Dr Subhan Ullah

Dr Subhan Ullah Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr Subhan Ullah, Mental Health Service, Toba Tek Singh.

ڈاکٹر سبحان انصاری
اسسٹنٹ پروفیسر سائیکائٹری/ ماہر نفسیات
(کلینک: فیصل آباد ،گوجرہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ)
سرگودھا کلینک Novocare Hospital
رابطہ نمبر 03004489579
Psychiatry and Psychology Clinic
تمام قسم کی نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے تشریف لائیں

سائنس بتاتی ہے کہ آپ کے بائیں جانب سونا ہاضمہ کو نمایاں طور پر بہتر کرتا ہے اور تیزابیت کو کم کرتا ہے۔ آپ کی رات کو سونے...
02/01/2026

سائنس بتاتی ہے کہ آپ کے بائیں جانب سونا ہاضمہ کو نمایاں طور پر بہتر کرتا ہے اور تیزابیت کو کم کرتا ہے۔

آپ کی رات کو سونے کی پوزیشن صرف آپ کے آرام کی سطح کا تعین کرنے سے زیادہ کرتی ہے۔ یہ اس بات میں اہم کردار ادا کرتا ہے کہ آپ کا جسم کس طرح خوراک پر کارروائی کرتا ہے اور تیزابیت کا انتظام کرتا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے بائیں جانب سونا ہاضمے کے لیے بہتر ہے کیونکہ یہ کشش ثقل کا استعمال کرتے ہوئے پیٹ کے تیزاب کو غذائی نالی سے نیچے رکھتا ہے۔ یہ جسمانی رجحان گیسٹرک جوس کے اوپر کی طرف بہاؤ کو روکتا ہے، مؤثر طریقے سے سینے کی جلن کی تعدد اور شدت کو کم کرتا ہے اور ساتھ ہی بڑی آنت کے ذریعے فضلہ کی قدرتی منتقلی میں مدد کرتا ہے۔

اس کے برعکس، آپ کے دائیں طرف کا انتخاب نادانستہ طور پر ہاضمہ کی تکلیف کو متحرک کر سکتا ہے۔ دائیں جانب لیٹنے پر، غذائی نالی کی نسبت معدہ کی پوزیشن تیزاب کے لیے اوپر کی طرف نکلنا آسان بناتی ہے، جس کے نتیجے میں اکثر GERD کا شکار ہونے والوں کے لیے ایک بے چین رات ہوتی ہے۔ جبکہ کچھ نظریات یہ بتاتے ہیں کہ دائیں طرف سونے سے فضلہ کی حرکت سست ہو سکتی ہے- ممکنہ طور پر اسہال کا انتظام کرنے والوں کے لیے ایک عارضی فائدہ ہوتا ہے- عام اتفاق یہ ہے کہ بائیں طرف طویل مدتی معدے کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے سونے کا معیار ہے۔

ماخذ: سنی، ای، اور ویاس، این (2023)۔ سونے کی بہترین پوزیشن۔ نیند فاؤنڈیشن۔

Science shows sleeping on your left side significantly improves digestion and reduces acid reflux.

Your nightly sleeping position does more than just determine your comfort level; it plays a critical role in how your body processes food and manages acidity. Research indicates that sleeping on your left side is superior for digestion because it utilizes gravity to keep stomach acid positioned lower than the esophagus. This physical orientation prevents the upward flow of gastric juices, effectively reducing the frequency and severity of heartburn while simultaneously assisting the natural transit of waste through the colon.

Conversely, opting for your right side may inadvertently trigger digestive distress. When lying on the right, the stomach's position relative to the esophagus makes it easier for acid to leak upward, often resulting in a restless night for those prone to GERD. While some theories suggest right-side sleeping might slow waste movement—potentially offering a temporary benefit for those managing diarrhea—the general consensus remains that the left side is the gold standard for maintaining long-term gastrointestinal health.

source: Suni, E., & Vyas, N. (2023). Best Sleeping Position. Sleep Foundation.

CARL GUSTAV JUNG — The Guardian of the Inner MirrorJung was not a psychologist.He was a man who descended so deep into h...
01/01/2026

CARL GUSTAV JUNG — The Guardian of the Inner Mirror

Jung was not a psychologist.

He was a man who descended so deep into his own soul that he brought back something the modern world has lost:

symbolic vision.

He didn't study the unconscious—
he lived with it.

He spoke with it.

He dialogued with inner figures as one converses with angels and demons.

And he perceived something that only those who have crossed portals recognize:

> The unconscious is not a machine.

It is a living temple.

Jung saw that, before we are individuals, we are heirs.

Heirs of symbols, fears, desires, forces that come from behind time.

He called them archetypes, but he could have called them by the name I give them:

forces, entities, memories, ancestors, fields.

For Jung, the inner world is not psychological—
it is spiritual, energetic, symbolic, mythical.

What he truly taught, and few realized, was this:

Your shadow is the portal to your strength.

Your wound is the altar where God speaks to you.

What you love reveals what you are destined to become.

What you fear reveals what you have not yet integrated.

The unconscious conspires for your evolution.

Nothing is chance. Nothing is random. Nothing is small.

Everything is a message. Everything is a map. Everything is a mirror.

And the man who does not interpret becomes a prisoner of his own life.

Jung didn't want us to understand.

He wanted us to see ourselves through him.

He wanted each man to find:

his archetype
his inner destiny
his guardian
his primal fear
his path of individuation
his work

That is why Jung is present on my path:

because my gaze is not psychological—
it is symbolic.

I do not analyze.

I recognize.

I don't interpret.

I see.

I don't follow what Jung called "the path to wholeness"—
which I call, with ancestral meaning,

the Path of the Work.

Jung's greatest revelation wasn't the collective unconscious.

It was this:

> "Only those who descend into the hell of their own soul
find the strength to touch heaven."

The denial of our shadow, such as: repressed desires, traumas, fears, suffocates the soul.

A suffocated soul becomes a symptom in the body.

"That which we do not confront in ourselves, we will find as our destiny" -- Carl Jung

Denying your shadows is remaining trapped in them; the patterns you repeat shape the destiny you find.

One can only be whole with all that we are.

The shadow, when understood as an essential part of the soul, "shadow and light," when consciously integrated, frees us from repetitive patterns that prevent us from advancing, growing, and evolving.

Helder Teixeira -- Abíran Olufé
The Man Who Sees

چیڈر مین: وہ چہرہ جس نے تاریخ کے تصور کو بدل دیالوگوں کا خیال تھا کہ وہ جانا پہچانا سا لگے گا۔ انہیں لگا کہ وہ موجودہ یو...
30/12/2025

چیڈر مین: وہ چہرہ جس نے تاریخ کے تصور کو بدل دیا
لوگوں کا خیال تھا کہ وہ جانا پہچانا سا لگے گا۔ انہیں لگا کہ وہ موجودہ یورپی باشندوں جیسا ہوگا، لیکن وہ غلط تھے۔
1903 میں، انگلستان کی 'چیڈر گورج' (Cheddar Gorge) نامی جگہ پر ایک غار کی گہرائی سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو ایک انسانی ڈھانچہ ملا۔ یہ ڈھانچہ قدیم تھا، اتنا قدیم کہ یہ 'اسٹون ہینج' کی تعمیر اور برطانیہ میں زراعت کے آغاز سے بھی پہلے کا تھا۔ کئی دہائیوں تک وہ صرف ایک دراز میں رکھی چند ہڈیاں تھیں۔ پھر سائنس نے اسے ایک چہرہ دیا۔ اسے "چیڈر مین" کا نام دیا گیا۔
چیڈر مین تقریباً 10,000 سال پہلے، میسولیتھک (Mesolithic) دور میں رہا کرتا تھا، جب برفانی دور کا ابھی ابھی خاتمہ ہوا تھا۔ وہ برطانیہ کے ابتدائی رہائشیوں میں سے ایک تھا۔ جب محققین نے اس کی کھوپڑی سے ڈی این اے (DNA) نکالا، تو انہیں ایک عام سے نتیجے کی توقع تھی، لیکن جو سامنے آیا اس نے سب کو حیران کر دیا۔ جینیاتی تجزیے سے معلوم ہوا کہ چیڈر مین کی جلد گہری (سانولی یا کالی) تھی، بال گہرے اور گھنگھریالے تھے، اور آنکھیں نیلی تھیں، یہ ایک ایسا مجموعہ ہے جو آج کے یورپ میں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔
جب اس کے چہرے کی تعمیرِ نو کی گئی تو عوام دنگ رہ گئے۔ یہ وہ سفید رنگت والا اور ہلکے بالوں والا انسان نہیں تھا جس کا تصور کیا جاتا تھا۔ وہ ایک ایسا شکاری تھا جس کی شکل و صورت نے نسل، ہجرت اور شناخت کے بارے میں جدید مفروضوں کو چیلنج کر دیا۔ چیڈر مین کے ڈی این اے نے ایک اور انکشاف بھی کیا: آج کے تقریباً 10 فیصد مقامی برطانوی باشندوں کا براہِ راست تعلق اس کے قبیلے سے ہے۔
اس کا مطلب ایک اہم سچائی تھی: برطانیہ کے قدیم ترین باشندے ویسے نہیں دکھتے تھے جیسا آج "برطانوی" ہونے کا مطلب لیا جاتا ہے۔ جلد کی سفید رنگت تو بہت بعد میں آئی، جب مشرقِ وسطیٰ سے کاشتکاری پھیلی اور انسانوں کے جینز نے سورج کی روشنی کی کمی کے مطابق خود کو ڈھالا۔
چیڈر مین کا قصہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری شناخت کوئی جمی ہوئی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ وہ ماضی کا ایک آئینہ ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہم سب کی جڑیں کتنی گہری اور متنوع ہیں۔

جینیاتی سائنس (Genetics): چیڈر مین کا ڈی این اے اس کی کان کی ہڈی (Petrous bone) سے نکالا گیا تھا۔ اس کے جینز سے معلوم ہوا کہ اس میں 'لیکٹوز انٹولرینس' (Lactose intolerance) تھی، یعنی وہ آج کے انسانوں کی طرح دودھ ہضم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا، کیونکہ یہ صلاحیت زراعت اور گلہ بانی کے بعد پیدا ہوئی۔
آنکھوں کا رنگ بمقابلہ جلد: یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ یورپ میں آنکھوں کا نیلا رنگ، جلد کے سفید ہونے سے پہلے ہی موجود تھا۔ یعنی قدیم یورپی باشندے گہری رنگت اور نیلی آنکھوں کے مالک تھے۔
قدرتی تحفظ: چیڈر مین کا ڈھانچہ اس لیے محفوظ رہا کیونکہ غار کا درجہ حرارت مستقل ٹھنڈا تھا اور اس میں کیلشیم کاربونیٹ کی مقدار زیادہ تھی، جس نے ہڈیوں کو گلنے سے بچایا۔

"The face that redefined history! 🦴 Ancient DNA reveals that the first Britons had dark skin and blue eyes, challenging everything we thought we knew about our ancestors. Identity isn’t fixed; it’s an evolving story. Meet 'Cheddar Man'—a 10,000-year-old mirror to our past."

30/12/2025
خوشی کا راز ارسطو کی نظر سے: کردار، توازن اور زندگی کی حقیقی خوشیارسطو نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب نکومیخی اخلاقیات میں لک...
30/12/2025

خوشی کا راز ارسطو کی نظر سے: کردار، توازن اور زندگی کی حقیقی خوشی

ارسطو نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب نکومیخی اخلاقیات میں لکھا ہے:
“خوشی کوئی ایسی چیز نہیں جو آپ کو باہر سے ملے، بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جسے انسان اپنی زندگی میں خود تخلیق کرتا ہے۔”
یہ الفاظ ڈھائی ہزار سال پرانے ہیں، مگر آج کے معاشرے میں انہیں پڑھتے ہوئے لگتا ہے کہ ارسطو بالکل ہمارے حالات، ہماری مصروف زندگی، اور ہمارے اندرونی تناؤ کو دیکھ کر بول رہا ہے۔ ہم ایک ایسے وقت میں جی رہے ہیں جہاں ہر طرف شور ہے. موبائل کی نوٹیفکیشنز کا شور، نوکری کی بے یقینی کا شور، خاندانی توقعات کا شور، اور ایک اندرونی بےچینی جو خاموشی میں اور بھی تیز ہو جاتی ہے۔
ہم نے خوشی کو باہر کی چیزوں سے جوڑ دیا ہے: زیادہ پیسہ، بڑی گاڑی، بہتر اسٹیٹس، سوشل میڈیا پر تعریف اور لائکس، اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ سب کچھ ہونے کے باوجود دل کیوں مطمئن نہیں۔

دوسری طرف ارسطو، وہ عظیم یونانی دانشور جس نے انسانی روح کی تہوں تک اتر کر غور کیا، ہمیں ایک کڑوی مگر زندگی بدل دینے والی حقیقت بتاتا ہے: خوشی، جسے وہ Eudaimonia کہتا ہے، کوئی منزل نہیں جہاں پہنچ کر انسان آرام سے بیٹھ جائے۔ یہ ایک مسلسل سفر ہے، جو اخلاقی توازن، روزمرہ عادتوں، اور شعوری انتخابوں سے جنم لیتا ہے۔
ارسطو کی کتاب Nichomdean Ethics بھی ایک بنیادی مگر طاقتور سوال سے شروع ہوتی ہے: انسانی زندگی کا اعلیٰ ترین مقصد کیا ہے؟ اور ارسطو کا جواب صاف اور بالکل واضح ہے:
ایک ایسی زندگی جو عقل، اخلاق اور شعور کے ساتھ گزاری جائے، جہاں انسان روزانہ تھوڑا سا بہتر بنتا چلا جائے۔

اسی بنیاد پر ارسطو کتاب میں تین ایسے ستون بیان کرتا ہے جو اگر مضبوط ہوں تو زندگی کی عمارت کھڑی رہتی ہے، اور اگر کمزور ہوں تو سب کچھ بکھر جاتا ہے۔ یہ ستون نہ صرف فلسفیانہ ہیں بلکہ عملی زندگی کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں، خاص طور پر ایسے معاشرے میں جہاں اخلاقی تھکن اور بےچینی عام ہے۔ میں انہیں سادہ اور مربوط انداز میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں تاکہ آپ انہیں اپنی زندگی میں جذبے، شعور اور عمل کے ساتھ اپنا سکیں۔

1. کردار: اتفاق نہیں، مسلسل مشق اور انتخاب کا نتیجہ
(Virtue as Habit)

ارسطو کتاب کے دوسرے باب میں واضح کرتا ہے کہ نیکی یا اخلاقی فضیلت کوئی فطری تحفہ نہیں ہے۔ ہم نیک پیدا نہیں ہوتے، بلکہ ہم نیک بنتے ہیں۔ اور یہ بننا کسی ایک لمحے کا کام نہیں، بلکہ مسلسل مشق اور شعوری انتخاب کا نتیجہ ہے۔ جیسے ایک موسیقار روزانہ پریکٹس کرتا ہے، ایک مستری روزانہ ایک ایک اینٹ چنتا ہے، ویسے ہی انسان بھی روزانہ کے عمل، فیصلوں اور عادات سے اخلاقی انسان بنتا ہے۔

ارسطو کہتا ہے:
"ہم بار بار انصاف کرنے سے انصاف پسند بنتے ہیں، بار بار اعتدال اختیار کرنے سے متوازن بنتے ہیں، اور بار بار بہادری دکھانے سے بہادر بنتے ہیں۔"
یہ بات ہمارے لیے سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ ہم اکثر سب کچھ "قسمت" یا "نصیب" کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔ مگر ارسطو ہمیں آئینہ دکھاتا ہے کہ تمہاری قسمت دراصل تمہاری روزمرہ عادتوں کا مجموعہ ہے۔

نفسیات بھی یہی کہتی ہے:
Repetition creates identity
جو عمل بار بار کیا جائے، وہی آپ کی شخصیت بن جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں رشوت، جھوٹ، اور شارٹ کٹس اس لیے عام ہیں کہ وہ بار بار کیے جاتے ہیں، اور یہ اعمال آخرکار کردار کا حصہ بن جاتے ہیں۔ مگر یہی اصول الٹا بھی کام کرتا ہے۔ اگر آپ آج سے چھوٹے اعمال بدلیں—مثلاً صبح اٹھ کر نماز ادا کرنا، پڑوسی کی مدد کرنا، کام میں ایمانداری کو ترجیح دینا تو یہ عادتیں آپ کے کردار کی اینٹیں بنیں گی۔

کتاب میں ارسطو یہ بھی بتاتا ہے کہ اخلاقی فضیلت Moral Virtue کے لیے Phronesis یعنی عملی حکمت درکار ہے۔ یہ وہ عقل ہے جو صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرتی ہے، اور ہمیں سکھاتی ہے کہ جو ہمارے اختیار میں ہے، اسے بہتر بنائیں۔
یہی بات سٹوئک فلاسفی سے بھی ملتی ہے:
جو چیز تمہارے اختیار میں ہے، اسے بہتر بناؤ، باقی کو حکمت کے ساتھ قبول کرو۔
یہی دانش ہمیں بتاتی ہے کہ کردار اتفاق نہیں، بلکہ روزانہ کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ اگر آپ یہ سمجھ لیں، تو آپ کی زندگی واقعی بہتر ہوگی اور آپ وہی بنیں گے جو آپ روز کرتے ہیں، نہ کہ جو آپ صرف سوچتے ہیں۔

2. سنہرا میانہ راستہ: انتہاؤں سے نجات اور توازن کی طاقت
(The Golden Mean)

ارسطو کے فلسفے میں دوسرا اہم ستون اعتدال اور توازن ہے۔ یہ خیال اُس کی کتاب کے تیسرے اور چوتھے باب میں بڑی تفصیل سے بیان ہوا ہے اور شاید یہی اُس کی سب سے طاقتور مگر اکثر غلط سمجھا جانے والا سبق ہے۔ ارسطو کہتا ہے کہ ہر اچھی عادت یا اخلاقی فضیلت دو انتہاؤں کے درمیان ایک نازک توازن ہے یعنی نہ زیادہ اور نہ کم، بلکہ درست حد پر ہونا۔

مثلاً بہادری نہ تو بزدلی ہے اور نہ ہی لاپرواہی۔ سخاوت نہ کنجوسی ہے اور نہ فضول خرچی۔ غصہ بھی اسی توازن میں آتا ہے: نہ تو بے حسی اور نہ ہی تشدد، بلکہ صحیح وقت اور صحیح جگہ پر صحیح اظہار۔

یہ بات ہماری پاکستانی گھریلو اور سماجی زندگی پر حیرت انگیز حد تک فٹ بیٹھتی ہے۔ ہم اکثر دو انتہاؤں میں پھنس جاتے ہیں:
یا تو سب کچھ برداشت کرتے رہتے ہیں اور اندر سے مر جاتے ہیں (جو بزدلی ہے)، یا ایک لمحے میں سب کچھ توڑ دیتے ہیں (جو حماقت ہے)۔
ہماری معیشت میں بھی یہی سچائی ہے:
کچھ لوگ سب کچھ اکٹھا کر لیتے ہیں (بخیلی)، اور کچھ سب لٹا دیتے ہیں (فضول خرچی)۔

ارسطو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مسئلہ جذبات نہیں، ان کے غیر متوازن اظہار میں ہے۔ جدید نفسیات بھی یہی کہتی ہے جسے Emotional Regulation کہا جاتا ہے یعنی جذبات کو دبانا نہیں بلکہ سمجھداری سے استعمال کرنا اور ذہنی سکون اور کامیابی کی بنیاد ہے۔

یہاں ایک اور بات بھی قابلِ غور ہے اور وہ یہ ہے کہ زندگی میں اعتدال کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور ہمیں نصیحت کی گئی ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں وسطیت اختیار کریں۔ اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ نہ کسی انتہا میں جا کر اپنے یا دوسروں کے لیے نقصان پیدا کریں، اور نہ ہی کمزوری یا غفلت اختیار کریں۔

اعتدال انسان کو انتہا پسندی اور لاپرواہی دونوں سے بچاتا ہے اور اس کے نتیجے میں روحانی، اخلاقی اور معاشرتی توازن قائم ہوتا ہے۔ یہ زندگی کے تمام امور جیسے عبادت، اخلاق، تعلقات، معیشت، اور جذبات میں اپنانا سب سے بہتر اور محفوظ طریقہ ہے۔ اعتدال اختیار کرنے سے نہ صرف زندگی پر سکون اور متوازن بنتی ہے بلکہ یہ ہمارے فیصلوں کو بھی زیادہ دانشمندانہ اور عملی بناتا ہے۔
اسی طرح، ارسطو کی تعلیمات میں بھی یہ واضح ہے کہ میانہ راستہ ہر شخص کے لیے مختلف ہو سکتا ہے۔ کوئی فکس فارمولا نہیں، بلکہ عملی حکمت، تجربے اور شعور سے یہ راستہ دریافت کیا جا سکتا ہے۔ یہی حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ توازن کمزوری نہیں، بلکہ اعلیٰ درجے کی ذہانت ہے۔ اگر آپ اسے اپنائیں تو آپ کی خاندانی زندگی، ذاتی جدوجہد اور معاشرتی تعلقات سب بدل جائیں گے۔

3. خوشی: نصیب نہیں، اخلاقی عمل اور روح کی اصلاح
(Happiness as Virtuous Activity)

تیسرا ستون ہے خوشی کی اصل حقیقت۔ ارسطو کے نزدیک خوشی کسی نتیجے یا نصیب کی چیز نہیں، بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ وہ فعل ہے جو اخلاقی فضیلت اور عقلی عمل کے مطابق ہو۔ پیسہ، شہرت یا حالات خوشی کے لیے کافی نہیں، بلکہ یہ آپ کے اعمال، عادتوں اور ردعمل سے جڑتی ہے۔

کتاب میں ارسطو خوشی کو دو اقسام میں تقسیم کرتا ہے:
اخلاقی فضیلتیں Moral virtues (جیسے سخاوت، بہادری)
اور عقلی فضیلتیں Intellectual Virtues (جیسے حکمت، علم)۔
خوشی تب ملتی ہے جب یہ دونوں آپ کی زندگی میں ایک ساتھ کام کریں۔ ایک غریب شخص بھی خوش رہ سکتا ہے اگر اس کے اعمال درست ہوں، اور ایک امیر شخص بھی ناخوش ہو سکتا ہے اگر اس کی روح خالی ہو۔
یہ بات پاکستان جیسے معاشرے میں زندگی بدلنے والی ہے، جہاں حالات اکثر ہمارے قابو میں نہیں ہوتے۔ ارسطو اور سٹوئک فلسفہ ایک ہی آواز میں کہتے ہیں:
جو تمہارے اختیار میں ہے—اعمال، ردعمل، اور عادتیں—ان پر کام کرو، اور باقی کو حکمت کے ساتھ قبول کرو۔ یہی اندرونی آزادی ہے اور یہی حقیقی خوشی۔

ہم اکثر اپنی زندگی کا بڑا حصہ ان چیزوں کے پیچھے گزار دیتے ہیں جو ہمارے قابو میں نہیں: سیاست کی تبدیلی، معیشت کی بہتری، یا کسی اور کی رائے۔ ارسطو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل طاقت اور خوشی اندر سے آتی ہے، اور یہ کسی بھی بیرونی حال یا صورتحال پر منحصر نہیں۔

اب ذرا رک کر خود سے سوچیں:

کیا آپ کی زندگی ایک بے سمت دوڑ ہے، یا ایک مقصد والا سفر؟
کیا آپ کی روزمرہ عادتیں آپ کو وہ انسان بنا رہی ہیں جو آپ بننا چاہتے ہیں؟
کیا آپ توازن کے راستے پر ہیں، یا انتہاؤں میں پھنسے ہوئے ہیں؟
کیا آپ خوشی کو باہر تلاش کر رہے ہیں، یا اسے جینے کی مشق کر رہے ہیں؟

مختصراً یہ کہ Nichomdean Ethics کوئی فلسفیانہ لیکچر نہیں، یہ زندگی گزارنے کا عملی دستور ہے. خاص طور پر ایسے
معاشرے کے لیے جو اخلاقی تھکن اور بےچینی کا شکار ہے۔

اگر اس تحریر سے آپ نے کچھ سیکھا یا تحریر پسند آئی تو اسے شیئر کریں تاکہ کوئی اور بھی یہ سچائی جان سکے کہ خوشی باہر نہیں، کردار اور عمل کے اندر چھپی ہوتی ہے۔

زندگی میں دو باتوں کا کہنا حقیقی طور پر مشکل ہے۔ کسی اجنبی کو پہلی دفعہ "مخاطب کرنا" اور جس سے واقعی محبت ہو اسے "خداحاف...
30/12/2025

زندگی میں دو باتوں کا کہنا حقیقی طور پر مشکل ہے۔ کسی اجنبی کو پہلی دفعہ "مخاطب کرنا"
اور جس سے واقعی محبت ہو اسے "خداحافظ" کہنا۔

شطرنج کے پہلے دس مراحل کھیلنے کے لیے 170 اوکٹیلین طریقے موجود ہیں…شطرنج میں وہ حکمت عملی کی گہرائی ہے جسے انسانی دماغ کب...
30/12/2025

شطرنج کے پہلے دس مراحل کھیلنے کے لیے 170 اوکٹیلین طریقے موجود ہیں…
شطرنج میں وہ حکمت عملی کی گہرائی ہے جسے انسانی دماغ کبھی مکمل طور پر سمجھ نہیں سکتا۔
ہر شطرنج کے مقابلے کا آغاز ایک بظاہر سادہ انتخاب
سے ہوتا ہے: سفید کے پاس صرف 20 ممکنہ افتتاحی حرکات ہیں۔ تاہم، یہ سادگی تقریباً فوراً غائب ہو جاتی ہے۔ جب ہر کھلاڑی اپنی پہلی باری کھیلتا ہے، تو بورڈ پہلے ہی 400 مختلف صورتوں میں موجود ہو سکتا ہے۔
جب دونوں طرف سے صرف دو بار حرکت ہو چکی ہو، تو پیچیدگی 197,742 ممکنہ مناظر تک پہنچ جاتی ہے، جو "شاہی کھیل" کی اس لگاتار بڑھتی ہوئی جیومیٹری کو ظاہر کرتی ہے اور دنیا کے سب سے طاقتور سپر کمپیوٹرز کے لیے بھی ایک چیلنج بن جاتی ہے۔
اس پیچیدگی کا حقیقی حجم تب ناقابلِ فہم ہو جاتا ہے جب کھیل اپنے دسویں مرحلے تک پہنچتا ہے۔ اس مرحلے پر ممکنہ پوزیشنز کی تعداد حیران کن 170 اوکٹیلین تک پہنچ جاتی ہے—ایک اتنی وسیع تعداد کہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ شطرنج ریاضی دانوں اور گرینڈ ماسٹرز کے لیے ہمیشہ ایک لامحدود مطالعے کا میدان رہا ہے۔ یہ ہندسوں میں اضافہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ صرف 64 خانوں میں وہ حکمت عملی کی کائنات چھپی ہوئی ہے جسے انسانیت نے ابھی تک مکمل طور پر نقشہ نہیں بنایا، اور یہ ثابت کرتا ہے کہ ہر کھیلا جانے والا کھیل ممکنہ طور پر دنیا کی تاریخ میں منفرد ہوتا ہے۔
ماخذ: Allis, L. V. (1994). Searching for Solutions in Games and Artificial Intelligence. University of Limburg.

★دو مرتبہ نوبل پرائز حاصل کرنے والی مادام کی کہانی ایک مرتبہ پھر پڑھیں۔۔۔۔پولینڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک غریب لڑکی ...
30/12/2025

★دو مرتبہ نوبل پرائز حاصل کرنے والی مادام کی کہانی ایک مرتبہ پھر پڑھیں۔۔۔۔

پولینڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک غریب لڑکی رہتی تھی‘ اس کا نام مانیا سکلوڈو وسکا تھا‘ وہ ٹیوشن پڑھا کر گزر بسر کرتی تھی‘19 برس کی عمر میں وہ ایک امیر خاندان کی دس سال کی بچی کو پڑھاتی تھی‘ بچی کا بڑا بھائی اس میں دلچسپی لینے لگا‘ وہ بھی اس کی طرف مائل ہوگئی چنانچہ دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا لیکن جب لڑکے کی ماں کو پتہ چلا تو اس نے آسمان سر پر اٹھا لیا‘ اس نے مانیا کو کان سے پکڑا اور پورچ میں لا کھڑا کیا‘اس نے آواز دے کر سارے نوکر جمع کئے اور چلا کر کہا ‘ دیکھو یہ لڑکی جس کے پاس پہننے کیلئے صرف ایک فراک ہے‘ جس کے جوتوں کے تلوئوں میں سوراخ ہیں اور جسے 24 گھنٹے میں صرف ایک بار اچھا کھانا نصیب ہوتا ہے اور وہ بھی ہمارے گھر سے‘ یہ لڑکی میرے بیٹے کی بیوی بننا چاہتی ہے‘ یہ میری بہو کہلانے کی خواہش پال رہی ہے‘‘ تمام نوکروں نے قہقہہ لگایا اور خاتون دروازہ بند کر کے اندر چلی گئی‘ مانیا کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے اوپر تیزاب کی بالٹی الٹ دی ہو‘ وہ توہین کے شدید احساس میں گرفتار ہوگئی اور اس نے اسی پورچ میں کھڑے کھڑے فیصلہ کیا وہ زندگی میں اتنی عزت‘ اتنی شہرت کمائے گی کہ پورا پولینڈ اس کے نام سے پہچانا جائے گا۔
یہ 1891ء تھا‘ وہ پولینڈ سے پیرس آئی‘ اس نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور فزکس پڑھنا شروع کردی‘ وہ دن میں 20 گھنٹے پڑھتی تھی‘ اس کے پاس پیسہ دھیلا تھا نہیں جو کچھ جمع پونجی تھی وہ اسی میں گزر بسر کرتی تھی‘ وہ روز صرف ایک شلنگ خرچ کرتی تھی‘ اس کے کمرے میں بجلی‘ گیس اور کوئلوں کی انگیٹھی تک نہیں تھی‘ وہ برفیلے موسموں کی راتیں کپکپا کر گزارتی تھی‘ جب سردی برداشت سے باہر ہو جاتی تھی تو وہ اپنے سارے کپڑے نکالتی تھی‘ آدھے بستر پر بچھاتی تھی اور آدھے اوپر اوڑھ کر لیٹ جاتی تھی‘ پھر بھی گزارہ نہ ہوتا تو وہ اپنی ساری کتابیں حتیٰ کہ اپنی کرسی تک اپنے اوپر گرا لیتی تھی‘ پورے پانچ برس اس نے ڈبل روٹی کے سوکھے ٹکڑوں اور مکھن کے سوا کچھ نہ کھایا‘ نقاہت کا یہ عالم ہوتا تھا وہ بستر پر بیٹھے بیٹھے بے ہوش ہو جاتی تھی لیکن جب ہوش آتا تھا تو وہ اپنی بے ہوشی کو نیند قرار دے کر خود کو تسلی دے لیتی تھی‘ وہ ایک روز کلاس میں بے ہوش ہوگئی‘ ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کرنے کے بعد کہا‘ آپ کو دواء کی بجائے دودھ کے ایک گلاس کی ضرورت ہے‘ اس نے یونیورسٹی ہی میں پائری نام کے ایک سائنس دان سے شادی کر لی تھی‘
فرانسیسی سائنسدان پیئر کیوری سے شادی کے بعد اپنا نام میری کیوری (Marie Curie) رکھ لیا۔
وہ سائنس دان بھی اسی کی طرح مفلوک الحال تھا‘ شادی کے وقت دونوں کا کل اثاثہ دو سائیکل تھے‘ وہ غربت کے اسی عالم کے دوران پی ایچ ڈی تک پہنچ گئی‘ مانیا نے پی ایچ ڈی کیلئے بڑا دلچسپ موضوع چنا تھا‘ اس نے فیصلہ کیا وہ دنیا کو بتائے گی یورینیم سے روشنی کیوں نکلتی ہے‘ یہ ایک مشکل بلکہ ناممکن کام تھا لیکن وہ اس پر جت گئی‘ تجربات کے دوران اس نے ایک ایسا عنصر دریافت کر لیا جو یورینیم کے مقابلے میں 20 لاکھ گنا روشنی پیدا کرتا ہے اور اس کی شعاعیں لکڑی‘ پتھر‘ تانبے اور لوہے غرض دنیا کی ہر چیز سے گزر جاتی ہیں‘ اس نے اس کا نام ریڈیم رکھا‘ یہ سائنس میں ایک بہت بڑا دھماکہ تھا‘ لوگوں نے ریڈیم کا ثبوت مانگا‘ مانیا اور پائری نے ایک خستہ حال احاطہ لیا جس کی چھت سلامت تھی اور نہ ہی فرش اور وہ چار برس تک اس احاطے میں لوہا پگھلاتے رہے‘ انہوں نے تن و تنہا 8 ٹن لوہا پگھلایا اور اس میں سے مٹر کے دانے کے برابر ریڈیم حاصل کی‘ یہ چار سال ان لوگوں نے گرمیاں ہوں یا سردیاں اپنے اپنے جسموں پر جھیلیں‘ بھٹی کے زہریلے دھوئیں نے مانیا کے پھیپھڑوں میں سوراخ کر دیئے لیکن وہ کام میں جتی رہی‘ اس نے ہار نہ مانی یہاں تک کہ پوری سائنس اس کے قدموں میں جھک گئی۔ یہ ریڈیم کینسر کے لاکھوں کروڑوں مریضوں کیلئے زندگی کا پیغام لے کر آئی‘ہم آج جسے شعائوں کا علاج کہتے ہیں یہ مانیا ہی کی ایجاد تھی‘اگر وہ لڑکی چار سال تک لوہا نہ پگھلاتی تو آج کیسنر کے تمام مریض مر جاتے‘ یہ لڑکی دنیا کی واحد سائنس دان تھی جسے زندگی میں دوبار نوبل پرائز ملا‘ جس کی زندگی پر 30 فلمیں اور سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں اور جس کی وجہ سے آج سائنس کے طالب علم پولینڈ کا نام آنے پر سر سے ٹوپی اتار دیتے ہیں۔

نفسیات کلینک فیصل آباد ڈاکٹر سبحان انصاری اسسٹنٹ  پروفیسر سائیکائٹری فیصل آباد بڑے رابطہ 0300-4489579
28/12/2025

نفسیات کلینک فیصل آباد
ڈاکٹر سبحان انصاری
اسسٹنٹ پروفیسر سائیکائٹری فیصل آباد
بڑے رابطہ
0300-4489579

28/12/2025
"میرے پاس پوری دنیا ہے، پر تمہارے بغیر وہ دنیا ادھوری ہے,تمھارے بچھڑنے پر میری اس چرواہے جیسی حالت تھی جو سب کچھ چھوڑ کر...
28/12/2025

"میرے پاس پوری دنیا ہے، پر تمہارے بغیر وہ دنیا ادھوری ہے,
تمھارے بچھڑنے پر میری اس چرواہے جیسی حالت تھی جو سب کچھ چھوڑ کر ایک گم شدہ بھیڑ کو ڈھونڈتا ہے."

Address

Toba Tek Singh
36000

Opening Hours

Monday 16:00 - 20:00
Tuesday 16:00 - 20:00
Wednesday 16:00 - 20:00
Thursday 16:00 - 20:00
Friday 18:00 - 20:00

Telephone

+923004489579

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Subhan Ullah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Subhan Ullah:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram