Akmal Family Clinic

Akmal Family Clinic Akmal Family Clinic provides the best treatment to our patients. Health care medical clinic

15/11/2023

خواتین متوجہ!
یاد رکھیں!
لیکوریا کوئی بیماری نہیں!
بلکہ
خواتین میں وجائنل ڈسچارج Va**nal Discharge یا لیکیوریا ضروری عمل ہے۔۔۔۔

اندام نہانی Va**na سے نکلنے والی رطوبت Discharge لیکوریا کیا ہے اور یہ خواتین کے لیے مسئلے کی شکل کب اختیار کر لیتا ہے؟

خواتین میں وجائنل ڈسچارج Va**nal Discharge یا لیکیوریا ضروری عمل ہے۔
اگر یہ (رطوبت) انڈے کی سفیدی کی طرح شفاف ہو، اس میں بُو نہ ہو اور ماہواری سے چند دن پہلے آئے تو نارمل ہے لیکن جب اس کی یومیہ مقدار دو ملی لیٹر سے زیادہ ہو، یہ آپ کے زیر جامہ کو گیلا کرتا ہو، اس میں بُو آئے، خارش ہو تو آپ ڈاکٹر سے ضرور ملیں۔

میں آپ سب خواتین کی تولیدی صحت سے جڑے ایک ایسے مسئلے کو آسان الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں جس پر بات کرنا خواتین کے لیے ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے۔

لیکیوریا (اندام نہانی سے نکلنے والی رطوبت) کے حوالے سے غلط فہمیوں پر بات سب سے پہلے میں اس کا پس منظر بتانا چاہوں گا،

میری طرح آپ نے بھی مختلف سڑکوں سے گزرتے ہوئے دیواروں اور اخبار کے اندرونی صفحات پر بعض ایسے اشتہار یقیناً دیکھے ہوں گے جن پر خواتین کے ’پوشیدہ‘ امراض، نسوانی امراض کا ’یقینی علاج‘، لیکیوریا کا ’جڑ سے خاتمہ‘ اور انھی سے ملتے جلتے جملے لکھے ہوتے ہیں۔

اشتہاروں میں کیے گئے دعوؤں سے قطع نظر، ان میں لکھے جملوں کی سنسنی نے جہاں سارا بچپن خراب کیا، وہیں مسئلے کا شکار لڑکیوں کے اندر وسوسہ ڈالے رکھا کہ پتہ نہیں لیکیوریا آخر ہے کیا بلا، جسے پوشیدہ بھی کہا جا رہا ہے اور اس کے علاج کی مارکیٹنگ سے شہر بھر کی دیواریں بھی بھری پڑی ہیں۔

ایسے ماحول میں وجائنل ڈسچارج یا لیکیوریا کا سامنا کرنے والی لڑکیوں کے ذہن پر کیا اثر پڑتا ہے اور صحت سے جڑے اس مسئلہ پر بات کرنا آخر اتنا مشکل کیوں ہے؟

لیکن پہلے جان لیتے ہیں کہ لیکیوریا دراصل ہے کیا؟

’جب تک رطوبت شفاف، انڈے کی سفیدی جیسی اور دو ملی لیٹر یومیہ ہو تو نارمل ہے‘
اندام نہانی Va**na سے خارج ہونے والی رطوبتیں وجائنا (اندام نہانی) کی اندرونی صفائی کے لیے بے حد ضرور ی ہیں۔

’ماہواری سے چند دن پہلے خارج ہونے والی ان رطوبتوں کو طبی زبان میں ’فزیولوجیکل ڈسچارج‘ Physiological Discharge کہتے ہیں۔ یہ وجائنل ڈسچارج عام طور پر ماہواری سے چند روز پہلے یا مڈ سائیکل میں ہوتا ہے۔ جب تک یہ رطوبت شفاف ہوں، انڈے کی سفیدی جیسی ہوں اور مقدار میں ایک سے دو ملی لیٹر یومیہ ہوں تو یہ نارمل ہے۔ اس میں بوُ بھی نہیں ہوتی اور ازدواجی تعلقات میں بھی یہ ڈسچارج مسئلہ نہیں کرتا۔..

یہاں تک تو بات بظاہر سادہ اور آسان ہی لگ رہی ہے اور اب یقیناً بہت سی خواتین کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہو گی لیکن پھر لیکیوریا مسئلہ کب بن جاتا ہے اور اس پر بات کرنا اتنا مشکل کیوں ہے؟

اس کے لیے میں آپ کو ایک خاتون مریضہ حرا (فرضی نام) کی لیکوریا سے جڑی روداد سناتا ہوں ،
کراچی کی رہائشی حرا (فرضی نام) جو نہ صرف بلوغت کے وقت سے ہی لیکیوریا کے باعث مشکلات جھیلتی رہی ہیں بلکہ ممنوعہ موضوع سمجھنے جانے کے باعث اس پر بات کرنے سے بھی ہچکچاتی رہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں کافی چھوٹی تھی جب سے مجھے یہ مسئلہ تھا۔ بچپن میں سمجھ ہی نہیں آتی تھی کہ یہ کیا چیز ہے۔ خدانخواستہ بڑی بیماری تو نہیں۔۔۔ جب دیواروں پر لکھا دیکھا کہ لیکیوریا کے مرض سے جان چھڑائیں تو پتہ چلا کہ یہ ایک بیماری ہے اور لیکیوریا اس کا نام ہے۔‘

حرا اب 30 سال کی لیکن نو عمری میں شروع ہونے والے وجائئنل ڈسچارج کے مسئلہ پر انھیں بھی بے شمار لڑکیوں کی طرح درست رہنمائی نہ مل سکی۔

’بچپن میں تو یہ ہوتا تھا کہ کپڑے خراب ہو جاتے تھے میرے۔ پتہ بھی نہیں تھا کہ کیا کرنا ہے۔۔۔ پھر مختلف قسم کی میڈیکیشن کا بڑوں سے پتہ چلا۔ مختلف ٹوٹکے پتہ چلے۔ اس وقت تک میں گھر بتا چکی تھی کہ مجھے اس کا علاج کروانا ہے۔ پھر پڑوس میں ایک خاتون تھیں جو دوائی بنا کے دیتی تھیں لیکن فرق مجھے اس سے بھی نہیں پڑا۔۔۔

