Dr Awais Karamat - Skin Therapist

Dr Awais Karamat - Skin Therapist 👨‍⚕️ Consultant Skin Therapist
🎓 DPT (GDTH, Lhr), CST (PMC, Lhr)
💼 Treating Acne, Eczema, Stretch Marks, Psoriasis, Frackles, Fungal Infections, Rosacea etc.

یاد  آتا  ہے  روز  و  شب  کوئی ہم سے رُوٹھا ہے بے سبب کوئی لبِ جُو چھاؤں میں درختوں کی  وُہ  مُلاقات  تھی  عجب  کوئی  جب...
09/12/2025

یاد آتا ہے روز و شب کوئی
ہم سے رُوٹھا ہے بے سبب کوئی

لبِ جُو چھاؤں میں درختوں کی
وُہ مُلاقات تھی عجب کوئی

جب تُجھے پہلی بار دیکھا تھا
وُہ بھی تھا موسمِ طرب کوئی

کُچھ خبر لے کہ تیری محفِل سے
دُور بیٹھا ہے جاں بلب کوئی

نہ غمِ زندگی ،،، نہ دردِ فراق
دِل میں یُونہی سی ہے طلب کوئی

یاد آتی ہیں دُور کی باتیں
پیار سے دیکھتا ہے جب کوئی

چوٹ کھائی ہے بارہا ، لیکن
آج تو دَرد ہے عجب کوئی

جن کو مِٹنا تھا مِٹ چُکے ناصرؔ
اُن کو رُسوا کرے نہ اب کوئی

ناصرؔ کاظمی ¹⁹⁷²-¹⁹²⁵
مجموعۂ کلام : (برگِ نَے)

کیا انسان کبھی رُک کر سوچتا ہے کہ اس کا اپنا جسم اللہ تعالیٰ کی کتنی عظیم نشانیوں کا مجموعہ ہے؟ہر سانس، ہر حرکت، ہر دھڑک...
01/12/2025

کیا انسان کبھی رُک کر سوچتا ہے کہ اس کا اپنا جسم اللہ تعالیٰ کی کتنی عظیم نشانیوں کا مجموعہ ہے؟
ہر سانس، ہر حرکت، ہر دھڑکن—سب میں ایک ہی رب کی قدرت جھلکتی ہے۔

✨ اعصابی نظام — اللہ کی کاریگری کا روشن ثبوت
انسان کے جسم میں تقریباً 72 کلومیٹر تک پھیلے اعصاب ہیں، جو ہزاروں میل دور موجود نظاموں کی طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
جب انگلی میں چوٹ لگتی ہے تو لمحوں میں دماغ کو پیغام پہنچ جاتا ہے—یہ کیسا دقیق نظام ہے!
سب سے لمبی سائیٹک نرو، جو ایک میٹر سے زیادہ لمبی ہو سکتی ہے، اللہ کی بنائی ہوئی ایک ایسی "قدرتی وائر" ہے جو پیروں تک زندگی کی حرارت پہنچاتی ہے۔

✨ دماغ اور ریڑھ کی ہڈی — علم و حکمت کا مرکز
45 سینٹی میٹر لمبی ریڑھ کی ہڈی اور اس سے جڑا دماغ وہ مقام ہے جہاں انسان کی سوچ، احساسات، حرکت، یادداشت اور فیصلہ سازی سب اکٹھے ہوتے ہیں۔
یہ نظام اتنا کامل ہے کہ انسان چاہ کر بھی اس جیسا ایک نظام نہیں بنا سکتا۔
یہ سب “عَلِيم” اور “حَکِيم” رب کی نشانیاں ہیں۔

✨ خون کی نالیاں — اللہ کا بنایا ہوا معجزاتی نیٹ ورک
جسم میں موجود خون کی نالیاں اگر سیدھی کی جائیں تو ان کی لمبائی 95,000 کلومیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔
یہ فاصلہ زمین کے گرد دو مرتبہ چکر لگانے کے برابر ہے۔
اتنی باریک وریدیں بھی خون کو پہنچانے کا کام کرتی ہیں کہ جنہیں ننگی آنکھ سے دیکھا ہی نہیں جا سکتا—مگر پھر بھی کبھی کام نہیں رُکتا۔”

