Psychoremedy

Psychoremedy Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Psychoremedy, Medical and health, Sialkot Wazirbad Road Near Superior College Sambrial, Sambrial.
(42)

اچانک دل تیز دھڑکنے لگتا ہے۔سانس بھاری ہو جاتی ہے۔اور اندر ایک بے نام سا خوف اٹھتا ہے۔یہ کمزوری نہیں ہے۔یہ ایک anxiety a...
26/04/2026

اچانک دل تیز دھڑکنے لگتا ہے۔
سانس بھاری ہو جاتی ہے۔
اور اندر ایک بے نام سا خوف اٹھتا ہے۔

یہ کمزوری نہیں ہے۔
یہ ایک anxiety attack ہو سکتا ہے۔

اس وقت آپ کو لمبی باتوں کی نہیں،
بس چند سادہ قدموں کی ضرورت ہوتی ہے۔

خود کو سنبھالنے کے 3 طریقے

1) سانس کو آہستہ کریں
چار سیکنڈ سانس اندر لیں
اور چھ سیکنڈ میں باہر چھوڑ دیں
چند منٹ یہی جاری رکھیں
آپ کا جسم آہستہ آہستہ پرسکون ہونے لگے گا

2) اپنے اردگرد کو محسوس کریں
خاموشی سے دیکھیں آپ کے آس پاس کیا ہے
کسی چیز کو ہاتھ لگائیں
کوئی آواز سنیں
یہ چھوٹا سا عمل آپ کو موجودہ لمحے میں واپس لے آتا ہے

3) خود سے نرمی سے بات کریں
دل ہی دل میں کہیں
“یہ کیفیت عارضی ہے، میں محفوظ ہوں”
یہ جملہ آپ کے اندر کے خوف کو نرم کرتا ہے

یہ کیفیت جتنی اچانک آتی ہے
اتنی ہی آہستہ آہستہ گزر بھی جاتی ہے

اپنے آپ کے ساتھ سخت نہ ہوں
بس ساتھ دیں

ڈاکٹر سعدی

🧠 نیند لانے کی 5 advanced techniques1️⃣ Cognitive Shuffleآنکھیں بند کریں…اور بے ترتیب چیزیں سوچیں:“سیب… بادل… دروازہ… کت...
26/04/2026

🧠 نیند لانے کی 5 advanced techniques

1️⃣ Cognitive Shuffle
آنکھیں بند کریں…
اور بے ترتیب چیزیں سوچیں:
“سیب… بادل… دروازہ… کتاب…”
دماغ ترتیب کھو دیتا ہے—
اور نیند خود راستہ بنا لیتی ہے۔

2️⃣ Paradoxical Intention
آج سونے کی کوشش نہ کریں۔
خود سے کہیں: “میں جاگوں گا”
دباؤ ختم—
اور نیند خاموشی سے آ جاتی ہے۔

3️⃣ Body Scan Relaxation
پاؤں سے آغاز کریں…
ہر حصے کو سکیڑیں… پھر چھوڑ دیں…
جسم ڈھیلا پڑتا ہے—
اور ذہن پیچھے پیچھے آتا ہے۔

4️⃣ Mental Movie Technique
کوئی سادہ، سست منظر دیکھیں اپنے ذہن میں—
بارش… خالی سڑک… ہلکی ہوا…
دماغ مصروف رہتا ہے،
مگر بے چین نہیں۔

5️⃣ 4-7-8 Breathing
سانس اندر… روکیں… باہر چھوڑیں…
آہستہ… گہرا… مسلسل…
دل کی رفتار کم—
اور نیند قریب۔

⚠️ یاد رکھیں:
نیند کو بلایا نہیں جاتا—
نیند کے لیے راستہ صاف کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر سعدی

رات کے 2 بجے ہیں…آپ تھکے ہوئے ہیں — پھر بھی نیند نہیں آ رہی؟کیونکہ مسئلہ نیند کا نہیں…وہ خیالات ہیںجنہیں آپ نے پورا دن ن...
25/04/2026

رات کے 2 بجے ہیں…
آپ تھکے ہوئے ہیں — پھر بھی نیند نہیں آ رہی؟

کیونکہ مسئلہ نیند کا نہیں…
وہ خیالات ہیں
جنہیں آپ نے پورا دن نظر انداز کیا۔

اور سچ یہ ہے —
جتنا آپ سونے کی کوشش کرتے ہیں
اتنا ہی دماغ جاگتا رہتا ہے۔

اس آرٹیکل میں آپ جانیں گے:
کیوں دماغ رات کو Hyperactive ہو جاتا ہے
اور وہ 7 سائنسی طریقے
جو واقعی آپ کو سلا سکتے ہیں۔

اگر آپ بھی ہر رات یہی جنگ لڑ رہے ہیں —
تو یہ پڑھنا ضروری ہے۔

👇 ابھی پڑھیں اور اپنے دماغ کو سکون دیں

Link in comment section

محبت میں ہر وقت ڈر کیوں لگتا ہے؟کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے؟جب کوئی پیارا تھوڑی دیر کے لیے دور ہو جائے تو بے چینی شر...
24/04/2026

محبت میں ہر وقت ڈر کیوں لگتا ہے؟

کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے؟

جب کوئی پیارا تھوڑی دیر کے لیے دور ہو جائے تو بے چینی شروع ہو جاتی ہے۔ میسج کا جواب دیر سے آئے تو دل میں ہزار سوال اٹھتے ہیں۔ رشتہ ٹھیک چل رہا ہو پھر بھی ایک ڈر رہتا ہے کہ شاید یہ چھوڑ کر چلا جائے۔ محبت ملتی ہے مگر اطمینان نہیں ملتا۔

اگر یہ آپ کی کہانی ہے تو یہ آپ کی غلطی نہیں۔ یہ آپ کا انداز محبت ہے جو بچپن میں بنا تھا۔

لگاؤ کیا ہوتا ہے؟

انیس سو پچاس کی دہائی میں ماہر نفسیات جان بولبی نے ایک نظریہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسان پیدائش سے ہی کسی قریبی شخص سے جڑنے کی ضرورت لے کر آتا ہے۔ یہ جڑاؤ صرف محبت نہیں، یہ بقا کی ضرورت ہے۔

بچہ جب چھوٹا ہوتا ہے تو اپنے والدین یا دیکھ بھال کرنے والوں سے جو تعلق بناتا ہے، وہی تعلق اسے سکھاتا ہے کہ محبت کیسی ہوتی ہے، لوگ قابل اعتماد ہوتے ہیں یا نہیں، اور میں خود محبت کے قابل ہوں یا نہیں۔

یہی سبق بڑے ہو کر ہر رشتے میں ساتھ آتا ہے۔

بے چین لگاؤ کیا ہے؟

لگاؤ کی کئی اقسام ہیں۔ ان میں سے ایک کا نام بے چین لگاؤ ہے۔

یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان رشتے میں بہت گہرائی سے جڑنا چاہتا ہے مگر ساتھ ہی ہر وقت یہ ڈر بھی رہتا ہے کہ یہ رشتہ ٹوٹ جائے گا۔ یہ چھوڑ دے گا۔ میں کافی نہیں ہوں۔

یہ ڈر اتنا گہرا ہوتا ہے کہ انسان خود ہی رشتے کو نقصان پہنچانے لگتا ہے۔

بچپن میں کیا ہوا ہوگا؟

بے چین لگاؤ اکثر اس وقت بنتا ہے جب بچپن میں دیکھ بھال ایک جیسی نہیں ہوتی۔

کبھی ماں یا باپ بہت محبت کریں، کبھی دور ہو جائیں۔ کبھی توجہ ملے، کبھی نظر انداز کیا جائے۔ کبھی گلے لگائیں، کبھی ناراض ہو جائیں بغیر وجہ بتائے۔

بچہ یہ سمجھ نہیں پاتا کہ محبت آئے گی یا نہیں۔ تو وہ ہر وقت چوکنا رہتا ہے۔ ہر وقت کوشش کرتا رہتا ہے کہ محبت کو پکڑے رکھے۔

یہی عادت بڑے ہو کر ہر رشتے میں آ جاتی ہے۔

بڑے ہو کر یہ کیسے نظر آتا ہے؟

جب پیارا دور جائے تو فوری گھبراہٹ ہو جاتی ہے۔ بار بار میسج کرنا یا فون کرنا پڑتا ہے تسلی کے لیے۔ ذرا سی بے توجہی پر یہ لگنے لگتا ہے کہ وہ ناراض ہے یا چھوڑنے والا ہے۔ رشتے میں اچھا وقت بھی آئے تو مکمل سکون نہیں ملتا۔ خود کو بار بار ثابت کرنا پڑتا ہے کہ میں محبت کے قابل ہوں۔ دوسرے کی خوشی کے لیے اپنی ضرورتیں نظر انداز ہو جاتی ہیں۔

یہ سب کمزوری نہیں۔ یہ ایک بچے کی وہ حکمت عملی ہے جو اس نے بقا کے لیے بنائی تھی اور جو ابھی تک چل رہی ہے۔

دماغ میں کیا ہوتا ہے؟

جب بے چین لگاؤ والا شخص اپنے پیارے سے دور ہو تو دماغ میں خطرے کا اشارہ آتا ہے۔ وہی اشارہ جو اصل خطرے میں آتا ہے۔

یعنی دماغ رشتے کی جدائی کو خطرہ سمجھتا ہے۔ اور اس خطرے سے بچنے کے لیے انسان ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ دوسرا قریب رہے۔

یہ منطقی فیصلہ نہیں ہوتا۔ یہ دماغ کا خودکار ردعمل ہوتا ہے۔

کیا یہ بدل سکتا ہے؟

ہاں، بالکل بدل سکتا ہے۔ لگاؤ کا انداز مستقل نہیں ہوتا۔ دماغ بدل سکتا ہے اور رشتوں کا انداز بھی بدل سکتا ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ اپنے ردعمل کو پہچانیں۔ جب بے چینی آئے تو رکیں اور پوچھیں کہ کیا واقعی کوئی خطرہ ہے یا یہ پرانا ڈر ہے جو جاگ گیا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ خود کو تسلی دینا سیکھیں۔ کسی اور کے جواب کا انتظار کرنے سے پہلے اپنے آپ سے پوچھیں کہ میں ابھی خود کو کیا دے سکتا ہوں۔

تیسری بات یہ ہے کہ اپنی ضرورتوں کو آواز دیں۔ چھپانے سے بے چینی بڑھتی ہے۔ کسی قابل اعتماد شخص سے کہیں کہ مجھے اس وقت یہ چاہیے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ اگر یہ کیفیت بہت زیادہ تکلیف دے تو کسی ماہر نفسیات سے مدد لینا کمزوری نہیں بلکہ اپنے ساتھ سب سے بڑی محبت ہے۔

آپ نے بچپن میں یہ نہیں چنا کہ آپ کا لگاؤ کیسا ہوگا۔ یہ آپ کے ساتھ ہوا۔ آپ نے اس ماحول میں جینا سیکھا جو آپ کو ملا۔

اب آپ بڑے ہیں۔ اب آپ کے پاس سمجھ ہے۔ اور سمجھ کے ساتھ بدلنے کی طاقت بھی ہے۔

محبت میں ڈر لگنا اس بات کی علامت نہیں کہ آپ کمزور ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ نے ایک وقت میں بہت تکلیف اٹھائی اور پھر بھی محبت کرنا نہیں چھوڑا۔

یہی آپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

اب بس یہ سیکھنا ہے کہ یہ محبت پہلے خود کو بھی دی جائے۔

پروفیسر اسامہ رضا

ہر کسی کو خوش رکھنے کی عادت — اصل میں کہاں سے آتی ہے؟کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے؟کوئی کچھ مانگے تو آپ نہیں نہیں کہہ ...
24/04/2026

ہر کسی کو خوش رکھنے کی عادت — اصل میں کہاں سے آتی ہے؟

کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے؟

کوئی کچھ مانگے تو آپ نہیں نہیں کہہ پاتے۔ کسی کی بات سے اختلاف ہو مگر خاموش رہتے ہیں۔ اپنی ضرورت چھوڑ کر پہلے دوسروں کو خوش کرتے ہیں۔ اور پھر رات کو اکیلے میں تھکے ہوئے بیٹھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ آخر میں نے اپنے لیے کیا کیا؟

اگر یہ آپ کی کہانی ہے تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ آپ کی غلطی نہیں ہے۔

لوگوں کو خوش رکھنے کی عادت کیا ہے؟

نفسیات میں اسے پیپل پلیزنگ کہتے ہیں۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنی خوشی، ضرورت اور سکون کو دوسروں کی رضامندی سے کم اہم سمجھنے لگتا ہے۔

یہ محض شائستگی یا ادب نہیں ہے۔ یہ ایک گہری نفسیاتی حالت ہے جو اکثر بچپن سے شروع ہوتی ہے۔

یہ عادت آتی کہاں سے ہے؟

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کوئی بھی پیدائشی طور پر ہر وقت دوسروں کو خوش کرنے والا نہیں ہوتا۔ یہ سیکھا ہوا رویہ ہے۔ اور اکثر یہ بہت چھوٹی عمر میں سیکھا جاتا ہے۔

پہلی وجہ بچپن کی تعریف اور سزا کا نظام ہے۔
جب بچہ ہر بات مانے تو تعریف ملے۔ جب انکار کرے تو ناراضگی ملے۔ تو دماغ یہ سیکھ لیتا ہے کہ محبت اور قبولیت کے لیے ہاں کہنا ضروری ہے۔ یہ سبق اتنا گہرا ہو جاتا ہے کہ بڑے ہو کر بھی نہیں جاتا۔

دوسری وجہ گھر کا غیر محفوظ ماحول ہے۔
جن گھروں میں والدین کا موڈ اچانک بدلتا رہے، لڑائی ہوتی رہے یا جذباتی دباؤ زیادہ ہو، وہاں بچہ یہ ذمہ داری اٹھا لیتا ہے کہ سب کو خوش رکھنا میرا کام ہے۔ وہ چھوٹا سا بچہ گھر کا امن بچانے کی کوشش میں خود کو بھول جاتا ہے۔

تیسری وجہ یہ سیکھنا ہے کہ ضرورتیں ظاہر کرنا کمزوری ہے۔
ہمارے معاشرے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ خود کو آگے رکھنا خودغرضی ہے۔ نہیں کہنا بدتمیزی ہے۔ اپنی بات کرنا غرور ہے۔ یہ باتیں سن سن کر انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ میری ضروریات اہم نہیں۔

دماغ میں کیا ہوتا ہے؟

جب آپ کسی کو خوش کرتے ہیں تو دماغ میں ڈوپامین خارج ہوتا ہے۔ یعنی اچھا لگتا ہے۔ مگر یہ خوشی عارضی ہوتی ہے۔

اور جب آپ کسی کو ناخوش کریں تو دماغ میں خطرے کا اشارہ ملتا ہے۔ بے چینی ہوتی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ فوری معافی مانگیں یا صورتحال درست کریں۔

یعنی آپ کا دماغ دوسروں کی ناراضگی کو ایک خطرے کی طرح پروسیس کرتا ہے۔ اور آپ اس خطرے سے بچنے کے لیے ہاں کہتے رہتے ہیں۔

اس کا نقصان کیا ہے؟

باہر سے یہ لوگ بہت اچھے نظر آتے ہیں۔ ہمیشہ مددگار، ہمیشہ مسکراتے ہوئے، ہمیشہ موجود۔

مگر اندر سے وہ آہستہ آہستہ خالی ہوتے جاتے ہیں۔

اپنی اصل رائے کھو دیتے ہیں کیونکہ ہر وقت دوسروں کی رائے سے اتفاق کرتے کرتے خود نہیں جانتے کہ وہ اصل میں کیا سوچتے ہیں۔

رشتوں میں تھکاوٹ آ جاتی ہے کیونکہ وہ دیتے رہتے ہیں مگر اپنی ضرورت بتا نہیں پاتے تو ملتا کچھ نہیں۔

غصہ اندر جمتا رہتا ہے کیونکہ ہر بار انکار نہ کرنے پر ایک ناراضگی دل میں رہ جاتی ہے جو باہر نہیں نکلتی۔

اور سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی اصل شناخت سے دور ہو جاتے ہیں۔

کیا یہ بدل سکتا ہے؟

ہاں، بدل سکتا ہے۔ مگر یہ ایک دن کا کام نہیں۔

پہلا قدم یہ ہے کہ پہچانیں کہ یہ ہو رہا ہے۔ جب بھی آپ ہاں کہیں تو ایک سیکنڈ رکیں اور اپنے آپ سے پوچھیں کہ میں یہ اپنی مرضی سے کہہ رہا ہوں یا ڈر سے۔

دوسرا قدم یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی جگہوں پر نہیں کہنا شروع کریں۔ کسی بڑے موقع سے شروع کرنے کی ضرورت نہیں۔ آج کسی چھوٹی سی بات پر کہیں کہ نہیں، آج میرا دل نہیں چاہتا۔

تیسرا قدم یہ ہے کہ یہ سمجھیں کہ سب کو خوش رکھنا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ دوسروں کے جذبات ان کی اپنی ذمہ داری ہیں۔ آپ ان کا خیال رکھ سکتے ہیں مگر انہیں کنٹرول کرنا نہ آپ کا کام ہے نہ آپ کے بس میں ہے۔

چوتھا قدم یہ ہے کہ اپنے آپ سے پوچھنا شروع کریں کہ مجھے کیا چاہیے۔ یہ سوال بہت سادہ لگتا ہے مگر جو لوگ برسوں سے دوسروں کی ضرورتیں پوری کرتے آئے ہیں ان کے لیے یہ سب سے مشکل سوال ہوتا ہے۔

نہیں کہنا بے رحمی نہیں ہے۔
حد مقرر کرنا ظلم نہیں ہے۔
اپنا خیال رکھنا خودغرضی نہیں ہے۔

یہ وہ باتیں ہیں جو شاید آپ کو بچپن میں نہیں سکھائی گئیں۔ مگر آج آپ یہ سیکھ سکتے ہیں۔

آپ نے برسوں دوسروں کے لیے جگہ بنائی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اپنے لیے بھی تھوڑی جگہ بچائیں۔
آپ کی ضرورتیں اہم ہیں۔ آپ کی رائے اہم ہے۔ آپ اہم ہیں۔
اور یہ ثابت کرنے کے لیے آپ کو کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔

پروفیسر اسامہ رضا

کسی کو تکلیف میں دیکھ کر آپ کا دل بھاری ہو جاتا ہے۔ کوئی رو رہا ہو تو آپ کی آنکھیں بھی نم ہو جاتی ہیں۔ کوئی خوش ہو تو آپ...
24/04/2026

کسی کو تکلیف میں دیکھ کر آپ کا دل بھاری ہو جاتا ہے۔ کوئی رو رہا ہو تو آپ کی آنکھیں بھی نم ہو جاتی ہیں۔ کوئی خوش ہو تو آپ بھی مسکرانے لگتے ہیں، بغیر کسی وجہ کے۔

یہ کمزوری نہیں۔ یہ آپ کے دماغ کا ایک حیرت انگیز نظام ہے جسے میرر نیورونز کہتے ہیں۔

میرر نیورونز کیا ہیں؟

انیس سو نوے کی دہائی میں اطالوی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے بندروں پر تجربہ کرتے ہوئے ایک حیرت انگیز چیز دریافت کی۔

جب ایک بندر کسی اور بندر کو کھانا اٹھاتے دیکھتا تھا تو اس کے دماغ کے وہی خلیے متحرک ہوتے تھے جو خود کھانا اٹھانے پر ہوتے۔ یعنی دماغ نے دیکھنے اور کرنے میں فرق نہیں کیا۔

یہی میرر نیورونز ہیں۔ وہ دماغی خلیے جو دوسروں کے عمل، جذبات اور احساسات کو ہمارے اپنے دماغ میں عکس کرتے ہیں۔ جیسے ایک آئینہ جو صرف شکل نہیں، احساس بھی کاپی کرتا ہے۔

انسانوں میں یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟

جب آپ کوئی فلم دیکھتے ہیں اور کردار کو تکلیف ہوتی ہے تو آپ کا دماغ وہی نمونہ متحرک کرتا ہے جو آپ کو خود تکلیف ہوتی تو ہوتا۔

یہی وجہ ہے کہ کسی کو گرتے دیکھ کر آپ کا جسم سکڑ جاتا ہے۔ کسی کی کامیابی پر آپ سچ میں خوش ہو جاتے ہیں۔ کسی کا دکھ سن کر آپ کا گلا بھر آتا ہے۔

دوسروں کے جذبات کو سمجھنا اور محسوس کرنا کوئی سیکھی ہوئی بات نہیں۔ یہ آپ کے دماغ میں پہلے سے موجود ہے۔

ہمدردی کی تین اقسام ہیں۔
پہلی قسم یہ ہے کہ دوسرے کی سوچ کو سمجھا جائے کہ وہ ایسا کیوں سوچ رہا ہے۔
دوسری قسم یہ ہے کہ دوسرے کا درد خود محسوس کیا جائے کہ اس کا دکھ مجھے بھی تکلیف دے رہا ہے۔
تیسری قسم یہ ہے کہ سمجھنے اور محسوس کرنے کے بعد مدد کی جائے۔
میرر نیورونز خاص طور پر دوسری قسم میں سب سے زیادہ کردار ادا کرتے ہیں۔

جب یہ نظام زیادہ حساس ہو
کچھ لوگوں کے میرر نیورونز دوسروں کے مقابلے میں زیادہ فعال ہوتے ہیں۔
یہ لوگ دوسروں کا درد بہت گہرائی سے محسوس کرتے ہیں۔ بھیڑ میں جا کر تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں۔ منفی ماحول سے بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔ دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنے لگتے ہیں۔

یہ ایک خوبی بھی ہے اور ایک بوجھ بھی۔

تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جن لوگوں میں یہ نظام کمزور ہو ان میں ہمدردی کی کمی ہو سکتی ہے۔
یعنی وہ لوگ جو آپ کی تکلیف پر بالکل بے اثر رہتے ہیں، شاید ان کا دماغ وہ اشارہ وصول ہی نہیں کر پاتا جو آپ کا کرتا ہے۔

ہمارے ہاں اکثر کہا جاتا ہے کہ اتنا کیوں سوچتے ہو دوسروں کے بارے میں یا اتنا حساس مت بنو۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ حساسیت آپ کی کمزوری نہیں، یہ آپ کے دماغ کی سب سے انسانی خاصیت ہے۔

وہ ماں جو بچے کے رونے سے پہلے جاگ جاتی ہے۔ وہ دوست جو بغیر بتائے سمجھ جاتا ہے کہ کچھ ٹھیک نہیں۔ وہ استاد جو طالب علم کی خاموشی میں درد پڑھ لیتا ہے۔

یہ سب اسی نظام کا کمال ہے۔
ہمدردی اور ذہنی تھکاوٹ
مگر یہاں ایک خطرہ بھی ہے۔

جو لوگ بہت زیادہ ہمدرد ہوتے ہیں وہ اکثر ایک ایسی تھکاوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں جسے ہمدردی کی تھکاوٹ کہتے ہیں۔

یعنی ہر وقت دوسروں کے لیے سوچتے سوچتے خود کو بھول جانا۔ اپنی تکلیف کو نظر انداز کر کے دوسروں کا درد اٹھانا۔ اتنا خالی ہو جانا کہ اپنے لیے بھی کچھ نہ بچے۔

یہاں حد ضروری ہے۔ ہمدردی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ خود کو مٹا دیں۔

ایک چھوٹی سی مشق

آج کسی کی بات سنتے وقت صرف سنیں۔ جواب دینے کی جلدی نہ کریں۔ دیکھیں کہ آپ کے اندر کیا محسوس ہوتا ہے۔

جب کوئی تکلیف میں ہو تو اپنے جسم کا جواب نوٹ کریں۔ سینہ بھاری ہوتا ہے؟ گلا بھرتا ہے؟ یہ آپ کے دماغ کا جواب ہے۔

اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جتنی ہمدردی آپ دوسروں کو دیتے ہیں اتنی خود سے بھی کریں۔ اپنے آپ سے پوچھیں کہ میں کیسا محسوس کر رہا ہوں۔

میرر نیورونز ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسان اکیلا نہیں بنا۔

ہم ایک دوسرے کو محسوس کرنے کے لیے بنے ہیں۔ ایک دوسرے کا درد سمجھنے کے لیے۔ ایک دوسرے کی خوشی میں شامل ہونے کے لیے۔

وہ آواز جو آپ کے اندر گونجتی ہے جب کوئی تکلیف میں ہو، وہ آپ کی نہیں، مگر آپ کے دماغ نے اسے اپنا بنا لیا۔

یہی انسانیت ہے۔ یہی ہمدردی ہے۔ اور یہی آپ کا سب سے خوبصورت وصف ہے۔

پروفیسر اسامہ رضا

کبھی کبھی سب سے بڑا خطرہ باہر نہیں ہوتا، ہمارے اندر ہوتا ہے۔ The Woman in the Window کی Anna Fox ایک ایسی عورت ہے جو ago...
24/04/2026

کبھی کبھی سب سے بڑا خطرہ باہر نہیں ہوتا، ہمارے اندر ہوتا ہے۔ The Woman in the Window کی Anna Fox ایک ایسی عورت ہے جو agoraphobia، تنہائی، trauma، اور یادوں کے بکھرنے کے ساتھ جیتی ہے، اور پھر ایک رات اسے یقین ہوتا ہے کہ اس نے اپنے سامنے ایک قتل دیکھا ہے — مگر جب حقیقت اور اس کا ذہن آپس میں ٹکرا جائیں، تو آخر کس پر یقین کیا جائے؟

مکمل آرٹیکل کا لنک کمینٹ سیکشن میں دیا گیا ہے۔

وہ رشتہ جو محبت لگتا ہے — مگر ہوتا نہیںکچھ لوگ آپ کی زندگی میں آتے ہیں۔آپ سوچتے ہیں — یہ وہی ہے جس کا انتظار تھا۔وہ سمجھ...
24/04/2026

وہ رشتہ جو محبت لگتا ہے — مگر ہوتا نہیں

کچھ لوگ آپ کی زندگی میں آتے ہیں۔
آپ سوچتے ہیں — یہ وہی ہے جس کا انتظار تھا۔

وہ سمجھتا ہے۔ وہ سنتا ہے۔
وہ بالکل وہی کہتا ہے جو آپ سننا چاہتے ہیں۔

اور آہستہ آہستہ — آپ اس کے بغیر سوچنا بند کر دیتے ہیں۔

1973۔ Stockholm میں ایک بینک لوٹا گیا۔ یرغمالی چھ دن قید رہے۔ جب پولیس نے انہیں آزاد کرایا — انہوں نے اپنے اغواکاروں کا دفاع کیا۔ ایک یرغمالی نے اپنے اغواکار سے شادی کر لی۔

ماہرین نفسیات نے اس کا نام رکھا — Stockholm Syndrome۔

مگر یہ صرف بینک میں نہیں ہوتا۔
یہ گھروں میں ہوتا ہے۔ رشتوں میں ہوتا ہے۔
اس کمرے میں ہوتا ہے — جہاں آپ ہر رات سوتے ہیں۔

ہارورڈ میڈیکل سکول Harvard Medical School کی Dr. Judith Herman نے 1992 میں لکھا — جب کوئی انسان مسلسل کسی کے control میں ہو تو دماغ اس شخص میں اچھائی ڈھونڈتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ Amygdala — یعنی دماغ کا خوف کا مرکز — جب مسلسل activate رہے تو دماغ survive کرنے کے لیے اس خطرے کو محفوظ بنانا شروع کر دیتا ہے۔

آپ کا دماغ آپ کو بچانے کے لیے — آپ کو یقین دلاتا ہے کہ تکلیف دینے والا — دراصل پیار کرتا ہے۔

یہ کمزوری نہیں۔ یہ biology ہے۔

کیا آپ کی زندگی میں کوئی ایسا ہے جو کبھی بہت اچھا ہوتا ہے اور کبھی بالکل ٹھنڈا؟ جو آپ کو خاص محسوس کراتا ہے — پھر اچانک نظرانداز کر دیتا ہے؟ جس کی ہر تکلیف کے بعد آپ سوچتے ہیں — شاید میری ہی غلطی تھی۔

نفسیات (Psychology) میں اسے کہتے ہیں — Intermittent Reinforcement۔

بی ایف سکینر (B.F. Skiner) نے 1950 میں ثابت کیا — جب انعام کبھی ملے کبھی نہ ملے تو وہ رویہ سب سے زیادہ پختہ ہو جاتا ہے۔

جو رشتہ ہمیشہ اچھا ہو — اس کی عادت ہو جاتی ہے۔
جو رشتہ کبھی اچھا کبھی برا ہو — اس کی لت لگ جاتی ہے۔

اور لت میں Dopamine کا کردار ہے۔ جب وہ شخص اچھا ہوتا ہے — دماغ dopamine release کرتا ہے۔ جب وہ برا ہوتا ہے — دماغ اس dopamine کا انتظار کرتا ہے۔

یہ انتظار — کسی منشیات کے withdrawal سے مختلف نہیں۔

یہ University of California کی Dr. Helen Fisher کی 2010 کی research ہے۔

پاکستانی معاشرے میں اس pattern کو ایک نام دیا جاتا ہے — یہی محبت ہے۔ رشتے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ صبر کرو سب ٹھیک ہوگا۔

نہیں۔

صبر اور تکلیف برداشت کرنا — ایک نہیں ہیں۔

جان گوت مین (John Gottman) نے 40 سال کی research کے بعد کہا — Healthy love feels safe — not exciting because of fear۔

اصل محبت میں آپ کو ثابت نہیں کرنا پڑتا کہ آپ قابل ہیں۔ آپ کو ڈرنا نہیں پڑتا کہ آج کا دن کیسا ہوگا۔ آپ کو اندازہ نہیں لگانا پڑتا کہ وہ خوش ہے یا ناراض۔

اصل محبت میں آپ کو خود سے نہیں لڑنا پڑتا۔

اگر آج آپ کسی رشتے میں ہیں — اور ہر صبح اٹھ کر پہلا خیال یہ ہو — آج وہ کیسا ہوگا — تو یہ سوال سب سے ضروری جواب مانگتا ہے۔

وہ رشتہ جو آپ کو مسلسل خود پر شک کرائے — وہ رشتہ نہیں — وہ آپ کے دماغ کا وہ زخم ہے جو ابھی بھرا نہیں۔

اور زخم — چھپانے سے نہیں — سمجھنے سے بھرتے ہیں۔

Psychoremedy
Pakistan's Most Trusted Mental Health Platform

WhatsApp: +92 301 9564075
www.psychoremedy.com

#ذہنیصحت

جب آپ کوئی غلطی کرتے ہیں تو سب سے پہلے آواز کہاں سے آتی ہے؟باہر سے نہیں۔اندر سے۔تم ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہو۔تم سے کچھ نہیں ...
24/04/2026

جب آپ کوئی غلطی کرتے ہیں
تو سب سے پہلے آواز کہاں سے آتی ہے؟
باہر سے نہیں۔
اندر سے۔
تم ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہو۔
تم سے کچھ نہیں ہوگا۔
تم کمزور ہو۔
یہ آواز آپ کی اپنی ہے۔

مگر یہ الفاظ آپ نے خود نہیں لکھے
1960 میں ایک ماہر نفسیات نے کچھ بچوں پر تجربہ کیا۔
Albert Bandura۔
Stanford University۔
اس نے بچوں کو ایک کمرے میں بٹھایا۔
سامنے ایک بڑی گڑیا تھی — Bobo Doll۔
ایک بڑے نے گڑیا کو مارا۔ چیخا۔ دھکے دیے۔
پھر وہی بچے اکیلے کمرے میں گئے۔
انہوں نے بالکل وہی کیا
جو انہوں نے دیکھا تھا۔
Bandura نے اسے کہا —
Observational Learning۔
یعنی —
انسان وہ نہیں بنتا جو وہ چاہتا ہے
انسان وہ بنتا ہے جو اس نے دیکھا ہے

اب سوچیں
آپ کے بچپن میں کیا ہوا تھا؟
جب آپ نے رونا چاہا
کیا کسی نے کہا "مرد نہیں روتے؟
جب آپ نے کچھ مانگا
کیا کسی نے کہا "شرم نہیں آتی؟
جب آپ نے غلطی کی
کیا کسی نے کہا "تم کبھی نہیں سدھروگے؟
وہ الفاظ ہوا میں نہیں گئے۔
Neuroscience بتاتی ہے —
بچپن میں سنے ہوئے الفاظ
دماغ کے Prefrontal Cortex میں
ایک مستقل pathway بناتے ہیں۔
اور یہ pathway —
جب بھی آپ مشکل میں ہوتے ہیں
automatically activate ہو جاتی ہے۔
یعنی —
وہ آواز آپ کی نہیں ہے۔
وہ آواز کسی اور کی ہے
جو آپ کے اندر رہ گئی ہے

Psychology میں اسے کہتے ہیں —
Internalized Critical Voice۔
Dr. Eugene Gendlin نے 1978 میں لکھا —
یہ آواز اتنی گہری ہو جاتی ہے کہ —
انسان اسے اپنی شخصیت سمجھ لیتا ہے۔
میں ایسا ہی ہوں۔
میری یہی قسمت ہے۔
بس یہی میری اوقات ہے۔
نہیں۔
یہ آپ نہیں ہیں۔
یہ وہ ہے جو آپ کو بتایا گیا۔

ایک اور تحقیق —
Harvard Medical School کے Dr. Martin Teicher نے 2006 میں ثابت کیا:
بچپن میں سخت الفاظ سننے سے
دماغ کے Corpus Callosum کا حجم چھوٹا ہو جاتا ہے
وہ حصہ جو دونوں جانب کے دماغ کو جوڑتا ہے۔
یعنی سخت الفاظ
دماغ کو جسمانی طور پر بدل دیتے ہیں۔
یہ metaphor نہیں
یہ MRI scan میں نظر آتا ہے۔

مگر ایک اور سچ ہے

Neuroplasticity۔
دماغ بدل سکتا ہے۔
Dr. Richard Davidson — University of Wisconsin —

نے ثابت کیا کہ صرف 8 ہفتے کی conscious practice سے —
دماغ میں نئی pathways بنتی ہیں۔
وہ آواز جو سالوں سے آپ کو کمزور کہتی آئی
اسے بدلا جا سکتا ہے۔
مگر اس کے لیے —
پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ
وہ آواز آپ کی نہیں تھی۔
آج رات —
جب وہ آواز آئے
ایک لمحے کے لیے رکیں۔
اور خود سے پوچھیں:
"یہ میں نے سوچا
یا یہ مجھے سکھایا گیا؟"

یہ ایک سوال —
آپ کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔
کیونکہ جو آواز آپ کو سب سے زیادہ تکلیف دیتی ہے
وہ اکثر سب سے پرانی ہوتی ہے۔
اور سب سے پرانی چیزیں
سب سے پہلے بدلی جا سکتی ہیں۔

