لیجنڈری پلیئر محمد یوسف کا اپنے تازہ انٹرویو میں کہنا ہے کہ سعید انور بھائی بہت عرصے سے میرے پیچھے پڑے تھے روزانہ صبح کا میسج شام کو میسج کرنے رہتے تھے لیکن مجھے یہ بالکل بھی معلوم نہیں تھا کہ سعید انور مجھ سے لگتار رابطے میں کیوں رہتے ہے ایک موقع پر میں نے سعید انور کو کرسمس کے دن اپنے گھر میں دعوت دی جس کو سعید انور نے قبول کیا اور ہمارے گھر وہ تشریف لائے کافی گپ شپ کے بعد میں نے گھر کے ملازم کو کہا کہ آپ جاکر ریسٹورنٹ سے کھانا لیکر آنا جس پر سعید بھائی نے مجھے کہا کیا آپ کے گھر کھانا نہیں پکاہے آپ کی عید ہے تو میں نے کہا پکا تو بہت ہے لیکن آپ مسلمان ہے اور گھر میں کھانے میری اہلیہ خود بناتی ہے میں نےسنا ہے کہ مسلمان غیر مسلم کے ہاتھ کا بنایا کھانا نہیں کھاتے جس پر سعید انور نے تعجب کا اظہار کیا اور مجھے کہا کہ یہ آپ کو کس نے کہا ہے اسلام میں ایسی کوئی بات نہیں ہےگھر کا کھانا لے آو میں نے گھر کا کھانا لایا اور ہم نے اکھٹے بیٹھ کر کھانا کھالیا اور سعید انور چلے گئے اس کے بعد میں نے اسلام کے بارے میں مطالعہ شروع کردیا ایک دن میں نے سعید بھائی سے ترجمہ والا قرآن مانگ لیا جس پر سعید انور بہت خوش ہوئے اور پھر خود ترجمہ والا قرآن لیکر آیا اور میں نے مطالعہ شروع کردیا اس دوران چھ ماہ کا ٹائم گزار گیا لیکن قرآن کا مطالعہ کرنے کے بعد میرا یقین ہوگیا تھا یہ کوئی عام کتاب نہیں ہے میری اہلیہ بھی میرے ساتھ مطالعہ میں شریک ہوتی تھی اور پھر ہم نے مشورہ کیا سعید انور کیساتھ رابطہ کیااور اسلام میں داخل ہوئے یہ فیصلہ بہت مشکل تھا کیونکہ ہمیں یہ معلوم تھا کہ اس کےبعد ہمارے خاندان والے ہمیں چھوڑ دیں گے اور جب ہم نے کلمہ پڑھا ہمیں پورے خاندان نے چھوڑ دیا ہمارے ساتھ ہرقسم کے تعلقات ختم کردیئے لیکن سعید بھائی نے مجھے کہا تھا کہ ایک دن آپ کے خاندان والے اسلام لائیں گے آپ ثابت قدم رہو اور پھر وقت کیساتھ ساتھ میرے بھائی اور دیگر قریبی رشتہ دار بھی مسلمان ہوگئے
الله أكبر الله أكبر
05/03/2026
جتنے بھی ہماری بہن بھائی ہیں سب کو چاہیے کہ درزیوں کا پیسہ پورا اور ٹایم پر ادا کریں ۔۔
ایک درزی کا فریاد ۔۔۔
میں نے درزی کا پیشہ چھوڑ دیا
سالوں تک میں نے دوسروں کے لیے خوبصورت کپڑے سلے، ان کی خوشیوں میں حصہ لیا، مگر اپنی زندگی کی سلائی کبھی سیدھی نہ کر سکا۔ دن رات محنت کی، وقت پر کام دیا، لیکن ادھار اور وعدوں نے کمر توڑ دی۔
گاہک کپڑے لے جاتے تھے، پیسے بعد میں دینے کا کہہ کر۔ گھر کے خرچے، دکان کا کرایہ اور سامان کی ادائیگیاں بڑھتی رہیں۔ میں دوسروں کے عید کے کپڑے سیتا رہا، مگر اپنے بچوں کی خواہشیں ادھوری رہ گئیں۔
آج دل بھاری ہے، مگر فیصلہ کر لیا ہے۔ کبھی کبھی عزت اور سکون کے لیے انسان کو اپنا ہنر بھی چھوڑنا پڑتا ہے۔
دعا کریں، آگے کا سفر بہتر ہو
05/03/2026
یہ ہمارے ہاسٹل کے میس میں کام کرنے والا قیصر علی ہے۔ اس کا تعلق لنڈی کوتل سے ہے۔ سحری کے وقت جب طلبہ کو کھانا دیا جائے تب یہ آخر میں کھاتا ہے لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے شاید یہ پیٹ بھر کر نہیں کھا سکے۔ اسی طرح افطاری کے وقت بھی یہ صرف ایک پکوڑے سے روزہ کھولتا ہے اور پھر خالی پیٹ طلبہ کو کھانا دیتاہے۔ آخر میں جاکر یہ خود کھاتا ہے۔ ابھی اس کی مونچھیں بھی نہیں آئے ہیں اور یہ اپنے گھر کی کفالت کے لیے گھر سے دور رزق کی تلاش میں نکل پڑا ہے۔ یہ صرف ایک قیصر علی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ بچپن میں رزق کی تلاش میں نکل جاتے ہیں اور بوڑھے ہونے یہاں تک کے مرنے تک ہر سخت کام کرتے ہیں۔ یہ قیصر علی جیسے لوگ ہی ہیں جو اپنی زندگی کی قربانی دےکر خاندانوں اور معاشروں کو جوڑتے ہیں۔ مردوں کی قربانی کو ہم نظر انداز نہیں کرسکتے ورنہ یہ بہت بڑی ظلم ہوگی۔ اگر کوئی قیصر علی سے تعاون کرنا چاہتا ہے تو وہ مجھے سے رابطہ کرسکتا ہے اور میں اس کا قیصر علی سے رابطہ کروا سکتا ہوں۔
We can't ignore the struggle and hard work of men in our society.
04/03/2026
04/03/2026
کیسی کو بھی اتنا مجبور نہیں کرو کہ اللّہ کے سامنے وہ آپکی شکایت کریں رمضان کی مقدس مہینے کی حاطر ۔۔۔
03/03/2026
زندگی کے دو رخ ہیں کسی کہ لیئے حسین ہے یہ کسی کہ لیئے روگ ہے یہ لیکن مکمل نہیں ہے کسی کہ لیئے بھی زندگی میں کہیں نہ کہیں کمی رہ ہی جاتی ہے ۔۔میری ایک کزن ہے اس کہ پاس دنیا کی ہر خوشی ہے محبت کرنے والا شوہر پیار کرنا والے ابو بھائی پیسہ بھی ہے لیکن اس کی زندگی کی کمی ہے کہ اولاد نہیں اس کی شادی کہ دس سال بعد بھی اسی طرح ایک اور کزن ہے میری انہوں نے والدین کہ بغیر بہت سخت ٹائم دیکھا سخت سے مراد وسائل نہیں تھے خواب خواہشات پورے نہیں ہو سکتے تھے پھر شادی ہوئی اللّٰہ پاک نے محبت کرنے والا شوہر تو دیا لیکن سسرال والے سخت وقت دینے لگے پھر شادی کہ۔ ایک سال کہ اندر بھائی کو فالج ہو گیا ان کہ دماغ کی رگیں بلوک ہو گئی اب وہ بول نہیں پاتے چل نہیں پاتے مختصر یہ کہ زندگی کبھی مکمل نہیں ملتی ۔۔پھر بات ہے اللّٰہ کی طرف سے کسی میں برداشت کی طاقت ہوتی ہے کوئی نہیں برداشت کر سکتا آج کا وقت ایسا ہے کہ اگر کسی سے کچھ شئیر کیا جائے تو گنہگاروں کے لیے اب مولوی ہیں اور مولویوں کے لیے سب گنہگار لوگ کہتے ہیں کہ اپنے آپ سے ساری خوشیاں وابستہ کر لو ۔۔لیکن ایک سوال ہے میرا کہ اگر انسان کے لیے انسان ضروری نہیں ہوتا تو اللّٰہ پاک دلوں میں رحم کیوں ڈالتا ہے؟ کیا اتنا آسان ہے فیملی فرینڈز میں رہ کر صرف اپنی ذات تک محدود رہنا ؟
Written by dark life 🖤
03/03/2026
ٹک ٹاک ویڈیوز نے ایک اور معصوم انسان کی جان لے لی مذاق مذاق میں پستول نکال کر گولی چلا دی گولی چلانے والے کا تعلق پولیس سے ہیں اور قتل ہونے والے کا نام جاوید مانڈری ہیں ہزارے کا رہنے والا تھا ۔۔۔
02/03/2026
مانچسٹر سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ ڈلیوری ڈرائیور رانا جہانگیر نے ایک خاتون کے گھر کھانا پہنچانے کے بعد اس پر اس کے دروازے پر ہی جنسی حملہ کیا۔ پولیس کے مطابق اس نے خاتون کو پیچھے سے پکڑ کر ایک منٹ سے زیادہ وقت تک زبردستی گلے لگایا اور بوسے دیے، جبکہ خاتون بار بار اسے سٹاپ سٹاپ رکنے کا کہتی رہی مگر جناب نے شاید گندی فلمی زیادہ دیکھ۔رکھ تھیں اس لیئے بےقابو ہو کر گوری پر بھوکے شیر کی طرح حملہ آور ہو گئے اور حملہ کرتے وقت یہ بھول گئے کہ گورے اپنے مین دروازے کے اوپر کیمرا لگاتے ہیں۔ خیر جب بات نہ بنی تو جناب وہاں سے بھاگ گئے
خاتون نے پہلے صرف ڈلیوری کمپنی کو شکایت کی تھی اور پولیس کو اطلاع نہیں دی تھی، لیکن بعد میں دوستوں سے بات کرنے کے بعد اس نے پولیس سے رابطہ کیا۔ جہانگیر کو گرفتار کیا گیا، اور اس نے دعویٰ کیا کہ سب کچھ باہمی رضامندی سے ہوا تھا، مگر واقعہ گھر کے کیمرے میں ریکارڈ ہو چکا تھا۔
چیسٹر کراؤن کورٹ میں مقدمے کے بعد اسے جنسی حملے کا مجرم قرار دے کر دو سال چار ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ اسے 10 سال کے لیے سیکس آفینڈرز رجسٹر میں بھی شامل کیا گیا ہے اور متاثرہ خاتون سے رابطہ کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
ایسے واقعات سے ہم پاکستانیوں کو یہ سبق لینا چاہیئے کہ اگر کوئی خاتون اگر مسکرا کر بات کرے یا فری ہو کر بات کرے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ بدکردار ہو گئی اور اگر ہے بھی تو آپ کو اپنے آپکو ایسے حالات سے دور رکھیں اور خاص کر دوسرے ممالک میں جہاں آپ روزی کماتے ہیں
اور معاشرے میں تو خواتین کو چاہیئے کہ گھر کے دروازے پر اجنبیوں سے فاصلہ رکھیں۔
ڈلیوری لینے کے وقت دروازہ مکمل کھولنے کے بجائے چین لاک یا حفاظتی گرل کا استعمال بہتر ہے۔
⚖️ اور اگر کوئی شخص ہراسانی یا زیادتی کا نشانہ بنے تو خاموش رہنا مسئلہ بڑھاتا ہے فوری طور پر شکایت کرنا اور قانونی مدد لینا ضروری ہے۔
Source: Manchester Evening News
02/03/2026
کوئی فیس بک ایکسپرٹ ہیں یہاں کیا ؟
میری پیچ موناٹایز ہوسکتی ہیں کہ نہیں ؟
Monotization
02/03/2026
ہماری اوقات کی اس سے بڑی دلیل کوئی نہیں کہ ہمیں خاک کے اندر دبا دیا جائے گا اور یہ کام ہمارے عزیزوں سے کروایا جائے گا
Be the first to know and let us send you an email when Dr Tahira arif posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.