✨ ہڈیاں — طاقت، تحفظ اور سہارا
206 ہڈیوں کا بنا ہوا ڈھانچہ ہر عضو کی حفاظت کرتا ہے، پٹھوں کو سہارا دیتا ہے اور جسم کو ٹھہراؤ عطا کرتا ہے۔
یہ ہڈیاں نہ صرف جسم کو کھڑا رکھتی ہیں بلکہ زندگی دینے والے خون کے خلیے بھی پیدا کرتی ہیں۔
یہ سب کچھ کس نے ترتیب دیا؟ وہی رب جس کی حکمت بے مثال ہے۔

✨ انسانی جسم — خود ایک مکمل کائنات
اگر انسان صرف اپنے وجود پر غور کرے تو اسے پتہ چلے کہ اس کے اندر ایک پوری کائنات آباد ہے۔
ہر نظام دوسرے سے جڑا ہوا، ہر عمل اللہ کے اذن سے چل رہا ہے۔
ان سب میں کوئی کمی، کوئی خرابی نہ ہونا رب کی قدرت کی واضح دلیل ہے۔

الحمدللہ!

جو جسم اللہ نے ہمیں عطا کیا، وہ واقعی اس کی قدرت کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ 🌿✨

Doctors Shensha
یوسی سرانوالی سیالکوٹ

ابرار احمد ببر

بڑا بننے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے چھوٹا بنو کیونکہ بڑی بڑی عمارتوں کی بنیاد چھوٹی چھوٹی اینٹوں سے بنی ہوتی ہےKMS & Clinic...
21/11/2025

بڑا بننے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے چھوٹا بنو کیونکہ بڑی بڑی عمارتوں کی بنیاد چھوٹی چھوٹی اینٹوں سے بنی ہوتی ہے
KMS & Clinic

Doctors Shensha
Mian Xwais Karamat

19/11/2025

بدلتے موسم خاص طور پر آتی سردیوں میں اکثر لوگ اداس رہنے لگتے ہیں
ڈپریشن بڑھ جاتا ہے
خودترسی جیسی کیفیت سر اٹھانے لگتی ہے۔
پرانے لوگ پرانی یادیں پھر سے ذہن کے پردے پر جھلملانے لگتی ہیں
چلیں آج آپ کو ان کی طبی وجوہات بتاتے ہیں
موسم بدلنے پر ہمارے جسم کے اندر ہارمونز اور کیمیکلز کا توازن متاثر ہوتا ہے۔ دن چھوٹے ہونے لگیں یا سورج کی روشنی کم ملے تو دماغ میں سیروٹونن نامی خوشی دینے والا کیمیکل کم بنتا ہے، جس سے موڈ نیچے جانے لگتا ہے۔

7قدرتی روشنی کم ہونے سے میلاٹونن ہارمون زیادہ بنتا ہے جو نیند اور سستی پیدا کرتا ہے۔ زیادہ نیند آنے کے باوجود ذہنی تھکن اور اداسی محسوس ہونا اسی وجہ سے ہوتا ہے۔

سرد موسم میں لوگ گھر کے اندر زیادہ وقت گزارتے ہیں، جس کی وجہ سے جسمانی سرگرمی کم ہو جاتی ہے۔ کم حرکت اور کم آکسیجن ملنے سے دماغ کی توانائی کم ہوتی ہے اور دل پر بھی اداسی کا دباؤ بڑھتا ہے۔

سردیوں میں وٹامن ڈی کی کمی بھی عام ہے کیونکہ سورج کی روشنی کم ملتی ہے۔ وٹامن ڈی کم ہونے سے موڈ ڈسٹرب رہتا ہے اور ڈپریشن کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

موسم کی تبدیلی جذباتی طور پر بھی انسان کو متاثر کرتی ہے۔ کچھ لوگ تنہائی زیادہ محسوس کرتے ہیں، پرانی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں، یا بلاوجہ اداسی طاری رہتی ہے۔ یہ کیفیت وقتی ہوتی ہے مگر توجہ نہ دی جائے تو بڑھ سکتی ہے۔
کیا آپ بھی بدلتے موسم میں سٹریس کا شکار ہو جاتے ہیں؟

