Dr Obaid Children Care Clinic

Dr Obaid Children Care Clinic about child health

*سوال: خون دینے کا سب سے بڑا نقصان کیا ہے؟*جواب: خون دینے کا نقصان کوئی نہیں البتہ بلکہ بڑا فائدہ ہے کہ ریگولر  خون دینے...
22/05/2025

*سوال: خون دینے کا سب سے بڑا نقصان کیا ہے؟*

جواب: خون دینے کا نقصان کوئی نہیں البتہ بلکہ بڑا فائدہ ہے کہ ریگولر خون دینے والے فرد کو دل کے دورے اور کینسر کے چانسس
باقی افراد کے مقابلے میں 95% کم ہوتے ہیں۔
یہ ریسرچ امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کی ہے

سوال: کسی کو خون کا عطیہ دینے کے بعد کتنے دنوں میں خون بن جاتا ہے؟
جواب: خون عطیہ کرنے کے تین دن میں کمی پوری ہو جاتی ہے جبکہ 56 دنوں میں
خون کے مکمل خلیات بن کر تازہ خون رگوں میں دوڑنے لگتا ہے۔۔۔۔

سوال: پرانا خون ذیادہ طاقتور ہوتا ہے یا نیا بننے والا؟
جواب: نیا بننے والا خون پرانے کے نسبت ذیادہ فریش اور طاقتور ہوتا ہے۔۔

سوال: خون دینے کے فوائد کیا ہیں؟
جواب: خون دینے کا سب سے بڑا فائدہ ایک صدقہ جاریہ میں حصہ ڈالنا ہے جو قیامت تک نسل درنسل آپ کیلئے ثواب کا موجب ہے۔۔
اس کا دوسرا بڑا فائدہ خون میں آئرن کو مقدار بیلنس رکھنا اور سب سے سے بڑا فائدہ صحت مند اور فریش زندگی گزارنا ہے۔۔۔
ریگولر خون دینے والے کی جلد دوسروں کی بنسبت ذیادہ عرصے تک جوان اور صحتمند رہتی ہے۔۔۔
اس کا ایک فائدہ مفت میں خون کی اسکرینگ بھی ہے۔

سوال: خون سال میں کتنی بار دیا جا سکتا ہے؟
جواب: ایک صحت مند انسان جس کی عمر 17 سے 50 کے درمیان ہو اور وزن 50 کلو سے ذیادہ ہو سال میں کم ازکم دو بار آسانی سے خون دے سکتا ہے جبکہ ایک بار خون دینے کے تین ماہ بعد عطیہ دے سکتا ہے۔۔۔

سوال : پاکستان میں کتنے فیصد لوگ خون دیتے ہیں؟

جواب: پاکستان میں صرف دو سے تین فیصد لوگ ریگولر خون دیتے ہیں۔۔
چند افراد ایمرجنسی میں بھی خون دیتے ہیں۔

سوال: خون کی زندگی کتنی ہے؟
جواب: خون کی زندگی 120 دن ہے۔۔
یعنی ایک سو بیس دن میں ہماری خون کے خلیہ مردہ ہو کر پیشاب کے رستے نکل جاتے ہیں اور نئے وجود میں آ جاتے ہیں۔

سوال: پھر ہم خون دینے سے گھبراتے کیوں ہیں؟
جواب: ہم ایک ایسی سوسائٹی میں سانس لے رہے ہیں جہاں یہ بات پھیلی ہوئی ہے کہ خون دینے سے انسان کمزور ہو جاتا ہے اور خون دوبارہ نہیں بنتا۔۔۔ لہذا ہمارے مریض تڑپتے سسکتے بستروں پر خون کی کمی کی وجہ سے جان دے دیتے ہیں۔۔۔

خون کا عطیہ دیں
*زندگیاں بچائیں
جزاک اللہ خیرا

"زکام میں کیلا؟ اوہ بھائی! وہ تو ٹھنڈا ہوتا ہے، بچے کو اور بیمار کر دے گا!"یہ جملہ آپ نے بھی ضرور کسی نہ کسی خالہ، چچی ی...
04/05/2025

"زکام میں کیلا؟ اوہ بھائی! وہ تو ٹھنڈا ہوتا ہے، بچے کو اور بیمار کر دے گا!"
یہ جملہ آپ نے بھی ضرور کسی نہ کسی خالہ، چچی یا محلے کی ڈاکٹر آنٹی سے سنا ہوگا۔
لیکن اصل سوال یہ ہے:
کیا واقعی کیلا زکام اور کھانسی میں نقصان دیتا ہے؟

سادہ جواب: ہرگز نہیں!

یہ صرف ایک پرانی غلط فہمی ہے، جو بغیر تحقیق نسل در نسل چلتی آ رہی ہے۔
یعنی وہی بات:
"دہی ٹھنڈا ہے، بند کر دو"
"کیلا ٹھنڈا ہے، نہ دو"
حالانکہ سائنس کچھ اور کہتی ہے۔

کیلا: زکام کا دشمن نہیں، دوست ہے!

یہ پوٹاشیئم سے بھرپور ہوتا ہے
جسم میں نمکیات اور پانی کا توازن برقرار رکھتا ہے
نرم، ہلکی غذا ہے، جو ہضم بھی آسانی سے ہوتی ہے
توانائی سے بھرپور، کمزور جسم کو فوری طاقت دیتا ہے

خود بھی کھائیں اور اپنے بچوں کو بھی ضرور کھلائیں !

02/04/2025
کزن میرج ، خاندان اور ذات برادریوں میں شادی  ہمارے معاشرتی رواج کا ایک حصہ ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے ملک ساٹھ س...
25/02/2025

کزن میرج ، خاندان اور ذات برادریوں میں شادی ہمارے معاشرتی رواج کا ایک حصہ ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے ملک ساٹھ سے ستر فیصد تک شادیاں ایسی ہوتی ہیں۔
اس پوسٹ میں ہم کزن میرج اور کے بچوں میں جینیاتی مسائل پر اثرات کے بارے میں بات کریں گے۔
بہت سے لوگ کمنٹس میں یہ کہیں گے کہ وہ کئی نسلوں سے یہ رواج اپنائے ہوئے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں، ہر کیس میں کزن میرج جینیاتی بیماریوں کا سبب نہیں بنتی۔
لیکن ان کیسز میں جب خاندان کے کسی فرد میں جینیاتی مسائل ہوں، چاہے وہ ظاہر ہوں یا چھپے ہوئے ہوں، بار بار خاندان میں شادی کرنے سے بچوں میں جینیاتی بیماریوں کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
خاص طور پر ایسی بیماریاں جو آٹوسومل ریسسیو ڈس آرڈرز کہلاتی ہیں جیسے تھیلےسیمیا (خون کی بیماری)، سسٹک فائبروسس (ایک بیماری جو پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے)، مختلف میٹابولک ڈس آرڈرز اور کئی دیگر بیماریوں کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
ایسی حالت میں ہر بچے میں بیماری کا %25 خطرہ ہوتا ہے ہے کہ اس کو یہ بیمار لاحق ہو جو کہ کافی زیادہ ہے۔
کافی بچے جو سیریبرل پالس، مرگی اور چلنے پھرنے یا سوچنے سمجھنے سے معزوری کا شکار ہوتے ہیں اور اس کی وجہ کزن میرج ہوتی ہے۔ بعض دفعہ والدین کے سب بچے موروثی امراض کا شکار ہوتے ہیں، وہ بڑی مشکل سے انکو سنبھال رہیے ہوتے ہیں اور مزید بچے کرنے سے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں ان میں بھی یہ مسلہ نہیں ہو ، تو یہ واقعی ایک بہت تکلیف دہ صورتحال ہوتی ہے۔

اگر کسی بھی وجہ سے آپ اپنے خاندان میں شادی کرنا چاہے تو آپکو اپنی جینیاتی تفصیلات، خاندان کی تفصیل اور مناسب جینیاتی مشاورت حاصل کرنی چاہیے۔

ایک اور اہم غلط فہمی یہ ہے کہ خاوند اور بیوی کا مختلف خون کے گروپ ہونے سے بچوں میں جینیاتی بیماریاں ہو سکتی ہیں- تو ایسا کچھ نہیں، بلڈ گروپ مختلف ہونے سے موروثی امراض نہیں ہوتے ۔

اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو برائے مہربانی کمنٹس میں پوچھیں۔

ایڈوانس نمبر لینے کے لیے اس نمبر پر رابط کریں 03168275885/ 03440921504

03/02/2025

شفا دینے والا اللہ ہے، مگر ایک ڈاکٹر کا نرم لہجہ اور خلوص بھی کسی دوا سے کم نہیں ہوتا۔

