14/03/2026
سحری میں زیادہ پانی پینا: ایک عام مگر نقصان دہ غلطی
رمضان المبارک میں سحری کے وقت اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ ایک دم بہت زیادہ پانی پی لیں گے تو دن بھر پیاس محسوس نہیں ہوگی۔ اسی خوف کے تحت بعض افراد سحری کے آخری لمحات میں کئی گلاس پانی یک دم پی لیتے ہیں۔ تاہم سائنسی اعتبار سے یہ تصور درست نہیں، کیونکہ انسانی جسم پانی کو اس انداز میں ذخیرہ نہیں کرتا کہ وہ پورے دن کے لیے محفوظ رہے۔
دنیا میں صرف اونٹ ایسا جانور ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس انداز میں پیدا کیا ہے کہ وہ پانی کو مخصوص حیاتیاتی نظام کے ذریعے طویل عرصے تک برداشت کر سکتا ہے۔ انسان کا جسم اس طرح پانی ذخیرہ نہیں کرتا۔ ہمارا جسم ہومیو سٹیٹک میکانزم کے تحت اضافی پانی کو گردوں کے ذریعے خارج کر دیتا ہے۔
ایک وقت میں زیادہ مقدار میں پانی پینے سے معدہ پھیل سکتا ہے، جس کے نتیجے میں اپھارہ اور بھاری پن محسوس ہوتا ہے۔ اگر یہ پانی کھانے کے فوراً بعد یا ساتھ لیا جائے تو معدے کے تیزاب کا قدرتی توازن عارضی طور پر متاثر ہو سکتا ہے، جس سے ہاضمہ سست پڑ سکتا ہے۔ مزید یہ کہ بہت زیادہ پانی مختصر وقت میں پینے سے خون میں سوڈیم کی سطح عارضی طور پر کم ہو سکتی ہے، جسے طبی اصطلاح میں dilutional hyponatremia کہا جاتا ہے، خصوصاً ان افراد میں جو حساس ہوں یا پہلے سے کسی طبی مسئلے کا شکار ہوں۔ اس کے علاوہ، اضافی پانی جسم فوری طور پر خارج کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس سے بار بار پیشاب آتا ہے، نیند متاثر ہوتی ہے اور اصل ہائیڈریشن کا مطلوبہ فائدہ حاصل نہیں ہو پاتا۔
صحیح طریقہ یہ ہے کہ افطار سے سحری تک وقفے وقفے سے پانی پیا جائے۔ مجموعی طور پر چھ سے آٹھ گلاس پانی لینا مناسب سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ مقدار موسم، جسمانی وزن اور سرگرمی کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔ سحری کے بالکل آخری وقت میں ایک دم زیادہ پانی پینے کے بجائے بہتر ہے کہ پوری رات تھوڑی تھوڑی مقدار میں پانی استعمال کیا جائے اور ساتھ میں پھل و سبزیاں بھی شامل کی جائیں تاکہ قدرتی طور پر جسم ہائیڈریٹ رہے۔
آخرکار، ہائیڈریشن کا اصول مقدار نہیں بلکہ درست تقسیم ہے۔ جسم کو بتدریج پانی فراہم کرنا زیادہ مؤثر اور محفوظ حکمتِ عملی ہے۔ رمضان میں صحت مند روزہ داری کے لیے اعتدال، منصوبہ بندی اور سائنسی فہم نہایت ضروری ہیں