14/04/2026
انوکھی مگر سچی کہانی : بھائیوں کو بہنوں کا حق کھاتے تو دیکھا اور سنا تھا مگر ۔۔۔۔ برسوں بیرون ملک مزدوری کرنے والے شخص کا حق حصہ پاکستان میں بیٹھی بہنیں ڈکار گئیں ، 4 مربع انتہائی قیمتی اراضی ہڑپ کر لی ، رشوت نہ دینے کا عادی باشعور پاکستانی نژاد امریکی شہری رل کر مر گیا ، جمیل مغل احمد پور شرقیہ میں پیدا ہوا یہ دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اور انکا والد اچھی خاصی وراثتی جائیداد کا مالک تھا جمیل یہاں کے سرکاری ٹاٹ سکولوں میں پڑھے لاہور سے ایف ایس سی کرنے کے بعد جمیل مغل امریکہ چلا گیا اور وہاں اعلیٰ تعلیم کے بعد اس نے بہترین نوکری حاصل کرلی نوکری کے بعد جب کچھ حالات بہتر ہو گئے تو جمیل مغل نے ایک امریکی دوشیرہ سے شادی کر لی جس سے اس کا ایک خوبصورت بیٹا بھی ہے اگرچہ اس خاتون نے بعد میں جمیل سے طلاق لے لی ۔مگر ہر ہفتے بیٹے کو شوہر سے ملانے ضرور لاتی جمیل مغل نے جب امریکی شہریت حاصل کر لی تو اس نے اپنی بہنوں اور بہنوئیوں کو بھی اپنے خرچے پر مختلف اوقات میں امریکہ بلا لیا اس نے انہیں وہاں نوکریاں بھی دلائیں مگر بوجوہ ان لوگوں کو امریکہ راس نہ آیا اور یہ واپس پاکستان یعنی احمد پور شرقیہ آگئے۔2021 میں جمیل مغل اپنے امریکہ میں کاروبار کو بڑھانے کے لیے سرمایہ اکٹھا کرنے پاکستان آیا تو اسکی بہنیں اور بہنوئی وراثتی جائیداد میں اسکے حصے سے مکر گئے یہ کہہ کر صاف انکار کردیا کہ تم نے زندگی جہاں گزاری ہے اب تمہاری جائیدادیں اور حصے وہیں ہیں ، حالانکہ جمیل مغل کے حصے میں والد کے چار مربعے زمین میں سے 2 مربعے آتے تھے ۔ لیکن جائیداد کی وراثت نہ ہوئی تھی اور بہنوں نے اپنے شوہروں کے کہنے پر پٹواری تحصیلداروں اور گرداروں کی خدمت کرکے ساری جائیداد اپنے نام کروا لی تھی ۔حالانکہ جمیل کے والد حیات تھے تو وہ خود کہتے تھے کہ دو مربعے جمیل کے ہیں اور باقی دو مربعے بیٹیوں کے ۔ جمیل نے بہنوں کی منت سماجت کی تو انہوں نے کہا بجائے اسکے آپ ہمیں کچھ دیں الٹا آپ ہم سے لینے آگئے ہیں ۔ اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ بھائی کو مختلف دیوانی کیسوں میں الجھا دیا کہ وہ تنگ آکر واپس امریکہ چلا جائے ۔ جمیل مغل نے عدالت کچہری سے رجوع کیا مگر یہاں اپنے دیس میں تو قدم قدم پر رشوت چلتی ہے لیکن جمیل مغل ایک مہذب معاشرے میں برسوں گزار چکے تھے وہ رشوت لینے اور دینے کو سب سے بڑا گناہ سمجھتے تھے جب جمیل مغل نے اپنوں کا یہ حال دیکھا تو اپنے ایک دوست کو مختار خاص بنایا اور دوست کو یہ ہدایت کرکے واپس امریکہ چلے گئے کہ مجھے تب سکون آئے گا جب میرا حصہ یہ پراپرٹی میری بہنوں اور بہنوئیوں کے چنگل سے نکلے گی بے شک پراپرٹی مجھے نہ ملے تم اسے غریبوں میں بانٹ دینا یا کسی اچھے خیراتی ادارے کو دے دینا مگر ان قبضہ گیروں سے ہر صورت واپس لینا ۔ دوست نے ہر ممکن کوشش کی لیکن انکی ہر درخواست خارج ہوتی گئی کیونکہ مدعی یہاں موجود ہی نہ تھا ۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے ایک حکم کے تحت مقامی عدالتوں کو کہہ دیا کہ ضروری نہیں کہ اس کیس میں مدعی یہاں موجود ہو ، اب دوست کے لیے مسئلہ یہ تھا کہ ہر قدم پر منہ پھاڑ کر پیسے مانگے جاتے تھے پٹواری سے لے کر تحصیلدار گرداور اے سی ڈی سی آفس ۔۔۔ دوست نے جب جمیل مغل سے اجازت مانگی کہ میں کچھ رقم خرچ کرنا چاہتا ہوں تم بعد میں مجھے دے دینا مگر جمیل مغل نے ملتان میں موجود اپنے دوست کو سختی سے منع کردیا ۔۔۔۔ اس طرح جمیل مغل کا کیس ٹھپ ہو گیا ۔۔۔۔۔ اور پچھلے دنوں اطلاع آئی کہ جمیل مغل امریکہ میں اپنے فلیٹ میں انتقال کر گیا اسکے پاس کوئی اپنا نہیں تھا ، دو روز بعد اسکی میت ہمسائیوں نے دریافت کی تھی ۔ اسکا بیٹا اور سابقہ بیوی آئے اور اسکی آخری رسومات ادا کر دیں جمیل مٖغل کو امریکہ میں ہی ایک قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا ۔۔۔ احمد پور شرقیہ کے جمیل مغل کی بہنوں اور بہنوئیوں کو مبارک ہو کہ اب وہ اپنے بھائی کے حق اور حصے کے بلا شرکت غیرے قانونی مالک بن چکے ہیں ۔ اب جمیل مغل قیامت تک ان سے حق مانگنے نہیں آئے گا ان رشتہ داروں کی مرضی کہ جمیل مغل والا حصہ یہاں زندگی میں اڑا دیں یا پھر مرنے کے بعد قبروں میں لے جائیں ۔۔۔ اور ہاں اس گندے اور بدبودار نظام کو بھی ڈھیروں مبارک کہ جسکا کنویں جیسا پیٹ رشوت سے نہیں بھرا گیا اور ایک حقدار اپنے حق کی آس لگائے دیا سے چلا گیا۔۔۔ دعا ہے اللہ کریم ایماندار ، مہذب اور باشعور جمیل مغل کے درجات بلند فرمائے آمین