&CLINIC Doctors Shensha

*موسمی فلو* *انفلوئنزا وائرس* کی وجہ سے ہونے والا ایک سانس کا متعدی مرض ہے جو عام طور پر سردیوں میں پھیلتا ہے۔ اس کی علا...
16/11/2025

*موسمی فلو*
*انفلوئنزا وائرس* کی وجہ سے ہونے والا ایک سانس کا متعدی مرض ہے جو عام طور پر سردیوں میں پھیلتا ہے۔ اس کی علامات میں بخار، کھانسی، گلے میں خراش، جسم میں درد، سر درد اور تھکاوٹ شامل ہیں۔ یہ وائرس ہوا میں موجود بوندوں کے ذریعے یا آلودہ سطحوں کو چھونے سے پھیلتا ہے۔

*علامات بخار*: عام طور پر اچانک شروع ہوتا ہے اور تیز ہو سکتا ہے ۔

*کھانسی*: اکثر خشک اور مسلسل ہوتی ہے۔

*گلے کی سوزش*: اکثر ہوتی ہے اور نگلنے میں دشواری کا باعث بن سکتی ہے۔

*ناک بہنا یا بھری ہوئی ناک*: کبھی کبھار ہوتی ہے۔جسم اور پٹھوں میں درد: شدید ہو سکتا ہے۔

*سر درد*: عام ہے، خاص طور پر بڑوں میں۔

*تھکاوٹ*: شدید محسوس ہو سکتی ہے۔

*قے اور اسہال*: بچوں میں بڑوں کی نسبت زیادہ عام ہیں۔ پھیلاؤ یہ بیماری متاثرہ شخص کے کھانسنے، چھینکنے یا بات کرنے سے ہوا میں موجود بوندوں کے ذریعے پھیلتی ہے۔یہ سطحوں پر بھی منتقل ہو سکتا ہے، اور وائرس سطحوں پر زیادہ دیر تک رہ سکتا ہے۔
Consultant
Dr Awais Karamat - Skin Therapist
Doctor of Physical Therapy
Gulab Devi chest Hospital LHR
Gulab Devi Institute of physical therapy
Assistant Pharmacist (PMC)
MD & CEO AK Life Sciences Pvt LTD
KMS & Clinic Satrah sanduwa

ذہنی دباؤ یا اسٹریس ایک نظر نہ آنے والی چیز ہے، مگر اس کا وزن انسان کو اندر تک توڑ دیتا ہے۔ بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ اسٹر...
13/11/2025

ذہنی دباؤ یا اسٹریس ایک نظر نہ آنے والی چیز ہے، مگر اس کا وزن انسان کو اندر تک توڑ دیتا ہے۔ بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ اسٹریس صرف دماغ کو متاثر کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ پورے جسم اور زندگی کے رویے تک کو بدل دیتا ہے۔ اسٹریس کی شدت کبھی معمولی سی ہوتی ہے اور کبھی اتنی گہری کہ انسان اپنی اصل شخصیت بھولنے لگتا ہے۔ جب ذہن بے چین ہو جاتا ہے، تو جسم بھی سکون کھو دیتا ہے۔

جب انسان اسٹریس میں ہوتا ہے تو سب سے پہلے اس کے خیالات بدلتے ہیں۔ دماغ خود سے سوال پوچھنے لگتا ہے، کیا میں ٹھیک کر رہا ہوں؟ کیا سب کچھ میرے ہاتھ سے نکل رہا ہے؟ کیا لوگ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں؟ ایسے سوال ذہن پر بوجھ بن جاتے ہیں اور ذہن جواب نہ پا کر تھکنے لگتا ہے۔ پھر نیند خراب ہو جاتی ہے۔ بندہ بستر پر لیٹا رہتا ہے مگر نیند نہیں آتی۔ سوچیں دائرے کی طرح گھومتی ہیں۔ صبح آنکھ کھلتی ہے تو جسم تھکا ہوا اور ذہن خالی محسوس ہوتا ہے۔

پھر جسم اس پریشانی کا جواب دینا شروع کرتا ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ سانس بھاری لگتی ہے۔ کام کرنے کا دل نہیں چاہتا، جسم بوجھ سا لگتا ہے۔ کبھی پیٹ خراب ہوتا ہے اور کبھی سر چکرانے لگتا ہے۔ بعض لوگوں کو اسٹریس میں کھانا زیادہ لگتا ہے، اور بعض لوگ کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔ جسم میں درد، کمر کی تھکن، کندھوں میں سختی، ہاتھوں میں کپکپی اور پسینہ بھی اسٹریس کے اثرات ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ سب جسم کو اور کمزور کر دیتے ہیں۔

اسٹریس انسان کے جذبات کو بھی بدل دیتا ہے۔ چھوٹی بات پر غصہ آ جاتا ہے، معمولی غلطی پر خود کو برا سمجھنے لگتا ہے، انسان جلدی رو دینے والا یا جلدی ٹوٹنے والا بن جاتا ہے۔ وہ باتیں جو پہلے معمولی لگتی تھیں، اب بھاری محسوس ہوتی ہیں۔ انسان کو لگتا ہے جیسے دنیا اس کے خلاف ہے یا جیسے وہ کسی چیز کے قابل ہی نہیں۔ اس سوچ کے ساتھ انسان آہستہ آہستہ خود کو دوسروں سے دور کرنے لگتا ہے۔ وہ ہنستا کم اور خاموش زیادہ ہونے لگتا ہے، دوستوں سے دور، گھر والوں میں رہ کر بھی تنہا۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسٹریس کا سامنا کرتے ہوئے انسان اکثر خود کو تنہا سمجھ لیتا ہے۔ حالانکہ ہر شخص زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر اس کیفیت سے گزرتا ہے۔ مگر فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ ہم اسے کیسے سنبھالتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اسٹریس کیوں ہے، مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اسے دل اور دماغ میں جگہ کتنی دیتے ہیں۔

اسٹریس کو کم کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ ہم خود کو وقت دیں، اپنے احساسات کو قبول کریں اور ان پر بات کریں۔ روز پانچ دس منٹ اپنی سانس پر توجہ دیں، تھوڑا چلیں، کسی سے دل کی بات کریں، اپنے ذہن میں جمع خوف کو کاغذ پر لکھیں۔ خود کو یہ یقین دلائیں کہ یہ وقت ہے، مقدر نہیں۔ ہر مشکل گزرتی ہے، اور انسان جب ٹوٹتا ہے تو دراصل نئی طاقت کیلئے جگہ بناتا ہے۔

زندگی کی بھاگ دوڑ میں خود کو بھول جانا مشکلوں کو بڑھاتا ہے۔ کبھی اپنی دھڑکن سن کر دیکھیں، کبھی اپنی خواہشوں کی آواز سنیں۔ آپ کی زندگی صرف ذمہ داریوں کیلئے نہیں، آپ کیلئے بھی ہے۔ اپنے دل کو اتنی جگہ دیں کہ وہ سانس لے سکے، اور اپنے ذہن کو اتنی مہلت دیں کہ وہ دوبارہ روشن ہو سکے ۔
ﷲ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو*

‎دعاؤں کا طلبگار
‎ Awais Karamat - Skin Therapis
MD cEO AK life science's
#// KMS & Clinic
Best consultant Dr
#03154420646

🌿 کیا نیوروپیتھی (Nerve Pain) کا درد قدرتی طور پر ختم یا ٹھیک ہو سکتا ہے؟نیوروپیتھی کا درد بہت تکلیف دہ ہو سکتا ہے — جلن...
31/10/2025

🌿 کیا نیوروپیتھی (Nerve Pain) کا درد قدرتی طور پر ختم یا ٹھیک ہو سکتا ہے؟

نیوروپیتھی کا درد بہت تکلیف دہ ہو سکتا ہے — جلنے، سن ہونے یا سوئیاں چبھنے جیسے احساسات روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔
اگرچہ مکمل علاج ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا، لیکن بہت سے لوگوں نے قدرتی غذائی اور طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کے ذریعے نمایاں بہتری اور اعصاب کی مرمت کا تجربہ کیا ہے۔

یہاں کچھ قدرتی طریقے ہیں جن سے آپ اپنے جسم کے اعصاب کی شفا یابی میں مدد کر سکتے ہیں:

🥦 1. اعصاب کو غذائیت دیں

غذائیت سے بھرپور خوراک اعصاب کی مرمت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اپنی غذا میں شامل کریں:

وٹامن بی کمپلیکس (B1, B6, B12): اعصاب کی حفاظت اور مرمت کے لیے ضروری۔

اومیگا-3 فیٹی ایسڈز: مچھلی، السی کے بیج، اور اخروٹ میں پائے جاتے ہیں، سوزش کم کرتے ہیں۔

اینٹی آکسیڈنٹس: رنگ برنگے پھل اور سبزیاں اعصاب کو آکسیڈیٹو نقصان سے بچاتی ہیں۔

🚶‍♀️ 2. جسمانی سرگرمی جاری رکھیں

ہلکی ورزش جیسے چہل قدمی، یوگا یا تیراکی خون کی گردش بہتر کرتی ہے اور اعصاب کو آکسیجن فراہم کرتی ہے۔ حرکت آپ کے موڈ کو بھی بہتر بناتی ہے اور درد میں کمی لاتی ہے۔

🧘‍♂️ 3. ذہنی دباؤ اور نیند کا خیال رکھیں

مسلسل ذہنی دباؤ اعصاب کے درد کو بڑھا سکتا ہے۔ گہری سانسیں، مراقبہ، اور ذہنی سکون کے طریقے اعصابی نظام کو آرام دیتے ہیں۔ بہتر نیند بھی اعصاب کی مرمت کے لیے لازمی ہے۔

🌼 4. قدرتی سپلیمنٹس کا استعمال کریں

کچھ قدرتی اجزاء اعصابی صحت میں مدد دیتے ہیں، جیسے:

الفا لائپوک ایسڈ (ALA): سوزش کم کرتا ہے اور اعصاب کے کام میں بہتری لاتا ہے۔

ہلدی (کرکومین): اپنی مضبوط اینٹی انفلامیٹری خصوصیات کے لیے مشہور ہے۔

میگنیشیم اور وٹامن ڈی: پٹھوں کے کھچاؤ کو کم کرتے ہیں اور اعصابی سگنلز کو بہتر بناتے ہیں۔

💧 5. صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں

سگریٹ نوشی اور الکحل سے پرہیز کریں — یہ اعصاب کو مزید نقصان پہنچاتے ہیں۔ پانی زیادہ پئیں اور متوازن غذا لیں تاکہ طویل مدتی بہتری ممکن ہو۔

✨ خلاصہ: نیوروپیتھی کا علاج وقت لیتا ہے، لیکن اگر آپ غذا، ورزش، اور ذہنی سکون کو معمول بنائیں تو جسم خود بخود شفا پانے لگتا ہے۔ مستقل مزاجی سے بہت سے لوگوں نے درد میں کمی، احساسات میں بہتری، اور نئی توانائی محسوس کی ہے۔

28/09/2025
اداس ہیں..؟ تو پینسل تھیراپی آزمائیں۔! کبھی کبھی دل کا بوجھ، ذہن کی تھکن اور زندگی کی تلخیاں ہمیں یوں گھیر لیتی ہیں کہ م...
28/09/2025

اداس ہیں..؟ تو پینسل تھیراپی آزمائیں۔!

کبھی کبھی دل کا بوجھ، ذہن کی تھکن اور زندگی کی تلخیاں ہمیں یوں گھیر لیتی ہیں کہ مسکراہٹ روٹھ سی جاتی ہے۔ مگر تحقیق کہتی ہے کہ اگر انسان اپنے چہرے پر زبردستی بھی مسکراہٹ لے آئے تو دماغ اس کو حقیقت سمجھ لیتا ہے اور پورے جسم میں سکون کے اشارے بھیجنے لگتا ہے۔ اسی اصول پر مبنی ایک نہایت دلچسپ اور آسان طریقہ ہے جسے ماہرین نے ’’پینسل تھیراپی‘‘ کا نام دیا ہے۔

بس ایک کچی پینسل یا باریک سی مسواک اپنے دانتوں کے درمیان آہستہ سے رکھنی ہے۔نہ دباؤ ڈالا جائے اور نہ ہی اسے چبایا جائے۔ اگر ممکن ہو تو بغیر رنگ والی پینسل زیادہ بہتر ہے تاکہ کوئی کیمیائی اثر نہ ہو۔ اور اگر پینسل نہ ملے تو نیم یا کسی اور درخت کی ایک چھوٹی سی شاخ، بالکل مسواک کی طرح، بھی اس مقصد کے لئے استعمال کی جا سکتی ہے۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ دانت ایسے دکھائی دیں جیسے آپ مسکرا رہے ہیں۔ یہی اشارہ دماغ تک جاتا ہے اور خوشی کے ہارمون فوراً خارج ہونے لگتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ عمل چند لمحوں میں
اثر دکھاتا ہے۔ انسان کی اداسی، مایوسی، خوف اور گھبراہٹ میں کمی آتی ہے، دماغ پرسکون ہوتا ہے اور دل کو ایک ہلکا سا سکون ملنے لگتا ہے۔ خاص طور پر ڈپریشن اور اینگزائٹی میں مبتلا افراد کے لئے یہ ایک فوری مددگار حربہ ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طریقے سے چہرے پر جھریاں اور آنکھوں کے گرد حلقے بھی وقت کے ساتھ کم ہونے لگتے ہیں، کیونکہ چہرے کے مسلز کی یہ چھوٹی سی ورزش خون کی روانی بہتر کرتی ہے اور جلد کو تروتازہ بناتی ہے۔

یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ اصل مقصد
’’پینسل‘‘ نہیں بلکہ ’’مسکراہٹ‘‘ ہے۔ پینسل محض ایک علامت ہے، ایک ذریعہ ہے۔ آپ چاہیں تو باریک مسواک، نیم کی شاخ یا کسی بھی درخت کی چھوٹی سی ٹہنی استعمال کر لیں۔ تین چار انچ کی باریک ہو اور دانتوں کے درمیان آرام سے آجائے۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ آپ کے چہرے پر وہی کیفیت پیدا ہو جو قدرتی مسکراہٹ میں ہوتی ہے۔

آخر میں ایک بات یاد رکھیں کہ یہ نسخہ آسان ضرور ہے مگر احتیاط کے ساتھ اپنائیے۔ پینسل یا لکڑی کو چبانے کی کوشش نہ کیجئے، اور اگر دانتوں یا جبڑے کے مسائل ہوں تو ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کر لیجئے۔ باقی یہ عمل ہر عمر کے افراد، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کے لئے ایک سادہ سی خوشی کا پیغام ہے۔ خوش رہیے، خوشیاں بانٹیے اور اپنی مسکراہٹ کو دوسروں تک پہنچائیے، کیونکہ بعض اوقات علاج صرف ایک چھوٹی سی ٹہنی یا کچی پینسل کے پیچھے بھی چھپا ہوتا ہے۔

اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے
Dr Awais Karamat skin therapist
Dr Awais Karamat - Skin Therapist
Physical Therapist
Devi teaching hospital LHR
Pharmacist & MD
Mian Xwais Karamat KMS & Clinic
Satrah sanduwa Punjab
AK life science's Pvt LTD
Director Pharma Pakistan research welfare society
drawaisclinic

Big shout out to my newest top fans! 💎 Mian Xwais KaramatDrop a comment to welcome them to our community,
31/08/2025

Big shout out to my newest top fans! 💎 Mian Xwais Karamat

Drop a comment to welcome them to our community,

Address

Gujranwala Pasrur Road Satrah Sandhuwa
Punjab
51480

Opening Hours

Monday 08:00 - 20:00
Tuesday 08:00 - 20:00
Wednesday 08:00 - 20:00
Thursday 08:00 - 20:00
Friday 08:00 - 20:00
Saturday 08:00 - 20:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Awais Karamat - Skin Therapist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram