15/02/2026
#الرجی #کی #کہانی
انسان زندگی کے پہلے دن سے لے کر آخری دن تک مختلف مساٸل اور بیماریوں کا سامنا کرتا رہتا ہے۔ان میں سے کچھ مساٸل ایسے ہوتے ہیں جو مناسب علاج کے بعد ٹھیک ہوجاتے ہیں جبکہ کچھ مساٸل ایسے ہوتے ہیں جو مناسب علاج کے بغیر بھی ٹھیک نہیں ہوتے,ہاں یہ ضرور ہے کہ کچھ عرصے کے لیے اس مسٸلہ سے نجات مل جاتی ہے,لیکن کچھ دنوں کے بعد پھر اسی مسٸلہ سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ایسا ہی ایک مسٸلہ الرجی یعی زود حساسیت بھی ہے۔جو ایک بار انسان کو ہوجاۓ تو یہ زندگی بھر اس کے ساتھ رہ سکتی ہے۔
الرجی کیا ہے؟اسکو سمھنے کے لیے ہمیں تھوڑا بہت امیون سسٹم کو سمجھنا ہوگا۔آٸیے امیون سسٹم کو آسان الفاظ میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تصور کیجیے کہ ایک بڑا عالیشان محل ہے جسکی پہرہ داری کے لیے مختلف مہارت رکھنے والے فوجی دستوں کا سسٹم موجود ہے۔جیسے ہی باہر سے کوٸ حملہ آور محل میں داخل ہوتا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ فوجی دستوں کا یہ سسٹم انہیں فوراً پہچان لے گا اور متحرک یعنی الرٹ ہوجاۓ گا۔اس دشمن کے حملے کو ناکام بنانے کے لیے فوجی دستوں کا یہ سسٹم ان پر اٹیک کرے اور انکو ختم کردے گا۔
جیسے محل کی حفاظت کے لیے مختلف مہارت رکھنے والے فوجی دستوں کا سسٹم موجود ہے بالکل اسی طرح ہمارا جسم بھی ایک طرح کا محل ہے اور اسکی حفاظت کے لیے بھی ہمارا جسم ایک ڈیفینس سسٹم رکھتا ہے جسے امیون سسٹم کہا جاتا ہے۔جیسے ہی باہر سے کوٸ حملہ آور(اینٹی جن)جیسے واٸرس,بیکٹریا یا پیراساٸٹ ہمارے جسم میں داخل ہوتے ہیں تو ہمارا امیون سسٹم متحرک ہوجاتا ہے اور انکو تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ہمارے امیون سسٹم کے سب سے قابل فوجی واٸٹ بلڈ سیلز ہیں۔جسطرح محل کی حفاظت کے لیے تعینات فوجی دستوں کے پاس مختلف قسم کے ہتھیار موجود ہیں جو دشمنوں کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے بالکل اسی طرح ہمارے امیون سسٹم کے فوجی دستوں(جیسے واٸٹ بلڈ سیلز) کے پاس بھی ایسے ہتھیار ہیں جن کو وہ اپنے دشمن کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے,ان ہتھیاروں کو اینٹی باڈیز(خاص قسم کی پروٹینز)کہتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق ہمارے جسم میں دس ارب مختلف قسم کے اینٹی باڈیز پاۓ جاتے ہیں۔ہمارے امیون سسٹم کی خاص بات یہ ہے کہ مخصوص قسم کے حملہ آور کو ختم کرنےکے لیے مخصوص قسم کے اینٹی باڈیز موجود ہیں۔ہمارے امیون سسٹم کے ایسے اینٹی باڈیز جو ایک قسم کے بیکٹریا(اینٹی جن)کو ختم کرنے کے لیے موجود ہیں,انکو واٸرس کو ختم کرنے کے لیے استعمال نہیں کرسکتا۔آپ حملہ آوروں کو تالے اور اینٹی باڈیز کو چابی کی طرح سمجھ سکتے ہیں۔جسطرح ایک ہی چابی صرف ایک ہی مخصوص تالے کو لگ سکتی ہے بالکل اسی طرح ایک مخصوص قسم کے اینٹی باڈیز مخصوص قسم کے اینٹی جنز(جیسے واٸرس ) سے ہی جڑ سکتے ہیں اور انکے(اینٹی جنز)کو ختم کرسکتے ہیں۔
