Wellcare medical store

Wellcare medical store All about care beyond prescription
Customer priorty first.

31/12/2020
(Measles)خسرہسبب بننے والا عنصریہ ایک وائرس سے پھیلتا ہے جس کو خسرہ وائرس کہتے ہیں۔طبی خصوصیاتخسرہ ویکسین کے منظرعام پر ...
22/12/2020

(Measles)

خسرہ

سبب بننے والا عنصر
یہ ایک وائرس سے پھیلتا ہے جس کو خسرہ وائرس کہتے ہیں۔

طبی خصوصیات

خسرہ ویکسین کے منظرعام پر آنے سے قبل خسرہ بچپن میں لگنے والا ایک عمومی انفیکشن تھا۔ متاثرہ افراد میں، شروع میں بخار، کھانسی، ناک بہنا، آنکھیں سرخ ہونا اور منہ کے اندر سفید دھبے نمودار ہوں گے۔ اس کے 3 سے 7 دن بعد سرخ دھبے دار جلد کی چھپاکی ہوتی ہے، جو عام طور پر چہرے سے جسم کے باقی حصوں تک پھیل جاتی ہے۔ چھپاکی عام طور پر 4 - 7 دن تک رہتی ہے، مگر بھوری رنگت اور بعض اوقات ملائم جلدی جھلی چھوڑتے ہوئے 3 ہفتوں تک بھی جاری رہ سکتی ہے۔ شدید حالتوں میں، پھیپھڑے، انتڑیاں اور دماغ بھی لپیٹ میں آ سکتا ہے اور سنگین نتائج یا موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

خسرے کا انفیکشن حمل کے دوران حمل کی شدید کیفیات کا سبب بن سکتا ہے، بشمول اسقاط حمل، قبل از وقت پیدائش، اور کم وزن کے بچے کی پیدائش، مگر قبل از وقت کی پیدائش کے نقائص کے بڑھتے خطرے کے حوالے سے کوئی شہادت موجود نہیں ہے۔ مزید یہ کہ، نوزائیدہ جو کہ اس لیے انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ان کی ماں کو بچہ جننے سے کچھ عرصہ قبل خسرہ تھا، وہ بعدازاں زندگی میں سب فعال سکلروزنگ پینن سی فیلاٹس کے بڑھتے ہوئے خطرے کا شکار ہوتے ہیں (جو کہ بہت نایاب مگر مرکزی عصبی نظام کی جان لیوا بیماری) ہے۔

منتقلی کا ذریعہ
یہ قطرات کے ہوا کے ذریعے پھیلاؤ یا متاثرہ افراد کی ناک یا گلے کی رطوبات سے براہ راست ربط کے باعث لگ سکتی ہے، اور ایک کم عام وجہ، ان اشیاء کی آلودگی کے باعث ہے جو کہ ناک اور گلے کی رطوبات سے متاثر ہوتی ہیں۔ خسرہ ان انفیکشن پھیلانے والی بیماریوں میں شامل ہے جو بہت زیادہ جلدی پھیل سکتی ہے۔ مریض چھپاکی کے ظاہر ہونے سے 4 دن قبل سے لے کر 4 دن بعد تک اس مرض کو دوسرے افراد تک منتقل کر سکتا ہے۔

انکیوبیشن مدت
اس کی حد عام طور پر 18-7 دن تک ہوتی ہے، مگر یہ 21 دن تک بھی ہو سکتی ہے۔

انتظام
خسرہ سے متاثرہ افراد کو غیر مدافعتی افراد کے ساتھ ربط سے گریز کرنا چاہیے، بالخصوص ایسے افراد کے ساتھ جن میں قوت مدافعت کمزور ہو، حاملہ خواتین اور بچے۔ اگرچہ اس کا کوئی مخصوص علاج نہیں ہے، ادویات تجویز کی جا سکتی ہیں تاکہ علامات میں کمی لائی جا سکے اور بیکٹریا کی پھیلائی پچیدگیوں کے علاج کے لیے اینٹی بائیوٹکس استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