حدیث نبوی” جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا اپنے کسی دینی بھائی سے ملاقات کی، اس کو ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے: ”تو خو...
06/01/2025

حدیث نبوی” جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا اپنے کسی دینی بھائی سے ملاقات کی، اس کو ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے: ”تو خوش رہے، تیرا چلنا مبارک ہو اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا“۔
بحثیت ڈاکٹر ھم روزانہ کتنے ہی مریض دیکھتے ہیں ۔ اگر ھماری نیت اچھی ہو گی تو دنیا کے ساتھ ساتھ ھماری آخرت بھی سنور جاۓ گی ,انشااللہ ۔
ھم خوش قسمت ہیں کہ اتنے مقدس پیشے کے لیے ہمیں منتخب کیا گیا ہے ۔جزاك الله

مجھے اکثر فیس بک میسنجر، واٹس ایپ اور کمنٹس سیکشن میں سوال آتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب میرے بچے کا قد چھوٹا ہے، براہ کرم مجھے ک...
28/12/2024

مجھے اکثر فیس بک میسنجر، واٹس ایپ اور کمنٹس سیکشن میں سوال آتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب میرے بچے کا قد چھوٹا ہے، براہ کرم مجھے کوئی دوا بتائیں؟
طب کا ہر مسلہ نزلہ زکام نہیں ہوتا ہے کہ آپ پیناڈول یا آریناک لیں گے اور یہ ٹھیک ہوجاۓگا۔ چھوٹے قد کی تشخیص اور اس کا علاج ایک پوری سائنس ہے۔
ہم پہلے بچے کی تفصیلی ہسٹری لیتے ہیں ,قد کی پیماٸیش کرتے ہیں اور پھر مخصوص چارٹ پر کر اس کا موازنہ اس عمر کے بچوں کےقد کے اوسط سے کرتے ہیں۔ اگر بچہ اس جانچ کے مطابق چھوٹے قد کا ہے تو والدین کے قد کی پیمائش کی جاتی ہے اور دوبارہ چارٹ پر موزانہ کیا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ بچے کا قد والدین کے قد کے مطابق ہےیا نہیں۔
اگر بچے کا قد نارمل ہے یا اگر بچوں کا قد چھوٹا ہے لیکن والدین کےقد سے مطابقت رکتاہے تو ہم مزید جانچ نہیں کریں گے۔ بصورت دیگر ہمیں مختلف بیماریوں کے لیے دیکھنا پڑتا ہے جس سے قد چھوٹا ہو سکتا ہے۔ عام بیماری جو چھوٹے قد کا سبب بن سکتی ہے وہ ہارمون کے مسائل ہیں جیسے تھائیرائیڈ کے مسائل، غذائیت کی کمی، تپ دق، گندم کی الرجی، گردے کے مسائل، وٹامن ڈی سے متعلقہ ہڈیوں کے مسائل اوراسی طرح اور بیماریاں ہیں۔
اس پوسٹ کو لکھنے کا مقصد عوام میں شعور پیدا کرنا ہے کہ چھوٹے قد کے لیے کوئی شربت یا گولی نہیں ہے جو آپ دواور سب ٹھیک ہو جاۓ.آپ کو پہلے چھوٹے قد کی تشخیص کرنی ہوگی اور پھر اس کی بنیادی وجہ معلوم کرنی ہوگی . علاج ان دو مراحل کے بعد ہی ممکن ہے۔
بچوں کے مسائل کے لیے ہمیشہ اپنے قابل چائلڈ سپیشلسٹ سے ملیں۔ بلوغت کے بعد ہڈیوں کی نشوونما رک جاتی ہے لہذا اگر اس کے بعد آپ اپنے ڈاکٹرکے پاس جاٸیں گے تو اس کا کوئی حل نہیں ہے۔

میڈیکل سائینس کے مطابق مرد اور عورت جب جنسی ملاپ کرتے ہیں تو دونوں کے جسم سے جو خلیات نکلتے ہیں  ان میں دو قسم کے جینز ہ...
24/12/2024

میڈیکل سائینس کے مطابق مرد اور عورت جب جنسی ملاپ کرتے ہیں تو دونوں کے جسم سے جو خلیات نکلتے ہیں ان میں دو قسم کے جینز ہوتے ہیں ۔ مرد کے پاس XY جبکہ عورت کے پاس XX جینز ہوتے ہیں یعنی دونوں کے ملاپ سے حو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے وہ لڑکا ہوگا یا لڑکی اس کا انحصار ان دو قسم کے جینز پہ ہوتا ہے۔
اگر عورت کا ایک X جین اور مرد کا X جین آپس میں ملتے ہیں تو بچہ جو پیدا ہوگا وہ لڑکی ہوگی اور اگر عورت کا ایک X جین مرد کے Y جین سے جاکر ملتا ہے تو بچہ لڑکا پیدا ہوگا۔۔
یہاں آسان الفاظ میں سمجھانے کا مطلب یہ ہے کہ پیدا ہونے والے بچے کی جنس کا دارومدار مرد پہ ہوتا ہے اگر اسکا Y جین طاقتور ہے تو بچہ لڑکا اگر اسکا Y جین کمزور ہے تو اسکا X جین عورت کے X جین سے ملتا ہے نتیجہ میں جو بچہ پیدا ہوگا وہ لڑکی ہوگی۔
لیکن ہمارے معاشرے میں جہالت اس حد تک سرائیت کر چکی ہے کہ پیدا ہونے والے بچے کی جنس پہ عورت کو ہی ذمہ وار سمجھی جاتی ہے اور لڑکی پیدا ہونے پہ صرف اسے ہی موردالزام ٹھرا کر پریشرائز کیا جاتا ہے بلکہ زیادہ تر کیسز میں تو تشدد اور طلاق تک بات پہنچتی ہے۔ معاشرے کی اس جہالت پہ صرف افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔

اکثر ہم سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا ٹیلکم پاؤڈر بچے کے لیے محفوظ ہیں؟اس کا جواب نہیں ہے.وجہ یہ ہے کہ بچے انہیں سانس ...
23/12/2024

اکثر ہم سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا ٹیلکم پاؤڈر بچے کے لیے محفوظ ہیں؟
اس کا جواب نہیں ہے.
وجہ یہ ہے کہ بچے انہیں سانس کے زدیعے پھیپھڑوں میں لے سکتے ہیں جس سے پھیپھڑوں کے مسائل جیسے کھانسی، گھرگھراہٹ اور سینے میں جکڑن پیدا ہو سکتی ہے۔

اس لیے تمام والدین کے لیے پیغام ہے کہ بچوں کے لیے ٹیلکم پاؤڈر کے استعمال سے گریز کریں۔

سردی میں فالج اور ہارٹ اٹیک کی دو بڑی وجوہات ہیں؟نمبر 1: لوگ اکثر پانی نہیں پیتے جس سے جسم میں پانی کم ہوجاتا ہے اور خون...
23/12/2024

سردی میں فالج اور ہارٹ اٹیک کی دو بڑی وجوہات ہیں؟
نمبر 1: لوگ اکثر پانی نہیں پیتے جس سے جسم میں پانی کم ہوجاتا ہے اور خون جم جاتا ہے۔
نمبر2: سردی میں خون کی رگیں تنگ ہوجاتی ہے۔
لہذا سردی کے موسم میں گرم مشروبات اور نیم گرم پانی ذیادہ پئیں اور اپنے جسم کو گرم کپڑے،پاجامہ،جرابے، ٹوپی، داستانے چادر کوٹ پہن کر گرم رکھیں۔بوڑھے افراد اور بچوں کا خصوصی خیال رکھیں۔
ایڈوانس نمبر لینے کے لیے اس نمبر پر رابط کریں
03168275885
03440921504

اگر آپ بھی آپ بھی اپنے بچوں کو موبائل فون دیتے ہیں تو یہ ضرور پڑھیں۔ موبائل فون سے بچوں میں مختلف مسائل آسکتے ہیں۔
23/12/2024

اگر آپ بھی آپ بھی اپنے بچوں کو موبائل فون دیتے ہیں تو یہ ضرور پڑھیں۔ موبائل فون سے بچوں میں مختلف مسائل آسکتے ہیں۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ سردی کے موسم میں آپ کا بچہ بیمار نہ ہو تو ان غزاوں کو ضرور اپنے بچوں کی خوراک کا حصہ بنائیں!
22/12/2024

اگر آپ چاہتے ہیں کہ سردی کے موسم میں آپ کا بچہ بیمار نہ ہو تو ان غزاوں کو ضرور اپنے بچوں کی خوراک کا حصہ بنائیں!

Address

Saidu Sharif
19200

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923168275885

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Obaid Children Care Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram