Dr Ayesha Tariq

Dr Ayesha Tariq Best child specialist in Toba tek Singh city, expert in dealing every kind of disease of children,and have an empathetic approach towards her patients

28/12/2025

سردیوں میں سینے کی بیماریوں میں اضافہ
سرد موسم کے ساتھ ہی دمہ، کھانسی، سانس کی تنگی اور سینے کے انفیکشن میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔
اگر کھانسی لمبے عرصے سے ہے، سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے یا علامات بڑھتی جا رہی ہوں تو خود علاج کے بجائے فوراً ماہرِ امراضِ سے رجوع کریں۔
اپنی سانسوں کو محفوظ رکھیں، بروقت تشخیص ہی بہتر صحت کی ضمانت ہے۔

پاکستان میں بطور ڈاکٹر ہمیں اکثر نظام سے زیادہ لوگوں کے رویّوں سے لڑنا پڑتا ہے۔ یہ بات کہنا تلخ ضرور ہے، مگر ضروری ہے۔ ہ...
28/12/2025

پاکستان میں بطور ڈاکٹر ہمیں اکثر نظام سے زیادہ لوگوں کے رویّوں سے لڑنا پڑتا ہے۔ یہ بات کہنا تلخ ضرور ہے، مگر ضروری ہے۔ ہم دن رات مریض دیکھتے ہیں، مگر بیماری کے ساتھ ساتھ بے صبری، بداعتمادی اور غیر ذمہ دار رویّے بھی علاج کا حصہ بن چکے ہیں۔

ہر مریض فوری علاج چاہتا ہے، مگر ہدایات پر عمل کم ہی کرتا ہے۔ دوائی وقت پر نہ لی جائے، فالو اپ نہ کیا جائے، پرہیز کو مذاق سمجھا جائے، اور پھر جب حالت بگڑے تو سارا غصہ ڈاکٹر یا ہسپتال پر نکال دیا جاتا ہے۔ ہم بیماری کا علاج کر سکتے ہیں، رویّوں کا نہیں۔

غیر ضروری انجیکشن، اینٹی بایوٹک اور ڈرِپ کا مطالبہ عام ہو چکا ہے۔ اگر ڈاکٹر انکار کرے تو کہا جاتا ہے کہ “یہ کچھ نہیں کر رہا”۔ بخار وائرل ہو یا بیکٹیریل، مریض کو فرق نہیں، بس دو دن میں ٹھیک ہونا چاہیے۔ یہی رویّہ اینٹی بایوٹک ریزسٹنس جیسے سنگین مسئلے کو جنم دے رہا ہے، جس کا نقصان آخرکار مریض کو ہی ہوتا ہے۔

ویکسین کے معاملے میں بھی یہی صورتحال ہے۔ ویکسین پر شک کیا جاتا ہے، افواہوں پر یقین کیا جاتا ہے، مگر جب بیماری پھیلتی ہے تو الزام نظام پر آتا ہے۔ ہیلتھ ورکر کو گاؤں میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا، پھر بچوں کی بیماری پر ہنگامہ ہوتا ہے۔

سرکاری ہسپتالوں میں رویّہ اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر کم، مریض زیادہ، سہولیات محدود، مگر توقعات لا محدود۔ قطار توڑنا، شور شرابا، بدتمیزی، حتیٰ کہ تشدد تک کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ایک ڈاکٹر ایک وقت میں کتنے مریض دیکھ سکتا ہے۔

ہم بطور معاشرہ احترام مانگتے بہت ہیں، دیتے کم ہیں۔ ڈاکٹر سے مکمل توجہ، ایمانداری اور قربانی کی توقع رکھی جاتی ہے، مگر اس کی عزت، تحفظ اور ذہنی صحت پر کوئی بات نہیں کرتا۔ اچھا نتیجہ آئے تو قسمت، برا ہو جائے تو ڈاکٹر قصوروار۔

یہ بات بطور ڈاکٹر نہیں، بطور شہری کہنی پڑتی ہے: صحت کا نظام صرف ڈاکٹر سے نہیں چلتا۔ مریض، خاندان اور معاشرہ بھی اس کا حصہ ہیں۔ جب تک ہم اپنی ذمہ داری قبول نہیں کریں گے، کوئی بھی نظام ہمیں مطمئن نہیں کر سکتا۔

