14/04/2025
جیسا کہ پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بائیکاٹ کی لہر زور پکڑ رہی ہے، ہمارے سامنے ایک تاریخی موقع کھڑا ہے ایک ایسا خلا جو ہم پُر کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ خلا پُر کرنا صرف متبادل بننے کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک بہتر، قابلِ اعتماد اور پائیدار انتخاب بننے کا چیلنج ہے۔
آئیے حقیقت کا سامنا کریں: ملٹی نیشنل کمپنیاں صرف اپنے نام کی وجہ سے نہیں، بلکہ تین بنیادی اصولوں کی بدولت کامیاب ہیں:
مسلسل معیاری پروڈکٹ
یقینی اور بروقت ترسیل
اعلیٰ درجے کی کسٹمر سروس
یہ سچ ہے کہ پاکستانی مینوفیکچررز کے پاس اتنا کیپیٹل ایکسپینڈیچر (CAPEX) نہیں ہوتا، لیکن ہمارے پاس صلاحیت، ٹیلنٹ اور حوصلہ موجود ہے جو اس خلا کو پُر کر سکتا ہے۔
تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
۱۔ کوالٹی سے کمپرومائز نہ کریں — ایک بار نہیں، ہمیشہ کے لیے-
اچھی کوالٹی ہمیشہ مہنگی مشینوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ اس کا آغاز ڈسپلن، تربیت اور کام پر فخر سے ہوتا ہے۔ مقامی ادارے سادہ لیکن مؤثر کوالٹی سسٹمز جیسے ،Kaizen ,5s and Poka yoki اپنا کر نقصانات اور لاگت کو کم کر سکتے ہیں۔
۲۔ سپلائی اور ترسیل کے نظام کو مضبوط بنائیں
محدود بجٹ کے باوجود ہم بہتر منصوبہ بندی، مقامی تعاون، اور ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے بروقت ڈیلیوری ممکن بنا سکتے ہیں۔ وقت پر مال پہنچانا اعتماد جیتتا ہے — اور یہ ہمیشہ مہنگا نہیں ہوتا۔
۳۔ کسٹمر سروس کوئی لگژری نہیں — یہ ایک کلچر ہے
ملٹی نیشنلز اس لیے کامیاب ہیں کیونکہ وہ اپنے کسٹمرز کو خریداری سے پہلے اور بعد میں بھی عزت دیتے ہیں۔ اپنی ٹیموں کو ٹرینڈ کریں کہ وہ جلدی جواب دیں، خوش اخلاقی سے بات کریں، اور مسائل حل کریں — یہی وہ چیز ہے جو دل جیتتی ہے۔
۴۔ مقابلہ نہیں، تعاون کریں
مقامی صنعتیں ، جوائنٹ وینچرز یا شیئرڈ سروسز کے ذریعے متحد ہو کر اخراجات کم کر سکتی ہیں اور استعداد بڑھا سکتی ہیں — ہم اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے بھی مل کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔
۵۔ ڈیجیٹل موجودگی اور برانڈنگ کو بہتر بنائیں
دکھنے میں بھی فرق پڑتا ہے۔ اپنی آن لائن موجودگی، پیکیجنگ اور کمیونیکیشن کو بہتر بنائیں۔ لوگوں کو بتائیں کہ ہم تیار ہیں اور ہمیں پاکستان پر یقین ہے۔
Featured by :RD food and Beverages