Dr.Muhammad Tariq_FCPS Child Specialist

Dr.Muhammad Tariq_FCPS Child Specialist Quality medical facility for children child specialist in sharaqpur sharif

پاکستان میں بطور ڈاکٹر ہمیں اکثر نظام سے زیادہ لوگوں کے رویّوں سے لڑنا پڑتا ہے۔ یہ بات کہنا تلخ ضرور ہے، مگر ضروری ہے۔ ہ...
28/12/2025

پاکستان میں بطور ڈاکٹر ہمیں اکثر نظام سے زیادہ لوگوں کے رویّوں سے لڑنا پڑتا ہے۔ یہ بات کہنا تلخ ضرور ہے، مگر ضروری ہے۔ ہم دن رات مریض دیکھتے ہیں، مگر بیماری کے ساتھ ساتھ بے صبری، بداعتمادی اور غیر ذمہ دار رویّے بھی علاج کا حصہ بن چکے ہیں۔

ہر مریض فوری علاج چاہتا ہے، مگر ہدایات پر عمل کم ہی کرتا ہے۔ دوائی وقت پر نہ لی جائے، فالو اپ نہ کیا جائے، پرہیز کو مذاق سمجھا جائے، اور پھر جب حالت بگڑے تو سارا غصہ ڈاکٹر یا ہسپتال پر نکال دیا جاتا ہے۔ ہم بیماری کا علاج کر سکتے ہیں، رویّوں کا نہیں۔

غیر ضروری انجیکشن، اینٹی بایوٹک اور ڈرِپ کا مطالبہ عام ہو چکا ہے۔ اگر ڈاکٹر انکار کرے تو کہا جاتا ہے کہ “یہ کچھ نہیں کر رہا”۔ بخار وائرل ہو یا بیکٹیریل، مریض کو فرق نہیں، بس دو دن میں ٹھیک ہونا چاہیے۔ یہی رویّہ اینٹی بایوٹک ریزسٹنس جیسے سنگین مسئلے کو جنم دے رہا ہے، جس کا نقصان آخرکار مریض کو ہی ہوتا ہے۔

ویکسین کے معاملے میں بھی یہی صورتحال ہے۔ ویکسین پر شک کیا جاتا ہے، افواہوں پر یقین کیا جاتا ہے، مگر جب بیماری پھیلتی ہے تو الزام نظام پر آتا ہے۔ ہیلتھ ورکر کو گاؤں میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا، پھر بچوں کی بیماری پر ہنگامہ ہوتا ہے۔

سرکاری ہسپتالوں میں رویّہ اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر کم، مریض زیادہ، سہولیات محدود، مگر توقعات لا محدود۔ قطار توڑنا، شور شرابا، بدتمیزی، حتیٰ کہ تشدد تک کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ایک ڈاکٹر ایک وقت میں کتنے مریض دیکھ سکتا ہے۔

ہم بطور معاشرہ احترام مانگتے بہت ہیں، دیتے کم ہیں۔ ڈاکٹر سے مکمل توجہ، ایمانداری اور قربانی کی توقع رکھی جاتی ہے، مگر اس کی عزت، تحفظ اور ذہنی صحت پر کوئی بات نہیں کرتا۔ اچھا نتیجہ آئے تو قسمت، برا ہو جائے تو ڈاکٹر قصوروار۔

یہ بات بطور ڈاکٹر نہیں، بطور شہری کہنی پڑتی ہے: صحت کا نظام صرف ڈاکٹر سے نہیں چلتا۔ مریض، خاندان اور معاشرہ بھی اس کا حصہ ہیں۔ جب تک ہم اپنی ذمہ داری قبول نہیں کریں گے، کوئی بھی نظام ہمیں مطمئن نہیں کر سکتا۔

ہمیں سوال پوچھنے کے ساتھ ساتھ خود کو بھی دیکھنا ہوگا۔
ہم ڈاکٹر سے کیا چاہتے ہیں، اور ہم خود کیا کر رہے ہیں؟

صحت کی بہتری صرف ہسپتالوں سے نہیں آئے گی۔
یہ رویّوں کی اصلاح سے شروع ہوگی۔

میں ایک ماہر اطفال ہونے کے ناطے بچوں میں نظر آنے والی ایک بہت ہی عام حالت کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جسے پٹیریاسس ال...
01/10/2024

میں ایک ماہر اطفال ہونے کے ناطے بچوں میں نظر آنے والی ایک بہت ہی عام حالت کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جسے پٹیریاسس البا (Pityriasis alba)کہتے ہیں جو چہرے پر سفید دھبوں کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ یہ بہت عام ہے اور 5 فیصد بچوں میں دیکھا جاتا ہے۔زیادہ تر چھے سے بارہ سال کے بچوں میں پایا جاتا ہے.یہ ایک جلد کی مکمل بے ضرر حالت ہے۔ اس کی صحیح وجہ کا طب میں ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے لیکن آسان الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ جلد کی الرجی کی ایک قسم ہے۔ مہینوں کے اندر یہ بغیر کسی علاج کے خود ہی غائب ہو جاتا ہے۔ اس پر پوسٹ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ اور نیم حکیم اس میں کیلشیم کا شربت بچوں کو دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی وجہ بچوں میں کیلشیم کی کمی ہے۔ نہیں، یہ بالکل غلط بات ہے اور کیلشیم کا اس حالت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیلشیم کے شربت آپ کے پیسے اور وقت کو ضائع کر دیں گے۔جسم میں بہت زیادہ کیلشیم کی مقدار ,مضر اثرات جیسے معدے کی خرابی، گردوں کی پتھری کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
برائے مہربانی اس پیغام کو دوسرے تمام والدین کے ساتھ شیئر کریں تاکہ وہ اس قسم کے غلط علاج، پیسے , وقت کے ضیاع اور ادویات کے مضر اثرات سے بچ سکیں۔
جزاک اللہ اور دعاٶں میں یاد رکھیں۔
بچوں کی صحت سے متعلق مزید معلومات اور رہنماٸ کے لیے ہمارا پیج ضرور وزٹ کریں
Dr.Muhammad Tariq_FCPS Child Specialist
Farooq hospital sharaqpor
Time...4pm to 7pm daily(Sunday off)۔

14/10/2021

ہمارے ملک میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوالیفائڈ physician سے دوائ لکھوا کر لوگ میٹرک پاس میڈیکل سٹور والے سے پوچھتے ہیں کہ دوا صحیح ہے یا غلط تجویز ہوئ ہے-
ہر دوسرے دن مریض یا اس کے attendents اپنی مرضی سے antibiotics تبدیل کرتے ہیں-

پاکستانی عوام بغیر کسی رجسٹرڈ فزیشن کے تشخیص اور نسخے کے دو گولی antibiotics کے کھانے سے ٹھیک ہوجاتے ہیں...اور ڈاکٹرز حضرات بغیر کسی Culture Test اور ABR's History پوچھے دھڑا دھڑ 3rd جنریشن انٹی بائٹک Prescribe کرہے ہیں...

اس طرح ایک دوسرے سے پوچھ کر انسولین یونٹس اور oral drugs تبدیل کرتے ہیں- Antihypertensives ایک دوسرے سے ادھار لیکر dose اور گروپ تبدیل کرتے ہیں-
دنیا کے کسی بھی ملک میں یہ نہیں ہوتا کہ آپ دواخانہ سے دو گولیاں Omeprazol معدے کی تیزابیت ختم کرانے اور 5 گولیاں Alprazolam بہتر نیند کے لئے ایک میٹرک فیل دوکاندار سے پیسے دے کر حاصل کرسکتے ہوں...

خود ٹیسٹ کروا کر لیب والوں سے اندرونی بیماری کا پوچھتے ہیں- ٹیسٹ negative یا نارمل ہو تو کہتے ہیں کہ ٹیسٹ کے پیسے ضائع ہوئے-کہتے ہیں کہ جو مقدر میں لکھا ہے وہی ہو گا- پھر موت سے بھی ڈرتے ہیں-

خدارا اپنے آپ پر رحم کریں...دوائیوں کو ٹافیوں کی طرح استعمال نہ کرے...صحیح استعمال پر اگر یہ کیمیکل دوائی کہلاتی ہے تو غلط استعمال پر یہی کیمیکل زہر بن جاتی ہیں..

آپ میڈیکل سٹور پر موجود جس بندے سے دوائیوں کے بارے میں مشورے لیتے ہو ان سے یہ ضرور پوچھے کہ آپ کے پاس ان ادویات کے بارے میں کتنا علم ہے...؟
دوائیوں کے متعلق آپ کے پاس کونسی ڈگری موجود ہے...؟
علم اور معلومات میں زمیں و آسمان کا فرق ہوتا ہے، صرف معلومات کی بنیاد پر نہ کسی سے دوائی لے اور نہ اس کے استعمال کے بارے میں مشورہ...

