیں جن کے نام سن کر ہی ہنسی آتی ہے ، السعودیہ کا دم چھلا لگانے والے ایک حکیم صاحب کے دواخانے کی دوائیوں کے نام ملاحظہ فرمائیں ’’شربتِ رگڑا۔۔۔شربتِ طاقتِ سانڈ۔۔۔ معجونِ کھانسی روک۔۔۔سفوفِ ٹیکنیکل۔۔۔ شربتِ شوگر جڑ سے اکھاڑ۔۔۔معجونِ دمہ ختم۔۔۔سفوفِ امیزنگ پاور۔۔۔شربتِ پیار محبت!!! دلچسپ بات یہ ہے کہ سپیشلسٹ ڈاکٹر کی فیس زیادہ سے زیادہ دو ہزار تک ہوتی ہے لیکن اِس قسم کے اشتہاری معالج مشورے کے کوئی پیسے نہیں لیتے تاہم مشورے کے ساتھ دوائی کا کورس لینا ضروری ہے جس کی قیمت بیس ہزار تک ہے۔لاہور کے ایک حکیم صاحب کے بارے میں تو مشہور ہے کہ اگر مریض آکر یہ کہے کہ آ پ کی دوائی سے آرام نہیں آیا تو نہایت عزت سے اُسے دھکے مار کر باہر نکال دیتے ہیں۔

ہم سب علاج کی بجائے جادوئی علاج چاہتے ہیں، اسی بات کا فائدہ ایسے معالج اٹھاتے ہیں ، یہ بھی ایک قسم کے عامل بابے ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ایک رات کے عمل سے محبوب آپ کے قدموں میں۔ سٹیرائیڈز استعمال کرانے والے یہ معالج مریض کو وقتی آرام دلا کراپنی دھاک بٹھا دیتے ہیں اور اس کے بعد مریض ساری زندگی اپنے اندر زہر پالتا رہتا ہے۔ ان حکیموں کا دعویٰ ہے کہ یہ جس مرض کا علاج کرتے ہیں وہ زندگی بھر دوبارہ کبھی نہیں ہوتا حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ مرض واپس آئے نہ آئے بہرحال مریض کبھی واپس نہیں آتا۔قاسمی صاحب ایسے ہی ایک حکیم صاحب کے بارے میں بتاتے ہیں کہ موصوف قبض کا ایسا علاج کرتے تھے کہ اس کے بعد مریض ساری زندگی قبض کے لیے ترس جاتا تھا

Want your business to be the top-listed Clinic in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Videos (show all)

Back pain removed from the 1st session of Chiropractic Adjustment

Location

Category

Telephone

Opening Hours

Monday 17:00 - 21:00
Monday 11:00 - 14:00
Tuesday 17:00 - 21:00
Tuesday 11:00 - 14:00
Wednesday 17:00 - 21:00
Wednesday 11:00 - 14:00
Thursday 17:00 - 21:00
Thursday 11:00 - 14:00
Friday 17:00 - 21:00
Friday 11:00 - 14:00
Saturday 17:00 - 21:00
Saturday 11:00 - 14:00
About   Contact   Privacy   FAQ   Login C