حرا کے لیے یہ تولیدی صحت سے جڑا یہ معاملہ کچھ دن کے بجائے ان کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہی بن گیا۔

حرا کہتی ہیں کہ وقت بے وقت کے اس ڈسچارج نے ان کی روز مرہ زندگی کے معمولات کو متاثر کیا۔

’اس کا کوئی خاص وقت نہیں ،یہ کبھی بھی ہو جائے گا۔ ایک بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ آپ وضو کر کے نماز پڑھ رہے ہیں۔ کپڑے گندے ہو جاتے ہیں۔ پھر واک پر جاتے وقت ہو جائے تو کپڑے گندے ہو جاتے ہیں۔ چلتے ہوئے بُرا محسوس ہو رہا ہوتا ہے۔ جب آپ گھر میں ہوتے ہیں تو اپنے کپڑوں کو صاف کر لیتے ہیں لیکن باہر آپ ایسا نہیں کر سکتے۔ کبھی زیادہ ہو جاتا ہے کبھی کم۔۔۔ مگر ختم کبھی نہیں ہوتا۔‘

حرا اور ان ہی جیسی بے شمار لڑکیوں کو اندام نہانی کی قدرتی صفائی کے لیے نکلنے والی رطوبت میں انفیکشن کے باعث بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے تاہم آگاہی کے فقدان کے باعث وہ نہیں جان پاتیں کہ وجائنا سے نکلنے والی رطوبت کی رنگت، مقدار اور بُو پر نظر رکھنا کتنا ضروری ہے۔۔۔۔

پانی کے نکلتے ہی اندام نہانی اور اس کے اطراف خارش ہونا انفیکشن ہے‘
جینیٹل ٹریک Ge***al Tractمیں پائی جانے والی ان رطوبتوں میں جب انفیکشن یا پیتھالوجی آ جاتی ہے تو یہ معمولی بات نہیں۔ اس کو عام طور پر خواتین کہتی ہیں کہ انھیں پانی کی شکایت ہے۔

اب سنے!
خواتین وجائنا سے نکلنے والی رطوبت سے متعلق فکر مند اس وقت ہوں جب:

👈وجائئنل ڈسچارج کی مقدار یومیہ ایک سے دو ملی لیٹر سے زیادہ ہو۔۔۔

👈پورا مہینہ رطوبت کا اخراج ہو اور اس سے بدبو آئے۔۔۔

👈پانی کے نکلتے ہی اندام نہانی اور اس کے اطراف خارش ہو۔۔۔

👈شوہر کے ساتھ ملاپ کے وقت ازدواجی تعلق تکلیف دہ ہو جائے۔۔۔۔

👈اگر اس پانی کی رنگت سفید اور پھٹے ہوئے دودھ کی طرح ہو تو یہ فنگل انفیکشن کی نشانی ہے۔۔۔

👈اگر اس رطوبت کا رنگ سرمئئ مائل سیاہ ہو اور اس میں شدید خارش ہو۔۔

ملکی وائٹ Milky White Discharge ڈسچارج کے باعث شوہر کے ساتھ ملاپ تکلیف دہ ہو سکتا ہے‘

اندام نہانی Va**na میں قدرتی طور پر بھی بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں تاہم ان بیکٹیریا کے بڑھ جانے سے ہونے والی انفیکشن خواتین میں سب سے عام ہے جس کا علاج آسان اور فوری ہے تاہم خواتین شرم یا جھجھک کے باعث اس پر بات نہیں کرتیں اور پھر یہ ازدواجی تعلقات میں تکلیف دہ ہو جاتی ہے۔

’رطوبت ملکی وائٹ یا دودھ کی طرح پتلی ہو تو یہ بیکٹیریئل ویجی نوسس Bacterial Vaginosis ( وجائنا میں پائے جانے والے قدرتی بیکٹریا کا بڑھ جانا) انفیکشن ہے، جو خواتین میں بہت عام ہے۔ اس میں خارش نہیں ہوتی بلکہ یہ دودھ کی طرح پتلا ہوتا ہے۔‘

’خواتین شرم یا جھجھک کے باعث بتاتی بھی نہیں کہ ان کو ملکی وائٹ ڈسچارج ہے۔ وہ اس کو نارمل لیتی ہیں لیکن جب ان کا شوہر کے ساتھ ملاپ ہوتا ہے تو مرد اور عورت کی رطوبت کے آپس میں ملنے سے اس میں سے بدبو آتی ہے۔ اس کا باقاعدہ علاج موجود ہے اور خواتین کو اس کا علاج کروانا چاہیے۔..

علاج کے لیے ضروری ہے کہ ڈاکٹر ہسٹری لے کر آپ کا معائنہ کرے۔ یہ نہیں کہ آپ زبانی ڈاکٹر کو کہیں کہ پانی پڑتا ہے اور دوائیں دے دیں۔۔۔ ہر ڈسچارج کی الگ قسم کی میڈیکیشن ہوتی ہے اور کچھ ڈسچارج ایسے ہیں کہ جس میں دونوں میاں بیوی کو ایک ہی وقت میں دوائی بھی لینا ہوتی ہے اور آپس میں ازدواجی تعلق میں پرہیز بھی رکھنا ہے تاکہ دونوں کا انفیکشن ختم ہو۔‘

رطوبتیں کیونکہ جسم کے اندر سے آ رہی ہیں اس لیے اس کا علاج بار بار دھونا ہرگز نہیں بلکہ اس کا باقاعدہ معائنہ اور علاج ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ صفائی کی اچھی عادات کو اپنانا ضروری ہے۔