ادویات کے بارے میں جس کے پاس علم اور ڈگری ہو اسے (Pharmacist ) کہا جاتا ہے اور ساری دنیا میں دوائیوں کے متعلق معلومات دینا، اس کی خرید و فروخت کرنا اور اس کے مضر اثرات سے مریض کو بچانا ماہر ادویات(فارمسسٹ) کا ہی کام ہے اور قانونی طور پر بھی یہ اختیار صرف فارمسسٹ کو حاصل ہیں...

حکومت وقت کا فرض بنتا ہے کہ ادویات کے کاروبار کو ریگولرائز کرکے فارمیسیز اور میڈیکل سٹورز میں فارمسسٹ کی موجودگی کو یقینی بناکر غریب عوام اور مریضوں پر رحم کیا جائے..

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO ) کے مطابق پاکستان میں انٹی بایئوٹیکس کے بے جا اور بے دریغ استعمال کی بدولت ان ادویات کے خلاف مزاحمت(Antibiotics Resistance) میں بے تحاشا اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اب پاکستان میں ٹائفائڈ بخار کے لئے بھی صرف 3rd Generation انٹی بائوٹیک ہی کارآمد ہوگی..

یاد رکھیں.. یہ (Antibiotics Resistance) نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہیں..اور اسی طرح یہ چھوٹے چھوٹے امراض نہ صرف مہلک بنتے جارہے ہیں بلکہ خاصے مہنگے بھی ہوتے جارہے ہیں..

30/08/2021


Jus sharing why I discourage Pediatric blind guidance without examining child..
ALL THE TIME I INSISTED GET CHILD CHECKED:
*14 days old preterm _ According to parent colic
Turned out to be NEC ,intestinal perforation..n child died
* persistent vomiting _ diabetic ketoacidosis ( many times) ( diabetes)
* bed wetting _ UTI
* persistent cough _ pneumonia,asthma and many times foreign body stuck in air passage picked up on auscultation
* Breath holding spell _ pyomeningitis picked by palpation of fontanalle or checking tone or listening to shrill cry..
* colic _ actually tonic fit
*abdominal pain _ intussuception( knot of intestine)
* excessive cry_ meningitis ( brain infection)
* twitching of face_ pseudohypoparathyroidism
* face allergy _ nephrotic
* asthma turning out to be actually tuberculosis
* previous fracture now with abdominal distension
(fracture that attendant thought is not worth mentioning turning out to be osteopetrosis)
* Newborns having difficulty breathing after feeding _ cleft palate
* children coming for vaccine: congenital heart disease on auscultation..
* Many time when actually child is absolutely normal have seen perceived chest infections to be jus nasal blockage.. diarrhea in newborn to be normal frequency related to mother feed...poor growth reported by parents to be perfectly fine on centile..
So strongly believe...pediatric is not the field that can be managed blindly
Rather I encourage visit near by doctor.. May be a General practitioner n ask them to take pediatrician on board through telemidicine but Some doctor must have to examine child before u decide either YOU ARE GOING TO GIVE MEDICINE OR JUS RELAX PARENTS BY COUNSELLING..
Jus shared because whatsoever will never encourage pediatric telemedicine through this group for general public..for sure ..

18/11/2020

Today is World Prematurity Day.
1️⃣ in 🔟 babies around the world are born preterm - before 37 weeks of 🤰.

Complications from prematurity is the leading cause of death for children under 5. Health service disruptions due to COVID-19 may have further devastating impacts and push back progress.

12/11/2020

Pneumonia is the biggest infectious disease killer of children under 5. Since 2009, Gavi has helped immunise over 215 million children against this deadly disease. As puts pressure on health systems worldwide, we must protect these health gains.

27/09/2020

Quality medical facility for children

Address

Farooq Polyclinic (surgical And Gyne Unit)
Sharqpur

Opening Hours

Monday 15:00 - 18:30
Wednesday 15:00 - 18:30
Friday 15:00 - 18:30
Saturday 15:00 - 18:30

Telephone

+923025594379

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Muhammad Tariq_FCPS Child Specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr.Muhammad Tariq_FCPS Child Specialist:

Share

Category