بچاؤ

1 ۔ بہتر ماحوالیاتی حفظات صحت برقرار رکھیں

اتھوں کو کثرت سے دھونے کا اہتما م کریں، بالخصوص منہ، ناک اور آنکھوں کو چھونے سے قبل، جب کہ آپ نے عوامی تنصیبات جیسا کہ ہینڈریلز یا دروازے کی نابس کو چھویا ہو یا جب آپ کے ہاتھ کھانسی یا چھینکنے کے بعد تنفسی رطوبت سے آلودہ ہوں۔ صابن اور پانی سے کم از کم 20 سیکنڈوں کے لیے ہاتھوں کو دھو لیں، پھر قابل تلف پیپر ٹاول یا ہینڈ ڈائیر سے خشک کر لیں۔ جب ہاتھ بظاہر آلودہ نہ ہوں، تو ان کو متبادل کے طور پر ٪80-70 الکوحل کے بنے ہینڈرب سے صاف کر لیں۔
چھینکنے اور کھانسنے کے وقت اپنے منہ اور ناک کو ٹشو پیپر سے ڈھانپ لیں۔ آلودہ ٹشوز کو ڈھکن والی ردی کی ٹوکری میں تلف کریں، پھر اچھی طرح ہاتھ دھو لیں۔
جب بخار، چھپاکی یا تنفسی علامات سامنے آئیں ، تو سرجیکل ماسک پہن لیں، کام یا سکول پر جانے سے اجنتاب برٹیں، پرہجوم مقامات پر جانے سے گریز کریں اور فوری طور پر طبی معاونت طلب کریں۔
خسرے کا شکار افراد کو گھر پر ہنا چاہیے؛ سکولوں/کنڈرگارٹن/کنڈرگارٹن کم چائلدڈ کیئر مراکز/ چائلڈ کیئر مراکز/ ورک پلایسز سے تب سے باہر رہنا چاہیے جب یہ چھپاکی ظاہر ہوئے 4 دن ہو چکے ہوں تاکہ غیر محفوظ افراد میں اس انفیکشن کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔
2. بہتر ماحولیات حفظان صحت کو برقرار رکھیں

اکثر چھوئی جانے والی سطحات جیسا کہ فرنیچر، کھلونوں اور عمومی مشترک اشیاء کو 1:99 پتلی گھریلو بلیچ (٪5.25 کے 1 جزو کو پانی کے 99 حصوں کو ملا کر) باقاعدگی سے صاف کریں اور 30-15 منٹوں کے لیے چھوڑ دیں، اور پھر پانی سے کھنگالیں اور خشک ہونے دیں۔ دھاتی سطح کی صورت میں، ٪70 الکوحل کے ساتھ جراثیم سے پاک کر
کسی بھی نوع کی واضح آلودگیوں سے بچنے کے لیے جاذب قابل تلفی ٹاولز استعمال کریں تاکہ تنفسی رطوبات کو صاف کیا جا سکے، اور پھر سطح اور اردگرد کے حصوں کو 1:49 محلول گھریلو بلیچ ( 5.25٪ بلچ کے 1 جزو بلیچ کو پانی کے 49 حصوں کے ساتھ ملا کر) جراثیم سے پاک کریں، 30-15 منٹوں کے لیے چھوڑ دیں اور پھر پانی سے کھنگال لیں اور خشک ہونے دیں۔ دھاتی سطح کی صورت میں، ٪70 الکوحل کے ساتھ جراثیم سے پاک کریں۔
گھر کے اندر ہوا کی آمد و رفت کو بحال رکھیں۔ پرہجوم یا بہت بری طرح گھٹن زدہ عوامی مقامات پر جانے سے گریز کریں؛ جن افراد کو بہت زیادہ خطرہ محسوس ہو وہ ایسیے مقامات پر جراحی ماسک استعمال کر سکتے ہیں۔
3. ٹیکہ کاری

خسرہ کے خلاف ویکسینشن سب سے زیادہ مؤثر تحفظ کا اقدام ہے۔ ہانگ کانگ بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام کے تحت، بچے خسرہ ویکسینیشن کی دو خوراکوں کے کورس وصول کرتے ہیں (براہ مہربانی ہانگ کانگ بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام سے رجوع کریں)۔
مختلف مقامات پر ان جگہوں کے وبائی جگہوں کے پروفائلز کی روشنی میں مختلف حفاظتی پروگراموں کو تیار کیا جائے گا۔ والدین کو اپنے بچوں کو اپنی رہائش گاہ کے مقامی حفاظتی پروگرام کے مطابق ویکسین حاصل کرنے کا بندوبست کرنا چاہئے۔ مثال کے طور پر، ایک سال سے کم عمر کے بچے جو کثرت سے مین لینڈ کا سفر کرتے ہیں یا قیام کرتے ہیں، انہیں 8 ماہ پر ویکسین کی پہلی خوراک کے ساتھ، جس کے بعد 18 ماہ کی عمر میں دوسری خوراک کے ساتھ مین لینڈ کے خسرہ کے حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول کی پیروی کرنی چاہئیے۔
تمام غیر ملکی گھریلو معاونین (ایف ڈی ایچ ) جو خسرہ کے تئیں غیر-مامون* ہوں انہیں خسرہ، ممپس اور روبیلا کی حامل ایم ایم آر ویکسین حاصل کرنی چاہیے، ترجیحاً ان کے ہانگ کانگ میں پہنچنے سے پہلے ہی ایسا ہو جانا چاہیے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو، تو ان کے ہانگ کانگ پہنچ جانے کے بعد انہیں معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ملازمتی ادارے قبل از ملازمتی طبی چیک اپ پیکج میں اضافی اشیاء کے طور پر ایف ڈی ایچ کے لیے خسرہ یا ایم ایم آر ویکسین کے خلاف مدافعت کی حیثیت کی تشخیص شامل کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
حاملہ خواتین اور ایسی خواتین جو کہ حمل کے لیے تیار ہوں، کو اس بابت مشورے کے لیے اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے کہ آیا وہ خسرے کے حوالے سے مامون ہیں۔ چونکہ خسرے سے متعلقہ ویکسین دورانِ حمل نہیں دی جا سکتی ہے، اس لیے ان کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر وہ خسرے کے حوالے سے مامون نہ ہوں تو اس کے پھیلاؤ والے علاقوں یا ایسی جگہوں کا دورہ نہ کریں جہاں اس کے بہت زیادہ واقعات ہو رہے ہوں۔
درج ذیل افراد کو ایم ایم آر ویکسین نہیں دی جانی چاہیے:
اگر ایم ایم آر ویکسین کی پچھلی خوراک لیتے ہوئے سنگین الرجی ردعمل ہوا ہو
جیلاٹن یا مخصوص اینٹی بائیوٹکس کے خلاف شدید الرجی کی ہسٹری موجود ہو
ایسے افراد جن میں درج ذیل شرائط موجود ہوں:
سرطان
طویل مدتی کورٹیکوسٹیارائیڈز
مامونی قلت
4. حمل #

* عام طور پر، لوگ خسرہ کے حوالے سے غیر مامون تصور کیے جا سکتے ہیں اگر (i) ان کے اندر پہلے لیبارٹری ٹیسٹ سے خسرہ انفیکشن کی تصدیق نہ ہو ئی ہو، اور (ii) ان کو خسرہ کے خلاف ویکسین نہ دی گئی ہو یا ان کا ویکسینیشن کیفیت نامعلوم ہو۔

#عام طور پر، خواتین کو ایم ایم آر ویکسین لینے کے بعد تین ماہ تک حمل سے گریز کرنا چاہیے اور مناسب مانع حمل اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

چکن پاکس/لاکڑا کاکڑاسبب بننے والا عنصرواریسیلا زوسٹر وائرس کے سبب پیدا ہونیوالا ایک شدید انفیکشن بنیادی طور پر 12 سال سے...
22/12/2020

چکن پاکس/لاکڑا کاکڑا

سبب بننے والا عنصر

واریسیلا زوسٹر وائرس کے سبب پیدا ہونیوالا ایک شدید انفیکشن
بنیادی طور پر 12 سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے
چکن پاکس کے انفیکشن کے بعد تقریباً تمام افراد تاحیات قوت مدافعت کو فروغ دیتے ہیں
وائرس جسم میں پوشیدہ رہ سکتا ہے اور کئی سالوں بعد ہرپس زوسٹر (شنگلز) کے طور پر دوبارہ رونما ہو سکتا ہے۔
طبی خصوصیات