’لیکیوریا کے مسئلے سے ذہنی صحت پر بھی بُرا اثر پڑتا ہے‘
کئی خواتین کو بلوغت کی عمر سے شروع ہونے والا لیکیوریا شادی کے بعد بھی ٹھیک نہ ہوتو اس سے ازدواجی زندگی میں شرمندگی محسوس کرنا پڑ تی ہے ۔۔۔

لیکیوریا کے مسئلے سے ذہنی صحت پر بھی بُرا اثر پڑتا ہے۔ اس ڈسچارج کی بو شدید ہو جائے تو اپنے آپ سے شرمندگی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ بیٹھے بیٹھے اچانک کپڑے خراب ہو جائیں تو اپنے اندر بے بسی اور بے آرامی ہوتی ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔‘

حرا کہتی ہیں کہ ’میں بہت عرصہ اس پر بات نہ کر سکی اور خوف میں رہی۔ اسی طرح اور بچیاں بھی اس وجہ سے خوف میں رہتی ہوں گی لہذا اس پر بات کرنا اور درست آگاہی دینا ضروری ہے۔‘

’میں نے میڈیکیشن بھی کیں اور ہر طرح کے ٹوٹکے بھی کیے اور اب تو گوگل بھی ہے۔ تو جتنی بچیاں ہیں وہ اس بارے میں پریشان ہونے کے بجائے درست رہنمائی لینے سے ہرگز نہ ہچکچائیں۔

لیکوریا یا ویجائنل ڈسچارج Va**nal Discharge کے بارے میں کوئی بھی بات آپ پوچھ سکتی ہیں ،

اکثر والدین ہم سے پوچھتے ہیں کہ کیا ان کا بچہ اپنی عمر کے مطابق گروتھ کررہا ہے یا نہیں؟؟اس سوال کو ہم تفصیل سے دیکھتے ہی...
29/10/2023

اکثر والدین ہم سے پوچھتے ہیں کہ کیا ان کا بچہ اپنی عمر کے مطابق گروتھ کررہا ہے یا نہیں؟؟
اس سوال کو ہم تفصیل سے دیکھتے ہیں۔
تمام والدین اپنے بچے کے لیے سے پہلے مشاہدہ کرنے والے ہوتے ہیں اس لیے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے بچے کی گروتھ انکی عمر سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں اور انہیں کب چائلڈ سپیشلسٹ سے چیک اپ کروانا چاہیے۔
میں ریڈ فلیگ( Red Flag) کہلانے والے اہم نکات پر بات کروں گا جو جب بھی کسی بچے میں نظر آٸیں تو فوری طور پر قریبی ماہر اطفال سے چیک اپ کروائیں۔ یہ علامات بچے میں گروتھ اور بڑھوتری کی ایمرجینسی ہیں کیونکہ آپ پہلے ہی بہت وقت گزار چکے ہیں اور مزید تاخیر بچے کی مستقبل کی صلاحیتوں کو متاثر کرے گی۔

1..کسی بھی عمر میں اگر بچے میں کوئی ایسی مہارت ہو جو پہلے بچہ سیکھ چکا ہو وہ بھول جاۓ جیسا کہ بچہ پہلے بیٹھتا تھا اور اب بیٹھنا چھوڑ دیا ہے۔
2.کسی بھی عمر میں والدین دیکھتے ہیں کہ بچہ انسانی چہرے یا چیزوں پر فوکس نہیں کر پاتا یا انکی طرف نہیں دیکھتا۔
3.کسی بھی عمر میں والدین محسوس کریں کے بچہ صیح سن نہیں پا رہا یا آوازوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔
4. اگر اٹھارہ ماہ کی عمر تک کوٸ لفظ نہ بولے
5. بچہ شروع سے ایک ہی ہاتھ استعمال کرے ۔ عمومأ داٸیں یا باٸیں ہاتھ کی عادت تین سال کے بعد آتی اگر ایک سال سے پہلے آجاۓ تو مطلب دوسری ساٸڈ کی کمزوری ہے
6. بچہ سرف پنجوں کے بل چلے اور مکمل پاٶں زمین پر نہ رکھے
7. بچے کے سر کا سائز بہت بڑا ہو یا بہت چھوٹا
8. بارہ ماہ تک مکمل بیٹھ نہ سکے
9.بچہ اٹھارہ ماہ تک نہ چلے یا یا بچیوں میں چلنا دو سال تک نہ شروع ہو
10. ڈھائی سال پر بچہ دوڑ نہ سکے

دوسروں کو بھی آگاھ کریں ,یہ صدقہ جاریہ ہے ۔جزاک اللہ
اللہ ہم سب کے بچوں کو اپنی حفظ وامان میں رکھے !!! آمین!!!!

پینک اٹیک۔۔۔Panic Attack....پینک اٹیک ایک ایسی صورت ہے جس میں بغیر کسی حقیقی خطرے یا ظاہری وجہ کے جسم فائٹ یا فلائٹ رسپا...
03/09/2023

پینک اٹیک۔۔۔
Panic Attack....
پینک اٹیک ایک ایسی صورت ہے جس میں بغیر کسی حقیقی خطرے یا ظاہری وجہ کے جسم فائٹ یا فلائٹ رسپانس کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ ایسے میں فرد شدید قسم کے خوف کے ساتھ کچھ جسمانی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
یہ اٹیک کچھ منٹوں سے آدھے گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔

اگر کسی شخص کو بار بار اچانک پینک اٹیک ہو اور وہ ہر وقت اس خوف میں رہے کہ دوبارہ بھی یہ ہوسکتا ہے تو اس کیفیت کو ’’پینک ڈس آرڈر ‘‘ Panic Disorder کہتے ہیں۔