ہمیں سوال پوچھنے کے ساتھ ساتھ خود کو بھی دیکھنا ہوگا۔
ہم ڈاکٹر سے کیا چاہتے ہیں، اور ہم خود کیا کر رہے ہیں؟

صحت کی بہتری صرف ہسپتالوں سے نہیں آئے گی۔
یہ رویّوں کی اصلاح سے شروع ہوگی۔

از قلم:
ڈاکٹر سید شکیل بادشاہ
Copied

19/12/2025

یہ آج کل سوپر فلو کیا ہے ڈاکٹر صاحب ؟
سوپر فلو ؟
سوپر فلو تو کوئی چیز نہیں میڈیکل سائنس میں
تو پھر کیا ہے جو اس وقت
پورے شہر ،ملک کو پریشان کئے ہوئے
شدید بخار ،
نزلہ ،
زکام ،
جسم میں درد ،
سر میں درد ،
گلے میں خراش ،
کبھی کبھی
الٹیاں اور لوز موشن
ستمبر سے دسمبر تک
فلو سیزن ہوتا ہے اور اس میں بچے ، بوڑھے ، حاملہ خواتین ، یا ایسے افراد جن کی قوت مدافعت کسی وجہ سے کمزور ہو وہ اس سیزن میں فلو کا شکار ہوتے ہیں اور آج کل پورے ملک میں
انفلوئنزا وائرس اے اور بی پھیلا ہوا ہے
انفلوئنزا وائرس اے کو H3N2 وائرس کے نام سے شناخت کیا جاتا ہے اور
بہت تیزی سے ایک دوسرے انسان کو لگتا ہے جب بغیر منہ کو ڈھانکے / کور کئے بغیر چھینکتے ہیں ،
کھانستے ہیں ،
یا ناک کو صاف کرتے ہیں اور ان ہی ھاتھوں سے کسی جگہ کو ٹچ کرتے ہیں
پھر کوئی دوسرا شخص اس جگہ کو ٹچ کرتا ہے اور اپنی ناک یا منہ کو اس ہی ھاتھ سے ٹچ کرتا ہے ،
یہ انفلوئنزا وائرس اے بہت تیزی سے پھیلتا ہے اور خطرناک صورتحال پیدا ہو جاتی ہے
جیسے کسی شادی ہال میں بہت سارے لوگ ہوں اور وہاں کوئیH3N2 کا مریض موجود ہو تو سوچیں کیا صورتحال ہوگی
اس کے علاؤہ انفلوئنزا وائرس بی کے وائرس بھی آج کل بہت زیادہ ہے ،
کئی اور وائرس اس وقت شہروں میں موجود جن میں آر ایس وی وائرس , کرونا وائرس وغیرہ وغیرہ
ان تمام وائرسز سے فلو ہوتا ہے اور ہر سال ہوتا ہے
علامات ساری تقریباً ساری ایک جیسی ہوتی ہیں
تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ،
کرونا وائرس میں آپ کو بو یا خوشبو نہیں آتی
مگر یہ بعض اوقات نہیں ہوتا
مگر ڈاکٹر صاحب یہ کیسے پتہ چلے گا کہ
بچے کو کیا ہے
کونسا فلو ہو ہے ،
دیکھیں جب کسی میں یہ علامات موجود ہوں اور شدت کے ساتھ ہوں تو اس کو انفلوئنزا وائرس اے کہا جاتا ہے
ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے معلوم تو کیا جاسکتا ہے مگر اس کے باوجود بھی ٹریٹمنٹ میں کوئی فرق نہیں پڑتا اس لئے علامات پر ہی زیادہ انحصار کیا جاتا ہے ،
اینٹی وائرس دوا Oseltamevir اگر استعمال بھی کی جائے تو شروع کی جاسکتی ہے پہلے تین دن ، اس کے بعد اس کی افادیت ہی نہیں رہتی
اصل بات تو یہ ہے کہ یہ وائرسز تو ہر سال آتے ہیں تو کیا ایسا کیا جائے ، کیسے انفلوئنزا وائرس یا فلو سے بچا جاسکے ،
وہ تمام لوگ جو اس کا شکار ہوسکتے ہیں وہ
اپنی امیونٹی کو بڑھائیں ،
ابھی اور بھر پور نیند کے ذریعے ،
کھانے میں غذا کے تمام عناصر کو شامل کرکے یعنی ، سبزیاں ، پھل ، گوشت ، انڈے ، مرغی ، مچھلی اور شہد وغیرہ وغیرہ کو شامل کرکے ،
دھوپ میں اس موسم میں ضرور بیٹھیں اور بچوں کو بٹھائیں وٹامن ڈی کے لئے جو جسم کے لئے بہت ضروری ہے ،
بچوں کو کھلی فضاء میں کھیلنے دیں ،
اور
ویکسن لگوا کر ،
چھوٹے بچوں کو بڑی بڑی تقریبات سے دور رکھیں جہاں کم جگہ میں زیادہ لوگ ہوتے ہیں ،
ھاتھوں کی صفائی کرتے رہیں
ماسک کا استعمال کروائیں دوسال سے بڑے بچوں کو ،
اور چھوٹے بچوں کو موٹر سائیکل پر لے کر سفر نہ کریں کہ اس موسم میں ٹھنڈی ہوا اور دھول کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں ،
اور
اگر تمام تر احتیاط کے باوجود بھی کوئی سوپر فلو کا شکار ہو جاتا ہے تو فوری طور قریبی معالج سے رجوع کریں ،
یہ بھی یاد رکھیں وائرس انفکیشن میں آپ ضرورت کے حساب سے نیبولایئزر ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کرسکتے ہیں ، پیراسٹامول یا اینٹی الرجی بھی
مگر
اینٹی بائیوٹک کا استعمال صرف وہیں ہونا چاہیے جہاں ماہر ڈاکٹر کے نزدیک ضروری ہے ،

ایف سی پی ایس (FCPS) ڈگری کیا ہے؟بنیاد، اہمیت، امتحانی سختی اور پاکستان میں اس کی قدر و قیمتایف سی پی ایس (Fellow of Col...
17/12/2025

ایف سی پی ایس (FCPS) ڈگری کیا ہے؟

بنیاد، اہمیت، امتحانی سختی اور پاکستان میں اس کی قدر و قیمت

ایف سی پی ایس (Fellow of College of Physicians and Surgeons) پاکستان کی میڈیکل فیلڈ کی سب سے بڑی، معتبر اور مشکل ڈگریوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ڈگری کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) کے تحت دی جاتی ہے، جو ملک کا سب سے بڑا اور مستند پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ادارہ ہے۔

ایف سی پی ایس کی بنیاد کب رکھی گئی؟

کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) کی بنیاد 1962ء میں رکھی گئی۔ اس ادارے کا مقصد پاکستان میں میڈیکل اسپیشلسٹ ڈاکٹرز تیار کرنا تھا تاکہ ملک کو بیرونِ ملک پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ وقت کے ساتھ CPSP نے نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی پہچان بنائی۔

ایف سی پی ایس ڈگری کیا ہوتی ہے؟

ایف سی پی ایس ایک پوسٹ گریجویٹ اسپیشلائزیشن ڈگری ہے، جو ایم بی بی ایس کے بعد مختلف شعبوں میں کی جاتی ہے، جیسے:

گائناکالوجی و آبسٹیٹرکس

میڈیسن

سرجری

پیڈیاٹرکس

اینستھیزیا

ریڈیالوجی

آرتھوپیڈکس
اور دیگر کئی تخصصی شعبے۔

یہ ڈگری دو بڑے مراحل پر مشتمل ہوتی ہے:

1. FCPS Part 1

2. FCPS Part 2 (جس میں ٹریننگ، تھیوری، کلینیکل اور وائوا شامل ہوتے ہیں)

ایف سی پی ایس کے امتحانات کیوں اتنے مشکل ہیں؟

ایف سی پی ایس کے امتحانات کو پاکستان کے سب سے مشکل میڈیکل امتحانات میں شمار کیا جاتا ہے، اور اس کی کئی وجوہات ہیں:

اس کا سلیبس بہت وسیع اور گہرا ہوتا ہے

صرف کتابی علم نہیں بلکہ کلینیکل مہارت بھی دیکھی جاتی ہے

تھیوری کے ساتھ ساتھ کلینیکل کیسز، وائوا اور شارٹ کیسز لیے جاتے ہیں

پاس ہونے کا تناسب (Passing Ratio) اکثر بہت کم ہوتا ہے

ایک چھوٹی سی غلطی بھی فیل ہونے کا سبب بن سکتی ہے

یہی وجہ ہے کہ کئی ڈاکٹر سالوں کی محنت کے بعد جا کر یہ امتحان پاس کرتے ہیں، اور بہت سے لوگ مکمل کوشش کے باوجود کامیاب نہیں ہو پاتے۔

