DRC Clinic&Pharmacy

DRC Clinic&Pharmacy Hemopathic Clinic

اس بار پودے کیو جل رہے ہیں مسلہ گرمی کا نی ہے سن بےبی روز اٸیس پلانٹ اور جیڈ پلانٹ تو گرمی میں خراب نی ہوتے  فیکس تو بہت...
10/06/2024

اس بار پودے کیو جل رہے ہیں
مسلہ گرمی کا نی ہے
سن بےبی روز اٸیس پلانٹ اور جیڈ پلانٹ تو گرمی میں خراب نی ہوتے فیکس تو بہت سخت جان پودا اس کا بھی برا حال ہو ریا اس دفعہ ان کی جڑیں گل رہی ہیں اوپر سے پلانٹ بعد میں سوکھتا اسی لیے جب سوکھنا شروع ہوتا تو قابو نی اتا
دوپ میں تابکاری شعاٸیں ہیں جو ازون گیس کا ایک کور ہے زمین کے گرد اس کے پھٹنے کی وجہ سے سورج کی تاببکاری شعاٸیں زمین پر ا رہی اس کا واحد حل زیادہ درخت لگانا ہے
اپنے حصے کا درخت لگاٸیں موسم کو اتدال میں لاٸیں
اگر ہم نے اور حکومت نے مل کر درخت نہ لگاۓ تو اٸندہ چند سالوں بعد وطن عزیز میں زندگی انتہاٸی مشکل ہو جاۓ گی
بہت سنجیدگی سے اس مسلہ کے حل کی اشد ضرورت ہے اس وقت
تو دوسروں کا انتظار کرنے کی بجاۓ ہم قدم بڑھاٸیں اپنے حصے کا پودا لگاٸیں اور دوسروں کو ترغیب دیں
ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کریں ایک دوسرے کی طرف دیکھتے دیکھتے پہلے ہی بہت دیر ہو گٸی ہے
اٸیں عہد کریں ہم چودہ اگست سے پہلے پہلے چودہ پودے لگانے کی پوری کوشش کریں گے
اللہ پاک ہم کو س عظیم مشن میں کامیاب کرے

31/03/2024
31/03/2024

ذیابیطس کیا ہے اور آپ اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

ذیابیطس تاحیات ساتھ رہنے والے ایسی طبی حالت ہے جو ہر سال لاکھوں افراد کو ہلاک کرتی ہے اور یہ کسی کو بھی لاحق ہو سکتی ہے۔

یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجود شکر (گلوکوز) کو حل کر کے خون میں شامل نہیں کر پاتا اس کی پیچیدگی کی وجہ سے دل کے دورے، فالج، نابینا پن، گردے ناکارہ ہونے اور پاؤں اور ٹانگیں کٹنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے اور ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 42 کروڑ 22 لاکھ افراد اس کا شکار ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق یہ تعداد 40 سال پہلے کے مقابلے میں چار گنا ہے۔

صرف پاکستان میں ہر سال ذیابیطس کے مرض کے باعث تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد معذور ہو جاتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے ایک فرد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے اور یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

یہی نہیں بلکہ ذیابیطس پاکستان میں ہلاکتوں کی آٹھویں بڑی وجہ بھی ہے اور 2005 کے مقابلے میں اس سے متاثرہ افراد کی ہلاکتوں میں 50 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

ان خطرات کے باوجود ذیابیطس کا شکار فیصد لوگوں کو اس بات کا علم نہیں کہ روز مرہ کے معمولات میں تبدیلی کئی معاملات میں بہتری لا سکتی ہے۔

ذیابیطس کی وجہ کیا ہے؟

جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم نشاستے (کاربوہائیڈریٹس) کو شکر (گلوکوز) میں تبدیل کر دیتا ہے، جس کے بعد لبلبے (پینکریاز) میں پیدا ہونے والا ہارمون انسولین ہمارے جسم کے خلیوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ توانائی کے حصول کے لیے اس شکر کو جذب کریں۔۔

ذیابیطس تب لاحق ہوتا ہے جب انسولین مناسب مقدار میں پیدا نہیں ہوتی یا کام نہیں کرتی، اس کی وجہ سے شکر ہمارے خون میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

ذیابیطس کی کتنی اقسام ہیں؟

ذیابیطس کی کئی اقسام ہیں۔ ٹائپ ون ذیابیطس میں لبلبہ انسولین بنانا بند کر دیتا ہے جس کی وجہ سے شکر خون کے بہاؤ میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

سائنسدان یہ تو نہیں جانتے کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ شاید ایسا جینیاتی اثر کی وجہ سے ہوتا ہے یا کسی وائرل انفیکشن کی وجہ سے کہ لبلبے میں انسولین بنانے والے خلیے خراب ہو جاتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کا دس فیصد ٹائپ ون کا شکار ہیں۔

ٹائپ 2 ذیابیطس میں لبلبہ یا تو ضرورت کے مطابق انسولین نہیں بناتا یا جو بناتا ہے وہ ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرتی۔

انسولین ہمارے جسم میں شکر کو توانائی میں منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے

ایسا عموماً درمیانی اور بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم یہ مرض کم عمر کے زیادہ وزن والے افراد، سست طرزِ زندگی اپنانے والے اور کسی خاص نسل سے تعلق رکھنے والے افراد خصوصاً جنوبی ایشیائی افراد کو بھی لاحق بھی ہو سکتا ہے۔

کچھ حاملہ خواتین کو دورانِ زچگی ذیابیطس ہو جاتا ہے جب ان کا جسم ان کے اور بچے کے لیے کافی انسولین نہیں بنا پاتا۔

مختلف مطالعوں کے مختلف اندازوں کے مطابق چھ سے 16 فیصد خواتین کو دورانِ حمل ذیابیطس ہو جاتا ہے۔ انھیں ایسے میں غذا اور ورزش کے ذریعے شوگر لیول کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے، تاکہ اسے ٹائپ ٹو انسولین میں بدلنے سے روکا جا سکے۔

اب لوگوں کو خون میں گلوکوز کی بڑھی ہوئی سطح کے بارے میں تشخیص کر کے انھیں ذیابیطس ہونے کے خطرے سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔

ذیابیطس کی علامات کیا ہیں؟

سستی اور پیاس ذیابیطس کی علامات ہو سکتی ہیں

عمومی علامات

بہت زیادہ پیاس لگنا
معمول سے زیادہ پیشاب آنا، خصوصاً رات کے وقت
تھکاوٹ محسوس کرنا
وزن کا کم ہونا
دھندلی نظر
زخموں کا نہ بھرنا
برٹش نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق ٹائپ ون ذیابیطس کی علامات بچپن یا جوانی میں ہی ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور یہ زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔

ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے کا شکار افراد 40 سال سے زائد عمر کے ہوتے ہیں (جنوبی ایشائی افراد 25 سال کی عمر تک)۔ ان کے والدین یا بہن بھائیوں میں سے کسی کو ذیابیطس ہوتا ہے، ان کا وزن زیادہ ہوتا ہے یا وہ موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں، ان میں زیادہ تعداد جنوبی ایشیائی مالک کے لوگوں کی، چینی باشندوں کی، جزائر عرب الہند اور سیاہ فام افریقیوں کی ہے۔

کیا میں ذیابیطس سے بچ سکتا ہوں؟
ذیابیطس کا زیادہ تر انحصار جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل پر ہوتا ہے لیکن آپ صحت مند غذا اور چست طرزِ زندگی سے اپنے خون میں شکر کو مناسب سطح پر رکھ سکتے ہیں۔

صحت مند خوراک کا رجحان اپنانا پہلے شرط ہے

پروسیس کیے گئے میٹھے کھانوں اور مشروبات سے پرہیز اور سفید روٹی اور پاستا کی جگہ خالص آٹے کا استعمال پہلا مرحلہ ہے۔

ریفائنڈ چینی اور اناج غذائیت کے اعتبار سے کم ہوتے ہیں کیونکہ ان میں سے وٹامن سے بھرپور حصہ نکال دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سفید آٹا، سفید روٹی، سفید چاول، سفید پاستا، بیکری کی اشیا، سوڈا والے مشروبات، مٹھائیاں اور ناشتے کے میٹھے سیریل۔

صحت مند غذاؤں میں سبزیاں، پھل، بیج، اناج شامل ہیں۔ اس میں صحت مند تیل، میوے اور اومیگا تھری والے مچھلی کے تیل بھی شامل ہیں۔

یہ ضروری ہے کہ وقفے وقفے سے کھایا جائے اور بھوک مٹنے پر ہاتھ روک لیا جائے۔

جسمانی ورزش بھی خون میں شوگر کے تناسب کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ برطانیہ میں این ایچ ایس تجویز کرتا ہے کہ ہفتے مںی کم از کم ڈھائی گھنے ایروبکس کرنا یا تیز چہل قدمی یا سیڑھیاں چڑھنا مفید ھے
سست روی چھوڑ کر ہفتے میں کم از کم اڑھائی گھنٹے ورزش ضروری ہے