پینک اٹیک کی دیگر علامات ...
٭ایسے لگتا ہے کہ آپ مرنے یا بے ہوش ہونے والے ہیں۔

٭بعض لوگوں کو لگتا ہے کہ انہیں دل کو دورہ پڑ رہا ہے۔

٭دل زور زور سے دھڑکنے لگتا ہے۔

ٔ٭پسینہ آتا ہے‘ کپکپاہٹ طار ی ہوجاتی ہے۔

٭سانس لینے میں مشکل ہوتی ہے ‘دم گھٹتا ہے۔

٭بہت زیادہ گرمی یا ٹھنڈ لگتی ہے۔

٭سر چکرانے لگتا ہے یا سر درد ہوسکتا ہے۔

٭سینے یا پیٹ میں درد ہوتا ہے۔

٭اپنے ارد گرد کی چیزوں سے منقطع ہوجاتے ہیں۔ انہیں یوں لگتا ہے کہ وہ غیر حقیقی ہیں۔

٭اٹیک ختم ہونے کے بعد جسم تھکا تھکا سا محسوس ہوتا ہے۔

سبب کیا ہے...
Causes of Panic Attacks....
پینک اٹیک کی حتمی وجہ تو معلوم نہیں تاہم اس کے امکانات میں اضافہ کرنے والے کچھ عوامل میں کسی قریبی عزیز کی بیماری یا موت کے باعث شدید ذہنی تناؤ رہنا اور فیملی میں یہ مسئلہ ہونا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کسی ٹراما سے گزرنا، مثلاً جنسی زیادتی یا کوئی بڑا حادثہ وغیرہ، زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی آنا مثلاً ہم سفر سے علیحدگی یا بچے کی پیدائش اور تمباکونوشی یا کیفین کا غیر معمولی استعمال کرنا بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔

علاج کے طریقے...
Treatment....
علاج کے ذریعے پینک اٹیک کی شدت اور اس کے بار بار ہونے کے امکانات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ مریض کی ترجیح، مسئلے کی نوعیت اور دیگر کچھ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب طریقۂ علاج تجویز کیا جاتا ہے۔

سائیکو تھیراپی...
Psychotherapy....
اس میں مریض سے بات چیت کر کے اس کی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پھر اس سے نپٹنے کے طریقوں پر کام کیا جاتا ہے۔ اس کی ایک قسم سی بی ٹی (Cognitive Behavioral Therapy)ہے۔ اس میں مریض کے سوچنے کا انداز تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مثلاً اسے یہ احساس دلایاجاتا ہے کہ جو کچھ وہ سوچ رہا ہے وہ غیر حقیقی ہے۔

اس دوران اسے ایک محفوظ ماحول میں زیر نگرانی رکھتے ہوئے ان علامات کا بار بار سامنا کروایا جاتا ہے جو پینک اٹیک کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ جب یہ اسے خطرناک لگنا بند ہوجاتی ہیں تو اٹیک خود بخود ٹھیک ہونے لگتا ہے۔ یہ طریقۂ علاج مؤثر ہے مگر اس کے نتائج ظاہر ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔

ادویات...
Mediation....
مختلف قسم کی ادویات بھی اس ضمن میں مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔ تاہم ہر دوا کے سائیڈ افیکٹس ہوتے ہیں جن کے بارے میں ڈاکٹر سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اور ہر مریض کو اس کی علامات کے مطابق ادویات تجویز کی جاتی ہے۔۔

علامات کو کم کرنے یا روکنے کے لئے ٹِپس۔۔۔
Some Tips For Overcome on panic Attacks...
اگرچہ اس مسئلے کا باقاعدہ علاج پیشہ ورانہ مدد سے ہی ہوسکتا ہے تاہم یہ ہدایات اس صورت میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں:

٭علاج کو ادھورا نہ چھوڑیں۔

٭ان لوگوں سے رابطہ کریں جو اس مسئلے سے صحت یاب ہوچکے ہیں یا علاج کروا رہے ہیں۔ ڈاکٹر اس میں آپ کی مدد کر سکتا ہے۔

٭الکوحل، کیفین، تمباکونوشی اور منشیات کا استعمال نہ کریں۔ ی

٭نیند پوری کریں۔ اس کے علاوہ ذہن کو پرسکون کر نے کے لئے یوگا یا ایسی دیگر سرگرمیاں کریں۔

٭پٹھوں کو ریلیکس کرنے والی ورزشیں کریں۔

٭پینک اٹیک کے دوران اور عام حالات میں بھی سانس کی ورزشیں کریں۔ اس کے لئے ناک سے آہستہ آہستہ گہری سانس لیں، پھر منہ کے ذریعے اسے آہستہ آہستہ خارج کریں۔ اس دوران آنکھیں بند کر لیں اور سانس لینے پر توجہ دیں۔

٭توجہ ہٹانے کے بجائے خوف کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں۔ یہ اگرچہ مشکل ہے مگر اس سے آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ جو بھی سوچ رہے تھے ویسا کچھ نہیں ہوا۔

پیچیدگیاں...
Complications...
پینک اٹیک کا علاج نہ کیا جائے تو مریض ایک دوسری کیفیت کا شکار ہوسکتا ہے جسے پینک ڈس آرڈر کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ گاڑی چلانے، گھر سے نکلنے کا بے جا خوف (phobia)، دیگر فوبیاز، ڈپریشن، اینگزائٹی اور دیگر نفسیاتی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

بعض افراد ایسی جگہوں یا صورت حال کا سامنا کرنا چھوڑ دیتے ہیں جن سے انہیں اینگزائٹی ہوتی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ اس کے باعث انہیں خوف کا دورہ پڑ سکتا ہے اور وہ حالات کو قابو نہیں کر پائیں گے۔ اس کے علاوہ ذاتی، پیشہ ورانہ یا سماجی زندگی متاثر ہوسکتی ہے۔

پینک اٹیک کی صورت میں وقت ضائع کیے بغیر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ اس کی علامات دیگر پیچیدہ مسائل سے بھی ملتی جلتی ہیں لہٰذا مشاورت سے ان کی تشخیص بھی ہو پائے گی..

شکریہ
والسلام
ڈاکٹر رانا ارسلان

بچے اور صحت...Child Health...تیزبخارمیں جھٹکے...A Febrile Seizure Or Febrile convulsion Or Fit....اگربخارتیز ہوتوبچوں می...
21/08/2023

بچے اور صحت...
Child Health...
تیزبخارمیں جھٹکے...
A Febrile Seizure Or Febrile convulsion Or Fit....

