نفسیاتی مسائل اور انکا حل ماہر نفسیات کے ساتھ

  • Home
  • Pakistan
  • Taunsa
  • نفسیاتی مسائل اور انکا حل ماہر نفسیات کے ساتھ

نفسیاتی مسائل اور انکا حل ماہر نفسیات کے ساتھ Our services are related to psycholgical problems.

Good Pizza, Great Pizza
22/08/2024

Good Pizza, Great Pizza

Download Good Pizza, Great Pizza Latest Version 5.15.2 APK for Android from APKpopi. Diverse & exciting Pizza cooking - Fulfill your

14/05/2024

گھر والے سب سے بگڑے بیٹے کی شادی یہ کہہ کر کروا دیتے ہیں کہ بیوی آئے گی. تو سدھار لے گی اور جب بیوی سدھار لیتی ہے

تو کہتے ہیں اہنے تعویز پائے نے🤣🤣

11/05/2024

دل چاہتا ہے بہت سارے پیسے ہوتے تو ماہرینِ نفسیات کو ہائیر کر کر کے ان سے باتیں کرتا. یہ لوگ اتنی اپنائیت سے بولتے ہیں، دل چاہتا ہے دو گھڑی ان کے سامنے رو لیا جائے. یہ جج نہیں کرتے. ٹھٹھہ نہیں اڑاتے. چغلی نہیں کھاتے. ہاں یہ غیر ہوتے ہیں پر، ان کے چہروں پر وہ ماسک نہیں ہوتے جو ہمارے اپنوں نے لگا رکھے ہیں! 💔

11/05/2024

کیگن جاسپر کہتے ہیں کہ دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں:

پتوں والے لوگ: (LEAF PEOPLE)
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو آپ کی زندگی میں صرف ایک موسم کے لیے آتے ہیں۔ وہ اپنی ضرورت کی چیزیں لے کر، جیسے ہی زندگی میں سردی یا کوئی طوفان آتا ہے، چلے جاتے ہیں۔
جن پہ تکیہ تھا، وہی پتے ہوا دینے لگے!!

شاخوں والے لوگ:( BRANCH PEOPLE)
حالانکہ یہ پتوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں، لیکن ان پر بھروسہ کرنے سے پہلے آپ کو انہیں آزمانا پڑتا ہے۔ یہ چند موسموں تک آپ کے ساتھ رہ سکتے ہیں، لیکن جب زندگی مشکل ہو جاتی ہے تو یہ ٹوٹ کر الگ ہو جاتے ہیں۔

جڑوں والے لوگ:( ROOT PEOPLE)
یہ لوگ بہت اہم ہوتے ہیں کیونکہ وہ دکھاوے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ ان کی واحد خواہش آپ کی مدد کرنا اور آپ کو ایک مضبوط اور صحتمند زندگی گزارنے میں سہارا دینا ہوتی ہے۔ اور اگر آپ مشکل وقت سے گزرتے ہیں تو وہ آپ کو تھام لیتے ہیں تاکہ آپ پھر سے اپنی اصل حالت میں واپس آ سکیں۔

زرا غور کیجیے کہ آپ کی زندگی کے اندر لیف پیپل، برانچ پیپل اور روٹ پیپل کون سے لوگ ہیں. جب ان کی پہچان ہو جائے تو آپ کو ان کے ساتھ برتاؤ میں آسانی ہو جائے گی.

