Dr.Noman Khan chest specialist

Dr.Noman Khan chest specialist Chest/Allergy/Asthma specialist |Analyst |Philanthropist |Social activist |Writer

الرجک ناک کی سوزش کی وجوہات اور روک تھام•الرجک rhinitis کیا ہے؟الرجک ناک کی سوزش، جسے گھاس کا بخار بھی کہا جاتا ہے، ایک ...
15/02/2026

الرجک ناک کی سوزش کی وجوہات اور روک تھام
•الرجک rhinitis کیا ہے؟
الرجک ناک کی سوزش، جسے گھاس کا بخار بھی کہا جاتا ہے، ایک الرجک ردعمل ہے جو سردی جیسی علامات کا سبب بنتا ہے جیسے بہتی ناک، بھیڑ، آنکھوں میں خارش، ہڈیوں کا دباؤ اور چھینکیں۔ گھاس کا بخار پریشان کن ہوسکتا ہے، لیکن یہ طرز زندگی میں تبدیلیوں، الرجی کی دوائیں اور امیونو تھراپی (الرجی شاٹس) سے قابل علاج ہے۔

الرجک ناک کی سوزش کام یا اسکول کی مجموعی کارکردگی کو بھی متاثر کر سکتی ہے اور عام طور پر زندگی میں مداخلت کرتی ہے، لیکن آپ کو پریشان کن علامات کو برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

آئیے علامات جانتے ہیں اور صحیح علاج تلاش کرتے ہیں:

سست بازی اور ناک بہنا
ناک میں بھرا پن (بھیڑ)
سر درد اور ہڈیوں کا درد
گلے اور ناک میں بلغم کا بڑھ جانا
ناک میں خارش، حلق اور آنکھیں
تھکاوٹ
گھرگھراہٹ، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری
گلے کی سوزش گلے میں بلغم کے بہنے کی وجہ سے (پوسٹ ناسل ڈرپ)

•الرجک ناک کی سوزش (گھاس بخار) کی کیا وجہ ہے؟
الرجک ناک کی سوزش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مدافعتی نظام ہوا میں جلن کا جواب دیتا ہے۔ الرجین (خرابی پیدا کرنے والے) اتنے کم ہوتے ہیں کہ لوگ انہیں منہ یا ناک کے ذریعے آسانی سے سانس لے سکتے ہیں۔

الرجین زیادہ تر بے ضرر ہوتے ہیں۔ تاہم، اگر لوگوں کو گھاس کا بخار ہے تو، مدافعتی نظام الرجین کو گھسنے والے کے طور پر سمجھتا ہے۔ قدرتی مادوں کو خون کے دھارے میں چھوڑ کر، مدافعتی نظام جسم کی حفاظت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ چونکہ ناک، آنکھوں اور گلے میں موجود چپچپا جھلی الرجین کو نکالنے کے لیے کام کرتی ہیں، ان میں سوجن اور خارش ہوجاتی ہے۔

•کیا الرجک ناک کی سوزش (گھاس بخار) کو روکا جا سکتا ہے؟
اگرچہ گھاس بخار کو روکنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے، طرز زندگی میں تبدیلی اور روک تھام لوگوں کو الرجی سے نمٹنے میں مدد کر سکتی ہے۔ ممکنہ حد تک پریشان کن چیزوں سے پرہیز کرنے سے گھاس بخار کی علامات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ علامات کو کم کرنے کے لیے، کسی کو چاہیے کہ:

اپنے چہرے کو چھونے اور اپنی آنکھوں یا ناک کو رگڑنے سے گریز کریں۔
پالتو جانوروں کو صوفوں اور بستروں سے دور رکھیں
ویکیوم کلینر اور ایئر کنڈیشنر میں فلٹر استعمال کرکے ہوا میں الرجین کی تعداد کو کم کریں۔
ہاتھ اچھی طرح دھوئیں، خاص طور پر پالتو جانوروں کے ساتھ بات چیت کے بعد۔
جب آپ باہر ہوں تو آنکھوں کو جرگ سے بچانے کے لیے ٹوپی اور دھوپ کا چشمہ پہنیں۔
گھاس کا بخار لوگوں کو بے چین کر سکتا ہے، لیکن یہ صحت کے بڑے مسائل کا سبب نہیں بنتا۔ کے ساتھ زیادہ تر لوگ فیور طرز زندگی میں تبدیلیوں اور زائد المیعاد ادویات سے ان کی علامات کو کنٹرول کریں۔

 #الرجی  #کی  #کہانیانسان زندگی کے پہلے دن سے لے کر آخری دن تک مختلف مساٸل اور بیماریوں کا سامنا کرتا رہتا ہے۔ان میں سے ...
15/02/2026

#الرجی #کی #کہانی

انسان زندگی کے پہلے دن سے لے کر آخری دن تک مختلف مساٸل اور بیماریوں کا سامنا کرتا رہتا ہے۔ان میں سے کچھ مساٸل ایسے ہوتے ہیں جو مناسب علاج کے بعد ٹھیک ہوجاتے ہیں جبکہ کچھ مساٸل ایسے ہوتے ہیں جو مناسب علاج کے بغیر بھی ٹھیک نہیں ہوتے,ہاں یہ ضرور ہے کہ کچھ عرصے کے لیے اس مسٸلہ سے نجات مل جاتی ہے,لیکن کچھ دنوں کے بعد پھر اسی مسٸلہ سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ایسا ہی ایک مسٸلہ الرجی یعی زود حساسیت بھی ہے۔جو ایک بار انسان کو ہوجاۓ تو یہ زندگی بھر اس کے ساتھ رہ سکتی ہے۔

الرجی کیا ہے؟اسکو سمھنے کے لیے ہمیں تھوڑا بہت امیون سسٹم کو سمجھنا ہوگا۔آٸیے امیون سسٹم کو آسان الفاظ میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تصور کیجیے کہ ایک بڑا عالیشان محل ہے جسکی پہرہ داری کے لیے مختلف مہارت رکھنے والے فوجی دستوں کا سسٹم موجود ہے۔جیسے ہی باہر سے کوٸ حملہ آور محل میں داخل ہوتا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ فوجی دستوں کا یہ سسٹم انہیں فوراً پہچان لے گا اور متحرک یعنی الرٹ ہوجاۓ گا۔اس دشمن کے حملے کو ناکام بنانے کے لیے فوجی دستوں کا یہ سسٹم ان پر اٹیک کرے اور انکو ختم کردے گا۔

جیسے محل کی حفاظت کے لیے مختلف مہارت رکھنے والے فوجی دستوں کا سسٹم موجود ہے بالکل اسی طرح ہمارا جسم بھی ایک طرح کا محل ہے اور اسکی حفاظت کے لیے بھی ہمارا جسم ایک ڈیفینس سسٹم رکھتا ہے جسے امیون سسٹم کہا جاتا ہے۔جیسے ہی باہر سے کوٸ حملہ آور(اینٹی جن)جیسے واٸرس,بیکٹریا یا پیراساٸٹ ہمارے جسم میں داخل ہوتے ہیں تو ہمارا امیون سسٹم متحرک ہوجاتا ہے اور انکو تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ہمارے امیون سسٹم کے سب سے قابل فوجی واٸٹ بلڈ سیلز ہیں۔جسطرح محل کی حفاظت کے لیے تعینات فوجی دستوں کے پاس مختلف قسم کے ہتھیار موجود ہیں جو دشمنوں کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے بالکل اسی طرح ہمارے امیون سسٹم کے فوجی دستوں(جیسے واٸٹ بلڈ سیلز) کے پاس بھی ایسے ہتھیار ہیں جن کو وہ اپنے دشمن کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے,ان ہتھیاروں کو اینٹی باڈیز(خاص قسم کی پروٹینز)کہتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ہمارے جسم میں دس ارب مختلف قسم کے اینٹی باڈیز پاۓ جاتے ہیں۔ہمارے امیون سسٹم کی خاص بات یہ ہے کہ مخصوص قسم کے حملہ آور کو ختم کرنےکے لیے مخصوص قسم کے اینٹی باڈیز موجود ہیں۔ہمارے امیون سسٹم کے ایسے اینٹی باڈیز جو ایک قسم کے بیکٹریا(اینٹی جن)کو ختم کرنے کے لیے موجود ہیں,انکو واٸرس کو ختم کرنے کے لیے استعمال نہیں کرسکتا۔آپ حملہ آوروں کو تالے اور اینٹی باڈیز کو چابی کی طرح سمجھ سکتے ہیں۔جسطرح ایک ہی چابی صرف ایک ہی مخصوص تالے کو لگ سکتی ہے بالکل اسی طرح ایک مخصوص قسم کے اینٹی باڈیز مخصوص قسم کے اینٹی جنز(جیسے واٸرس ) سے ہی جڑ سکتے ہیں اور انکے(اینٹی جنز)کو ختم کرسکتے ہیں۔

الرجی اس وقت ہوتی ہے جب ہمارا امیون سسٹم باہر سے جسم میں داخل ہونے والے ایسے مادوں کے خلاف متحرک ہوجاۓ اور ان پر اٹیک کرے جو حقیقت میں غیر نقصاندہ ہوتے ہیں۔ہمارے امیون سسٹم کا یہ حساس ردعمل الرجی کہلاتا ہے۔جن غیر نقصاندہ مادوں کو یہ دشمن اور حملہ آور(اینٹی جنز) سمجھ کر ان پر اٹیک کرتا ہے,ایسے مادوں کو الرجنز کہا جاتا ہے۔الرجنز عموماً ایک قسم کی پروٹینز ہوتی ہیں جو مختلف اشیا جیسے انڈے,دودھ,مونگ پھلی,پولن وغیرہ میں پاٸ جاتی ہیں یعنی ایسی چیز جس سے کسی شخص کو الرجی ہوسکتی ہے اس میں عموماً یہ پروٹینز موجود ہوتی ہیں(مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر الرجن پروٹین ہی ہو)۔مثلاً اگر کسی شخص کو دودھ سے الرجی ہے تو اسکا مطلب ہے کہ دودھ میں ایسی پروٹین(الرجن)موجود ہے کہ جب وہ جسم میں داخل ہوتی ہے تو ہمارا امیون سسٹم فوراً متحرک ہوجاتا ہے کیونکہ وہ اس الرجن یعنی پروٹین کو دشمن سمجھ رہا ہوتا ہے حالانکہ وہ حقیقت میں غیر نقصاندہ ہوتی ہے۔

جن لوگوں کو کسی چیز سے الرجی ہوتی ہے انکا امیون سسٹم اس چیز میں موجود الرجن کے خلاف حساس ردعمل کا اظہار کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ وہ چیز یعنی الرجن اسکا دشمن ہے۔ساٸنسدان ابھی تک مکمل طور پر یہ نہیں سمجھ پاۓ کہ کچھ لوگوں میں یہ حساس ردعمل کیوں ہوتا ہے۔دوسرے لفظوں میں محققین ابھی تک مکمل طور پر یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کچھ لوگوں کو کسی مخصوص چیز سے کیوں الرجی ہوتی ہے۔کیوں انکا امیون سسٹم ایسے مادوں کو نقصادندہ سمجھتا ہے جو کہ حقیقت میں غیر نقصاندہ ہوتے ہیں۔اب ہمارا امیون سسٹم ایسا کیوں کرتا ہے اسکی وجہ ظاہر ہے کہ ہمارے امیون سسٹم میں ایسی خرابی آجاتی ہے جسکی وجہ سے وہ کسی غیر نقصاندہ چیز کو دشمن سمجھتا ہے اور حساس ردعمل کا اظہار کرتا ہے جس کے نتیجہ میں کسی شخص کو الرجی ہوتی ہے۔

ہمارا امیون سسٹم الرجنز کو تباہ کرنے کے لیے جو اینٹی باڈیز بناتا ہے انہیں امینوگلوبلین E یا igE کہا جاتا ہے۔اگر کسی شخص کو دودھ سے الرجی ہے تو اسکا مطلب ہوگا کہ دودھ میں موجود الرجن جب جسم میں داخل ہوگا تو اسکو کو ختم کرنے کے لیے ہمارا امیون سسٹم مخصوص ہتھیار یعنی igE تیار کرے گا۔اور اگر کسی شخص کو دودھ سے الرجی نہیں ہے تو اسکا مطلب ہے کہ دودھ میں موجود الرجن کو ختم کرنے کے لیے اس شخص میں وہ مخصوص اینٹی باڈیز igE تیار نہیں کرے گا۔چونکہ اس شخص کے امیون سسٹم کے پاس igE نہیں ہیں لہذا اسکو دودھ سے الرجی نہیں ہوگی کیونکہ اس شخص کا امیون سسٹم دودھ میں موجود اس مخصوص پروٹین کو الرجن یعنی حملہ آور نہیں سمجھتا ہے۔

