26/06/2025
خراٹے لینا Snoring
خراٹے لینا دوسروں کی نیند خراب کرنے کے ساتھ ساتھ اس آدمی کے لئے خود بهی نقصان دہ ہے.
خراٹوں کا علاج کرنا چاہیے. اس کے اسباب
سانوسائٹس؛ ناک کے غدود. ٹانسلز، نیند کے دوران سانس لیتے ہوۓ ہوا کے راستے میں کسی رکاوٹ کے باعث ہوتا ہے. سانس لیتے ہوۓ سافٹ ٹشو میں ہوا کی طاقت کی وجہ سے تهرتهراہٹ پیدا ہوتی ہے. جس کے باعث خراٹوں کی آوازیں آتی ہیں. گردن کے اعصاب کی کمزوری.
گردن کے مسلز گلے کے ان سافٹ ٹشو کو کنٹرول کرتے یہ مسلز ڈهیلے پڑ جاتے ہیں. جس کی وجہ سے ہوا کے راستے میں رکاوٹ بن کر تهرتهراہٹ کے باعث خراٹوں کی آوازیں آتی ہیں.
خراٹوں سے بچاو کی تدابیر
👈وزن میں کمی کریں؛ باقاعدگی سے ورزش کریں"
👈 تمباکو نوشی اور نشہ آور اشیا سے بچا جاۓ.
👈 سونے کے اوقات میں پابندی کی جاۓ.
👈 ناک باقاعدگی سے صاف کریں.
👈 سونے کا تکیہ چار انچ اونچا رکها جاۓ.
👈 کمر کے بل سونے کی بجاۓ پہلو کے بل سویا جاۓ.
👈 نیند پوری کی جاۓ؛ بےخوابی کا شکار نہ ہوں.
👈 بلڈپریشر بڑھ سکتا ہے.
خراٹوں کی عادت سے خون کا مہلک لوتهڑا بننے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے. ہارٹ اٹیک فالج کا خطرہ دوگنا. امراض قلب دل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
آبسٹرکٹیو سلیپ ایپنیا
سوتے ہوئے خراٹے آنا اور سانس رک جانا ، جیسے گلا دبا دیا ہو، اچانک نیند سے جاگ جانا
سانس لینے میں دشواری ۔
یہ ایک بیماری جس میں مریض رات کو سوتے ہوئے خراٹے لیتا ہے۔ سانس کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے خراٹے پیدا ہوتے ہیں۔
وجوہات میں ناک کی ہڈی بڑھی ہوئی، گردن کے پٹھے ریلکس ہوتے جس شخص کا وزن موٹاپا زیادہ ہوتا ہے اس فیٹ کی وجہ سے سانس کی نالی کے اندر رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور خراٹے پیدا ہوتے ہیں ۔
یہ جاننا ضروری ہے کہ جو لوگ خراٹے لیتے ہیں ان کو اپنے ڈاکٹر کے ساتھ مشورہ کریں اور علاج کرنا ضروری ہے ۔
اگر رات کو مریض کی نیند میں بار بار خلل پڑتا ہے جسے جاتا ہے۔ سانس لینے میں تنگی ہوتی ہے ۔
پیشاب کے لیے اٹھ کر جانا پڑتا ہے یا نیند پوری نہیں ہوتی جسم ٹوٹا ٹوٹا محسوس ہوتا ہے بندہ فریش نہیں ہوتا ۔ سر میں درد ہوتا ہے۔ اگر بلڈپریشر کنٹرول نہیں ہو رہا۔
بعض اوقات خراٹے زور کے ہوتے ہیں اور سانس رک جاتا ہے یا مشکل سے ۔
دن میں تھکاوٹ ہو اپنے کام پر فوکس نہ ہو رہا ہو، اونگھ آتی ہو تو فوراً اپنے قریبی ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور بیماری کی تشخیص کرائیں ۔
ان میں سے کوئی ایک علامت ہو تو ایک بیماری ہوتی ہے آبسٹرکٹیو سلیپ ایپنیا کہتے ہیں، ہو سکتی ہے ۔
اس بیماری میں رات کو خراٹوں کے ساتھ جسم میں آکسیجن کم ہو جاتی ہے۔ جب خون میں آکسیجن کم ہو گی تو اہم اعضاء جیسے دل دماغ جگر گردے تو ان کو آکسیجن کم پہنچے گی تو بہت سے کمپلیکشن پیدا ہو سکتی ہیں۔
ڈپریشن، دل کی بیماری ۔ ہارٹ اٹیک، جنسی کمزوری ، گردے کی بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
♦️✿✿نوٹ
پوسٹ شئیرنگ مفید معلومات و مفاد عامہ ایجوکیشنل پرپوز کے لیے ہے، برائے مہربانی صحت کے مسائل کے کسی بھی علاج کے لیے اپنے ہیلتھ فزیشن سے رجوع کریں۔
مقدار خوراک سے تجاوز نہ کریں۔
بلا ضرورت و بلا تشخیص کے بغیر کوئی دواء ہرگز استعمال نہ کریں, اپنی صحت کا خیال رکھیں۔
Dr Shahba Saif watto