Psychoremedy
Pakistan's Most Trusted Mental Health Platform
اگر یہ آواز بہت بلند ہو گئی ہو
ہم یہاں ہیں۔
📲 WhatsApp: +92 301 9564075
🌐 www.psychoremedy.com

19/04/2026

اگر آپ کو پتہ چلے کہ آپ کا بہترین دوست آپ سے جلتا ہے — تو آپ کیا کریں گے؟

زندگی میں اصل ترقی اس وقت شروع ہوتی ہے جب آپ اپنی توانائی دوسروں کو متاثر کرنے کے بجائے خود کو بہتر بنانے پر لگاتے ہیں۔ ...
19/04/2026

زندگی میں اصل ترقی اس وقت شروع ہوتی ہے جب آپ اپنی توانائی دوسروں کو متاثر کرنے کے بجائے خود کو بہتر بنانے پر لگاتے ہیں۔ ازدواجی زندگی میں بھی یہی اصول کام کرتا ہے۔ جب میاں بیوی ایک دوسرے کو قائل کرنے اور خود کو ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں، تو رشتہ دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن جب توجہ اپنی اصلاح پر ہو، تو اعتماد خود بننے لگتا ہے۔

ایک شوہر اگر ہر بات پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ وہ درست ہے تو گھر کا ماحول بحث اور تناؤ سے بھر جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنی سننے کی صلاحیت بہتر کرے، ردعمل دینے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کرے تو بیوی خود اس کی قدر کرنے لگتی ہے۔ اسے اپنی بات منوانے کی ضرورت نہیں پڑتی اس کا رویہ ہی اس کی پہچان بن جاتا ہے۔

اسی طرح ایک بیوی اگر ہر وقت اپنی اہمیت ثابت کرنے یا اپنی قربانیوں کو گنوانے میں لگی رہے تو رشتہ تھکن دینے لگتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے جذبات کو بہتر انداز میں بیان کرنا سیکھے اپنی ذات پر کام کرے اور مثبت رویہ اختیار کرے تو شوہر خود اس کی قدر محسوس کرتا ہے۔ احترام خود بنتا ہے مانگا نہیں جاتا۔

پیشہ ورانہ زندگی کی طرح رشتوں میں بھی یہی حقیقت ہے کہ آپ کا کام، آپ کا رویہ، اور آپ کی مستقل مزاجی زیادہ اثر ڈالتی ہے۔ الفاظ کمزور پڑ جاتے ہیں اگر عمل مضبوط نہ ہو۔

آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی توجہ اس بات پر رکھیں کہ آپ بطور شریکِ حیات خود کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں۔ روزانہ چھوٹی بہتریاں لائیں۔ جب آپ اپنی ترقی پر فوکس کرتے ہیں تو نہ صرف آپ کا اعتماد بڑھتا ہے بلکہ رشتہ بھی سکون اور مضبوطی کی طرف آتا ہے۔

کامیاب رشتہ وہ ہوتا ہے جہاں دونوں افراد ایک دوسرے کو بدلنے کے بجائے خود کو بہتر بنانے پر کام کرتے ہیں۔ یہی رویہ دیرپا محبت اور اعتماد کی بنیاد بنتا ہے۔

ماہر نفسیات سعدیہ

زندگی جو مسائل اور بوجھ تم پر ڈالتی ہے،وہ تمہیں ڈبو بھی سکتے ہیں…اور تمہیں اوپر اٹھانے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔فرق مسئل...
16/04/2026

زندگی جو مسائل اور بوجھ تم پر ڈالتی ہے،
وہ تمہیں ڈبو بھی سکتے ہیں…
اور تمہیں اوپر اٹھانے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔

فرق مسئلوں میں نہیں ہوتا،
فرق تمہارے ردِعمل میں ہوتا ہے۔

ایک ہی مشکل کسی کو توڑ دیتی ہے،
اور کسی کو بنا دیتی ہے۔
کوئی بوجھ کے نیچے دب جاتا ہے،
اور کوئی اُسی بوجھ کو سیڑھی بنا لیتا ہے۔

زندگی تمہیں آزماتی ہے،
مگر یہ تم پر چھوڑ دیتی ہے
کہ تم خود کو کمزور ثابت کرو گے
یا مضبوط۔

ہر مشکل کے اندر دو راستے ہوتے ہیں:
ایک شکایت کا،
اور ایک سیکھنے کا۔

اگر تم نے ہر مشکل کو سزا سمجھا،
تو تم ٹوٹ جاؤ گے۔
اور اگر تم نے اُسے سبق سمجھا،
تو تم بدل جاؤ گے۔

یاد رکھو،
لہریں سب کے لیے ایک جیسی ہوتی ہیں—
فرق صرف یہ ہے
کہ کوئی ڈوب جاتا ہے،
اور کوئی تیرنا سیکھ لیتا ہے۔

ڈاکٹر سعدی

Address

Sialkot Wazirbad Road Near Superior College Sambrial
Sambrial
51070

Telephone

+923354171479

Website

https://wa.me/923019564075

Services

Specialties

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Psychoremedy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Psychoremedy:

Share