اب ہم الرجی کے تھوڑے بہت میکانزم کو بھی سمجھ لیتے ہیں۔فرض کریں کہ آپ کو انڈے سے الرجی ہے تو اسکا مطب ہے کہ انڈے میں موجود ایسی پروٹین ہے جس کو ہمارا امیون سسٹم دشمن سمجھتا ہے حالانکہ وہ غیر نقصاندہ ہے۔اب جسے ہی آپ انڈا کھاٸیں گے تو اس انڈے میں موجود الرجن ہمارے جسم میں داخل ہوگا تو ہمارا امیون سسٹم متحرک ہوجاۓ گا۔ہمارا امیون سسٹم کے ایک قسم کے سفید خلیات(لمفوساٸٹس) یعنی TH2 اس الرجن کے اثر کو زاٸل کرنے یا اس کو تباہ کرنے کے لیے فوراً igE اینٹی باڈیز بنانا شروع کردیں۔یہ اینٹی باڈیز امیون سسٹم کے ماسٹ سیلز(الرجی سیلز) کی سطح(ریسپٹرز) سے جڑ جاٸیں گے۔اب جیسے ہی وہ مخصوص الرجن ماسٹ سیلز کے رابطے میں آۓ گا تو وہ اینٹی جن(الرجن) ماسٹ سیلز کی سطح پر موجود igE اینٹی باڈیز کے ساتھ جڑ جاٸیں گے۔جب ایسا ہوگا تو ماسٹ سیلز متحرک ہوجاٸیں گے اور طاقتور کیمکلز ریلیز کریں گے۔ان میں سب سے اہم کیمکل ہسٹامین ہے۔ہمارے جسم پر جو بھی الرجی کی علامات ظاہر ہوتی ہیں وہ عموماً اسی کیمکل کے اخراج کا نتیجہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس کیمکل کے اخراج کو کم کرنے کے لیے اینٹی ہسٹامین ادویات تجویز کی جاتی ہیں جو کہ الرجی کی سوزش کو کم کرنے میں معاون ہیں۔

مختلف لوگوں کو مختلف چیزوں(الرجنز) کی وجہ سے الرجی ہوسکتی ہے۔مختلف اشیا کی وجہ سے ہونے والی الرجی کی علامات مختلف ہوسکتی ہیں یہ اس پر منحصر ہے کہ کسی شخص کو کس قسم کے الرجن کا سامنا ہوا ہے اور کتنی مقدار میں ہوا ہے۔ویسے تو کسی بھی شخص کو کسی بھی چیز کی وجہ سے الرجی ہوسکتی ہے تاہم جن اشیا کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کو الرجی ہونے کا امکان ہوتا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

🌟کھانے کی اشیا کی وجہ سے الرجی

نوے فیصد لوگوں کو کھانے کی جن اشیا کی وجہ سے الرجی ہوسکتی ہے ان میں دودھ,مونگ پھلی,انڈا,گندم,شیل مچھلی,سویا,گری دار میوے وغیرہ شامل ہیں۔

🌟پولن کی وجہ سے الرجی

انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی پھول کا ریزہ یا زرِگل بھی لیا جاتا ہے جو چھوٹے چھوٹے ذرات ہوتے ہیں جو پھولوں کے اندر پائے جاتے ہیں۔یہ ذرات پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔یہ پولن کے ذرات نر پودے سے مادہ پودوں تک اڑنے والے کیڑوں اور ہوا کے ذریعے پہنچتے ہیں
لیکن بعض پودوں کے ذرات اتنے چھوٹے ہوتے ہیں جو ہوا سے اڑ کر انسانی ناک کے ذریعے سانس لیتے ہوئے داخل ہو جاتے ہیں اور حساس لوگوں میں الرجی کا سبب بن جاتے ہیں۔

🌟پالتو جانوروں کی وجہ سے الرجی

بالتوں جانوروں جیسے کتا اور بلی کی کھال,پیشاب,تھوک میں ایسے پروٹینز(الرجنز) ہوتے ہیں جو کچھ لوگوں میں الرجی کا سبب بنتے ہیں۔

🌟کاکروچ کی وجہ سے الرجی

کاکروچ سرخی ماٸل بھورے رنگ کے کیڑے ہوتے ہیں۔ان کے پاخانے,تھوک,انڈے اور مردہ جسم کے اعضا میں ایسے پروٹینز ہوتے ہیں جو مخصوص افراد میں الرجی کا سبب بن سکتے ہیں۔

🌟لیٹکس کی وجہ سے الرجی

لیٹکس دراصل ایک سیال(Liquid) ہے جو ربڑ کے درخت سے حاصل ہوتا ہے اور اسکو مختلف قسم کی ربڑ کی مصنوعات جیسے دستانے اور غبارے وغیرہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اس لیٹکس میں ایسی پروٹین(الرجن) ہوتی ہے جو کچھ لوگوں میں الرجی کا سبب بن سکتی ہے۔

🌟حشرات الاارض کے ڈنک مارنے کی وجہ سے الرجی

کچھ حشرات جیسے شہد کی مکھیوں کے ڈنک مارنے کی وجہ سے کچھ لوگوں کو الرجی ہوسکتی ہے۔

🌟ادویات کی وجہ سے الرجی

کچھ ادویات جیسے اینٹی باٸیوٹیکس(پنسلین),انسولین,نان سٹیرواٸیڈیل اینٹی انفلامینٹری کی وجہ سے الرجی ہوسکتی ہے۔

🌟دھاتوں کی وجہ سے الرجی

کچھ دھاتیں ایسی ہیں جن کے رابطے میں آنے سے کچھ لوگوں کو الرجی کی شکایت ہوسکتی ہے۔ان دھاتوں میں کوبالٹ,کرومیم,زنک اور نکل وغیرہ شامل ہیں۔

