08/04/2026
میٹیریا میڈیکا کو کیسے سمجھا جائے۔۔۔
قسط نمبر 3.. (ہومیوپیتھک ڈاکٹر صداقت ریاض)
(1). پہلی چیز جس کا جاننا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہے ادویات کا تاریخی پس منظر۔۔! جب ہم ایک نئی دوا کا مطالعہ کرتے ہیں تو سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کا سورس/ماخذ کیا ہے ؟ یہ حیوانات سے اخذ کی گئی ہے یا معدنیات سے ، پودوں سے تعلق رکھتی ہے یا پھر نوسوڈ یا سارکوڈ سے ؟ اسکی تیاری کیسے ہوتی ہے؟ پھر اس دوا کے روایتی (ایلوپیتھک اور حکمت ) طریقوں میں استعمال کا جائزہ لیتے ہیں کہ ان طریقہ علاج میں اسکو کیسے اور کن امراض کے لئیے استعمال کراتے ہیں۔۔۔ تاکہ آپ کے ذہن میں دوا کے تاریخی پس منظر کا عکس بن جائے ۔۔چونکہ ہماری ادویات میں سے دو تہائی ادویات کو پودوں سے حاصل کیا جاتا ہے اس لئیے ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر کو جڑی بوٹیوں کا ماہر بھی ہونا چاہیے تاکہ آپ پودوں کو جان سکو ۔۔۔۔!
(2). دوسری بات جس کا جاننا ہمارے لئے جاننا ضروری ہے۔
وہ یہ ہے کہ یہ دوا ہمارے جسم پر کیا حیاتیاتی اثر چھوڑتی ہے ؟؟؟ یہ ہمارے جسم کے اعضاء کی فزیالوجی کو کیسے متاثر کرتی ہے؟؟ اس میں علم سمیات (Toxicology ) کا جاننا بھی شامل ہے۔ یہ ضروری ہے کہ اگر اس دوا کا مادہ کسی زہریلے مادے سے حاصل کیا گیا ہے (خاص کر جب آپ چھوٹی پوٹینسی یا مدر ٹنکچرکا استعمال کراتے ہیں) تو آپ کو اس کے زہریلے اثرات کا بھی مکمل ادراک ہو تا کہ آپ کے علم میں ہو کہ آپ مریض کو کیا دینے جا رہے ہیں اور اس کے اچھے برے اثرات کہاں تک جا سکتے ہیں کیونکہ ایسی ادویات ایک مخصوص پوٹینسی سے نیچے زہریلی ہی رہتی ہیں مثلاً ایکونائٹ، نکس وامیکا، آرسینک البم وغیرہ وغیرہ!
میں نے کسی بھی زہریلی دوا کو زہریلی حالت (اسکی پوٹینسی سے نیچے جہاں ابھی زہریلا مادہ موجود ہو) میں استعمال نہیں کیا۔ میں نے ان کا استعمال ٹنکچر کے بجائے
3x ,6x ، 3c ،6c
وغیرہ میں کیا ۔ ہومیوپیتھی میں ہمیں چاہیے کہ ہم زہریلی ادویات کو ٹنکچر کی شکل میں استعمال نہ کریں ۔
(3). دوا کے متعلق جس چیز کا جاننا تیسرے نمبر پر آتا ہے۔
وہ دوا کے استعمال کا طریقہ ہے۔انکے لئیے میرے پاس فائلز ہیں(جن سے اب تک دو تین دراز بھر چکے ہیں )جب میں اس دوا کے متعلق کچھ پڑھتا ہوں تو اسے ان فائلز میں لکھ لیتا ہوں اور ساتھ ہی وہ کیس بھی درج کر لیتا ہوں جن میں اس کا استعمال کیا گیا تھا۔۔ اس ترکیب سے آپ دواؤں سے متعلق اپنی معلومات محفوظ کر سکتے ہیں۔ اس بات کا قائل ہوں کہ آپ اپنے گھر کی بنیاد اس میٹیریل پر رکھیں جو کہ آپ کے پاس موجود ہے نہ کہ مانگی ہوئی چیزوں پر۔۔۔ اس لئیے میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے پاس موجود کلینیکل معلومات کی بنیاد پر کیس حل کروں نا کہ دوسروں سے ایسی معلومات لیکر جن کا نہ تو میں نے مشاہدہ کیا ہو اور نہ تجزیہ۔۔!
(4). دوا کے استعمال کرانے کے طریقہ کارکو جاننے کے بعد اگلا مرحلہ دوا میں موجود Etiology جاننے کا آتا ہے۔
یہ بہت ہی اہم ہے ۔اگر آپ کسی دوا کا علم رکھتے ہیں تو آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ یہ کسی تندرست جسم میں کیا تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ اگر آپ کوئی کیس لے رہے ہیں اور آپ کے مریض کی علامات ایسڈ فاس یا سٹافی سیگریا یا اگنیشیا وغیرہ سے ملتی جلتی ہیں تو سب سی پہلے آپ دوا کے "کی نوٹس" پر توجہ دے کر اس دوا تک پہنچ سکتے ہیں۔ جب آپ کو کسی کیس میں تکلیف کی وجہ معلوم ہو جاتی ہے تو ہر چیز کیس کے تجزئیے کے سیاق و سباق میں آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔۔۔
(5) اس سلسلے کا پانچواں مرحلہ دوا کے متعلق اس کا تصوراتی خاکہ جاننے کا ہے۔
ڈاکٹر دھاول نے اسے
Conceptual image
کا نام دیا ہے۔اسے ہم دوا کے متعلق جنرل علم کہہ سکتے ہیں۔ جارج وتھالکس نے اسے "دوا کا جوہر Essence of remedy " کا نام دیا ہے۔۔۔ جس بات پر میں آپ کی توجہ مرکوز کروانا چاہتا ہوں کہ اس کا مطلب صرف فزیالوجیکل باتوں کا تذکرہ نہیں بلکہ یاد رکھیں دوا کا اصل جوہر اس کی مرکزی علامات اور انکی اہمیت کا جاننا ہے ۔جسے ہم دوا کے مخصوص خدوخال بھی کہہ سکتے ہیں۔ کسی بھی دوا کا مرکزی خیال انسانی جسم کے کسی مخصوص حصے میں نظر آ سکتا ہے۔۔۔ کسی دوا کا مرکز انسانی ذہن ہو سکتا ہے،کسی دوا میں جذبات اور کسی دوا میں جسمانی ساخت۔۔۔۔۔۔۔!
لہذا آپ لئے ضروری ہے کہ آپ دوا کے جذباتی ، جسمانی اور ذہنی اہمیت کی حامل مرکزی تصور میں لائی جانے والی علامتی تبدیلیوں کو بخوبی جانتے ہوں یا پھر یہ کہ آپ کے پاس دوا کے متعلق ایسے تمام موضوع موجود ہوں جو جسم انسانی کے مندرجہ بالا تینوں مدارج میں سرایت پزیری کو ماپ سکیں ۔اسی کو دراصل دوا کی جنرل ماہئیت کہا جا سکتا ہے (یہاں جنرل سے مراد وہ بات ہے جو مریض کے تمام جسم کو متاثر کر رہی ہو نہ کہ کسی مخصوص عضو کو)..
(6)اس سلسلے کا چھٹا مرحلہ ادویات کے اندر موجود ذہنی اور جذباتی کیفیات کا ہے۔
کیونکہ اس طرح کی علامات ہومیوپیتھک طریقہ علاج میں بے حد اہمیت رکھتی ہیں۔ ایسے میں ہمیں مریض کا رکھ رکھاؤ، دوسروں کے ساتھ برتاؤ،غصے کا اظہار ،خوف کی کیفیات، محبت میں ناکامی کے بداثرات وغیرہ کا جائزہ لینا ہو گا ۔۔ دوا کے بنیادی تصور پر غور کریں کیا اس میں موجود علامات بیرونی جسم سے شروع ہو کر اندر کی طرف جاتی ہیں یا اندر سے باہر کی طرف ۔۔۔!
(7)اس سلسلے کا ساتواں مرحلہ جنرل علامات کا جاننا ضروری ہے۔
اس سلسلے میں چند اہم قسم کی علامات بیان کروں گا جو کہ دوا کے انتخاب میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ورنہ جنرل علامات کا دائرہ تو بہت وسیع ہے۔جنرل علامات میں مریض کے سرد اور گرم مزاج کا بڑا عمل دخل ہے۔ سرد مزاج سے مراد وہ لوگ جو سردی زیادہ محسوس کرتے ہیں۔ذرا سار درجہ حرارت کم ہو تو وہ دوسروں کی نسبت زیادہ گرم کپڑے پہن لیتے ہیں۔ اسی طرح گرم مزاج سے مراد وہ لوگ ہیں جو گرمی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ذرا سی گرمی ہو تو وہ اے سی میں جا گھستے ہیں۔ (گرم اور سرد مزاج سے مراد یہ ہر گز نہیں کہ مریض کی تکلیف سردی سے بڑھتی ہے یا گرمی سے ۔۔۔ ایسی علامات مزاج کا نہیں بلکہ موڈیلٹی کا حصہ ہوتی ہیں).
اس کے علاوہ علامات کا اطراف میں نمودار ہونا بھی بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ کچھ ادویات کی تکالیف دائیں طرف نمودار ہوتی ہیں تو کچھ کی بائیں طرف۔۔۔ کچھ کی علامات دائیں سے بائیں کی طرف جاتی ہیں اور کچھ کی بائیں سے دائیں جبکہ کچھ ادویات میں علامات بار بار اور جلدی جلدی اپنی اطراف بدلتی ہیں۔۔۔ اس کے علاوہ جو ادویات میں مخصوص علامات پائی جاتی ہیں وہ غذا اور نیند کی علامات ہیں۔ پلساٹیلا کو دیکھیں تو اس کا مریض مزاجی طور پر بھی گرم مزاج ہوتا ہے اور اسکی تکالیف بھی گرمی سے بڑھتی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ پلساٹیلا کا مزاج بھی گرم ہے اور موڈیلٹی بھی۔۔۔! یہ پلساٹیلا کی مخصوص موڈیلٹی ہے ۔ جب مندرجہ بالا تمام معلومات ہمارے ذہن میں ہونگی تو ہم موثر طریقے سے کیس لے سکیں گئے۔
اس کے علاؤہ پیاس بھی ایک بہت اہم علامت ہے اگر مریض کہتا ہے کہ مجھے کبھی پیاس نہیں لگتی تو بہت کم پیاس لگتی ہے تو ایسا مریض کو گرم مزاج بھی ہے اور اس کی تکالیف بھی گرمی سے بڑھتی ہیں اور اسے پیاس بھی نہیں لگتی تو پیاس کا نہ لگنا پلساٹیلا کو مزید کنفرم کر دیتا ہے لہذا آپ مریض کی درست دوا تک پہنچ گئے ہیں اور اسے استعمال کر سکتے ہیں۔۔۔ ادویات میں بہت سی با ترکیب تشخیصی علامات شامل ہوتی ہیں ٹھنڈی ، گرم ، دائیاں،بایاں ، پیاسا اور بغیر پیاسا وغیرہ وغیرہ
اگر آپ کو ایک گرم مزاج مریض کی کلکیریا کے مرکبات میں سے دوا درکار ہو جسے تھائیرائیڈ کے مسائل بھی درپیش ہوں تو یہ دوا کلکیریا ائیوڈائیڈ ہو سکتی ہے۔
(8) آٹھویں مرحلے پر اہم علامات آتی ہیں۔
دوا کی اہم ترین علامات عموماً کسی دوا میں تین سے آٹھ تک اور کسی ایک آدھ دوا میں دس تک پائی جاتی ہیں آپ انکو یاد کر سکتے ہیں۔اور مریض کی کیفیت یا بیماری سے ان کا موازنہ کر سکتے ہیں۔
(9) نویں مرحلے پر جو اہم کام کرنا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم ایک جیسی علامات والی ادویات (مماثل قسم کی ادویات) پر اپنے نوٹس بناتے ہیں اور ان میں تفریقی علامات کو نشان زدہ کرتے ہیں۔
آپ اکثر کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ فلاں دوا دوسری فلاں دوا کی مماثل ہے۔۔ میں متلازم یعنی کمپلیمنٹری علامات پر زیادہ توجہ دیتا ہوں۔۔جیسا کہ پلساٹیلا کلکیریا کی کمپلیمنٹری دوا ہے ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ پلساٹیلا کو کلکیریا سے پہلے یا بعد استعمال کریں۔۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر دوا کے ساتھ کوئی دوسری دوا ہے جو پہلی دوا کے اثر کو بڑھاتی اور مریض کو صحت یابی تک لے جاتی ہے۔۔۔ اگر دوا لائیکوپوڈیم ہے تو اسکی اہم ترین اور مرکزی علامات میں ہمیں خود اعتمادی میں کمی، بدہضمی، خون میں شکر کی زیادتی اور گرمی سے تکالیف کا بڑھنا وغیرہ ملتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کی نوٹس میں ہمیں چینی کے لئیے رغبت ، شام چار تا آٹھ بجے تکالیف کا بڑھنا وغیرہ۔۔اب اپکو موازنے کے لئیے ایسی ادویات تلاش کرنا ہونگی جن میں خود اعتمادی کی کمی پائی جائے ، یا دائیں جانب کام کرتی ہوں یا ان میں چینی کھانے کی رغبت ہو ۔۔۔پھر آپ ان میں موازنے کے ساتھ تفریق کا عمل شروع کر سکتے ہیں۔۔۔
(10) دسویں مرحلے پر کلینیکل نوٹس آتے ہیں۔
ہومیوپیتھک لٹریچر میں دئیے گئے مثالی کلینیکل کیسز تلاش کریں۔انکی کاپی کروائیں اور اپنی فائل میں لگائیں تاکہ بوقت ضرورت کام آ سکیں۔ ماضی کے معالجین کے تجربات کو پرکھیں ۔۔کلارک کا ادویات بیان کرنے کا طریقہ بہت بہتر ہے وہ چند صفحات دوا کے تاریخی پس منظر اور ماضی کے تجربات پر لکھتا ہے اور بتاتا ہے کہ فلاں ڈاکٹر نے اسے کس تکلیف کے لئیے استعمال کیا اور یہ نتائج حاصل کیے۔
(11) گیارہواں مرحلہ سرخیاں دینے Rubric کا ہے ۔
یہ سرخیاں ہمیں ریپرٹری میں بھی ملتی ہیں جیسا کہ غم کی وجہ سے تکالیف کا پیدا ہونا ، بری خبر سے تکالیف کا ہونا وغیرہ ۔۔۔۔ ریپرٹری سافٹ ویئر میں ہم ان تبرکات کو آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں۔۔ویسے تو ٹائیلر کی کتاب ڈرگ پکچر میں اس نے سرخیاں بنائی ہیں ۔۔یہ سرخیاں نئی دوا کو سیکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔۔۔۔
جاری ہے