اگربخارتیز ہوتوبچوں میں دورہ پڑنے کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ مسئلہ تقریباً چھ ماہ سےچھ سال تک کے بچوں کوہوتا ہےجس کے بعد اس کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ ایسی صورت میں بچےکا چہرہ لال ہوسکتا ہے، پسینے آتے ہیں اورچھونے پروہ گرم محسوس ہوتا ہے۔ بلانے پرکوئی ردعمل ظاہرنہ کرنا، دونوں مٹھیاں بندھ کرلینا، جسم اکڑجانا اورکانپنا بھی اس کی علامات ہیں۔..

کیا کریں، کیا نہیں....
اکثروالدین اس صورت حال میں فوراً خوفزدہ ہوکرڈاکٹر کی طرف دوڑ پڑتے ہیں جبکہ کچھ گھریلوٹوٹکے آزماتے رہتے ہیں۔ اس وقت فوری مسئلہ جسم کے بڑھے ہوئے درجہ حرارت کو کم کرنا ہوتا ہےجس کے بعد بچہ خود ہی نارمل حالت میں واپس آجاتا ہے۔ اس لئے بچے کو کروٹ کے بل لٹا ئیں۔ اس کے قریب سے وہ تمام چیزیں ہٹا دیں جو اسے زخمی کرسکتی ہوں۔

٭سر کومحفوظ رکھنے کے لئے تکیے، کمبل یا کسی نرم چیزکا استعمال کریں۔

٭کمرہ گرم ہوتو دروازے اورکھڑکیاں کھول دیں۔

٭بچےکے کپڑے ہلکے کریں یا اتار دیں۔ پھرنارمل پانی سے تولیہ یا کپڑا گیلا کرکے اس کے گرد لپیٹ دیں۔ ماتھے اورپورے جسم پرگیلی پٹیاں بھی رکھی جاسکتی ہیں۔

٭اس کی حرکات کو زبردستی روکنے کی کوشش نہ کریں۔

٭اس دوران پانی یا کوئی دوا ہرگزنہ دیں کیونکہ وہ سانس کی نالی میں جاکرمزید مسائل پیدا کرے گی۔

٭دورہ ختم ہونے کے بعد ازخود کوئی دوا (مثلاً دورہ روکنے کی ) ہرگزنہ دیں۔

ڈاکٹرسے کب رابطہ کریں...
When to Consult A Doctor...
دورہ نارمل ہو تو پورا جسم ایک ساتھ کانپنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس کا دورانیہ کچھ سیکنڈ سے لے کر15 منٹ تک ہوسکتا ہے اوریہ ایک دن میں صرف ایک ہی مرتبہ ہوتا ہے۔ تاہم اگرذیل میں بیان کردہ علامات ظاہرہوں تو ڈاکٹرسے رجو ع کریں

٭یہ دورہ جسم کےکسی ایک حصے سے شروع ہواوربتدریج بڑھتا جائے۔

٭ایک دن میں ایک سے زائد مرتبہ ہو۔

٭15 منٹ سے زیادہ دیر تک رہے۔

بچاؤ کی تدابیر...
بخارعموماً انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔اس سے بچاؤ کے لئے

٭بچے کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں۔

٭اسے وقتاً فوقتاً نہلاتے رہیں۔

٭گندی چیزیں منہ میں نہ ڈالنے دیں۔

٭صحت بخش غذا کھلائیں تاکہ اس کی قوت مدافعت مضبوط ہوسکے۔

٭کھلی ہوئی دوا کی بوتل کو ایک ماہ سے زائد استعمال نہ کریں۔

٭بخارچیک کرنے کے لئے گھر میں تھرما میٹر رکھیں۔

اگر پھر بھی بخار ہوجائےاوربچے کو بخارکے سیرپ سے الرجی نہ ہوتویہ ہر چھ گھنٹے بعد دیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ بچہ منہ سے دوا نہ لے سکتا ہو توڈاکٹر کی تجویزکردہ پاخانے کی جگہ رکھنے والی گولیاں استعمال کریں۔

Febrile seizures, initial aid for febrile seizures, prevention...

اپنے بچوں کا خاص خیال رکھیں
والسلام
ڈاکٹر رانا محمد ارسلان

Gastritis / H Pylori / Stomach ulcer                      گیسٹرائٹس کیا ہے ؟گیسٹرائٹس سے مراد گیسٹرک استر کی  سوزش  ہے. ...
09/08/2023

Gastritis / H Pylori / Stomach ulcer
گیسٹرائٹس کیا ہے ؟
گیسٹرائٹس سے مراد گیسٹرک استر کی سوزش ہے. یعنی معدے کی دیوار کی سوزش یا ورم، یہ لوگوں میں بہت عام مسلئہ ہے ۔ گیسٹرائٹس میں جلن، سوزش، یا پیٹ کی پرت کا کٹاؤ ہے جو دائمی یا شدید ہو سکتا ہے۔ یہ قے، ضرورت سے زیادہ تناؤ، الکحل کا زیادہ استعمال، یا NSAIDs جیسے اسپرین کے استعمال کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں، گیسٹرائٹس گیسٹرک استر میں معدے کا السر کا باعث بن سکتی ہے اور یہ معدے کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھاتی ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ معدے کے کینسر کی وجہ سے وفات پا تے ہیں ۔
باقی ایچ پیلوری پاکستان سمیت دنیا بھر میں بہت عام مسلئہ ہے ۔اگر اپ کے معده میں سوزش یا بدبضمی ہے یا معده میں درد یا گیس کیوجہ سے سوزش یا معده کا سخت پن اور بار بار قے آنا۔ یا جسم میں تہکاوٹ, وزن میں کمی یا سینے میں جلن ھو تو معدہ کا ٹیسٹ (H pylori stool antigen test) کروانا چائے باقی خون ٹیسٹ زیادہ کنفرم نہیں بتاتا۔