الرجی مختلف علامات کا سبب بن سکتی ہے جیسے ناک بہنا،آنکھوں سے پانی آنا یا آنکھوں میں سرخی,چھینک آنا، جسم پر خارش ہونا(جس کے نتیجہ میں جسم پر سرخ دھبے نمودار ہوسکتے ہیں)،جسم کے کسی حصے میں سوجن(بالخصوص منہ,گلا,ہونٹ)،سانس لینے میں دشواری,پیٹ میں درد اور سر درد وغیرہ شامل ہیں۔الرجی معمولی سے شدید تک ہو سکتی ہے۔اینافاٸلکسیس ایک شدید الرجک درعمل ہے یا یوں سمجھیے یہ ایک شدید قسم کی الرجی ہے۔اسکی علامات میں سانس لینے میں دشواری اور بلڈ پریشر میں اچانک یا بہت کمی ہے۔یہ ایک ہنگامی اور جان لیوہ حالت ہے۔اگر متاثرہ شخص کا بروقت علاج نہ کیا جاۓ تو مریض کی موت واقع ہوسکتی ہے۔اینافاٸلکسس کے مریض کو ڈاکٹر عموماً ایپی نیفرین دوا دیتا ہے جو بلڈ پریشر کو معمول پر لانے میں کارآمد ہے۔اینافاٸیلکسس اکثر کھانے,ادویات اور کیڑوں کے زہروں جیسے الرجنز کی وجہ سے ہوتا ہے۔

الرجنز چار اہم راستوں کے ذریعے جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔

1)نظام انہظام

منہ کے ذریعے غذا اور ادویات کی شکل میں جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔

2)نظام تنفس

یعنی جس میں ناک اور پھیپھڑے شامل ہیں کے ذریعے پھپھوند,پولن,گردوغبار,جانوروں کے بالوں کی خشکی کی شکل میں جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔

3)جلد

جلد کے ذریعے رال گوند(Latex),دھاتوں کو چھونے سے(ان میں موجود الرجنز) ہمارے جسم میں داخل ہوجاتے ہیں۔

4)نظام دوران خون

خون میں یہ الرجنز انجیکشن کے ذریعے ادویات اور زہر(جیسے شہد کی مکھی ڈنک مارتی ہے) کی شکل میں جسم میں داخل ہوتے ہیں۔

یہ دیکھا گیا ہے کہ بڑوں کی نسبت بچوں میں الرجی ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ویسے تو ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ بعض لوگوں کو کسی مخصوص چیز سے الرجی کیوں ہوتی ہے اور بعض لوگوں کو اس مخصوص چیز سے الرجی کیوں نہیں ہوتی۔البتہ ماحولیاتی اور موروثی ایسے عوامل ہیں جو الرجی کے رجحانات کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یہ دیکھا گیا ہے کہ جن لوگوں کے والدین کو الرجی ہو تو ان میں الرجی ہونے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔اگر والدین میں سے کسی ایک کو الرجی ہو تو بچے کو الرجی ہونے کا امکان 30 سے 50 فیصد ہوتا ہے۔اگر کسی بچے کے دونوں والدین کو الرجی ہو تو اس بچے کو الرجی ہونے کا امکان 70 فیصد تک ہوتا ہے۔

ماحولیاتی عوامل جو الرجی کے رجحان کو بڑھانے میں معاون ہیں ان میں زرگل کے موسم میں کسی بچے کا پیدا ہونا,ماں کا دودھ نہ پینا,تمباکو نوشی کے گھر میں پرورش پانا,گھر میں پالتو جانور کا ہونا شامل ہیں۔

یاد رہے کہ الرجی کا کوٸ مستقل علاج نہیں ہے۔الرجی کا موٸثر علاج یہی ہے کہ جس چیز کی وجہ سے کسی فرد کو الرجی ہوتی ہے اس سے حتی الامکان بچا جاۓ۔مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو انڈے سے الرجی ہے تو الرجی سے بچنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ انڈے سے مکمل طور پر پرہیز کیا جاۓ۔جب تک آپ انڈا استعمال کریں گے آپ کو اس وقت تک الرجی کی شکایت ہوتی رہے گی۔ایسی کوٸ دوا نہیں ہے کہ جو امیون سسٹم کو بتاۓ کہ بھیا یہ جو انڈا ہے اس میں موجود پروٹین(یعنی جس کی وجہ سے الرجی ہوتی ہے جسے الرجن کہتے ہیں) تمہاری دشمن نہیں ہے بلکہ یہ غیر نقصاندہ ہے۔نہ ہی ہم امیون سسٹم کو جسم سے نکال سکتے ہیں کیونکہ اگر اسکو نکالا تو پھر ہماری موت پکی ہے۔الرجی کی ادویات صرف الرجی کی سوزش کو کم کرسکتی ہیں۔الرجی ادویات عموماً اس وقت تجویز کی جاتی ہیں جب کسی الرجن سے بچنا نامکمن ہو۔

اگر کسی فرد کو لگتا ہے کہ اسکو الرجی ہے تو اسکا بہتر طریقہ یہی ہے کہ متاثرہ شخص الرجسٹ سے رابطہ کرے۔الرجسٹ الرجی کی تشخیص کے لیے مختلف ٹیسٹ استعمال کرتا ہے۔ان ٹیسٹوں میں سب سے زیادہ اہم اور سب سے زیادہ عام استعمال ہونے والا ٹیسٹ جلد کا پرک ٹیسٹ ہے جسے انگلش میں Skin Prick Test کہا جاتا ہے۔

الرجسٹ اس ٹیسٹ کے ذریعے ممکنہ الرجن کی شناخت کرتا ہے جس کی وجہ سے کسی شخص کو الرجی ہوسکتی ہے۔اس ٹیسٹ میں الرجسٹ بازو یا کمر کی جلد پر ممکنہ الرجنز(یعنی ایسے الرجنز جن کی وجہ سے اسکو الرجی ہوسکتی ہے) ماٸع شکل میں سوٸ کے ذریعے چھبوتا(Prick) ہے تاکہ وہ ماٸع جلد کے ذریعے جسم میں داخل ہوسکے۔دس سے پندرہ منٹ کے بعد ٹیسٹ کے مقام پر سرخی پیدا ہوتی ہے اور ابھرے ہوۓ گول دھبے بن جاتے ہیں جن کو وہیل(Wheel) کہا جاتا ہے۔یہ ٹیسٹ ہوا سے ہونے والی الرجی,کھانے کی وجہ سے ہونے والی الرجی اور پنسلین کی وجہ سے ہونے والے الرجنز کی تشخیص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر نعمان خان
ايم بی بی ایس (ار ایم پی)
ایم سی پی ایس(میڈیسن)
ایف سی پی ایس (پلمونولوجی)
ایکس رجسٹرار چیسٹ وارڈ خیبر ٹیچنگ ہسپتال

