26/10/2025
یہ فلیجل کی گولی ہمارے یہاں بہت کثرت سے استعمال کی جاتی ہے پیٹ درد کی صورت میں
لیکن عام عوام کو بالکل اندازہ نہیں کہ یہ دوائی اصل میں ہے کیا اور کس صورت میں لینی چاہیے
اصل میں فلیجل ایک اینٹی بائیوٹک ہے، یہ کچھ مخصوص بیکٹیریاز کو ختم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے
اُس صورت میں جب آپ کو لگ رہا ہو کہ آپ کے جسم میں بیکٹیریا انفیکشن پھیلا رہے ہیں اور یہ وہی بیکٹیریا ہیں جو اِس فلیجل سے ختم ہو سکتے ہیں تو صرف اس صورت میں یہ دوائی استعمال کی جانی چاہیے
پیٹ خراب ہونے کی صورت میں یہ دوائی لینا فرض نہیں ہے ، پیٹ میں پیدا ہونے والے چھوٹے موٹے مسائل عموماً صرف بہتر خوراک اور پانی کی کمی دور کرنے سے ٹھیک ہو جاتے ہیں، جس کے لیے نمکول بھی استعمال کیا جا سکتا ہے
فلیجل کا پیٹ میں ہونے والے درد سے کوئی تعلق نہیں، یہ گولی درد کو ٹھیک کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی
اس لیے ہر طرح کے پیٹ درد میں یہ گولی کھا لینا بےوقوفی ہے
اور کوئی بھی اینٹی بائیوٹک ایک دو دفعہ استعمال نہیں کی جاتی، اس کا باقاعدہ کورس ہوتا ہے جو اینٹی بائیوٹک شروع کرنے کے بعد مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے ورنہ ایک دو دفعہ کھا کر چھوڑ دینے کی صورت میں اس سے کچھ بیکٹیریا تو مر جاتے ہیں لیکن باقی بچ جانے والوں میں اس دوائی کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہو جاتی ہے
اور اگلی دفعہ وہ اینٹی بائیوٹک ان پہ اثر نہیں کرتی یا کم اثر رکھتی ہے
دوائی کوئی ٹافی نہیں ہوتی جسے جب جی چاہے استعمال کر لیا جائے، ہر دوا کے بہت سارے اثرات ہوتے ہیں اس لیے بہتر یہی ہے کہ کوئی بھی دوائی لینے سے پہلے کسی ڈاکٹر سے مشورہ کر لیا جائے
ہمارے یہاں عموماً وہ سارے غیر کوالیفائیڈ لوگ اور ڈسپنسر جو ڈاکٹر بن کر بیٹھے ہیں دوائی کے اثرات کو سمجھے بغیر بس اندھا دھند دوائیاں دیے جاتے ہیں
جس سے وقتی طور پہ فائدہ ہوتا ہے مریض کو لیکن مستقبل میں ہونے والے نقصانات سے آگاہی نہیں ہوتی اسے اور وہ کبھی جان ہی نہیں پاتا کہ اس کو بننے والے مسائل کسی کی غفلت کا نتیجہ ہیں
اپنی صحت کا خود خیال رکھیں، اپنے بچوں اور بزرگوں کو لاعلمی کی وجہ سے ادویات کے نقصانات کا شکار نہ ہونے دیں
جزاک اللہ