گیسٹرائٹس کی علامات
اس کی علامات ہر شخص میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ لیکن عام طور پرزیادہ تر یہ علامتیں ہوتی ہیں ۔ جیسا کہ

1: بدہضمی
2: کھانے کے درمیان یا رات کے وقت پیٹ میں جلن یا درد
3: ہچکی
4: متلی یا بار بار پیٹ میں درد
5: پیٹ کا پھولنا
6: خون کی قے
7: سیاہ، ٹیری پاخانہ
8: پیٹ کا درد
9: قے
10: بھوک میں کمی
11: ہلکا بخار خصوصاً ایچ پیلوری میں
12: کمزوری محسوس ہونا
13: ڈیپریشن وغیرہ

اسباب و وجوہات
گیسٹرائٹس مختلف وجوہات کی وجہ سے ہوسکتا ہے جیسے؛
1:۔Helicobacter pylori - ایک بیکٹیریا جو معدے کی بلغم کی جھلی میں رہتا ہے۔ یہ السر کا باعث بن سکتا ہے۔.
2:بائل ریفلوکس -یہ ایک ایسی حالت جس میں پتے کی نالی سے بائل پیٹ میں واپس آتا ہے۔
3:وائرس اور بیکٹیریا کی وجہ سے ہونے والے دیگر انفیکشن بھی گیسٹرائٹس کا باعث بن سکتے ہیں۔

نوٹ:
گیسٹرائٹس کا اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ السر، خون کی شدید کمی اور معدے کے کینسر کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ لہذا بروقت علاج کےلئے ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔

گیسٹرائٹس کے خطرے کے عوامل
1:ضرورت سے زیادہ تناؤ ڈیپریشن-، چوٹیں، سرجری، یا انفیکشنز گیسٹرائٹس کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں ۔
2: الکحل کا بہت زیادہ استعمال
بہت زیادہ شراب کا استعمال شدید گیسٹرائٹس کا باعث بن سکتا ہے۔
3: ۔NSAIDs یا دیگر سوزش والی ادویات کا استعمال- بہت زیادہ درد کم کرنے والی ادویات جیسے نیپروکسین یا آئبوپروفین کا استعمال گیسٹرائٹس کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ NSAIDs ایسے کیمیکلز کی پیداوار کو روک کر کام کرتے ہیں جنہیں پروسٹگینڈنز کہا جاتا ہے جو آپ کے پیٹ کے استر کی حفاظت کرتے ہیں۔ لہذا، جب آپ اسے بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں، تو آپ کا جسم آپ کے گیسٹرک استر کے لیے حفاظتی کیمیکل پیدا کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ لہذا اپنی مرضی سے میڈیسن نہیں لینی چاہیے ۔ کیونکہ درد کم کرنے والی میڈیسن السر ،گردے فیل کا باعث بھی بن سکتی ہیں ۔
5: بڑی عمر (60+)- جیسے جیسے آپ کی عمر ہوتی ہے، گیسٹرک استر یعنی معدے کی جھلی پتلی ہوتی جاتی ہے۔ اس لیے بڑھاپا آپ کو گیسٹرک السر ہونے کے خطرے میں بھی ڈال سکتا ہے۔
6: آٹو امیون گیسٹرائٹس -
ایک ایسی حالت جس میں آپ کے جسم کے خلیے اپنے خلیات پر حملہ کرتے ہیں اور معدے کے استر والے خلیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، اس کا تعلق وٹامن بی 12 کی کمی سے بھی ہو سکتا ہے۔
7: دیگر بیماریاں- جیسے کرون کی بیماری، السرٹیو کولائٹس، ایچ آئی وی/ایڈز، یا دیگر بیکٹیریل یا پروٹوزوئل انفیکشن بھی گیسٹرائٹس کا باعث بن سکتے ہیں۔

پیچیدگیاں
گیسٹرائٹس، کا اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ پیٹ میں السر اور شدید خون بہنے کا باعث بن سکتا ہے۔ غیر معمولی معاملات میں، یہ پیٹ کے کینسر کے خطرے کو بھی بڑھا سکتا ہے، لہذا بروقت علاج کرنا چاہیے۔

گیسٹرائٹس کی تشخیص
تشخیص کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ باقی اس کی تشخیص کے لیے کچھ لیب ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جیساکہ
1) H pylori stool antigen test
2) LFT
3) endoscopy etc

گیسٹرائٹس کا علاج
علاج کےلئے ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔ اپنی مرضی سے میڈیسن بلکل نہیں لینی چاہیے ، ویسے بھی پاکستان میں بہت اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس ہو چکی ہیں۔اور پاکستان پوری دنیا میں تیسرے نمبر پر سیلف میڈیکیشن کے اعتبار سے۔

‎بچوں کو دوا کی صحیح مقدار میں خوراک دینا علاج کے لیے بےحد ضروری ہے کیونکہ بچوں کو دوا کی کم خوراک دینے سے اسکا اثر نہیں...
02/08/2023

‎بچوں کو دوا کی صحیح مقدار میں خوراک دینا علاج کے لیے بےحد ضروری ہے کیونکہ بچوں کو دوا کی کم خوراک دینے سے اسکا اثر نہیں ہوگا اور زیادہ مقدار میں دینے سے مضراثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
‎بچوں کے لیے دوا کی خوراک کی مقدار کا انحصار بچوں کے وزن پر ہوتا ہے۔
‎زیادہ تر دیکھا گیا ہے کہ ڈاکٹر دوا ایسے لکھتے ہیں کہ ایک چمچ شربت دن میں ایک یا دو بار دیں اور یہ چیز سمجھدار والدین کے لیے پریشان کن ہوتی ہےکیونکہ ہر گھر میں آپکو درجنوں مختلف سائز کے چمچ مل سکتے ہیں۔
‎تو سوال یہ ہے کہ بچوں کو صحیح مقدار میں دوا کیسے دی جائے؟؟