بخار
جلد پر کھجلی دار دھپڑ/ددورے جو پہلے چپٹے دھبوں کے طور پر اور بعد میں آبلوں/چھالوں کے طور پر نمودار ہوتے ہیں۔ چھالے 3 – 4 دن جاری رہتے ہیں، پھر خشک اور کھرنڈ بن جاتا ہے
عام طور پر تقریباً 2 – 4 ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں
افراد جنہوں نے چکن پاکس ویکسینیشن کرائی ہے، کو بھی چکن پاکس ہو سکتے ہیں ('دوبارہ پھوٹنے والا مرض' کے نام سے معروف ہے)۔ طبی اظہار عام طور پر ہلکا یا غیر عمومی ہوتا ہے۔ جلد پر کچھ معمولی زخم بھی ہو سکتے ہیں اور جلد چھپاکی بھی عام طور پر کچھ داغدار آبلوں یا بغیر چھالوں کے ہوتی ہے۔ غیر ویکسین شدہ افراد کی نسبت، مرض کی مدت عام طور پر کم ہوتی ہے
انتقال مرض کا طریقہ

قطروں یا ہوا کے ذریعے پھیل سکتی ہے۔
چکن پاکس یا ہرپس زوسٹر سے متاثرہ افراد کے چھالوں اور بلغمی جھلیوں سے خارج ہونے والے مادوں کے ساتھ بلاواسطہ یا بالواسطہ رابطے کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے
انکیوبیشن مدت

10 – 21 دن، عام طور پر 14 – 16 دن
متعدی مدت

عام طور پر ددورے رونما ہونے سے 1 - 2 پہلے اور تمام چھالوں کے خشک ہو جانے تک
خاص طور پر سرخ دانوں کے پھوٹنے کے ابتدائی مرحلے میں انتہائی متعدی ہے
پیچیدگیاں

زخم کا ثانوی بیکٹیریل انفیکشن ہو سکتا ہے
کمزور مدافعتی نظام کے ساتھ یا جو حاملہ ہیں کو شدید پیچیدگیوں، جیسا کہ نمونیا اور ورم دماغ میں مبتلا ہونے کا زیادہ امکان ہے۔
نوزائیدہ بچوں میں چکن پاکس پھیلنے کا نتیجہ شدید مرض کی صورت میں اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے
ابتدائی حمل میں انفیکشن کو جنین کے پیدائشی نقص کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے
انتظام کاری

صورتحال کو سمجھنے کے لئے ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور علامات سے نجات اور ادیات لینے کے لئے صحت کے پیشہ ورانہ ماہر کے مشورہ پر عمل کریں
اگر بخار ہو، تو پانی کی کافی مقدار پئیں اور کافی آرام کریں
چھالوں کے کھرچنے کو روکنے کے لئے نیند کے دوران صاف کاٹن کے دستانے پہنیں
حاملہ خواتین اور کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد کے ساتھ رابطے سے اجتناب کریں
بیمار بچوں کو گھر پر رہنا چاہئیے اور اسکول/ کنڈرگارٹنز/ کنڈرگارٹنز مع بچے کی دیکھ بھال مرکز/ بچوں کی دیکھ بھال کے مراکز سے الگ کر دینا چاہئیے، جب تک تمام آبلے خشک نہیں ہو جاتے ہیں، عام طور پر ددوروں کے رونما ہونے کے بعد تقریباً ایک ہفتے تک، تاکہ مرض کو دوسرے میں پھیلنے سے روکا جا سکے۔
والدین کو بچے کی حالت کی بغور نگرانی کرنا چاہئیے۔ اگر بچے کو مسلسل بخار رہتا ہے، کھانے یا پینے سے انکار کرتا ہے، قے آتی ہے یا غنودگی دکھائی دیتی ہے، تو فوری طبی امداد طلب کرنی چاہئیے
والدین کو گھر میں دوسرے بچوں میں بھی چکن پاکس کی نشانیوں اور علامات کی بغور نگرانی کرنی چاہئیے۔
بچاؤ/تحفظ

اچھی ذاتی اور ماحولیاتی حفظان صحت کو برقرار رکھیں
چکن پاکس ویکسین ہانگ کانگ میں دستیاب ہے۔ تقریباً 90% افراد جو ویکسین لیں گے مدافعت حاصل کریں گے
انگ کانگ چائلڈہڈ امیونائزیشن پروگرام کے تحت، بچے چکن پاکس ویکسینیشن کی دو خوراکوں کا کورس وصول پاتے ہیں (براہ مہربانی ہانگ کانگ چائلڈہڈ امیونائزیشن پروگرام سے رجوع کریں)۔ والدین تفصیلات کے لیے خاندانی معالجین یا صحت مراکز برائے زچہ و بچہ سے مشاورت کر سکتے ہیں۔

The good brand and result of mgns company.Drotaverine !
22/12/2020

The good brand and result of mgns company.

Drotaverine !

All type of syrups range available 👍
21/11/2020

All type of syrups range available 👍

Folinis injection range availablePrice : 1220After discountWellcare medical store mubarak pura sialkot
21/11/2020

Folinis injection range available
Price : 1220
After discount

Wellcare medical store mubarak pura sialkot

جنسی قوت اور اس کے پس پردہ غذائی عوامل کے بارے میں بھی آگاہی بہت ضروری ہے۔یہاں چندایسی غذاؤں کا ذکر کیا جارہا ہے جومردوع...
15/11/2020

جنسی قوت اور اس کے پس پردہ غذائی عوامل کے بارے میں بھی آگاہی بہت ضروری ہے۔یہاں چندایسی غذاؤں کا ذکر کیا جارہا ہے جومردوعورت دونوں میں جنسی جذبے بیدار اور کار گزاری جوان رکھنے کے ساتھ ساتھ عمومی صحت ( health and wellness) پر نہ صرف اچھے اثرات ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ ان کے مسلسل استعمال سے کسی نئی الجھن میں گرفتار ہونے کا اندیشہ نہیں ہوتا۔

1۔مولی

اس کے ذائقے کی تیزی جنسی حلاوت میں بڑھوتری کا باعث بنتی ہے۔ نیز جگر کے افعال کو قابو میں رکھتی ہے۔ تاکہ کولیسٹرول و دیگر کیمیائی مادوں کا اخراج مناسب رہے۔

2۔سلاد پتہ

کولیسٹرول کم کرتا ہے۔ خون کی سپلائی بہتر کرتا ہے۔ عضلات مضبوط کرتا ہے۔

3۔پودینہ

عورتوں میں جنسی جذبہ تیز کرتا ہے۔ مردانہ کمزوری دور کرتا ہے۔

4۔سرخ مرچ

وٹامن سی سے بھرپور ہے۔ گردش خون میں اضافے کا سبب ہے۔ اس کے اندر ایک کیمیکل کیپساسین کی موجودگی جنسی انتشار پیدا کرتی ہے۔

5۔کالی مرچ

جنسی خواہش ابھارتی ہے۔ دودھ پلانے والی ماؤں میں دودھ کی مقدار بڑھاتی ہے۔

6۔ادرک و سونٹھ

یہ غذائی ویاگرا ہے،معمولی سا لینے سے ہی جسم میں گرماہٹ آجاتی ہے۔لیکن اس کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر اوربواسیر پیدا کرسکتا ہے۔

7۔پیاز

پیاز تیس کے قریب خامروں پر مشتمل ہے جو ہاضمہ تیز کرنے کے علاوہ خون پتلا رکھتی ہے۔جنسی وظیفے میں مددگار ہے۔

8۔لہسن

پیاز جیسی خصوصیات رکھتا ہے۔ کولیسٹرول کم کرکے جنسی ملاپ کی خواہش تیز کرتا ہے۔ خون کے بہاؤ کو بڑھاتا ہے۔

9۔الائچی

اس کے اندر دو ایسے مردانہ ہارمونز بنانے والے کیمیکلز ہیں جو جنسی اختلاط کی خواہش پیداکرتے ہیں۔ اس میں پایا جانے والا جزو سینیول مرکزی اعصابی نظام کوبیدار رکھتا ہے۔

10۔سونف

اس کامسلسل استعمال جنسی خواہش بیدار رکھتا ہے۔

11۔مچھلی یا السی کا تیل

اومیگا تھری چکنے تیزاب کی وجہ سے خون پر بری کولیسٹرول کا درجہ کم کرتا ہے۔ لہٰذا جنسی احساسات پر کہر نہیں جمنے دیتا۔

چکوترے کے حیرت انگیز فوائد:سرد موسم میں چکوتروں کی بہار دیکھنے میں آتی ہے ۔چکوترہ یعنی گریپ فروٹ دراصل کینو کی دو اقسام ...
15/11/2020

