14/02/2026
ایمبولینس ڈرائیور کی ڈائری – قسط نمبر 20
آج کی ڈیوٹی کچھ یوں شروع ہوئی کہ جیسے ایمبولینس نہیں، اونٹ گاڑی لے کر نکل رہا ہوں۔ میرا موڈ بالکل وہی تھا جو ہر پاکستانی شہری کا ہوتا ہے جب پٹرول کی قیمت سنتا ہے—یعنی بے جان، مگر چل رہا ہے۔
"ایمرجنسی ہے! ایک بندے کو شدید تکلیف
ہم پورے جوش سے پہنچے۔
سامنے صاحب زمین پر لیٹے ایسے کراہ رہے تھے جیسے فلم میں ایوارڈ جیتنے والے ہوں۔
میں نے کہا، "سر کہاں درد ہے؟"
بولے: "ہاں… وہ… اصل میں… ٹانگ میں تھوڑا کھچاؤ تھا…"
یعنی سائرن بجا بجا کر میں اس بندے کے کھچاؤ کے چکر میں پٹرول پھونک آیا
مریض کے ساتھ اتنے رشتہ دار آئے کہ لگ رہا تھا کسی نے اسپتال نہیں، ملی نغمے کا شو شروع کیا ہے۔
میں نے کہا، "بھائی ایک ایک کر کے آئیں
ایک چچا بولے: "ہم ایک ایک کر کے آئے تو مریض مر ہی نہ جائے؟"
میں نے دل میں کہا، "آپ کے آنے جانے سے مر بھی سکتا ہے!"
ڈاکٹر صاحب نے مریض کو دیکھا۔
پہلے مریض کو، پھر مجھے، پھر مریض کو، پھر مجھے۔
میں نے سوچا شاید پہیلی بوجھ رہے ہیں۔
آخر بولے:
"یہ ٹھیک ہے، تھوڑا سا ڈرامہ زیادہ ہے۔ پیناڈول دے دیں۔"
ان کی بات سن کر مجھے لگا ڈاکٹری کی ڈگری شاید چائے بنانے کے ساتھ مفت ملی ہوگی۔
جب سب ختم ہوا تو میں ایمبولینس میں بیٹھا سوچ رہا تھا:
"آخر مجھے ہی زندگی میں زیادہ کیوں دوڑنا پڑتا ہے؟ سردیوں میں ہیٹر خراب، گرمیوں میں اے سی خراب۔ باقی سال ڈرائیور خراب۔"
پھر خود ہی خود کو دلاسہ دیا:
"چلو یار… کم از کم ایمبولینس مجھ سے زیادہ وفادار ہے۔"
#ایمبولینس