‎سب سے پہلے ایک ماہر اطفال ہونے کے ناطے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دوائی کو چمچ کے طور پر لکھنے کے بجائے ملی لیٹر میں لکھیں جیسے ایک ملی لیٹر (1cc) وغیرہ۔
‎ والدین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ تجویز کردہ دوا کی مقدار دیں۔ دوائیوں کو تجویزکردہ مقدار میں دینے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں جیسے ڈراپر، دوائی پلانے والی سرنج، مارک شدہ چمچ , کیلیبریٹڈ یا مارک شدہ کپ جو شربت یا سسپنشن کے ساتھ ڈبے میں دیے جاتے ہیں۔
‎اپنے بچوں کو میڈیسن کی صحیح خوراک دے کر نہ صرف آپ انہیں مضر اثرات سے بچ سکتے ہیں اور ساتھ ہی ان کی بیماری کا جلد علاج بھی کر سکتے ہیں۔

𝗘𝗻𝗱𝗼𝗰𝗿𝗶𝗻𝗼𝗹𝗼𝗴𝗶𝘀𝘁اینڈوکراںٔنالوجسٹ کسے کہتے ہیں؟اینڈوکرائنالوجسٹ وہ ڈاکٹر ہوتا ہے جو انسانی جسم میں موجود غدود اور ہارمون...
01/08/2023

𝗘𝗻𝗱𝗼𝗰𝗿𝗶𝗻𝗼𝗹𝗼𝗴𝗶𝘀𝘁
اینڈوکراںٔنالوجسٹ کسے کہتے ہیں؟
اینڈوکرائنالوجسٹ وہ ڈاکٹر ہوتا ہے جو انسانی جسم میں موجود غدود اور ہارمون سسٹم میں خرابی کے باعث پیدا ہونے والی بیماریاں جیساکہ
● شوگر / 𝗗𝗶𝗮𝗯𝗲𝘁𝗲𝘀
● بلڈ پریشر
● تھائی رائیڈ / گلہڑ
● موٹاپا
● مردانہ اور زنانہ ہارمونز کے مسائل
● چھوٹا قد
● بلوغت کے مسائل
● ہڈیوں کا بھر بھرا پن
● سٹیرائیڈز کی زیادتی
● وٹامن ڈی، کیلشیم، فاسفورس کی کمی زیادتی

𝟏. شوگر 𝗗𝗶𝗮𝗯𝗲𝘁𝗲𝘀
شوگر ایک اہم بیماری ہے جو جسم کے گلوکوز یعنی شوگر کی مقدار کو مناسب رکھنے والے انسولین ہارمون کی کمی یا عدم موجودگی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
● علامات
بار بار پیاس لگنا، منہ کا خشک رہنا، بار بار پیشاب آنا، جسم کی کمزوری، وزن کا کم ہونا اور تھکاوٹ محسوس کرنا۔

𝟐 . بلڈ پریشر 𝗕𝗹𝗼𝗼𝗱 𝗣𝗿𝗲𝘀𝘀𝘂𝗿𝗲
ہائی بلڈ پریشر ہمارے دل اور گردوں کی صحت کے لیے خطرہ ہوتی ہے۔ جب ہمارے خون کا دباؤ حد سے زیادہ ہو جاتا ہے جو عموما ہماری عادتوں، غذائیت اور زندگی کے طریقے کے بنا پر پیدا ہوتی ہے تو ہمیں ہائی بلڈ پریشر ہو جاتا ہے۔
● علامات
چکر آنا، سر درد، تھکاوٹ اور دماغی کمزوری کا احساس ہونا، یہ عموما بغیر کسی علامات کے بھی ہو سکتی ہے۔ اور اگر یہ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ تو یہ دل، دماغ، کلیجہ، اعصابی اور دیگر اعضاء کو متاثر کرتی ہے۔

𝟑 . تھائی رائیڈ / گلہڑ 𝗧𝗵𝘆𝗿𝗼𝗶𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗲𝗮𝘀𝗲
جب جب تھائی رائیڈ ہارمون زیادہ یا کم مقدار میں پیدا ہوتے ہیں تو جسم کی کارگردگی اور 𝗠𝗲𝘁𝗮𝗯𝗼𝗹𝗶𝘀𝗺 بڑھتا کم ہوتا نظر آتا ہے۔ یہ بیماری کافی تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔
● علامات
پسینہ زیادہ آنا، دل کی دھڑکن تیز ہونا، زیادہ پیاس لگنا، بغیر کسی وجہ سے کھانا کم کھانا، نیند نہ آنا یا بہت زیادہ تھکن کا احساس ہونا۔

𝟒 . کولیسٹرول 𝗖𝗵𝗼𝗹𝗲𝘀𝘁𝗲𝗿𝗼𝗹
جب خون میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھتی ہے تو یہ جسم کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ زیادہ کولیسٹرول کی صورت میں خون کے اندر چربی کی زیادہ تعداد جمع ہو جاتی ہے۔ جس سے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے ایسا ہونے سے دل کے امراض کا خطرہ ہوتا ہے۔
● علامات
دل کے دورانیہ میں مسائل مثلا دل کی حرکت کا دورانیہ کمزور ہونا، دل کی دھڑکن کا نامناسب ہونا، سینے میں درد یا دباؤ کا احساس، ٹانگوں یا پاؤں میں درد یا ٹھنڈک کا احساس

𝟓 . موٹاپا 𝗢𝗯𝗲𝘀𝗶𝘁𝘆
موٹاپا یا چربی، اردو میں وزن کی بڑھتی ہوئی مقدار کو کہتے ہیں جو جسم میں زیادہ چربی کی تشکیل کے نتیجے میں ہوتا ہے۔
● علامات
زیادہ کھانے کی خواہش، تھکاوٹ ہونا، اور کمزوری کا احساس، دل کی دھڑکن کی تیز ہونا، جسم کے مختلف حصوں میں درد یا 𝗦𝘁𝗶𝗳𝗳𝗻𝗲𝘀𝘀 کا احساس ہونا۔

𝟔 . پی ۔ او ۔ سی ۔ ایس 𝗣𝗢𝗖𝗦
خواتین کے جنسی اعضا کی بیماری ہے جس میں رحم کے اندر معمول سے زیادہ تعداد میں سسٹ/رسولی بن جاتے ہیں۔
● علامات
بالوں کا اضافہ:- چہرے، سینے، اور پاؤں پر بھی ہو سکتے ہیں، ماہواری کے مسائل، بے اختیاری وزن میں اضافہ، چہرے پر دانے۔

𝟕 . ہاپٔوگونڈزم 𝗛𝘆𝗽𝗼𝗴𝗼𝗻𝗮𝗱𝗶𝘀𝗺
یہ ایک صحت سے متعلق مسئلہ ہے جب مردوں یا عورتوں کے جنسی اعضاء ہارمون کی کمی کی وجہ سے دوسروں پر کام نہیں کرتے ہیں۔
● علامات
جنسی خواہشات کی کمی، وقت پر طاقت کم محسوس کرنا، بچے کی پیدائش میں مسائل، خواتین میں ہاپٔوگوندزم کی صورت میں حمل کا امکان کم ہو سکتا ہے یا مشکل ہو سکتی ہے، مردوں میں بچوں کی پیدائش کے مسائل بھی ہو سکتے ہیں۔

علاج 𝗧𝗿𝗲𝗮𝘁𝗺𝗲𝗻𝘁
تمام ہارمونز کی بیماریوں کا علاج مخصوص ہوتا ہے، جس میں سب سے پہلے ڈاکٹر اس بات کو مدنظر رکھتا ہے کہ مسلۂ جس 𝗚𝗹𝗮𝗻𝗱 گلینڈ میں ہے، اور اس کی وجہ سے جسم میں کتنا نقصان ہوا ہے، پھر وہ اسی کے مطابق آپ کو دوائیوں کا استعمال بتاتا ہے اور آپ کے جسم میں ہارمونز کو مناسب مقدار میں رکھنے میں مدد کرتا ہے، لیکن ادویات کے ساتھ ساتھ پرہیز ہارمونز کے مسائل میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے، جو کہ آپ کے متعلقہ مسائل کے حساب سے آپ کو بتایا جاتا ہے۔

27/07/2023
نوزائیدہ بچوں کی ناف...Infant Umbilical Cord...دوران حمل ماں اوربچے کو جوڑنے والی نالی یعنی ناڑو اسے غذائی اجزاء اورآکس...
22/07/2023

نوزائیدہ بچوں کی ناف...
Infant Umbilical Cord...

دوران حمل ماں اوربچے کو جوڑنے والی نالی یعنی ناڑو اسے غذائی اجزاء اورآکسیجن فراہم کرتی ہے۔ چونکہ بچے کی پیدائش کے بعد اس کی ضرورت نہیں رہتی لہٰذا اسے کاٹ دیا جاتا ہے۔ کاٹنے کے بعد رحم مادر سے یہ نالی خود ہی خارج ہوجاتی ہے جبکہ بچے کی طرف رہنے والے حصے کو باندھ دیا جاتا ہے۔ یہیں پربعد میں بچے کی ناف دکھائی دیتی ہے۔

دیکھ بھال کیسے کریں..
بعض مائیں ناڑوکے پیچھے رہنے والے حصے پرگرم تیل اوراس طرح کی مختلف چیزیں لگاتی ہیں جو درست نہیں۔ یہ ایک سے تین ہفتوں میں خشک ہوکرخود ہی گرجاتا ہے۔ اس سلسلے میں ان امورکا خیال رکھیں

٭بچے کو روزانہ اسفنج سے نہلائیں اوراس دوران متعلقہ حصے کو صاف کرکے خشک کریں۔

٭ کوئی رطوبت خارج ہو تواس حصے کوالکوحل سویب (alcohol swab) سے نرمی سے صاف کریں۔

٭بچے کا ڈائپر باندھتے ہوئے ناف کو ڈھانپنے سے گریزکریں تاکہ اسے ہوا لگ سکے۔

٭جب تک ناڑو کا باقی حصہ سوکھ کرگرنہیں جاتا اوراس کے کچھ دن بعد تک بچے کو اسفنج سے نہلائیں۔

٭ناڑو کے بقیہ حصے کوخود اکھاڑنے سے گریزکریں۔

٭نالی کا باقی حصہ گرنے پرتھوڑا ساخون نکلتا ہے۔ اسے فوری طورپرصاف کریں۔

٭بعض اوقات ڈائپروغیرہ کے باعث ناڑوالگ ہونے والی جگہ یعنی ناف سے دوبارہ خون بہتا ہے۔ اسے روکنے کے لئے ایک کپڑے کی مدد سے 10 منٹ تک ناف پردباؤ ڈالیں۔

ڈاکٹر سے کب رابطہ کریں..
عموماً تین ہفتوں میں ناڑو کا بقیہ حصہ خشک ہو کرگرجاتا ہے۔ ایسا نہ ہوتو اسے نظراندازنہ کریں۔ اس کے علاوہ ناڑو الگ ہونے کے بعد ناف میں سوزش یا اس سے تھوڑا خون آنا نارمل ہے۔ تاہم خون زیادہ مقدارمیں آئے یا نیچے بیان کردہ علامتیں ظاہرہوں تو ڈاکٹر سے رابطہ کریں

٭ناف میں پیپ پڑ جائے۔

٭ناف کے گرد سوزش اورسوجن ہو۔

٭جہاں سے ناڑو الگ ہوا ہو وہاں گلابی رنگ کا پانی والا دانہ بن جائے۔

٭بچے کو بخار ہو۔..

شکریہ
والسلام ڈاکٹر رانا محمد ارسلان

Address

Coat Munsab Machike, SKP
Sheikhupura
39350

Opening Hours

Monday 15:00 - 20:00
Tuesday 15:00 - 20:00
Wednesday 03:00 - 20:00
Thursday 15:00 - 20:00
Friday 15:00 - 20:00
Saturday 15:00 - 20:00
Sunday 16:00 - 21:00

Telephone

+923017050888

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Akmal Family Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Akmal Family Clinic:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category