الرجی اس وقت ہوتی ہے جب ہمارا امیون سسٹم باہر سے جسم میں داخل ہونے والے ایسے مادوں کے خلاف متحرک ہوجاۓ اور ان پر اٹیک کرے جو حقیقت میں غیر نقصاندہ ہوتے ہیں۔ہمارے امیون سسٹم کا یہ حساس ردعمل الرجی کہلاتا ہے۔جن غیر نقصاندہ مادوں کو یہ دشمن اور حملہ آور(اینٹی جنز) سمجھ کر ان پر اٹیک کرتا ہے,ایسے مادوں کو الرجنز کہا جاتا ہے۔الرجنز عموماً ایک قسم کی پروٹینز ہوتی ہیں جو مختلف اشیا جیسے انڈے,دودھ,مونگ پھلی,پولن وغیرہ میں پاٸ جاتی ہیں یعنی ایسی چیز جس سے کسی شخص کو الرجی ہوسکتی ہے اس میں عموماً یہ پروٹینز موجود ہوتی ہیں(مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر الرجن پروٹین ہی ہو)۔مثلاً اگر کسی شخص کو دودھ سے الرجی ہے تو اسکا مطلب ہے کہ دودھ میں ایسی پروٹین(الرجن)موجود ہے کہ جب وہ جسم میں داخل ہوتی ہے تو ہمارا امیون سسٹم فوراً متحرک ہوجاتا ہے کیونکہ وہ اس الرجن یعنی پروٹین کو دشمن سمجھ رہا ہوتا ہے حالانکہ وہ حقیقت میں غیر نقصاندہ ہوتی ہے۔
جن لوگوں کو کسی چیز سے الرجی ہوتی ہے انکا امیون سسٹم اس چیز میں موجود الرجن کے خلاف حساس ردعمل کا اظہار کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ وہ چیز یعنی الرجن اسکا دشمن ہے۔ساٸنسدان ابھی تک مکمل طور پر یہ نہیں سمجھ پاۓ کہ کچھ لوگوں میں یہ حساس ردعمل کیوں ہوتا ہے۔دوسرے لفظوں میں محققین ابھی تک مکمل طور پر یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کچھ لوگوں کو کسی مخصوص چیز سے کیوں الرجی ہوتی ہے۔کیوں انکا امیون سسٹم ایسے مادوں کو نقصادندہ سمجھتا ہے جو کہ حقیقت میں غیر نقصاندہ ہوتے ہیں۔اب ہمارا امیون سسٹم ایسا کیوں کرتا ہے اسکی وجہ ظاہر ہے کہ ہمارے امیون سسٹم میں ایسی خرابی آجاتی ہے جسکی وجہ سے وہ کسی غیر نقصاندہ چیز کو دشمن سمجھتا ہے اور حساس ردعمل کا اظہار کرتا ہے جس کے نتیجہ میں کسی شخص کو الرجی ہوتی ہے۔
ہمارا امیون سسٹم الرجنز کو تباہ کرنے کے لیے جو اینٹی باڈیز بناتا ہے انہیں امینوگلوبلین E یا igE کہا جاتا ہے۔اگر کسی شخص کو دودھ سے الرجی ہے تو اسکا مطلب ہوگا کہ دودھ میں موجود الرجن جب جسم میں داخل ہوگا تو اسکو کو ختم کرنے کے لیے ہمارا امیون سسٹم مخصوص ہتھیار یعنی igE تیار کرے گا۔اور اگر کسی شخص کو دودھ سے الرجی نہیں ہے تو اسکا مطلب ہے کہ دودھ میں موجود الرجن کو ختم کرنے کے لیے اس شخص میں وہ مخصوص اینٹی باڈیز igE تیار نہیں کرے گا۔چونکہ اس شخص کے امیون سسٹم کے پاس igE نہیں ہیں لہذا اسکو دودھ سے الرجی نہیں ہوگی کیونکہ اس شخص کا امیون سسٹم دودھ میں موجود اس مخصوص پروٹین کو الرجن یعنی حملہ آور نہیں سمجھتا ہے۔
اب ہم الرجی کے تھوڑے بہت میکانزم کو بھی سمجھ لیتے ہیں۔فرض کریں کہ آپ کو انڈے سے الرجی ہے تو اسکا مطب ہے کہ انڈے میں موجود ایسی پروٹین ہے جس کو ہمارا امیون سسٹم دشمن سمجھتا ہے حالانکہ وہ غیر نقصاندہ ہے۔اب جسے ہی آپ انڈا کھاٸیں گے تو اس انڈے میں موجود الرجن ہمارے جسم میں داخل ہوگا تو ہمارا امیون سسٹم متحرک ہوجاۓ گا۔ہمارا امیون سسٹم کے ایک قسم کے سفید خلیات(لمفوساٸٹس) یعنی TH2 اس الرجن کے اثر کو زاٸل کرنے یا اس کو تباہ کرنے کے لیے فوراً igE اینٹی باڈیز بنانا شروع کردیں۔یہ اینٹی باڈیز امیون سسٹم کے ماسٹ سیلز(الرجی سیلز) کی سطح(ریسپٹرز) سے جڑ جاٸیں گے۔اب جیسے ہی وہ مخصوص الرجن ماسٹ سیلز کے رابطے میں آۓ گا تو وہ اینٹی جن(الرجن) ماسٹ سیلز کی سطح پر موجود igE اینٹی باڈیز کے ساتھ جڑ جاٸیں گے۔جب ایسا ہوگا تو ماسٹ سیلز متحرک ہوجاٸیں گے اور طاقتور کیمکلز ریلیز کریں گے۔ان میں سب سے اہم کیمکل ہسٹامین ہے۔ہمارے جسم پر جو بھی الرجی کی علامات ظاہر ہوتی ہیں وہ عموماً اسی کیمکل کے اخراج کا نتیجہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس کیمکل کے اخراج کو کم کرنے کے لیے اینٹی ہسٹامین ادویات تجویز کی جاتی ہیں جو کہ الرجی کی سوزش کو کم کرنے میں معاون ہیں۔
مختلف لوگوں کو مختلف چیزوں(الرجنز) کی وجہ سے الرجی ہوسکتی ہے۔مختلف اشیا کی وجہ سے ہونے والی الرجی کی علامات مختلف ہوسکتی ہیں یہ اس پر منحصر ہے کہ کسی شخص کو کس قسم کے الرجن کا سامنا ہوا ہے اور کتنی مقدار میں ہوا ہے۔ویسے تو کسی بھی شخص کو کسی بھی چیز کی وجہ سے الرجی ہوسکتی ہے تاہم جن اشیا کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کو الرجی ہونے کا امکان ہوتا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
🌟کھانے کی اشیا کی وجہ سے الرجی
نوے فیصد لوگوں کو کھانے کی جن اشیا کی وجہ سے الرجی ہوسکتی ہے ان میں دودھ,مونگ پھلی,انڈا,گندم,شیل مچھلی,سویا,گری دار میوے وغیرہ شامل ہیں۔
🌟پولن کی وجہ سے الرجی
انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی پھول کا ریزہ یا زرِگل بھی لیا جاتا ہے جو چھوٹے چھوٹے ذرات ہوتے ہیں جو پھولوں کے اندر پائے جاتے ہیں۔یہ ذرات پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔یہ پولن کے ذرات نر پودے سے مادہ پودوں تک اڑنے والے کیڑوں اور ہوا کے ذریعے پہنچتے ہیں
لیکن بعض پودوں کے ذرات اتنے چھوٹے ہوتے ہیں جو ہوا سے اڑ کر انسانی ناک کے ذریعے سانس لیتے ہوئے داخل ہو جاتے ہیں اور حساس لوگوں میں الرجی کا سبب بن جاتے ہیں۔
🌟پالتو جانوروں کی وجہ سے الرجی
بالتوں جانوروں جیسے کتا اور بلی کی کھال,پیشاب,تھوک میں ایسے پروٹینز(الرجنز) ہوتے ہیں جو کچھ لوگوں میں الرجی کا سبب بنتے ہیں۔
🌟کاکروچ کی وجہ سے الرجی
کاکروچ سرخی ماٸل بھورے رنگ کے کیڑے ہوتے ہیں۔ان کے پاخانے,تھوک,انڈے اور مردہ جسم کے اعضا میں ایسے پروٹینز ہوتے ہیں جو مخصوص افراد میں الرجی کا سبب بن سکتے ہیں۔
🌟لیٹکس کی وجہ سے الرجی
لیٹکس دراصل ایک سیال(Liquid) ہے جو ربڑ کے درخت سے حاصل ہوتا ہے اور اسکو مختلف قسم کی ربڑ کی مصنوعات جیسے دستانے اور غبارے وغیرہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اس لیٹکس میں ایسی پروٹین(الرجن) ہوتی ہے جو کچھ لوگوں میں الرجی کا سبب بن سکتی ہے۔
🌟حشرات الاارض کے ڈنک مارنے کی وجہ سے الرجی
کچھ حشرات جیسے شہد کی مکھیوں کے ڈنک مارنے کی وجہ سے کچھ لوگوں کو الرجی ہوسکتی ہے۔
🌟ادویات کی وجہ سے الرجی
کچھ ادویات جیسے اینٹی باٸیوٹیکس(پنسلین),انسولین,نان سٹیرواٸیڈیل اینٹی انفلامینٹری کی وجہ سے الرجی ہوسکتی ہے۔
🌟دھاتوں کی وجہ سے الرجی
کچھ دھاتیں ایسی ہیں جن کے رابطے میں آنے سے کچھ لوگوں کو الرجی کی شکایت ہوسکتی ہے۔ان دھاتوں میں کوبالٹ,کرومیم,زنک اور نکل وغیرہ شامل ہیں۔
الرجی مختلف علامات کا سبب بن سکتی ہے جیسے ناک بہنا،آنکھوں سے پانی آنا یا آنکھوں میں سرخی,چھینک آنا، جسم پر خارش ہونا(جس کے نتیجہ میں جسم پر سرخ دھبے نمودار ہوسکتے ہیں)،جسم کے کسی حصے میں سوجن(بالخصوص منہ,گلا,ہونٹ)،سانس لینے میں دشواری,پیٹ میں درد اور سر درد وغیرہ شامل ہیں۔الرجی معمولی سے شدید تک ہو سکتی ہے۔اینافاٸلکسیس ایک شدید الرجک درعمل ہے یا یوں سمجھیے یہ ایک شدید قسم کی الرجی ہے۔اسکی علامات میں سانس لینے میں دشواری اور بلڈ پریشر میں اچانک یا بہت کمی ہے۔یہ ایک ہنگامی اور جان لیوہ حالت ہے۔اگر متاثرہ شخص کا بروقت علاج نہ کیا جاۓ تو مریض کی موت واقع ہوسکتی ہے۔اینافاٸلکسس کے مریض کو ڈاکٹر عموماً ایپی نیفرین دوا دیتا ہے جو بلڈ پریشر کو معمول پر لانے میں کارآمد ہے۔اینافاٸیلکسس اکثر کھانے,ادویات اور کیڑوں کے زہروں جیسے الرجنز کی وجہ سے ہوتا ہے۔
الرجنز چار اہم راستوں کے ذریعے جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔
1)نظام انہظام
منہ کے ذریعے غذا اور ادویات کی شکل میں جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔
2)نظام تنفس
یعنی جس میں ناک اور پھیپھڑے شامل ہیں کے ذریعے پھپھوند,پولن,گردوغبار,جانوروں کے بالوں کی خشکی کی شکل میں جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔
3)جلد
جلد کے ذریعے رال گوند(Latex),دھاتوں کو چھونے سے(ان میں موجود الرجنز) ہمارے جسم میں داخل ہوجاتے ہیں۔
4)نظام دوران خون
خون میں یہ الرجنز انجیکشن کے ذریعے ادویات اور زہر(جیسے شہد کی مکھی ڈنک مارتی ہے) کی شکل میں جسم میں داخل ہوتے ہیں۔
یہ دیکھا گیا ہے کہ بڑوں کی نسبت بچوں میں الرجی ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ویسے تو ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ بعض لوگوں کو کسی مخصوص چیز سے الرجی کیوں ہوتی ہے اور بعض لوگوں کو اس مخصوص چیز سے الرجی کیوں نہیں ہوتی۔البتہ ماحولیاتی اور موروثی ایسے عوامل ہیں جو الرجی کے رجحانات کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یہ دیکھا گیا ہے کہ جن لوگوں کے والدین کو الرجی ہو تو ان میں الرجی ہونے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔اگر والدین میں سے کسی ایک کو الرجی ہو تو بچے کو الرجی ہونے کا امکان 30 سے 50 فیصد ہوتا ہے۔اگر کسی بچے کے دونوں والدین کو الرجی ہو تو اس بچے کو الرجی ہونے کا امکان 70 فیصد تک ہوتا ہے۔
ماحولیاتی عوامل جو الرجی کے رجحان کو بڑھانے میں معاون ہیں ان میں زرگل کے موسم میں کسی بچے کا پیدا ہونا,ماں کا دودھ نہ پینا,تمباکو نوشی کے گھر میں پرورش پانا,گھر میں پالتو جانور کا ہونا شامل ہیں۔
یاد رہے کہ الرجی کا کوٸ مستقل علاج نہیں ہے۔الرجی کا موٸثر علاج یہی ہے کہ جس چیز کی وجہ سے کسی فرد کو الرجی ہوتی ہے اس سے حتی الامکان بچا جاۓ۔مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو انڈے سے الرجی ہے تو الرجی سے بچنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ انڈے سے مکمل طور پر پرہیز کیا جاۓ۔جب تک آپ انڈا استعمال کریں گے آپ کو اس وقت تک الرجی کی شکایت ہوتی رہے گی۔ایسی کوٸ دوا نہیں ہے کہ جو امیون سسٹم کو بتاۓ کہ بھیا یہ جو انڈا ہے اس میں موجود پروٹین(یعنی جس کی وجہ سے الرجی ہوتی ہے جسے الرجن کہتے ہیں) تمہاری دشمن نہیں ہے بلکہ یہ غیر نقصاندہ ہے۔نہ ہی ہم امیون سسٹم کو جسم سے نکال سکتے ہیں کیونکہ اگر اسکو نکالا تو پھر ہماری موت پکی ہے۔الرجی کی ادویات صرف الرجی کی سوزش کو کم کرسکتی ہیں۔الرجی ادویات عموماً اس وقت تجویز کی جاتی ہیں جب کسی الرجن سے بچنا نامکمن ہو۔
اگر کسی فرد کو لگتا ہے کہ اسکو الرجی ہے تو اسکا بہتر طریقہ یہی ہے کہ متاثرہ شخص الرجسٹ سے رابطہ کرے۔الرجسٹ الرجی کی تشخیص کے لیے مختلف ٹیسٹ استعمال کرتا ہے۔ان ٹیسٹوں میں سب سے زیادہ اہم اور سب سے زیادہ عام استعمال ہونے والا ٹیسٹ جلد کا پرک ٹیسٹ ہے جسے انگلش میں Skin Prick Test کہا جاتا ہے۔
الرجسٹ اس ٹیسٹ کے ذریعے ممکنہ الرجن کی شناخت کرتا ہے جس کی وجہ سے کسی شخص کو الرجی ہوسکتی ہے۔اس ٹیسٹ میں الرجسٹ بازو یا کمر کی جلد پر ممکنہ الرجنز(یعنی ایسے الرجنز جن کی وجہ سے اسکو الرجی ہوسکتی ہے) ماٸع شکل میں سوٸ کے ذریعے چھبوتا(Prick) ہے تاکہ وہ ماٸع جلد کے ذریعے جسم میں داخل ہوسکے۔دس سے پندرہ منٹ کے بعد ٹیسٹ کے مقام پر سرخی پیدا ہوتی ہے اور ابھرے ہوۓ گول دھبے بن جاتے ہیں جن کو وہیل(Wheel) کہا جاتا ہے۔یہ ٹیسٹ ہوا سے ہونے والی الرجی,کھانے کی وجہ سے ہونے والی الرجی اور پنسلین کی وجہ سے ہونے والے الرجنز کی تشخیص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر نعمان خان
ايم بی بی ایس (ار ایم پی)
ایم سی پی ایس(میڈیسن)
ایف سی پی ایس (پلمونولوجی)
ایکس رجسٹرار چیسٹ وارڈ خیبر ٹیچنگ ہسپتال