Smile Dental Clinic

Smile Dental Clinic We Aim To Provide The Best Dental Solution For Our Valued Patients. Being The Best Dentists in swat
(8)

10/06/2022
06/07/2020
02/07/2020
01/07/2020

سمائیل ڈینٹل کلینک میں بہت جلد لیب کی سہولت اورمذید ڈینٹل یونٹس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

Root Canal Treatment
01/06/2018

Root Canal Treatment

31/05/2018
عطائیت کے لغوی معنی بے استاد کے ہیں جس نے کسی علم یا فن کو باقاعدہ حاصل نہ کیا ہو لیکن نہ جانے لوگ ’’عطائیت‘‘ کو علم و ف...
10/04/2018

عطائیت کے لغوی معنی بے استاد کے ہیں جس نے کسی علم یا فن کو باقاعدہ حاصل نہ کیا ہو لیکن نہ جانے لوگ ’’عطائیت‘‘ کو علم و فن کی عطا کیسے گردان لیتے ہیں اور کیسے یہ باور کر لیتے ہیں کہ کسی لیڈی ڈاکٹر یا ڈاکٹر کے پاس کام کرنے والوں میں علم کی خودبخود منتقلی ہو جاتی ہے اور وہ ڈاکٹر کے ہم پلہ ہو جاتا ہے۔ اس کے جملہ نسخہ جات اور ٹوٹکے عطائی سے منتقل ہو جاتے ہیں اس کی معلومات اور تجربہ ڈاکٹر کے برابر ہو جاتا ہے۔انسان قدرت کا شاہکار ہے۔ زندگی ایک ہی مرتبہ ملتی ہے اسے کم علم حضرات کی نذر کرنا کہاں کی عقل مندی ہے۔ ہم کسی مشینری کے خراب ہونے پر بہترین کاری گر تلاش کرتے ہیں لیکن انسانی جسم، خراب یا بیمار ہو جائے تو ہم کسی کو بھی دعوت عام دیتے ہیں کہ وہ علاج کرے ’’تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں‘‘ والی بات درست ہو جاتی ہے۔ یہ روایت کم و بیش ہر جگہ پائی جاتی ہے۔ ہم بیمار کرنے والے سے نالاں بھی نہیں ہوتے۔ ہم حرف شکایت بھی زبان پر نہیں لاتے بلکہ الٹا ’’معالج‘‘ کو اپنا محسن و غم خوار اور ہمدرد گردان لیتے ہیں۔ ہم معاملہ کی سنگینی کا ادراک ہی نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے یہ عطائی حضرات جڑی بوٹیوں کی طرح ہر سو پھیلے ہوئے ہیں۔ہمارے ہاں لوگ یہ رائے رکھتے ہیں کہ عطائی، ڈاکٹر ہی ہوتا ہے۔ اس کی جملہ خوبیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وقت دستیاب ہے، کم فیس میں علاج معالجہ کر دیتا ہے، وہ کئی پشتوں سے خاندانی معالج ہوتا ہے، خاندانی بیماریوں سے آشنا ہوتا ہے، اس کے ہاتھ میں بھی خصوصی شفا ہے، وہ گھر کی دہلیز پر ہی موجود ہے، وہ کئی ڈاکٹروں کے تجربات رکھتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔اس میں بعض امور میں صداقت بھی ہے۔ لوگ اسے اپنا خاندانی فرد سمجھتے ہیں۔ اس سے بسا اوقات ادھار رقم بھی لے لیتے ہیں۔ مشاہدہ ہے کہ عطائی حضرات انسانوں کا ہی نہیں بلکہ مرغیوں، بھیڑ، بکریوں، گائے، بھینس کا علاج بھی کر دیتے ہیں۔ گویا ان کی ذات فور اِن پلے ہو جاتی ہے۔ وہ محلہ یا علاقہ کی مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لیے جاتا ہے تو لوگ اسے نیکو کار اور پرہیز گار گردان لیتے ہیں اور یہ تصور بنا لیتے ہیں کہ اللہ نے اس کے ہاتھوں میں شفا لکھ دی ہے۔ یہ بیماروں کے لیے مسیحا نہیں بلکہ فرشتہ ہے۔ یہ عوامی نفسیات ہے اور لوگ اس میں ترمیم کرنے کی جستجو نہیں رکھتے، اسی لیے معاشرہ ’’عطائی زدہ‘‘ ہو چکا ہے۔