اور یہ بھی سوچئے کہ آپ خود ان میں سے کس قسم کے ہیں۔

09/05/2024

ہسٹیریا یا آسیب کیا ہے؟

اس کی تعریف میں کچھ عرض کرنا چاہتی ہوں کہ ہسٹریا کیا ہے؟ ہسٹریا ایک اعصابی مرض ہے جو
زیادہ تر نوجوان خواتین میں زیادہ لاحق ہوتا ہے اور اس مرض میں جو خواتین بھی مبتلا ہوتی ہیں
اس بیماری کی علامات مرگی سے ملتی جلتی ہوتی ہیں اس لئے بعض دفعہ اس کے گھر والے اس کو دورے کی حالت میں جوتے بھی سنگھاتے نظر آتے ہیں اس بیماری میں جو مبتلا افراد ہوتے ہیں ان کو اپنے آپ پر قابو نہیں رہتا کیونکہ یہ ایک زہنی مرض ہے جس میں مبتلا مریض بہت زیادہ بےچینی اور گبھراہٹ کا شکار ہوتا ہے۔
اس مرض میں مبتلا افراد کو ہم اپنے گردونواح میں تلاش کر سکتے ہیں جیسا کہ نیند میں چلنے والے افراد اور جن کو اچانک کوئی دورہ پڑھ جائے یا پھر ایسے افراد جو اکثر یہ کہتے ہیں کہ میرا سانس اچانک بند ہو جاتا ہے اور ایسے افراد جو اچانک روتے روتے ہنسنا شروع کر دیتے ہیں
ان میں بے شمار جسمانی علامات کے ساتھ ساتھ زہنی علامات بھی نمودار ہوتی ہیں مثال کے طور پر گلے کا گھٹنا وغیرہ اس بیماری میں مریض زیادہ تر اپنے گلے کو ہی دبانا شروع کر دیتا ہے اور مریض کو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کسی نے دوسرے نے گلے کو دبا دیا ہے جس کی وجہ سے مریض کا سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے -
اس مرض میں مبتلا لوگ زیادہ تر اس بیماری کو جنات کے چمٹنے سے تعبیر کرتے ہیں اور پھر اس کا علاج معالجہ کیلئے کسی فقیر یا پھر پیر کے زریعے کروایا جاتا ہے اور اگر مریض کو خوش قسمتی سے کوئی ایسا پیر مل جائے جو کہ حقیقت میں اللہ کے قریب ہو تو وہ مریض کی اس حقیقت کو جلدی سمجھ جاتا ہے اور گھر والوں کو کسی اچھے ماہر نفسیات کو دیکھانی چاہیے اور اگر بدقسمتی سے اس مریض کے گھر والے کسی جعلی عامل کے ہاتھ لگ جائیں تو پھر اس عامل کی کمائی کا زریعہ بن جاتے ہیں -

اس کا میں آپ کو ابھی عملی ثبوت پیش کروں گی
اسٹیج پہ روشنیاں مدھم ہوجاتی ہیں ایک خاتون کو لایا جاتا ہے جن کے جسم کو جھٹکے لگ رہے ہیں اور حلق سے غراہٹ نما آوازیں خارج ہورہی ہیں آسیب ایکسپرٹ کچھ دیر خاتون میں موجود آسیب سے حال احوال پوچھتے ہیں پھر ایک آلہ نکال کے سامنے رکھ دیتے ہیں جس کے سامنے میٹر بنا ہوا ہےپھر بتاتے ہیں کہ جب آسیب کسی کے جسم پہ قابو کر لیتا ہے تو اس کی مقناطیسی فیلڈ اس آلے میں دیکھی جاسکتی ہے وہ خاتون کا ہاتھ پکڑ کر آلے پہ رکھتے ہیں اور آلے پہ موجود میٹر کی سوئی فورا لال نشان پہ پہنچ جاتی ہے۔ پھر وہ خاتون میں موجود آسیب کو للکارتے ہیں کہ اگر تو رسول آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت سلیمان علیہ السلام پہ ایمان رکھتا ہے تو یہ مشروب پیتے ہی اس نیک عورت کو چھوڑ کے چلا جائےگا۔
آسیب اور ماہر کے درمیان کچھ جذباتی بات چیت ہوتی ہے اور پھر وہ ماہر آیت کریمہ کا ورد کرتے ہوئے وہ مشروب متاثرہ خاتون کو پلا دیتا ہے۔ کچھ ہی دیر بعد میٹر کی سوئی لال سے ہرے پہ آجاتی ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ آسیب چلا گیا ہے خاتون کے جھٹکے رک جاتے ہیں اور غراہٹ کی آوازیں ختم ہوجاتی ہیں۔ مشروب کے بارے میں وہ صاحب آخر میں بتاتے ہیں کہ اس میں ایسا کیمیکل موجود تھا جو ڈائریکٹ نیورو ٹرانسمیٹرز پہ حملہ کر کے اس پہ سے آسیب کا اثر ختم کرتا ہے۔ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں اللہ تعالٰی کی مدد شامل کرنے کے لیئے وہ آیت کریمہ کا ورد بھی کرتے ہیں تاکہ آسیب انہیں انتقام کی کوشش میں نقصان نا پہنچائے۔

اس جیسے کئی پبلسٹی اسٹنٹ آج کل عموما ٹی وی پہ نظر آتے ہیں جہاں کوئی عامل بابا کوئی سائنسدان یا کبھی دونوں کا مکسچر ٹائپ بندہ لوگوں کے آسیب اور جن اتارتے نظر آتے ہیں۔ اب تو گلی محلوں میں بھی یہ لوگ آسانی سے مل جاتے ہیں۔
ان کا پہلا قدم ہوتا ہے مذہب کا نام لینا اور اس کا حوالہ دے کر کچھ بھی کہہ دینا۔ ہماری آدھی عوام اسی بات پہ آنکھیں بند کر کے یقین کرلیتی ہے کیونکہ وہ ان کے ایمان کو للکارتے ہیں کہ کیا تمہیں قرآن و حدیث پہ یقین نہیں؟؟ اس کے بعد کی آدھی عوام جو کہ منطق اور سائنسی دلیل کی حامی ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے مکمل سائنسی معلومات نہیں رکھتی ان کے لیئے دوسرا حربہ استعمال کیا جاتا ہےناموں کے آگے ڈاکٹر پروفیسر جیسے القابات لگا کے نفسیات اور سائنس کے موٹے موٹے الفاظ اور چند مشہور زمانہ سائنسدانوں کے نام استعمال کر کے انہیں یقین دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ جو کہہ رہے ہیں عین سائنسی ہے۔ انہیں پتا ہے کہ کوئی ان سے نہیں پوچھے گا کہ دنیا کی کونسی یونیورسٹی آسیب کی سائنس میں ڈگریاں دیتی ہے۔
غصہ یہ نہیں آتا کہ لوگ ان کے پاس علاج کے لیئے تعویز لینے جاتے ہیں بلکہ یہ آتا ہے کہ وہ اچھے بھی ہوجاتے ہیں۔ اور یہی وہ پوائنٹ ہے جس پہ آ کر اچھے اچھے چکرا جاتے ہیں کہ اگر واقعی متاثرہ شخص ٹھیک ہورہا ہے تو یقینا کچھ تو سچ ہوگا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کا راز علاج میں نہیں بلکہ بیماری میں ہی موجود ہے۔
نفسیاتی بیماریوں کی ایک قسم کہلاتی ہے سومیٹو فارم ڈیسارڈر( somatoform disorder) اورڈر یا سائیکو سومیٹک ڈس اورڈرز ان مسائل کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ ذہنی دباو کا اظہار جسمانی بیماری کی علامتوں کے ذریعے کرتے ہیں۔ ہسٹیریا بھی اسی قسم کا ایک سائیکو سومیٹک ڈس اورڈر ہے۔ اسے بڑی تعداد میں لوگ نام سے تو جانتے ہیں مگر اس کی مخصوص علامات کا علم نہیں ہوتا اسی لیئے اس کی علامات کو آسیب سمجھ کے پیر یا عامل سے رجوع کر لیا جاتا ہے۔
یہ اب نفسیات کے شعبے میں کنورژن ڈس اورڈر کے نام سے جانا جاتا ہے یعنی ذہنی دباو کو کنورٹ کرنا جسمانی علامت میں۔
کنورژن کا تعلق ذہنی دباو اور گھٹن سے ہے اور یہ عورت اور مرد میں سے کسی بھی ایسے فرد کو لاحق ہوسکتا ہے جو ذہنی دباو کو شکار ہو۔ اس ذہنی دباو اور مسلسل الجھن سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیئے دماغ جسمانی علامتیں ظاہر کرتا ہے جس کی وجہ سے لوگ اس مریض کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اس کی مالی یا جذباتی مدد کرتے ہیں اور وہ شخص ذہنی سکون محسوس کرتا ہے۔ اگر کسی شخص کو وقتی طور پہ بھی اس کے مسئلے حل ہونے کا یقین دلایا جائے تو اس کی جسمانی علامتیں ختم ہوجاتیں ہیں۔ اور یہی وہ راز ہے جس کا پیر فقیر اور سوڈو سائنٹسٹ فائدہ اٹھاتے ہیں وہ مریض کے دماغ کو مغالطے میں مبتلا کرتے ہیں کہ آیت پڑھنے سے کوئی گولی کھانے سے یا محلول پینے سے آسیب چلا جائے گا کیونکہ وہ خدا کے نام سے ڈرتا ہے یا حضرت سلیمان کی اطاعت کرتا ہے اور مریض کی اپنی عقیدت وقتی طور پہ ان علامتوں کو فوری طور پہ تحلیل ہونے میں اہم کردار ادا کرتی ہے مگر کچھ ہی عرصے بعد دوبارہ کسی ذہنی دباو کے موقعے پہ یہ علامات لوٹ آتی ہیں۔۔۔

06/05/2024

"کبھی بھی یہ نہ کہو کہ آپ کسی سے محبت کرتے ہیں اگر آپ نے اس کا غصہ، اس کی بری عادتیں، ان کے مضحکہ خیز عقائد اور ان کے تضادات کو نہیں دیکھا ہے۔ "
ماریو ورگاس لوسا

25/04/2024

کیا آپ میاں بیوی کے تعلق کے بارے میں کچھ واقعی بہتری چاہتے ہیں ؟
اس کے لیے ضروری ہوگا کہ اسے مرد و عورت کی بحث نہ بنائیں ۔ پہلے سے شک نہ کریں کہ کوئی بات کہی گئی تو کسی ایک صنف کو الزام دیا جائے گا۔

اگر عورت ہیں تو اپنی کمزوریاں، اپنی جائز خواہشات، دوسرے کی نفسیات، رشتے داروں کے مسائل میں شوہر کی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ مرد ہیں تو اپنی انا کو اپنی بیوی کے ساتھ خوشی اور تعلقات کی بہتری کی راہ کی رکاوٹ نہ بننے دیں۔ آپ قوام بنائے گئے ہیں۔ مطلب یہ کہ آپ کی سننی اور ماننی چاہیے مگر مطلب یہ بھی کہ ذمہ داری بھی آپ کی زیادہ ہے۔

بہت سے مسائل بس مسائل ہوتے ہیں، آپ کے خلاف چارج شیٹ نہیں ہوتے۔ کسی مسئلے کو بیان کرنے اور تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ آپ کی غلطی یا کسی کی غلطی ہے۔

مان لینا پہلا قدم ہوتا ہے۔ صرف مان لینے سے بہت کچھ بوجھ اتر جاتے ہیں۔اور پھر اپنا حصہ ڈالنا ضروری ہے۔

کپل کاؤنلسرز قاضی نہیں ہوتے ان کو قاضی نہیں بننا چاہیے۔ فرد جرم عائد کرنا ان کا کام نہیں۔ ان کے پاس جانے سے آپ کی بے عزتی نہیں ہوتی۔ آپ کے ازدواجی مسائل کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی اعصابی یا نفسیاتی مرض ہے۔ آپ کو ماہر نفسیات کے پاس جانے کی ضرورت اور اپنا “علاج” کروانے کی ہمیشہ ضرورت نہیں ہوتی۔

مان لینے سے بیوی یا شوہر کو “شہہ” ملنے کا خوف بھی رکاوٹ ہے۔ لیکن آپ یہ ڈر خوف انا سنبھالے کب تک بیٹھیں گے؟ ایک ہی زندگی ملی ہے چند سالوں کی۔ یقین کریں ۔۔اس قدر پچھتاوا ہوگا بعد میں ۔ جو آپ کی آخری عمر کو بھی اذیت ناک بنادے گا۔

اور اگر اپنے گھر والوں اور سماج کے خوف سے اپنے ازدواجی تعلقات کو بہتر بنانے سے گریز کررہے ہیں ۔ تو یاد رکھیے۔ سب اپنی عمر پوری کرلیں گے۔ آپ کو کوئی تمغہ نہیں ملے گا۔ آپ کے ساتھ کوئی نہیں رہے گا یہئ بیوی یہی شوہر آپ کے ساتھ رہیں گے۔ باقی سب چھوڑ دیں گے۔ اس کی قیمت اپنے زوج اور اپنی اولاد سے دوری اور تنہائی کی صورت چکانی پڑے گی۔

جن جوڑوں کی ابتدائی تعلق میں نہیں بنتی ان کا بڑھاپا اور بھی بہت مشکل گذرتا ہے۔ ابھی سے فکر کر لیجیے۔ ابھی آپ ایک دوسرے پر زیادہ انحصار نہیں کرتے۔ مگر کچھ عرصے میں آپ کے قوی، آپ کے رشتے دار ، دوست سب آپ سے کمزور پڑنے لگیں گے۔ ۔ اس وقت زوج رہ جائیں گے۔ اس وقت کو پچھتاؤں کی آگ سے بچانا ہے تو ابھی ایک دوسرے سے پیار بھرا، عزت احترام والا تعلق بنائیے۔ اب بھی خوش رہیں گے اور ان شاءاللہ بعد میں بھی۔

اگر اپنی ضد اور اپنی شخصی کمزوریوں کی اصلاح کے لئے تیار نہیں ، اور سارا الزام دوسرے فریق پر رکھنا ہے تو کوئی آپ کی مدد نہیں کرسکتا۔

آپ سوشل میڈیا اور اپنی بیٹھکوں میں ہونے والی نظریاتی بحثوں میں عورت مرد کی لڑائی، عورت تو ہوتی ایسی ہے، مرد تو ہے ایسا ۔۔۔ایسی باتیں چن چن کر خود کو تسلی دیتے رہیں جو آپ کی اس ضد کو مضبوط بناتے ہیں۔

بحثوں کا کیا ہے ؟ ان میں کبھی کوئی اور کبھی کوئی جیتتا ہے۔ اور اس جیت کی خوشی دھوکہ ہوتی ہے۔ البتہ اصل زندگی میں مسلسل ناخوشی کا احساس کیا کہتا ہے؟ اس کو کوئی نام دینے سے لوگ گریز کرتے رہتے ہیں۔

Copied

06/04/2024

تمہارا خدا تمہارا خوف ھے. وہ تمھارے خوف کا ھی ایک روپ ھے۔ جب تم خوفزدہ ہوتے ہو تو تب تم یاد کرتے ہو اور جب خوف نہیں رہتا تو تم بھول جاتے ہو.
جب تم سُکھی ھوتے ھو اس کی یاد ہی نہیں آتی. جب دکھ گھیر لیتے ہیں تو ایک دم " خدا, خدا" رٹنے لگتے ھو ۔
نہیں تم خدا کو نہیں مانتے !!!
تمہارا ماننا تمہاری ہوشیاری ھے ، تمہاری چالاکی ھے ، تمہارا ماننا تمہارے دل کی آواز نہیں تمہاری ضرورت اور خواہش ہی کی گونج ھے ۔
جب تمہیں ضرورت پڑتی ہے تم ماننے والے بن جاتے ھو ۔
جب ضرورت پوری ہو جاتی ھے ، تو تمہارے ایمان کا پول کھُل جاتا ھے ۔

گرو رجنیش ( اوشو )

Address

City Poly Clinic Taunsa Shareef Mangrotha Chongi
Taunsa
3200

Opening Hours

Monday 10:00 - 14:00
Tuesday 10:00 - 14:00
Wednesday 10:00 - 14:00
Thursday 10:00 - 14:00
Saturday 10:00 - 14:00
Sunday 10:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when نفسیاتی مسائل اور انکا حل ماہر نفسیات کے ساتھ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category