چکوترے کے حیرت انگیز فوائد:

سرد موسم میں چکوتروں کی بہار دیکھنے میں آتی ہے ۔چکوترہ یعنی گریپ فروٹ دراصل کینو کی دو اقسام کی قلم (درختوں کو باہم ملا دینے )سے بننے والا پھل ہے۔پپیتے کی طر ح اکثر افراد چکوترے کا نام سن ُ کر منہ بنا لیتے ہیں۔ ان کی نظرمیں ان دونو ں پھلوں میں ذائقہ نہیں ہوتا لیکن پپیتے کی کم مٹھا س اور چکوترے کی تلخی وتر ُشی پر نہ جائیے بلکہ ان پھلوں سے صحت کو پہنچنے والے فائدے پر نظر رکھئے ۔چکوترہ ذائقے میں تھوڑا کڑوا اور تھوڑا سا کھٹا ّ تو ضرور ہوتا ہے لیکن یہ بے شمار خوبیوں کا مالک ہے۔ اسے عام طور پر جوس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس پھل میں کیلشیم‘ فاسفورس ‘فولاد‘وٹامن اے‘ بی کمپلیکس ‘ وٹامن سی ‘فولک ایسڈاور پوٹاشیم بھی موجود ہوتا ہے۔

چکوترے موٹاپا دُور کرنے کے حوالے سے انتہائی مفید سمجھا جاتا ہے۔ یہ پھل بھوک میں اضافہ کرتا ہے اور معدے کی قوت بڑھاتا ہے۔اس کا باقاعدہ استعمال قلب ‘ جگر اور گر ُدوں کے لئے مفید ہے۔ ذیا بیطس میں مبتلاافراد بھی اس پھل کو کھاسکتے ہیں۔ کام کی زیادتی کی وجہ سے پیدا ہونے والے ذہنی دباﺅ‘ اضمحلال اور تھکاﺅٹ کو دُور کرنے کے لئے چکوترے کا صرف ایک گلاس پئیں اور تازہ دَم ہوجائیں۔یہ بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے ‘جلد کی تازگی‘ ہاضمہ اور خون کی روانی بہتر کرنے والے پھل کوتھکن دُورکرنے اور پرسکو ُن نیند پانے میں بھی معان مانا جاتا ہے۔دوسری جانب مٹھاس کم ہونے کی وجہ سے یہ ادویات کے ساتھ حاملہ خواتین اور ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے بھی موثر ہے‘ جب کہ نزلہ‘ زکام اور بخار کو کم کرنے میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔

روزانہ چکوترے کھا نے والے بڑے فائدے میں رہتے ہیں کیو ں کہ قدرت کا یہ تحفہ کولیسٹرول کم کرنے کی صلا حیت رکھتا ہے۔ ہر پھل میںپیک ٹین نامی حل پذیر جز ُہوتا ہے جس میں کو لیسٹرول کو گھلا ُنے اور خو ن سے سمیٹ کر اسے خارج کرنے کی صلاحیت ہو تی ہے۔ چکوترے میں چو ں کہ ریشہ بہت ہوتا ہے اس لئے اس میں یہ صلاحیت بھی زیادہ ہو تی ہے۔ اسے مسلسل4 ماہ تک استعمال کرنے سے کو لیسٹرول کی سطح میں اوسطاً6سے7 فیصد تک کمی ہوجاتی ہے۔

چکوترے کا تعلق لیمو ں ‘ موسمی‘ مالٹا‘ سنگترے اور کینو کے خاندان سے ہے ۔ چکوترے میں ”لیمو نین “ نامی تر ُش روغن زیادہ ہو تاہے۔ اس وقت دنیا کے مختلف ملکو ں میںسرطان پرمسلسل تحقیق ہو رہی ہے۔ ان میں امریکا کا نیشنل کینسر انسٹی ٹیو ٹ سر فہرست ہے۔ یہ ادارہ دےگر مانع سرطان اجزا ءکے علا وہ لیمو نین اور تر شاوہ پھلو ں کی سرطان سے مقابلہ کرنے کی صلا حیت پر بھی کروڑوں ڈالر خرچ کررہا ہے ‘ کیوں کہ چکوترے اور ان پھلو ں میں سرطان روکنے کی بڑی صلا حیت پائی جاتی ہے۔ تر ُش پھلو ں میں دراصل فلیو نا ئڈز کے علاوہ فینو لکس ( کا ربولک ایسڈ) جیسے موثر مانع تعفن(antiseptic)اجزا ءہو تے ہیں۔ سبز چائے میں پائے جانے والے فلیونائڈز کی طر ح چکوترے میں شامل مو جو د فلیونائڈزاور فینو لکس چو نکہ بڑے موثر مانع تکسید(antioxidant)ہو تے ہیں ‘ یہ جسم میں ایسے اجزاءتیار کرتے ہیں جو رسولیا ں بنانے والے اجزا ءکا خاتمہ کر دیتے ہیں۔

ایک چکوترے میں 41 ملی گرام وٹامن سی ہو تا ہے۔ یہ مقدار روزانہ درکا ر وٹامن سی کی دو تہائی مقدار کے برابر ہوتی ہے۔ اس حیاتین کا جسم کی امراض سے لڑنے کی صلاحیت سے بڑا گہرا تعلق ہوتاہے ‘یعنی اس سے جسم کی قوت مدافعت مستحکم رہتی ہے۔ پاکستان میں دو طرح کے چکوترے عام ہیں‘ایک سفید اور دوسرا سرخ۔ سرخ چکوترہ ریڈبلڈ مالٹے کی طر ح زیادہ مفید ہوتا ہے ، کیو ں کہ اس میں لائکو پین نامی کیروٹین زیادہ ہوتا ہے۔ کیروٹین بھی مانع سرطان جز ہے۔یہ خاص طور پر رحم‘ مثانے اور لبلبے کے سر طان سے محفوظ رکھتا ہے‘ جیسا کہ بتایا جا چکا ہے۔چکو لائکو پین اور لیمو نین جیسے اجزا ءجسم کو کئی طرح کے سرطان سے محفوظ رکھتے ہیں تو اس میں مو جو د وٹامن سی جسم میں مضر سالمو ں ‘ آزاد خلیوں کے حملوںسے جسم کے خلیا ت کو محفوظ رکھتا ہے۔ کولیسٹرول کی سطح کم رہنے سے شر یا نیں کھلی اور صاف رہتی ہیں اور ان میں چربی کی تہہ جمنے نہیں پاتی۔

‏بکھری کتابیں ، پھٹی ٹوپیاں ، خون آلود عمامے ، زخمی قرآن ، شہید کتب  ، پوچھ رہے ہیں ہمارا جرم کیا ہے؟؟😪💔ہم پشاور مدرسے م...
27/10/2020

‏بکھری کتابیں ، پھٹی ٹوپیاں ، خون آلود عمامے ، زخمی قرآن ، شہید کتب ، پوچھ رہے ہیں ہمارا جرم کیا ہے؟؟😪💔

ہم پشاور مدرسے میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں

پروردگار! یار ! ہمارا خیال کر😢

   commonly abbreviated as IM is injection of a medicine directly into a muscle . The volume of injection is limited to ...
27/10/2020



commonly abbreviated as IM is injection of a medicine directly into a muscle . The volume of injection is limited to 2-5 ml depending on the site of injection. Muscles have many blood vessels and helps in absorption of the medicine

, commonly abbreviated as ID, is a shallow or superficial injection of a substance into the dermis, which is located between the epidermis and the hypodermis. This route is rarely used to inject medicines. More commonly used for tuberculosis tests and allergy tests. Also BCG vaccine that is given to newborns ar birth is through intradermal route

commonly abbreviated as SC is administered in the layer of skin directly below the dermis and epidermis, collectively referred to as the cutis. Subcutaneous injections are highly effective in administering medications such as insulin.
Subcutaneous tissue has few blood vessels and so drugs injected here are for slow, sustained rates of absorption.

Haq Pharmacy
27/10/2020

Haq Pharmacy

Medicine for melasma available at
*wellcare medical store*
Alam chowk sialkot city

Address

Alam Chowk
Sialkot

Opening Hours

Monday 10:00 - 23:00
Tuesday 10:00 - 23:00
Wednesday 10:00 - 23:00
Thursday 10:00 - 23:00
Friday 10:00 - 12:00
16:00 - 23:00
Saturday 09:00 - 12:00
Sunday 16:00 - 23:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wellcare medical store posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share