26/04/2026
پنسل قلم کاغذ بازار میں ہر دکان پر بکتا ہے لیکن اس کو چلانے والا ہاتھ کہیں نہیں بکتا یہ 30سال میں تیار ہوتا ہے اور تیار کرنا پڑتا ہے ۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو۔
ڈاپنسرز کو ہسپتالوں میں نوکریاں ڈاکٹر دیتے ہیں ان کا رزق کا سبب بنتے ہیں ۔ ان کو نئی۔چیزیں سکھاتے ہیں۔وہی لوگ اج اپنی کونسل کے ایک سبز باغ میں گھوم رہے ہیں اور ڈاکٹرز کو گالیقں دے رہے ہیں کہتے ہیں ہم تو اپنا کلینک کھولیں گے اور شر پھیلا رہے ہیں ۔۔ حالانکہ چند دن میں اان کی آنکھ کھل جانی ہے اور سرکاری سطح پر پتہ چل جانا ہے۔۔
فارماسسٹ جن کو عشر عشیر بھی علم نہیں کہ فزیشن کی جاب کا اور ان کے علم کا کوئی تعلق نہیں دور کہیں جا کر چند چیزیں ملتی ہیں ان کی بنا ہر وہ ڈاکٹر اور مریض کے درمیان کہیں کھڑے ہیں اور وہ بھی انتہائی محدود۔ وہ بھی یہ کہ رہے ہیں کہ ہمیں پی ایم ڈی سی نے روک دیا۔۔۔مطلب ہم تو پریکٹس کرنا چاہتے تھے۔
انہیں کے بارے کہتے ہیں ۔
نہ تتر نہ بٹیر۔۔۔۔
ان کو اپنا کام بھی نہیں آتا اور یہ دوسروں کا کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔۔1000 میں سے کوئی ایک فارمیسی ہو گی جہقں فارماسسٹ ہو گا اور وہ بھی کہیں کمرے میں بیٹھا ہو گا۔ نہ مریض ان سے ہوچھتے ہیں نہ یہ بتا سکتے ہیں۔
انہیوں نے مارکیٹ میں اپنا کام منوایا ہی نہیں ۔ اعر جب مریض ڈاکٹر کی ہرچیاں اٹھا کر آتے ہیں اور ان کو پرچی کے مطابق دوا کہتے ہیں دو تو ان کو احساس کمتری ہوتا ہے کہ ہماری تو کوئی سن نہیں رکا لحاظہ پریکٹس کرنی شروع کرتے ہیں