ہمارے ہاں دیکھا جائے تو جو شخص بھی ڈاکٹر کے پاس بیٹھے یا اس کے ہاں کام کرے تو لوگ اسے ڈاکٹر سمجھنے اور پکارنے لگتے ہیں۔ خواہ وہ ڈاکٹر کے علم کے قریب سے بھی نہ گزرا ہو۔ ہسپتال میں کام کرنے والا ہر شخص ڈاکٹر سمجھا جاتا ہے۔ خواہ وہ وارڈ بوائے، خاکروب، کلرک یا سکیورٹی گارڈ ہو۔ ایسے کئی حضرات سرشام اپنے علاقوں میں کلینک چلاتے ہیں، ڈاکٹر کہلواتے ہیں اور اپنے نام کے ساتھ فخریہ ڈاکٹر لکھتے بھی ہیں۔ حیرانی ہے لوگ انہیں پہنچانتے نہیں۔ یوں عطائیت کی جڑیں ہر سو پھیلی دکھائی دیتی ہیں۔عطائیت کے فروغ میں جہاں فکرِ معاش ہے، وہیں معاشرہ انہیں شرفِ قبولیت کی مسند پر بٹھاتا ہے، انہیں قبول کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس میدان میں کشاں کشاں کھنچے چلے آ رہے ہیں۔ ایم بی بی ایس ڈاکٹرز جتنی مرضی اپیلیں کر لیں، مریضوں سے ناراض ہو لیں، کوئی ان کی سنتا ہی نہیں ہے۔ آج حب سے لے کر بیلہ تک تمام دیہات عطائی حضرات سے بھرے پڑے ہیں۔ شہر بھی ان سے محفوظ نہیں۔ کوئی حکومتی قانون انہیں کام کرنے سے نہیں روک سکا۔میرے یہ جملے شاید ڈاکٹر کمیونٹی پر گراں گزریں۔ لیکن اس حقیقت کے شواہد موجود ہیں کہ عطائیت کے فروغ میں کئی ڈاکٹر بھی ملوث ہیں۔ انہوں نے کئی جگہ کلینک بنائے ہوتے ہیں، جہاں ان کا ’’منظورِ نظر‘‘ ڈسپنسر بیٹھا ہوتا ہے جو مریضوں کو ڈاکٹر کی عدم موجودگی میں دوائیاں دیتا رہتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کبھی کبھار ادھر کا چکر لگا لیتے ہیں، اپنی ’’مٹھی‘‘ گرم کر لیتے ہیں۔ اگر محکمہ صحت اس ڈسپنسر سے باز پرس کرے تو ڈاکٹر صاحب اس کا دفاع کرنے آ جاتے ہیں۔ پھر جب کبھی کلینک کے ڈاکٹر بابو سے ٹھن جائے تو "بچہ جمہورا” اپنی کلینک کھول لیتا ہے اور ڈاکٹر کے گاہک بھی لے جاتا ہے۔ یہ ’’نیم ڈاکٹر‘‘ کو فروغ دینے کا ذریعہ نہیں تو اور کیا ہے۔’’عطائیت‘‘ کی پرورش میں ڈاکٹروں کو ملوث نہیں ہونا چاہیے۔حکومتی عہدیداروں نے بھی عطائیت کو سہارا دیا ہوا ہے۔ اگر کوئی عطائی پریکٹس کرتا ہے، عوام نشاندہی کرتے ہیں، اخبارات و جرائد یا پرنٹ میڈیا میں اس کا تذکرہ ہوتا ہے تو چند دنوں کی بندش کے بعد وہ کلینک یا ہسپتال دوبارہ کیوں کھل جاتا ہے؟ کیا قانون انہیں اس کی اجازت دے دیتا ہے؟ یہ عملہ صحت کی کمائی کا مستقل اڈہ تو نہیں کیا ہے۔اس مافیا کے خاتمے کے لیے پائیدار اقدامات کیے جائی

10/01/2017

appointed as a dental surgeon in Civil Hospital Madyan Swat

Address

Smile Dental Clinic & Physiotherapy Center Near Elum Cng Qamber Bypass
Swat

Telephone

+923409409551

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Smile Dental Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Smile Dental Clinic:

Videos

Share

Category

Our Motto

Our aim to offer the best Dental Solution for our valued Patients. Being the best Dentists in swat , Pakistan, We Offer Comprehensive Dental Aesthetic Services. Our Motto is to provide our Patients best service.

Nearby clinics


Other Doctors in Swat

Show All