جسم کا صحت مند حد تک وزن شوگر لیول کو کم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر آپ وزن کم کرنا چاہتے ہی تو اسے آہستہ آہستہ کریں یعنی آدھا یا ایک کلو ایک ہفتے میں۔

یہ بھی اہم ہے کہ آپ تمباکو نوشی نہ کریں اور اپنے کولیسٹرول لیول کو کم رکھیں تاکہ دل کے عارضے کا خطرہ کم ہو۔

ذیابیطس میں پیچیدگیاں کیا ہیں؟

خون میں شوگر کی زیادہ مقدار خون کی شریانوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اگر خون کا جسم میں بہاؤ ٹھیک نہ ہو تو یہ ان اعضا تک نہیں پہنچ پاتا جہاں اس کی ضرورت ہوتی ہے اس کی وجہ سے اعصاب کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے درد اور احساس ختم ہو جاتا ہے، بینائی جا سکتی ہے اور پیروں میں انفیکشن ہو سکتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ نابینا پن، گردوں کی ناکارہ ہونے، دل کے دورے، فالج اور پاؤں کٹنے کی بڑی وجہ ذیابیطس ہی ہے۔

ذیابیطس کا مرض نابینا پن، گردوں کی ناکارہ ہونے، دل کے دورے، فالج اور پاؤں کٹنے کا باعث بن سکتا ہے

سنہ 2016 میں ایک اندازے کے مطابق 16 لاکھ افراد براہ راست ذیابیطس کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

کتنے لوگ ذیابیطس کا شکار ہیں؟

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 1980 میں ذیابیطس کا شکار افراد کی تعداد دس کروڑ 80 لاکھ تھی جو 2014 میں بڑھ کر 42 کروڑ 22 لاکھ ہو گئی۔

1980 میں دنیا بھر کے 18 سال سے زاید عمر کے بالغ افراد کا پانچ فیصد ذیابیطس کا شکار تھا جبکہ سنہ 2014 میں یہ تعداد 8.5 فیصد تک جا پہنچی ہے۔

ذیابیطس کی بین الاقوامی فاؤنڈیشن کے اندازوں کے مطابق اس کیفیت کا شکار 80 فیصد بالغ افراد درمیانی عمر کے ہیں، ان کا تعلق کم آمدنی والے ممالک سے ہے اور جہاں کھانے پینے کی عادادت تیزی سے تبدیل ہوتی ہیں۔

ترقی یافتہ ملکوں میں اس کا ذمہ دار غربت اور سستے پروسیسڈ کھانوں کو قرار دیا جاتا ہے۔

شوگر کا علاج بذریعہ dxn فوڈ سپلیمنٹس

رشی مشروم پاؤڈر ۔۔مورینزی شربت ۔۔ اسپائرولینا گولیاں

مزید معلومات کے لئے کال / واٹس ایپ پر رابطہ کریں ۔
03309277794

31/03/2024

معدہ بہت ساری بیماریوں کو جنم دیتا ہے معدے کے مختلف مسائل ہیں جن میں خوراک کا ٹھیک سے یا جلد ہضم نہ ہونا قبض کا رہنا کھٹے ڈکار ,خوراک کی نالی میں جلن پیٹ میں گیس کا رہنا معدے کا السر اگر آپ ان میں سے کسی بھی مسئلے کا شکار ہیں اور اس کا مکمل علاج چاہتے ہیں تو پریشانی چھوڑیں اور ابھی رابطہ کریں اور اپنے تمام مسائل کا ہمیشہ کے لئے علاج کری

آلحمداللہ معدے کے تمام امراض کا انشااللہ مکمل اور کامیاب علاج
Dr TmHamdani
03139277794

Adresse

Democratic Republic Of The

Heures d'ouverture

Lundi 09:00 - 17:00
18:00 - 22:00
Mardi 06:00 - 22:00
Mercredi 06:00 - 22:00
Jeudi 06:00 - 22:00
Vendredi 09:00 - 17:00
Samedi 09:00 - 17:00
Dimanche 09:00 - 17:00

Téléphone

+923309277794

Site Web

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque DRC Clinic&Pharmacy publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Partager

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Type