ایف سی پی ایس کی پاکستان میں کیا ویلیو ہے؟

پاکستان میں ایف سی پی ایس کو:

سب سے اعلیٰ میڈیکل ڈگری سمجھا جاتا ہے

سرکاری و نجی اسپتالوں میں کنسلٹنٹ بننے کے لیے بنیادی شرط مانا جاتا ہے

میڈیکل کالجز میں اسسٹنٹ، ایسوسی ایٹ اور پروفیسر بننے کے لیے قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے

بیرونِ ملک (خصوصاً مڈل ایسٹ) میں بھی اس کی خاص اہمیت ہے

ایف سی پی ایس ڈاکٹر پر کیوں اعتماد کیا جا سکتا ہے؟

اگر کسی ڈاکٹر کے پاس ایف سی پی ایس ڈگری ہو تو آپ پورے اعتماد کے ساتھ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ:

اس نے انتہائی سخت امتحانات پاس کیے ہیں

اس نے کئی سال کی مکمل کلینیکل ٹریننگ کی ہے

وہ مریض کو صرف کتابی نہیں بلکہ عملی تجربے کی بنیاد پر دیکھتا ہے

وہ ہر کیس کو سائنسی اور پروفیشنل طریقے سے ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

سادہ الفاظ میں، ایف سی پی ایس ڈاکٹر بننا آسان نہیں۔ جو اس امتحان سے گزرتا ہے، وہ واقعی محنتی، قابل اور ذمہ دار ڈاکٹر ہوتا ہے۔

ایف سی پی ایس ڈگری صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ:

برسوں کی محنت

بے شمار قربانیاں

نیند، آرام اور ذاتی زندگی کی قربانی

اور مسلسل جدوجہد کی علامت ہے

اسی لیے پاکستان میں ایف سی پی ایس کو میڈیکل فیلڈ کی سب سے بڑی اور معتبر ڈگری مانا جاتا ہے۔ اگر کسی ڈاکٹر کے نام کے ساتھ ایف سی پی ایس لکھا ہو تو یہ اس کی قابلیت، محنت اور اہلیت کی مضبوط ضمانت ہوتی ہے۔

✨ بچے کا دودھ واپس اگلنا… آخر ہوتا کیوں ہے؟( ماؤں کی سب سے عام پریشانی)آپ نے دیکھا ہو گا، اکثر بچے دودھ پینے کے بعد تھوڑ...
13/12/2025

✨ بچے کا دودھ واپس اگلنا… آخر ہوتا کیوں ہے؟
( ماؤں کی سب سے عام پریشانی)

آپ نے دیکھا ہو گا، اکثر بچے دودھ پینے کے بعد تھوڑا سا یا کبھی پورا دودھ منہ سے باہر نکال دیتے ہیں۔ کبھی چند قطرے… کبھی پورا دھار کی طرح…
اور ماں فوراً گھبرا کر سوچتی ہے: کیا میرے بچے کو کچھ ہو گیا؟ کیا میرا دودھ زیادہ ہے؟ کیا پیٹ خراب ہے؟

اصل میں، یہ ایک ماہ سے تین ماہ کے بچوں میں بہت عام ہے اور اکثر ڈاکٹر اسے بالکل نارمل سمجھتے ہیں۔ بلکہ ڈاکٹر اس کو عام بڑھوتری کا حصہ سمجھتے ہیں۔

✅ یہ کیوں ہوتا ہے؟
بچہ دنیا میں آتا ہے تو اس کا نظامِ ہاضمہ ابھی پختہ نہیں ہوتا۔ اس کے معدے اور خوراک کی نالی کے درمیان جو دروازہ ہوتا ہے، وہ ابھی بہت نرم ہوتا ہے۔ جب بچہ دودھ پیتا ہے اور پیٹ تھوڑا بھر جاتا ہے، تو دودھ آسانی سے واپس اوپر آ سکتا ہے۔یہ عمل تکلیف دہ نہیں ہوتا، اور زیادہ تر بچوں میں بالکل نارمل سمجھا جاتا ہے۔

✅ یہ خطرناک کب نہیں ہوتا؟
اگر بچہ:
✓دودھ پینے کے بعد سکون سے سو جاتا ہے
✓وزن ٹھیک بڑھا رہا ہے
✓دودھ دودھ جیسا ہی واپس آرہا ہے
✓بچہ نارمل طریقے سے پیشاب پاخانہ کر رہا ہے
تو یہ کیفیت عام ہے اور وقت کے ساتھ خود ہی ختم ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر بچے 4 سے 6 ماہ میں اس سے نکل جاتے ہیں۔

✅ ماں کیا کرے؟ (آسان گھر کے نسخے)
✔️ فیڈ کے بعد بچے کو ہلکا سا کندھے پر رکھ کر ڈکار دلائیں۔
ہر فیڈ کے بعد تقریباً 10–15 منٹ بچہ سیدھا کندھے پر رکھیں۔

✔️ فیڈ کے فوراً بعد نہ لٹائیں
20–30 منٹ سیدھا رکھیں۔
جلدی لٹانے سے دودھ اوپر آسکتا ہے۔
✔️ فیڈ کو تھوڑا، مگر بار بار دیں، یہ طریقہ پیٹ کو ضرورت سے زیادہ بھرنے سے روکتا ہے۔
✔️ اگر بوتل استعمال ہو رہی ہے،تو اس کا بہاؤ بہت تیز نہ ہو، ورنہ بچہ جلدی جلدی دودھ پی کر اُگل دیتا ہے۔

✅ ڈاکٹر کو کب دکھائیں؟ (اہم نشانیاں) اگر:
✓دودھ زور سے دور تک پھٹ کر نکلے (projectile vomiting)
✓دودھ میں خون یا سبز رنگ نظر آئے
✓بچہ وزن نہیں بڑھا رہا
✓بہت رو رہا ہے، پیٹ سخت ہے
✓سانس یا رنگت میں تبدیلی آتی ہے، تو فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ یہ صورتیں نارمل نہیں ہوتیں۔

🌞یہ قدرتی مسئلہ اکثر چند ماہ میں خود ختم ہو جاتا ہے، اور یاد رکھیں، آپ کا دودھ سب سے بہترین غذا ہے جو آپ کا بچہ بڑھنے اور مضبوط ہونے کے لیے لے رہا ہے
*

اپنی صحت کے لیے ہر دن کچھ نئی اور قیمتی معلومات کے لیے ہمارے سوشل میڈیا گروپس کو فالو کریں اور فائدہ اٹھائیں۔

 ! 🤲Successfully completed the AHA PALS Workshop at CPSP Lahore.The workshop was conducted from 12–13 December 2025 and ...
13/12/2025

! 🤲

Successfully completed the AHA PALS Workshop at CPSP Lahore.

The workshop was conducted from 12–13 December 2025 and provided extensive hands on learning with updated American Heart Association PALS guidelines, enhancing skills in pediatric emergency and resuscitation care.

Special thanks to our respected Course Director, Dr. Wajiha, Course Instructor, Dr. Sahdab, and the entire CPSP team for their excellent organization, guidance, and support.

Grateful for this valuable learning experience.
Hashtags







26/11/2025

چارپائی کیساتھ بندھی جھلونگی یا موت کا جھولا
تحریر: نرجس کاظمی
جھلونگی جہاں ہماری ثقافتی نشانی ہے، وہیں ماں کے لئے آسانی بھی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن شاید ہم نہیں جانتے کہ یہ کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔ میں ایک آنکھوں دیکھا واقعہ شیئر کر رہی ہوں۔

اس دن میں اپنے گھر کے باغیچے میں کام میں مصروف تھی کہ اچانک کسی خاتون کے دردناک چیخنے چلانے کی آواز آئی۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا ہوا ہے۔ میں نے گیٹ کھولا اور آواز کی سمت بڑھنا شروع کیا۔ وہ آواز مویشیوں کے اس ڈیرے سے آ رہی تھی جہاں میرے رشتہ دار بھی رہتے تھے۔ یہ میری پھپھو کی بیٹی کا ڈیرہ تھا۔

گیٹ کھلا تھا۔ میں اندر گئی تو دیکھا کہ میری پھپھو زاد بہن چارپائی پر پڑے ایک بچے کو دیکھ رہی تھیں اور ساتھ ہی ڈیرے پر کام کرنے والی خاتون بین کر رہی تھی۔ میں نے گھبرا کر پوچھا "آپا کیا ہوا ہے؟" آپا نے دہشت زدہ چہرے کے ساتھ مجھے بلایا۔ میں بھاگ کر پہنچی تو دیکھا کہ چار ساڑھے چار سالہ بچہ بے جان چارپائی پر پڑا ہے دیکھنے سے ہی پتہ چل رہا تھا کہ بچہ فوت ہو چکا ہے۔ جسم پر نہ سانپ کے کاٹنے کا کوئی نشان تھا، نہ کوئی زخم، مگر بچے کی رنگت پیلی تھی، اور ہونٹوں پر پانی اور پھٹے دودھ کے ذرات چپکے ہوئے تھے۔

میں نے روتی ماں سے پوچھا کہ کیا بچے نے الٹی کی تھی؟ وہ بولی بچہ کافی دیر سے سو رہا تھا، میں کاموں میں مصروف تھی۔ جب نظر پڑی تو لگا کہ بچے کی رنگت بدل گئی ہے اور وہ حرکت نہیں کر رہا۔ میں نے اٹھایا تو منہ سے تھوڑی الٹی نکلی۔ وہی پانی اور پھٹے دودھ جیسے ذرات فرش پر پڑے نظر آ رہے تھے۔ میں سمجھ گئی کہ بچے نے نیند میں الٹی کی ہے۔ لیکن چونکہ وہ گہری نیند میں تھا، گردن اٹھ نہ سکی۔ جھکی ہوئی گردن کی پوزیشن میں زور سے آنے والی الٹی سیدھی سانس کی نالی میں گئی اور پھیپھڑوں میں بھر گئی۔ اسے aspiration کہتے ہیں، اور یہ چند لمحوں میں موت کا سبب بن سکتا ہے۔ افسوس کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔

یہ واقعہ انتہائی دردناک تھا مگر میرے لئے اچھنبے کی بات تھی کہ کیا معمولی سی مگر بہت فائدہ مند جھلونگی ایسے بچے کی جان بھی لے سکتی ہے ۔

نیچے اس موضوع سے متعلق اہم طبی معلومات بھی شامل ہیں۔

چارپائی کے ساتھ بندھی بچوں کی جھلونگی دیکھنے میں تو آسان اور آرام دہ لگتی ہے لیکن حقیقت میں یہ نوزائیدہ بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ میں نے خود جھلونگی میں ایک بچے کی موت ہوتے دیکھی ہے اور اس کے بعد کبھی کسی کو یہ جھولا استعمال کرنے کا مشورہ نہیں دیا۔ جھلونگی میں بچے کو رکھا جاتا ہے تو اکثر اس کی ٹھوڑی نیچے جھک کر سینے سے لگ جاتی ہے۔ اس پوزیشن میں بچہ آہستہ آہستہ سانس نہیں لے پاتا اور بغیر کسی آواز کے اس کا سانس بند ہو سکتا ہے۔ یہ ایک خاموش موت ہے جسے دیکھنے والا سمجھتا رہتا ہے کہ شاید بچہ سو رہا ہے۔

ایک اور خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بچہ گہری نیند میں الٹی کر دے۔ چونکہ جھلونگی میں بچے کا سر ایک طرف جھک جاتا ہے اور کپڑا اردگرد ہوتا ہے، اس لیے الٹی سیدھی پھیپھڑوں میں چلی جاتی ہے جسے اسپائریشن کہا جاتا ہے۔ یہ چند لمحوں میں بچے کی جان لے سکتا ہے۔ دنیا بھر میں نرم، لٹکے ہوئے جھولوں کو نوزائیدہ بچوں کی نیند کے لیے غیر محفوظ قرار دیا جاتا ہے۔

WHO، UNICEF اور عالمی پیڈیاٹرک گائیڈ لائنز کے مطابق soft hammocks، کپڑے کے جھولے، hanging cradles بچوں کے لیے خطرناک ہیں۔ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کینیڈا، امریکا اور یورپ کے کئی ممالک میں یہ جھولے یا تو بین ہیں یا سخت وارننگ کے ساتھ فروخت ہوتے ہیں۔

اسی لیے بہتر یہ ہے کہ بچے کو ہمیشہ سیدھی، سخت سطح پر، پیٹھ کے بل، چہرہ کھلا رکھ کر سلایا جائے اور اس کے آس پاس کوئی ایسا کپڑا نہ ہو جو سانس کی راہ میں رکاوٹ بنے۔

جھلونگی آرام دہ ضرور لگتی ہے مگر ایک لمحے کی غفلت جان لے سکتی ہے۔ محفوظ طریقہ ہمیشہ وہی ہے جو دنیا بھر کے ماہرین تسلیم کرتے ہیں۔

#

Apney bachy me ase koi symptoms dekhei to doctor se mashwra kryeinDr Ayesha TariqConsultant pediatrician Rameen medical ...
19/11/2025

Apney bachy me ase koi symptoms dekhei to doctor se mashwra kryein
Dr Ayesha Tariq
Consultant pediatrician
Rameen medical complex Dr somia serwar clinic housing colony 1 rajjana road toba tek Singh
0310 6265036

12/11/2025
10/11/2025

اس کو ماسک پہنائیں
کلینک سے باہر نکلا تو آخری مریض بچے کے ابا اس کو بائیک پر آگے بٹھا کر جانے کے لئے تیار ہورہے تھے ،
میری نظر پڑی تو منہ سے بے اختیار نکلا اس کو ماسک پہنائیں
سر
یہ بار بار کیوں پسلی چلنے لگتی ہے روز کا سوال ،
خاص طور پر ستمبر سے دسمبر کے درمیان ،
کراچی میں دھول مٹی اور گاڑیوں کا دھواں ،
لاہور میں اسموگ
پھر یہ موسم بھی وائرل انفیکشنز کے پھیلنے کا موسم
دھول دھواں ، اسموگ جب ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے تو
پھیپھڑے/ لنگز اس کے مقابلے میں اپنا مدافعتی نظام عمل میں لاتے ہیں ،
جس میں وہاں یعنی لنگز میں بہت سارے کیمیکلز پہنچتے ہیں کہ اس باہر سے آنے والے جراثیم یا دھول مٹی ، اسموگ کا مقابلہ کرسکیں ،
ایسے میں سانس کی چھوٹی چھوٹی نالیوں میں تنگی ڈیولپ ہوتی ہے اور وہاں پر رطوبت بھی بڑھی جاتی ہیں ،
آپ نے کبھی فاؤنٹین پین کے ڈھکن میں سیٹی بجائی ہے ،
جب ایک تنگ جگہ سے ہوا گزرتی ہے جیسا کہ لنگز میں ہوتا ہے جب آپ کسی وائرس یا آلودگی والی ہوا میں سانس لیتے ہیں تو ،
اب آپ سوچیں بچے کے لنگز میں سانس لینے والی نالیوں کا سائز کیا ہوتا ہے ہماری سانس کی نالیوں کے مقابلے میں
جب بچے کی ان تنگ سانس کی نالیوں سے ہوا گزرتی ہے جہاں تنگی ہوگئی ہے اور رطوبت/ سیکریشن بھی زیادہ ہو گئی ہے تو بچے کو سانس لینے میں مشکل شروع ہو جاتی ہے اور اس کے سینے میں سے کھڑ کھڑ ، سیٹی کی سی آوازیں آنے لگتی ہیں ،
بچہ جب سانس کی تکلیف میں ہو تو فیڈ/ کھانا نہیں کھاتا اس کو نیچے بستر پر سیدھے لیٹنے میں بھی مشکل ہوتی ہے اور بے چین رہتا ہے ،
اگر وائرل انفیکشنز کی وجہ سے ایسا ہو تو بخار بھی ہوتا ہے ،
اب ایسے میں کرنا کیا چاہیے تو ڈاکٹر کے مشورے سے نیبولایئزر ٹریٹمنٹ ،بخار کے لئے پیراسٹامول ،
بعض اوقات اگر بہت خشک موسم ہے تو کمرے میں ہیموڈیفائر لگانے کی ضرورت ہوتی ہے
کھانسی چونکہ شدید ہو رہی ہوتی ہے اور بچہ تنگ تو والدین بھی خاصے پریشان
کھانسی اس بات کی علامت ہے کہ لنگز ان وائرسز یا آلودگی کے ذرات کو باہر نکالنا چاہ رہے ہیں اور نیبولایئزر ٹریٹمنٹ اس میں مددگار ، شروع میں کھانسی بڑھتی ہے اور پھر بہتر ہو جاتی ہے
چھوٹے بچے چونکہ کھنکھار نہیں سکتے اس لئے وہ ہماری طرح سینے میں پیدا ہونے والے بلغم کو نکال بھی نہیں سکتے ،
کھانسی کے شربتوں کی چھوٹے بچوں کی ٹریٹمنٹ میں کوئی ضرورت نہیں بلکہ بعض اوقات نقصان پہنچا سکتے ہیں
بار بار پسلی چلنے سے بچے کیسے بچائیں
بچوں کو پاؤڈر نہ لگائیں ،
بچوں کے سامنے جھاڑو نہ لگائیں
بچوں کے سامنے سگریٹ ، مچھر مار گلوب کا دھواں نہ ہو ، باربی کیو کا دھواں بھی ، گاڑیوں کا دھواں بھی
بچوں کے سامنے اسپرے نہ کریں ،
پرفیوم ، باڈی اسپرے ، روم اسپرے ، مچھر مار اسپرے وغیرہ وغیرہ
نئے رنگ و روغن کی تیز بو سے بھی یہ مسائل آ سکتے ہیں
گھر میں سے کارپٹ ھٹا دیں ،
پرندے اور جانور گھر کے اندر نہ پالیں یا بچوں کو ان سے دور رکھیں
سگریٹ کا صرف دھواں ہی نہیں اس کی کپڑوں میں بس جائے والی بو بھی خطرناک
احتیاط کریں گے تو ڈاکٹرز سے واسطہ کم پڑے گا ،
تکلیف سے بھی بچے گے اور خرچے سے بھی
Dr Ayesha Tariq
Consultant pediatrician
Rameen medical complex Dr somia serwar clinic housing colony 1 rajjana road toba tek Singh
Sham 4 se 6

📢 ہماری قوم کی بیٹیوں کے تحفظ کے لیے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے لیے ایچ پی وی ویکسینیشن مہم – 📅 15 تا 27 ستمبر 2025👧 9 تا 1...
16/09/2025

📢 ہماری قوم کی بیٹیوں کے تحفظ کے لیے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے لیے ایچ پی وی ویکسینیشن مہم –

📅 15 تا 27 ستمبر 2025
👧 9 تا 14 سال کی بچیوں کے لیے
📍 پہلے مرحلے میں, پنجاب، سندھ، اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر میں
💉 یہ ویکسین دنیا کے 149 ممالک بشمول سعودی عرب میں دی جا رہی ہے

🌸 صحت مند بیٹی، صحت مند گھرانہ 🌸

01/09/2025

👶 کیا بچے کی ناک دبانے سے ناک پتلی ہو جاتی ہے؟ 🤔

اکثر والدین یہ سمجھتے ہیں کہ اگر بچے کی ناک کو بار بار دبایا جائے تو ناک پتلی یا سیدھی ہو جائے گی۔ ❌ لیکن یہ ایک غلط تصور ہے۔ بچے کی ناک نرم ہڈی اور نازک کارٹیلیج پر مشتمل ہوتی ہے، جسے دبانے سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔

🚫 نقصانات

👉 ناک کی ہڈی یا کارٹیلیج ٹیڑھی ہو سکتی ہے۔
👉 سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔
👉 مستقل طور پر ناک کی ساخت خراب ہو سکتی ہے۔
👉 بچے کو درد اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

✅ صحیح بات

ناک کی اصل شکل قدرتی جینیاتی ساخت پر منحصر ہوتی ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ بچے کے بڑھنے پر واضح ہوتی ہے۔ اس لیے بچے کی ناک کو دبانے کی بجائے، اس کی صحیح نشوونما اور صحت پر توجہ دیں۔ 💖

یاد رکھیں! بچے کو خوبصورت بنانے کے لیے مصنوعی طریقے اپنانے کے بجائے، اس کی صحت مند پرورش پر توجہ دینا ہی والدین کی اصل کامیابی ہے۔ 🌸✨
Dr Ayesha Tariq
Consultant child speclist
Mbbs FCPS paeds medicine
PGPN Boston university america
CIGSKM Canada
Rameen medical complex Dr somia serwar clinic housing colony 1 rajjana road toba tek Singh
0310 6265036

Address

Rameen Medical Complex Housing Colony 1 Opposite To Katcheri Toba Tek Singh
Toba Tek Singh

Opening Hours

Monday 17:00 - 18:29
Tuesday 17:00 - 18:29
Wednesday 17:00 - 18:30
Thursday 17:00 - 18:30
Friday 17:00 - 18:29
Saturday 17:00 - 18:30

Telephone

+923106265036

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Ayesha Tariq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Ayesha Tariq:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category