الرجی اور نزلے کا فرقالرجی میں آنکھوں اور ناک سے پانی آتاہے، ناک بند ہو جاتی ہے اور سوزش محسوس ہوتی ہے لیکن بخار نہیں ...
15/02/2026

الرجی اور نزلے کا فرق
الرجی میں آنکھوں اور ناک سے پانی آتاہے، ناک بند ہو جاتی ہے اور سوزش محسوس ہوتی ہے لیکن بخار نہیں ہوتا جبکہ نزلہ میں پانی کی نسبت گاڑھی رطوبت نکلتی ہے اور بخار بھی ہوسکتا ہے۔

®ڈاکٹر نعمان خان

Hemoptysis Kills by Asphyxiation, Not ExsanguinationWatching a junior resident furiously order normal saline and blood t...
15/02/2026

Hemoptysis Kills by Asphyxiation, Not Exsanguination

Watching a junior resident furiously order normal saline and blood transfusions for a hemoptysis patient is agonizing because they are treating the wrong system.

The "Smart" mental model is: "The 150cc Drowning."

• The Variable: The volume of the anatomical dead space.

• The Paradox: The human body holds roughly 5,000 mL of blood. A patient can easily survive a 500 mL gastrointestinal bleed (a standard blood donation). But if that same 500 mL empties into the tracheobronchial tree, the mortality rate approaches 80%.

• The Implication: The patient does not bleed to death; they drown in their own blood. The primary cause of death is asphyxiation from airway obstruction, not hemorrhagic shock.

Here is the consultant-level breakdown of "The Dead Space Math," "The Clotting Paradox," and "The Resuscitation Reframe."

1. The "Dead Space Math": Why Tiny Volumes are Lethal

• The Anatomy: The conducting airways (from the trachea down to the terminal bronchioles) do not participate in gas exchange. This is the anatomical dead space, and in an average adult, its total volume is only about 150 mL.

• The "Smart" Reality:
• It only takes a fast 150 mL bleed to completely fill the major airways, physically displacing all oxygen.

• If a hypertrophied bronchial artery ruptures, it is bleeding under systemic arterial pressure (120/80 mmHg). It can fill that 150 mL void in a matter of seconds.

• Long before the patient's blood pressure drops from hypovolemia, their oxygen saturation plummets to zero.

2. The "Clotting Paradox": The Murder Weapon

• The Scenario: A patient has a massive bleed. The body does what it is programmed to do: it initiates the coagulation cascade to stop the leak.
• The "Smart" Pathology:
• In a GI bleed, a clot is a lifesaver.
• In the lung, a massive clot forms a Bronchial Cast.
• This thick, rubbery cast solidifies perfectly inside the mainstem bronchus. While it might temporarily tamponade the bleeding vessel, it simultaneously seals off an entire lung from ventilation. If the clot sits high enough at the carina, it knocks out both lungs.

• The Bedside Trap: You will see the patient stop coughing up fresh blood. The resident sighs in relief, thinking the bleeding stopped. In reality, the blood hasn't stopped; it is just trapped behind a massive, suffocating clot.

3. The "Resuscitation Reframe": Airway Over Access

• The Dogma: "Large bore IVs, type and cross, push fluids."

• The "Smart" Pivot: * Positioning is the Ultimate Resuscitation: The absolute first move is putting the patient in the Lateral Decubitus Position (Bleeding Lung Down). Gravity is your most immediate airway adjunct. You sacrifice the diseased lung to protect the healthy lung's gas exchange.

• Intubation Strategy: A standard size 7.0 endotracheal tube is almost useless here. You cannot suction thick blood clots through it. You need a massive conduit. If you must intubate, use the largest tube possible (size 8.5 or 9.0) to allow a therapeutic bronchoscope to pass through, or pivot immediately to a Rigid Bronchoscope.

• The Suction Mandate: Do not push fluids to treat a dropping blood pressure—the bradycardia and hypotension are often secondary to profound hypoxia, not volume loss. Clear the airway, restore oxygenation, and the hemodynamics will often self-correct.

Summary for the Bedside

"Protect the good lung, then call for the scope."

1. Ignore the Hemoglobin: A massive hemoptysis patient often has a perfectly normal hemoglobin level on their initial CBC. Do not wait for a drop in hemoglobin to act.

2. Position Immediately: If they are coughing up blood from a right upper lobe aspergilloma, roll them onto their right side instantly.

3. Prepare the Tools: A flexible bronchoscope is a diagnostic tool; it is terrible at suctioning massive clots. In a true asphyxiating bleed, you need the Thoracic Surgeon or Interventional Pulmonologist to drop a Rigid Bronchoscope to mechanically core out the clots.

Smart Rule: If you are managing a massive bleed in the ICU and cannot get a rigid scope immediately, your best temporizing move is Selective Mainstem Intubation. Advance a standard endotracheal tube deliberately into the healthy lung's mainstem bronchus, inflate the cuff, and ventilate just that one lung until Interventional Radiology arrives.

Dr.Noman Khan chest specialist
Shifa Hospital Saidu Sharif Swat

کلینک پتہ شفاء ہسپتال سیدو شریف سوات صبح 10 تا شام 4📞0341-4967717*ڈاکٹر نعمان خان چیسٹ کلینک*Shifa Hospital Saidu Sharif...
15/02/2026

کلینک پتہ
شفاء ہسپتال سیدو شریف سوات

صبح 10 تا شام 4
📞0341-4967717

*ڈاکٹر نعمان خان چیسٹ کلینک*
Shifa Hospital Saidu Sharif Swat

15/02/2026

خوشبو الرجی اور پھیپھڑے !!!

ہم خوشبو کو اپنی ناک میں موجود "Olfactory receptors" کے ذریعے محسوس کرتے ہیں۔ جب ہم کوئی خوشبو سونگھتے ہیں تو اس کے ذرات ہوا میں سے ناک میں داخل ہوتے ہیں اور ان receptors سے چپکتے ہیں۔ یہ receptors دماغ کو سگنل بھیجتے ہیں جس سے ہمیں خوشبو کا احساس ہوتا ہے۔

ہماری ناک میں تقریباً 400 مختلف قسم کے Olfactory receptors ہوتے ہیں اور ہر ایک مختلف قسم کی خوشبو کا پتہ لگانے کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک receptor گلاب کی خوشبو کا پتہ لگا سکتا ہے جبکہ دوسرا پھولوں کی خوشبو کا پتہ لگا سکتا ہے۔

ہمارا دماغ ان receptors سے ملنے والے سگنلز کو ایک خاص خوشبو کے طور پر موصول کرتا ہے۔ یہ کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے، جیسے کہ ہماری عمر، تجربات، اور صحت۔

خوشبو کا احساس ہماری یادداشت اور جذبات سے بھی قریبی تعلق رکھتا ہے۔ ایک خاص خوشبو ہمیں کسی خاص یاد یا احساس کی یاد دلا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، کسی خاص کھانے کی خوشبو ہمیں اپنے بچپن کی یاد دلا سکتی ہے۔

خوشبو کا احساس ہماری زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ہمیں اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے اور ہماری صحت اور جذبات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

ہماری عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہماری خوشبو محسوس کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔ کچھ بیماریاں اور ادویات بھی ہماری خوشبو محسوس کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہیں۔ دھواں اور دیگر آلودگیاں ہماری خوشبو محسوس کرنے کی صلاحیت کو کم کر سکتی ہیں۔

خوشبو کا پھیپھڑوں / سانس کی بیماریوں میں ایک اہم کردار ہوتا ہے، اور یہ کئی طریقوں سے ہو سکتا ہے:

1. سوزش: کچھ خوشبووں سے سوزش پیدا ہو سکتی ہے، جو پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور سانس لینے میں دشواری پیدا کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، تمباکو کے دھوئیں، دھول، اور کیمیائی مادوں کی خوشبو سے سوزش ہو سکتی ہے۔

2. الرجی: کچھ خوشبووں سے الرجی ہو سکتی ہے، جس سے سانس لینے میں دشواری، کھانسی، اور چھینکنے جیسے علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، پھولوں، گھاس، اور جانوروں کی خوشبو سے الرجی ہو سکتی ہے۔

3. پھیپھڑوں کی بیماریوں کی علامات کو بڑھانا:
کچھ خوشبوئیں پھیپھڑوں کی بیماریوں کی علامات کو بڑھا سکتی ہیں، جیسے کہ دمہ اور دائمی رکاوٹ والی پھیپھڑوں کی بیماری (COPD)۔ مثال کے طور پر، تیز خوشبوئیں، جیسے کہ عطر اور ایئر فریشنر، دمے کے مریضوں میں سانس لینے میں دشواری پیدا کر سکتی ہیں۔

خوشبو سے پھیپھڑوں / سانس کی بیماریوں سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانے چاہیے:

تمباکو نوشی سے پرہیز کریں اور تمباکو کے دھوئیں سے دور رہیں۔
دھول اور کیمیائی مادوں سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
الرجی سے بچنے کے لیے اپنے الرجی ڈاکٹر سے بات کریں۔
بیمار لوگوں سے رابطے سے بچیں اور کھانسنے اور چھینکنے کے بعد اپنے ہاتھ دھوئیں۔
تیز خوشبوؤں سے بچیں، خاص طور پر اگر آپ کو پھیپھڑوں کی بیماری ہے۔

15/02/2026

ڈسٹ الرجی |وجوہات |بچاؤ !!!

پرانے وقتوں میں مشہور تھا کہ دمہ (Asthma) ’’دم‘‘ لے کر ہی جاتا ہے (یعنی بندے کو مار کر ہی ختم ہوتا ہے)، مگر اَب میڈیکل سائنس کے ترقی یافتہ دور میں اس مرض کا مکمل علاج موجود ہے۔
دمے کا مرض پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی عام ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ آج بھی اس مرض کی بڑی تعداد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں بھی اس مرض کے پھیلاو کی یہی رفتار ہے۔
قارئین! دراصل گندم کٹائی کے دنوں کی آمد آمد ہے، ہر طرف جگہ جگہ سڑک کنارے تھریشنگ مشینیں لگی ہوئی ہیں، جن سے ہر طرف دھول، مٹی، گرد و غبار اور ماحولیاتی آلودگی عروج پر ہے۔
گندم کی فصل کی کٹائی اور تھریشنگ کے دوران میں سانس کی بیماریوں میں بھی شدت آجاتی ہے، جس سے یہ امراض خطرناک صورتِ حال اختیار کرسکتے ہیں۔
اس حوالے سے مشہور پاکستانی نژاد امریکن ڈاکٹر صدیق اللہ کا کہنا ہے کہ جو افراد ’’ڈسٹ الرجی‘‘ میں مبتلا ہیں، وہ گندم کے قریب مت جائیں۔ تاہم تھریشنگ کے بعد جب گرد و غبار ختم ہوجائے، تو وہ معمول کی سرگرمیاں شروع کرسکتے ہیں۔
گندم کی کٹائی اور تھریشر کے دنوں میں دمہ اور سانس کی الرجی کے مریض ماسک کا استعمال کریں۔ انہیلر اور ادویہ کا باقاعدگی سے استعمال کریں۔ جہاں تھریشنگ ہو رہی ہو، وہاں سے دور رہیں۔
گندم کٹائی کے دھول سے ایک قسم کی الرجی ہوتی ہے، جسے ہم اپنی عام زبان میں ’’ڈسٹ الرجی‘‘ یا ’’دھول الرجی‘‘ کہتے ہیں۔ دھول کی الرجی ایک عام اور پریشان کن مسئلہ ہے، جو کسی بھی عمر میں کسی کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ یہ وہ حساسیت ہے، جو دھول یا دوسری چیزوں کی پوڈری ذرات سے خصوصی طور پر پیدا ہوتی ہے۔ اس کی علامتوں میں ناک بہنا، آنکھوں کی خارش، چھینکیں اور چھینکتے وقت ناک کی جھلی کا پھولنا شامل ہیں۔
اپنی صحت کی دیکھ بھال کے لیے اپنی دھول کی الرجی کے امکان کو مدِ نظر رکھیں اور ضرورت پڑنے پر اپنے ڈاکٹر سے مشورہ لیں۔
سانس کے مریض گندم کی کٹائی والے علاقوں میں جانے سے اجتناب کریں۔ اس سے اُن کی سانس کی بیماری میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ گندم کی کٹائی کے دوران میں اُڑنے والا گندم کا گرد ایسے مریضوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے ۔ اس لیے مریضوں کو چاہیے کہ وہ گندم کی کٹائی والے علاقوں میں جانے سے اجتناب کریں، اگر جانا ضروری بھی ہو، تو منھ پر ماسک چڑھا کر جائیں۔

®ڈاکٹر نعمان خان

جس لمحے آپ کو سانس لینے کے بارے میں سوچنا پڑے گا، آپ یہ جان لینے کی کوشش کریں گے کہ  کچھ بند ہونے والا ہے۔ یہ ایک تکلیف ...
14/02/2026

جس لمحے آپ کو سانس لینے کے بارے میں سوچنا پڑے گا، آپ یہ جان لینے کی کوشش کریں گے کہ کچھ بند ہونے والا ہے۔ یہ ایک تکلیف دہ احساس ہے، اس لیے اس کی نوعیت ایک فرد سے دوسرے فرد میں مختلف ہوتی ہے.
سانس کا پھولنا اور دل کی دھڑکن کا تیز ہونا کس حالت کی علامت ہے؟

®ڈاکٹر نعمان خان

دمہ الرجی اور اس سے جڑےحقائق!!!دمہ سانس کی ایک دائمی حالت ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے پھیلاؤ...
14/02/2026

دمہ الرجی اور اس سے جڑےحقائق!!!

دمہ سانس کی ایک دائمی حالت ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے پھیلاؤ کے باوجود، دمہ کے بارے میں بے شمار غلط فہمیاں ہیں جو غلط معلومات اور غلط فہمی کا باعث بن سکتی ہیں۔

اس بلاگ میں، ہمارا مقصد دمہ کے بارے میں عام غلط فہمیوں کو دور کرنا اور اس حالت کے بارے میں آگاہی اور سمجھ کو بڑھانے کے لیے درست معلومات فراہم کرنا ہے۔

حقائق پر روشنی ڈال کر، ہم امید کرتے ہیں کہ دمہ کے شکار افراد اور ان کے پیاروں کو اس حالت کو بہتر طریقے سے سنبھالنے اور ان کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے بااختیار بنائیں گے۔

سوال:اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک یا دونوں ہی دَمے کا شکار ہوں، تو بچّوں میں مرض منتقل ہونے کے کس قدر امکانات پائے جاتے ہیں؟
ج: اگردونوں ہی اس عارضےمیں مبتلا ہیں، تو بچّے میں50فی صد اور اگر ایک مرض کا شکار ہے، تو 25فی صد امکانات پائے جاتے ہیں،کیوں کہ یہ مرض جینز کی شکل میں منتقل ہوتا ہے۔ اگرشادی کے بعد مرض کی تشخیص ہو، تو گھبرانےکی قطعاً ضرورت نہیں، کیوں کہ بہتر علاج اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ نارمل زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ پھر بھی اگر اس ضمن میں احتیاط برتی جائے ،تواچھی بات ہے، تاکہ آنے والے بچّے ہر طرح سے صحت مند زندگی گزاریں۔

سوال:اگر بچّہ دَمے کا شکار ہو یا کسی بچّے میں دَمے کی علامات ظاہر ہوں، تو والدین کیا کریں؟
ج: عام طور پر والدین کے لیے کم سِن بچّوں میں ادویہ مینیج کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بچّوں میں مرض کی علامات ظاہر ہوں، تو عموماً والدین جنرل فزیشن سے رجوع کرتے ہیں، جو کئی کئی بار اینٹی بائیوٹکس کا کورس مکمل کروا تے ہیں،مگر افاقہ نہیں ہوتا،کیوں کہ اینٹی بائیوٹکس سانس کی نالیوں کی سوزش ختم نہیں کرتیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ مرض کی علامات ظاہر ہوتے ہی ماہرِ امراضِ سینہ سے رابطہ کیا جائے۔ ہمارے پاس بعض بچّے اُس وقت آتے ہیں، جب وہ چھے چھے بار اینٹی بائیوٹکس کا کورس مکمل کر چُکے ہوتے ہیں۔

سوال:کہا جاتا ہے کہ ’’دَمہ، دَم کے ساتھ جاتا ہے‘‘،تو اس میں کہاں تک صداقت ہے؟
ج: یہ بالکل غلط تصوّر ہے۔ایسا اُس وقت سمجھا جاتا تھا، جب جدید ادویہ دریافت نہیں ہوئی تھیں اورعلاج کے لیے اتائیوں سے رجوع کیا جاتا تھا۔اگرچہ اس رجحان میں کمی آئی ہے،لیکن اب بھی دیہات اور چھوٹے شہروں میں اتائیوں سے علاج کروایا جاتاہے۔دورِ جدید میں دَمہ ناقابلِ علاج یا جان لیوامرض ہرگز نہیں رہا،یہ اب قابلِ علاج مرض ہے اور اس پر مکمل طور پر قابو رکھا جاسکتا ہے، بشرطیکہ معالج کی ہدایت پر عمل کیا جائے۔نیز، علاج کے ساتھ احتیاطی تدابیر اور طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں بھی ضروری ہیں۔ اگرمرض پرقابو رہے ،توضروری نہیں کہ مریض تاعُمر ادویہ پر انحصار کرے، البتہ اُسےمحتاط زندگی بسر کرنا ہوگی۔تاہم، اس ضمن میں مریض اور اہلِ خانہ کی کاؤنسلنگ ضروری ہے، تاکہ ا دویہ کے علاوہ رہنما اصولوں سے بھی آگاہ کیاجاسکے۔ خود ڈاکٹرز کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ مریض کو کم سے کم دوا استعمال کروائی جائے۔ دیکھیں،عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ علاج کی بدولت مریض بالکل ٹھیک ہو جاتا ہے، لیکن کچھ عرصے بعد دوبارہ علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔اس وقت مریض اور ڈاکٹر کا کام اس کیفیت پر قابو پاناہوتاہے،لہٰذا مریض اگر خود کو مرض کے ساتھ ایڈجسٹ کر لے، تو وہ نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔

سوال:غذا سے متعلق بھی کئی مفروضات عام ہیں، تو اس بارے میں بھی کچھ بتائیں؟
ج: جی بالکل ایسا ہی ہے۔عام طور پرکیلے، چاول، دودھ وغیرہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دَمےکے مریضوںکے لیے مضر ہیں، حالاں کہ ان اشیاء کے استعمال کا مرض سے براہ ِراست کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا، البتہ بعض افراد کو کھانے پینے کی مخصوص اشیاء سے فوڈ الرجی ہوسکتی ہے۔مثلاً کچھ افراد کو جھینگےکھانے سےاسکن الرجی ہو جاتی ہے ،توبعض کو گندم سے۔ یہاں اس کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ دَمہ چھوت کی بیماری ہرگز نہیں ۔مریض کے ساتھ کھانے پینے اور ساتھ رہنے میں کوئی حرج نہیں،تاہم تھوڑی بہت احتیاط کرلی جائے۔

سوال:کیا دَمے کے مرض کا عُمر سے بھی کوئی تعلق ہے؟
ج: جی نہیں، اس مرض کا عُمر کے کسی خاص حصّے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ کسی بھی عُمر کے مَرد و خواتین، حتیٰ کہ بچّوں کو بھی لاحق ہوسکتا ہے.

سوال:کیا انہیلر استعمال کرنے کا مطلب ہے کہ دمہ شدید ہے؟؟
ج:کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انہیلر کا استعمال شدید دمہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہیلر دمہ کا بنیادی علاج ہیں اور علامات کی شدت اور تعدد کی بنیاد پر تجویز کیے جاتے ہیں۔ انہیلر کی دو اہم قسمیں ہیں: فوری ریلیف (ریسکیو) انہیلر، جو دمہ کے دورے کے دوران فوری طور پر ریلیف فراہم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، اور طویل مدتی کنٹرول والے انہیلر، جو علامات کو منظم کرنے اور روکنے کے لیے روزانہ استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہیلر کا استعمال لازمی طور پر دمہ کی شدت کی نشاندہی نہیں کرتا بلکہ مناسب انتظام کی ضرورت کو ظاہر کرتا ۔
سوال :وہ کون سی احتیاطی تدابیر ہیں،جنہیں اختیارکرکے کنٹرول رکھنا ممکن ہے؟

ج: خوراک، ماحول اور عادات اس مرض کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،لہٰذا وہ غذائی اشیاء،جن سے الرجی ہو،ان کا استعمال ترک کردیں۔ عام طور پر معالج ٹھنڈی، ترش اور کھٹی چیزوں سے پرہیز بتاتے ہیں،تاکہ مریض کا گلا خراب اور سینے کا انفیکشن نہ ہو۔پھرمریض اپنے اطراف کے ماحول سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے خاص احتیاط برتے۔جیسا کہ کھیتوں اور کیمیکل فیکٹریوں میں کام کرنے والے اپنا پیشہ نہیں چھوڑ سکتے، لیکن منہ پر ماسک لگانے، دورانِ کام تھوڑا تھوڑا وقفہ لینے اور کچھ وقت کےلیے اس ماحول سے باہر رہنے جیسے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ اگر کسی کو پرفیوم، مچھر کُش ادویہ یا میٹ وغیرہ سے الرجی ہے، تو ان کا استعمال نہ کیا جائے۔تمباکو نوشی نہ کی جائے۔ علاوہ ازیں،جس خاندان میں الرجی کی شکایات ہوں، وہاں کے مکین خاص احتیاط برتیں۔صفائی نصف ایمان ہے اور اسلام کا یہ سُنہرا اصول، دَمے کے مرض کے لیے بہت کارگر ثابت ہوتا ہے۔ پانچ وقت وضوکرنا ہمیں ناک، کان، گلے، منہ اور ہاتھ، پاؤں کی صفائی کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

®ڈاکٹر نعمان خان

ماہ صیام کی مناسبت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا دمہ کے مریضوں کو روزہ رکھنا چاہیے؟ کیا وہ مجبوری کے عالم میں دوائی کے ...
14/02/2026

ماہ صیام کی مناسبت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا دمہ کے مریضوں کو روزہ رکھنا چاہیے؟ کیا وہ مجبوری کے عالم میں دوائی کے استعمال کے لیے روزہ توڑ سکتے ہیں۔ یا یہ کہ وہ بعض کھانوں سے ناطہ توڑ سکتےہیں؟۔

تو ان سوالوں کا جواب یہ ہے کہ دمہ کے مریض روزہ رکھ سکتے ہیں بشرطیکہ کی ان کی طبی حالت مستحکم ہو۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ روزہ پھیپھڑوں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، تاہم اگر دمہ کی بیماری اپنی انتہا پرہے تو ایسے مریضوں کو وقفے سے اپنا علاج کرانا یا دوائی لینا پڑتی ہے۔ اس لیے ایسے مریضوں کے پاس روزہ توڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔

Dr.Noman Khan chest specialist
📞0341-4967717

𝐋𝐨𝐨𝐤 𝐎𝐮𝐭 𝐟𝐨𝐫 𝐭𝐡𝐞𝐬𝐞 𝐒𝐲𝐦𝐩𝐭𝐨𝐦𝐬 𝐨𝐟 𝐀𝐒𝐓𝐇𝐌𝐀🫁✔Forceful Breathing✔Severe Chest Pain✔Breathing Difficulties while Sleeping✔Noisy ...
13/02/2026

𝐋𝐨𝐨𝐤 𝐎𝐮𝐭 𝐟𝐨𝐫 𝐭𝐡𝐞𝐬𝐞 𝐒𝐲𝐦𝐩𝐭𝐨𝐦𝐬 𝐨𝐟 𝐀𝐒𝐓𝐇𝐌𝐀🫁
✔Forceful Breathing
✔Severe Chest Pain
✔Breathing Difficulties while Sleeping
✔Noisy Breathing
✔Coughing

Dr.Noman Khan chest specialist
Shifa Hospital Saidu Sharif Swat
☎0341-4967717

Asthma in Pakistan: A Growing ConcernDid you know? Approximately **10 million people** in Pakistan suffer from asthma. T...
13/02/2026

Asthma in Pakistan: A Growing Concern

Did you know? Approximately **10 million people** in Pakistan suffer from asthma. That’s about **4.3% of the population**!
Asthma affects people of all ages, impacting daily life and well-being.

Let’s raise awareness and support those living with asthma.
**Breathe Better, Live Better!**
👉𝐏𝐥𝐞𝐚𝐬𝐞 𝐋𝐢𝐤𝐞 𝐚𝐧𝐝 𝐒𝐡𝐚𝐫𝐞 𝐨𝐮𝐫 𝐏𝐚𝐠𝐞
Dr.Noman Khan chest specialist
Shifa Hospital Saidu Sharif Swat

Address

Shifa Hospital Saidu Swat
Saidu Sharif

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923414967717

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Noman Khan chest specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr.Noman Khan chest specialist:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram