Sher Nawaz Official

Sher Nawaz Official I'm a professional lecturer

14/10/2024

آن لائن کاروبار کا جائز طریقہ
سوال
آن لائن خرید و فروخت میں اگر وعدہ بیع کرکے بیچا جائے یعنی مبیع موجود نہ ہو بلکہ آڈر لیتے ہوئے وہ وعدہ بیع کرلے کہ میں بیچ دوں گا پھر وہ مطلوبہ جگہ سے مبیع لے کر بیچ دے تو آیا ایسا کرنا جائز ہے؟ اور اس صورت میں وعدہ بیع کا کیا طریقہ کار شرعًا ہوسکتا ہے؟ کیوں کہ بعض اوقات مشتری سے بات چیت آن لائن میں نہیں ہوتی، بلکہ طریقہ کار کے مطابق آڈر وصول کرکے ڈیلیور کیا جاتا ہے۔

جواب
آن لائن کاروبار میں اگر مبیع (جوچیزفروخت کی جارہی ہو)بیچنے والے کی ملکیت میں نہیں ہے تو بیع کرنے کے بجائے وعدۂ بیع کرنا درست ہے، اگر محض اشتہار، تصویر دکھلا کر کسی کو ایسا سامان فروخت کیا جائے جو ملکیت میں نہیں ہے، اور بعد میں وہ سامان دکان،اسٹوروغیرہ سے خرید کردیا جائے تو یہ صورت جائز نہیں ؛ اس لیے کہ بائع کی ملکیت میں مبیع موجود نہیں ہے اور وہ غیرکی ملکیت میں موجودسامان کو فروخت کررہاہے۔

اس کے جواز کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ بائع مشتری کو یہ کہہ دے کہ یہ سامان میری ملکیت میں نہیں، میں اسے خرید کرآپ پر اتنی قیمت میں فروخت کرسکتاہوں،اگر آپ راضی ہیں تو میں یہ سامان خرید کر اپنے قبضہ میں لے کر آپ پر بیچ دوں گا۔یوں بائع اس سامان کوخرید کر اپنے قبضہ میں لے کر باقاعدہ سودا کرکے مشتری پر فروخت کرے تو یہ درست ہے۔

اسی طرح آن لائن کام کرنے والا فرد یا کمپنی ایک فرد (مشتری) سے آرڈر لے اورمطلوبہ چیز کسی دوسرے فرد یا کمپنی سے لے کر خریدار تک پہنچائے اور اس عمل کی اجرت مقرر کرکے لے تو یہ بھی جائز ہے۔

اور اگر مبیع بائع کی ملکیت میں موجود ہو اور تصویر دکھلا کرمشتری پر فروخت کی جارہی ہو اور مشتری سے قیمت وصول کرلی جائے تو یہ بیع درست ہے، البتہ جب مبیع مشتری تک پہنچ جائے اور دیکھنے کے بعد اس کی مطلوبہ شرائط کے مطابق نہ ہوتواسےواپس کرنے کااختیار حاصل ہوگا۔

ان دونوں صورتوں میں مشتری جب تک مبیع پر قبضہ نہ کرلے وہ آگے کسی اور پر وہ سامان فروخت نہیں کرسکتا

12/10/2024

ایمازون (Amazone)پہ کاروبار کیسا ہے؟

جواب
ایمازون (Amazone) پر کاروبار کرنے کا طریقہ کار اور شرائط معلوم ہونے پر ہی اس کا حکم بیان کیا جاسکتا ہے، البتہ ہماری اجمالی معلومات کے مطابق ایمازون (Amazone) پر آن لائن کاروبار کرتے وقت اکثر و بیشتر ’’بیع قبل القبض‘‘ کی صورت پیش آتی ہے جو کہ احادیث کی رو سے ناجائز ہے، اس لیے ’’ایمازون (Amazone)‘‘ پر کاروبار کی جن صورتوں میں ’’بیع قبل القبض‘‘ پائی جاتی ہے، وہ تمام صورتیں تو واضح طور پر ناجائز ہیں، اس کے علاوہ اگر آپ ایمازون (Amazone) پر کاروبار کرنے کا مکمل طریقہ کار اور شرائط لکھ کر بھیج دیں تو اس کا حکم بتادیا جائے گا۔

مسلم شریف میں ہے:

"عن ابن عباس، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من ابتاع طعاماً فلايبعه حتى يستوفيه»، قال ابن عباس: وأحسب كل شيء مثله."

(کتاب البیوع، باب بطلان بیع المبیع قبل القبض، ج:۳ ؍۱۱۵۹ ،ط:دار إحیاءالتراث العربي)

وفیه أیضاً :

"عن ابن عمر، قال: «كنا في زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم نبتاع الطعام، فيبعث علينا من يأمرنا بانتقاله من المكان الذي ابتعناه فيه، إلى مكان سواه، قبل أن نبيعه»."

(کتاب البیوع، باب بطلان بیع المبیع قبل القبض، ج:۳ ؍۱۱۶۰ ،ط:دار إحیاءالتراث العربي)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(لا) يصح ... (بيع منقول) قبل قبضه ولو من بائعه ... والأصل أن كل عوض ملك بعقد ينفسخ بهلاكه قبل قبضه فالتصرف فيه غير جائز ... وفي المواهب: وفسد بيع المنقول قبل قبضه، انتهى. ونفي الصحة يحتملهما ... (قوله: ونفي الصحة) أي الواقع في المتن يحتملهما أي يحتمل البطلان والفساد والظاهر الثاني؛ لأن علة الفساد الغرر كما مر مع وجود ركني البيع، وكثيراً ما يطلق الباطل على الفاسد أفاده ط."

(کتاب البیوع، باب المرابحة و التولیة، فصل في التصرف في المبیع الخ،ج:۵ ؍۱۴۷، ۱۴۸،ط:سعید)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"من حكم المبيع إذا كان منقولاً أن لايجوز بيعه قبل القبض."

(کتاب البیوع، الباب الثاني، الفصل الثالث، ج:۳ ؍ ۱۳ ،ط:رشیدیة )

فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144209201243

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

08/10/2024

آن لائن ایپ کے ذریعے پیسے کمانے کی شرعی حیثیت
سوال

ایک ایپ ہےجس میں 30000 ہزار روپے سے اکاؤنٹ بنا دیا جاتا ہے اور یہ رقم قابل واپسی نہیں ہوتی اور پھراس میں دو کام کیے جاتے ہیں ایک یہ آپ کی لنک کی وجہ سے اگر کوئی شخص اکاؤنٹ بناتا ہے تو آپ کو 18ڈالر ملتے ہیں اور پھر اس کے لنک سے کوئی اکاؤنٹ بناتا ہے تو دونوں کو ڈالر ملتے ہیں اور دوسرا یہ کہ آپ کوکمپنی روزانہ کے اعتبار کچھ تصاویر بھیجتی ہے مثلاً موبائیل کی یا کسی بھی چیز کی، ان تصاویر پر کلک کرنے سے 12 ڈالر ملتے ہیں کبھی اس طرح ہوتا ہے کہ اول کلک مکمل کرنے پر 2 اور دوسرے پر اس سے زیادہ اور تیسرے پر اس سے زیادہ ڈالر دیے جاتےہیں۔ اب یہ پوچھنا ہے کہ شرعا اس ایپ کی کیا حیثیت ہے اور اس کی طرف دوسروں کو دعوت دینا شرعا کیسا ہے اس سے حاصل شدہ رقم کی کیا حیثیت ہے جائز ہے یا نہیں؟

جواب
سوال میں ذکر کردہ ایپ کا جو طریقہ کار بیان کیا گیا ہے وہ شرعاً درست نہیں ۔اس قسم کے ایپ کوئی حقیقی تجارت وغیرہ پر مبنی نہیں ہوتے بلکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے پیسے بٹورنے کی غرض سے نیٹ ورکنگ کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں جولوگوں سے سرمایہ سمیٹ لیتے ہیں اورکچھ وقت تک اعتماد بنانے کے لیے نفع کے نام سے رقم بھی دیتے ہیں لیکن بالآخر غائب ہوجاتےہیں، اس لیے ایسے ایپس میں انوسٹمنٹ کرنے سے اجتناب لازم ہے۔



عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، ‌من ‌غش ‌فليس مني»(صحيح مسلم،كتاب الإيمان،باب قول النبي صلى الله عليه وسلم:"من غشنا فليس منا"،ج:1،ص:99)

عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌لا ‌ضرر ‌ولا ‌ضرار»(سنن ابن ماجه،كتاب الأحكام،باب من بنى في حقه ما يضر بجاره،ج:2،ص:784)

فتویٰ نمبر : 3392/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

تاریخ تصدیق : 2023-09-

29/04/2024
20/09/2023

Beshak 💯

Address

South Waziristan Wana
Wana
29540

Telephone

+923319948058

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sher Nawaz Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Sher Nawaz Official:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram