Apni Ambulance

Apni Ambulance First online ambulance service in Pakistan

15/02/2026

#ایمبولینس

ایمبولینس ڈرائیور کی ڈائری – قسط نمبر 20آج کی ڈیوٹی کچھ یوں شروع ہوئی کہ جیسے ایمبولینس نہیں، اونٹ گاڑی لے کر نکل رہا ہو...
14/02/2026

ایمبولینس ڈرائیور کی ڈائری – قسط نمبر 20
آج کی ڈیوٹی کچھ یوں شروع ہوئی کہ جیسے ایمبولینس نہیں، اونٹ گاڑی لے کر نکل رہا ہوں۔ میرا موڈ بالکل وہی تھا جو ہر پاکستانی شہری کا ہوتا ہے جب پٹرول کی قیمت سنتا ہے—یعنی بے جان، مگر چل رہا ہے۔
"ایمرجنسی ہے! ایک بندے کو شدید تکلیف
ہم پورے جوش سے پہنچے۔
سامنے صاحب زمین پر لیٹے ایسے کراہ رہے تھے جیسے فلم میں ایوارڈ جیتنے والے ہوں۔
میں نے کہا، "سر کہاں درد ہے؟"
بولے: "ہاں… وہ… اصل میں… ٹانگ میں تھوڑا کھچاؤ تھا…"
یعنی سائرن بجا بجا کر میں اس بندے کے کھچاؤ کے چکر میں پٹرول پھونک آیا
مریض کے ساتھ اتنے رشتہ دار آئے کہ لگ رہا تھا کسی نے اسپتال نہیں، ملی نغمے کا شو شروع کیا ہے۔
میں نے کہا، "بھائی ایک ایک کر کے آئیں
ایک چچا بولے: "ہم ایک ایک کر کے آئے تو مریض مر ہی نہ جائے؟"
میں نے دل میں کہا، "آپ کے آنے جانے سے مر بھی سکتا ہے!"

ڈاکٹر صاحب نے مریض کو دیکھا۔
پہلے مریض کو، پھر مجھے، پھر مریض کو، پھر مجھے۔
میں نے سوچا شاید پہیلی بوجھ رہے ہیں۔
آخر بولے:
"یہ ٹھیک ہے، تھوڑا سا ڈرامہ زیادہ ہے۔ پیناڈول دے دیں۔"
ان کی بات سن کر مجھے لگا ڈاکٹری کی ڈگری شاید چائے بنانے کے ساتھ مفت ملی ہوگی۔

جب سب ختم ہوا تو میں ایمبولینس میں بیٹھا سوچ رہا تھا:
"آخر مجھے ہی زندگی میں زیادہ کیوں دوڑنا پڑتا ہے؟ سردیوں میں ہیٹر خراب، گرمیوں میں اے سی خراب۔ باقی سال ڈرائیور خراب۔"
پھر خود ہی خود کو دلاسہ دیا:
"چلو یار… کم از کم ایمبولینس مجھ سے زیادہ وفادار ہے۔"
#ایمبولینس

13/02/2026

13/02/2026

#ایمبولینس

10/02/2026

#ایمبولینس

ایمبولینس ڈرائیور کی ڈائری قسط نمبر 19: “سائرن، سیلفیاں اور سسرال”آج کی ڈیوٹی ایسی گزری کہ اگر اسے فلم بنائیں تو ایکشن ہ...
09/02/2026

ایمبولینس ڈرائیور کی ڈائری قسط نمبر 19: “سائرن، سیلفیاں اور سسرال”
آج کی ڈیوٹی ایسی گزری کہ اگر اسے فلم بنائیں تو ایکشن ہالی ووڈ کا، مزاح لولی وُڈ کا اور ٹینشن بالی وُڈ والی ہو۔ صبح ساڑھے نو بجے اسپتال پہنچا تو وارڈ بوائے رحیم نے ہاتھ میں پنکھا پکڑا ہوا تھا اور ایمبولینس کی طرف ایسے جھول رہا تھا جیسے کوئی جھاڑو دے رہا ہو۔
میں نے پوچھا:
“رحیم بھائی! یہ کیا کر رہے ہو؟”
کہنے لگا:
“ڈرائیور صاحب! آج آپ کی قسمت کھلنے والی ہے۔ ایمبولینس میں وی آئی پی مریض آ رہا ہے۔ میں بس نظرِ بد اُتار رہا ہوں۔”
میں نے دل میں کہا: وی آئی پی مریض؟ اچھا ہے، کم از کم فریج سے پانی تو ٹھنڈا ملے گا۔
تھوڑی دیر بعد پتہ چلا کہ مریض تو وی آئی پی ہے، لیکن مسئلہ بھی وی آئی پی قسم کا ہے۔
مسئلہ یہ تھا کہ صاحبِ محترم کو ہلکی سی چوٹ لگی تھی… اور خطرہ جان کا نہیں، عزت کا تھا۔
کیوں؟
کیونکہ وہ گر رہے تھے… سیلفی لیتے ہوئے!
ہاں جی! صاحب سڑک پر لائٹ کے نیچے کھڑے ہو کر “ڈرمیٹالوجیکل گلو” فلٹر والی سیلفی لے رہے تھے کہ اچانک پیچھے سے موٹر سائیکل والے نے ہارن مارا۔ جناب گھبرا کر جھکتے ہوئے گرے اور اب کہہ رہے تھے:
“بھائی جان، جلدی اسپتال لے چلو، کسی کو پتا نہ چلے کہ میں سیلفی لیتے گر گیا ہوں!”
میں نے کہا:
“آپ بے فکر رہیں، ہم لوگ پیشہ ور لوگ ہیں… ہم صرف ڈاکٹروں کو بتاتے ہیں، باقی پورے محلے تک بات خود پہنچ جاتی ہے۔”

ابھی ہم مریض کو ایمبولینس میں ڈال رہے تھے کہ وہ بولے:
“سائرن نہ چلانا پلیز! لوگوں کو لگے گا کوئی ہنگامہ ہو گیا ہے۔”
رحیم فوراً بولا:
“او بھائی! بغیر سائرن کے تو ایمبولینس ایسے لگتی ہے جیسے کوئی ادھار لے کر بھاگ گئی ہو۔”
لیکن وی آئی پی صاحب بضد تھے۔
چنانچہ میں نے سائرن بند رکھا…
پھر ٹریفک میں پھنس گیا…
اور ٹریفک والے نے اونچی آواز میں کہا:
“او بھائی! ایمبولینس ہے تو سائرن چالو کرو! نہیں تو لائن میں لگو!”
میں نے کہا:
“صاحب اندر کہہ رہے ہیں کہ سائرن نہ چلاؤ!”
ٹریفک والا آگے جھانک کر کہتا ہے:
“صاحب! آپ کی مراضی، لیکن اگر آپ نہیں چاہ رہے کہ لوگ سمجھیں آپ گر کے آئے ہیں… تو کم از کم ٹشو لگا لیں، خون باہر نظر آ رہا ہے!”

اسپتال پہنچے تو پتا چلا کہ اصل معاملہ کچھ اور ہے۔
صاحب کے ساتھ اُن کے سسر صاحب بھی آ گئے تھے۔
سسر صاحب نے مجھے کونے میں بلا کر کہا:
“بیٹا! ڈاکٹر سے کہنا کہ ہڈی کی فریکچر رپورٹ معمولی لکھ دے۔ ورنہ ہماری بیٹی بچوں کے سامنے بولتی رہے گی کہ ان کے ابو تو سیلفی لیتے گرے تھے!”
میں نے کہا:
“انکل! ہم ایمبولینس والے ہیں، عدالت والے نہیں۔”
لیکن ان کی پریشانی دیکھ کر لگا کہ اگر ڈاکٹر نے شدید فریکچر لکھ دیا تو شاید گھر جا کر وہی سیلفی والا زاویہ دوبارہ استعمال کر کے پھر گر پڑیں۔
آخرکار مریض ٹھیک ٹھاک داخل ہو گیا۔ ڈاکٹر نے رپورٹ میں لکھا:
“چوٹ معمولی ہے، لیکن مریض کی انا مجروح ہونے کا شدید امکان ہے۔ احتیاط لازم ہے!”
واپسی پر رحیم نے کہا:
“ڈرائیور صاحب! آج ایک بات ثابت ہو گئی…”
میں نے پوچھا:
“کیا؟”
کہنے لگا:
“سیلفی کی ایجاد انسانیت پر وہی اثر ڈال رہی ہے جو پہلے زمانے میں ٹانگے پر بیٹھ کر گانا گانے والے ڈالتے تھے۔ خطرناک اور پُر سرپرائز!”
میں نے دل میں کہا:
کاش سائرن میں ایک ایسا بٹن بھی ہوتا جو لوگوں کی شو مارنے والی خواہشات بند کر دیتا…
#ایمبولینس #

09/02/2026
09/02/2026
09/02/2026
09/02/2026
08/02/2026

Address

Https://maps. App. Goo. Gl/ASXRFaqHT64JShga 7
Rawalpindi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Apni Ambulance posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram